The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Saba • Ayah 18

Para 22 Surah 34 : 18
وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ ٱلْقُرَى ٱلَّتِى بَـٰرَكْنَا فِيهَا قُرًى ظَـٰهِرَةً وَقَدَّرْنَا فِيهَا ٱلسَّيْرَ ۖ سِيرُوا۟ فِيهَا لَيَالِىَ وَأَيَّامًا ءَامِنِينَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

وَجَعَلْنَا
بَيْنَهُمْ
وَبَيْنَ
ٱلْقُرَى
ٱلَّتِى
بَـٰرَكْنَا
فِيهَا
قُرًى
ظَـٰهِرَةً
وَقَدَّرْنَا
فِيهَا
ٱلسَّيْرَ
ۖ
سِيرُوا۟
فِيهَا
لَيَالِىَ
وَأَيَّامًا
ءَامِنِينَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Trade of Saba' and Their DestructionAllah tells us about the blessings which the people of Saba' enjoyed, and the luxuries and plentiful provision which was theirs in their land, with its secure dwellings and towns which were joined to one another, with many trees, crops and fruits. When they traveled, they had no need to carry provisions or water with them; wherever they stopped, they would find water and fruits, so they could take their noontime rest in one town, and stay overnight in another, according to their needs on their journey. Allah says:وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْقُرَى الَّتِى بَارَكْنَا فِيهَا(And We placed, between them and the towns which We had blessed,) Mujahid, Al-Hasan, Sa`id bin Jubayr and Malik, who narrated it from Zayd bin Aslam, and Qatadah, Ad-Dahhak, As-Suddi, Ibn Zayd and others -- all said that this means the towns of Syria. It means they used to travel from Yemen to Syria via towns easy to be seen and connected to one another. Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas said, "`The towns which We had blessed by putting Jerusalem among them."قُرًى ظَـهِرَةًtowns easy to be seen, meaning, clear and visible, known to travelers, so they could take their noontime rest in one town and stay overnight in another. Allah says:وَقَدَّرْنَا فِيهَا السَّيْرَ(and We made the stages (of journey) between them easy) meaning, `We made it in a way that met the needs of the travelers.'سِيرُواْ فِيهَا لَيَالِىَ وَأَيَّاماً ءَامِنِينَ(Travel in them safely both by night and day.) means, those who travel in them will be safe both by night and by day.فَقَالُواْ رَبَّنَا بَـعِدْ بَيْنَ أَسْفَارِنَا وَظَلَمُواْ أَنفُسَهُمْ(But they said: "Our Lord! Make the stages between our journey longer," and they wronged themselves;) They failed to appreciate this blessing, as Ibn `Abbas, Mujahid, Al-Hasan and others said: "They wanted to travel long distances through empty wilderness where they would need to carry provisions with them and would have to travel through intense heat in a state of fear."فَجَعَلْنَـهُمْ أَحَادِيثَ وَمَزَّقْنَـهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ(so We made them as tales (in the land), and We dispersed them all totally.) means, `We made them something for people to talk about when they converse in the evening, how Allah plotted against them and dispersed them after they had been together living a life of luxury, and they were scattered here and there throughout the land.' So, the Arabs say of a people when they are dispersed, "They have been scattered like Saba'," in all directions.إِنَّ فِى ذلِكَ لآيَـتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ(Verily, in this are indeed signs for every steadfast, grateful.) In the punishment which these people suffered, the way in which their blessings and good health were turned into vengeance for their disbelief and sins, is a lesson and an indication for every person who is steadfast in the face of adversity and grateful for blessings. Imam Ahmad recorded that Sa`d bin Abi Waqqas, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:«عَجِبْتُ مِنْ قَضَاءِ اللهِ تَعَالَى لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ حَمِدَ رَبَّهُ وَشَكَرَ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ حَمِدَ رَبَّهُ وَصَبَرَ، يُؤْجَرُ الْمُؤْمِنُ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتْى فِي اللُّقْمَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِه»(I am amazed at what Allah has decreed for the believer; if something good befalls him, He praises his Lord and gives thanks, and if something bad befalls him, he praises his Lord and has patience. The believer will be rewarded for everything, even the morsel of food which he lifts to his wife's mouth.)" This was also recorded by An-Nasa'i in Al-Yawm wal-Laylah. There is a corroborating report in the Two Sahihs, where a Hadith narrated by Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, says:«عَجَبًا لِلْمُؤْمِنِ لَا يَقْضِي اللهُ تَعَالَى لَهُ قَضَاءً إِلَّا كَانَ خَيْرًا لَهُ، إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَلَيْسَ ذَلِكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِن»(How amazing is the affair of the believer! Allah does not decree anything for him but it is good for him. If something good happens to him, he gives thanks, and that is good for him; if something bad happens to him, he bears it with patience, and that is good for him. This is not for anyone except the believer.)" It was reported that Qatadah said:إِنَّ فِى ذلِكَ لآيَـتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍg(Verily, in this are indeed signs for every steadfast, grateful.) It was Mutarrif who used to say: "How blessed is the grateful, patient servant. If he is given something, he gives thanks, and if he is tested, he bears it with patience."

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

قوم سبا پر اللہ کی نعمتیں ٭٭ان پر جو نعمتیں تھیں ان کا ذکر ہو رہا ہے کہ قریب قریب آبادیاں تھیں۔ کسی مسافر کو اپنے سفر میں توشہ یا پانی ساتھ لے جانے کی ضرورت نہ تھی۔ ہر ہر منزل پر پختہ مزے دار تازے میوے خوشگوار میٹھا پانی موجود ہر رات کو کسی بستی میں گزار لیں اور راحت و آرام امن و امان سے جائیں آئیں کہتے ہیں کہ یہ بستیاں صنعاء کے قرب و جوار میں تھیں، باعد کی دوسری قرأت «‏بعدہ» ‏۔صفحہ نمبر7177اس راحت و آرام سے وہ پھول گئے اور جس طرح بنو اسرائیل نے من و سلویٰ کے بدلے لہسن، پیاز وغیرہ طلب کیا تھا انہوں نے بھی دور دراز کے سفر طے کرنے کی چاہت کی تاکہ درمیان میں جنگل بھی آئیں غیر آباد جگہیں بھی آئیں کھانے پینے کا لطف بھی آئے۔ قوم موسیٰ علیہ السلام کی اس طلب نے ان پر ذلت و مسکنت ڈالی اسی طرح انہیں بھی فراخی روزی کے بعد ہلاکت ملی۔ بھوک اور خوف میں پڑے۔ اطمینان اور امن غارت ہوا۔ انہوں نے کفر کر کے خود اپنا بگاڑا۔ اب ان کی کہانیاں رہ گئیں۔ لوگوں میں ان کے افسانے رہ گئے۔ تتر بتر ہو گئے۔ یہاں تک کہ جو قوم تین تیرہ ہو جائے تو عرب میں انہیں سبائیوں کی مثل سناتے ہیں۔ عکرمہ رحمہ اللہ ان کا قصہ بیان فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان میں ایک کاہنہ اور ایک کاہن تھا جن کے پاس جنات ادھر ادھر کی خبریں لایا کرتے تھے اس کاہن کو کہیں پتہ چل گیا کہ اس بستی کی ویرانی کا زمانہ قریب آ گیا ہے اور یہاں کے لوگ ہلاک ہونے والے ہیں۔ تھا یہ بڑا مالدار خصوصاً جائیداد بہت ساری تھی اس نے سوچا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے ان حویلیوں اور مکانات اور باغات کی نسبت کیا انتظام کرنا چاہیے؟صفحہ نمبر7178آخر ایک بات اس کی سمجھ میں آ گئی اس کے سسرال کے لوگ بہت سارے تھے اور وہ قبیلہ بھی جری ہونے کے علاوہ مالدار تھا۔ اس نے اپنے لڑکے کو بلایا اور اس سے کہا سنو! کل لوگ میرے پاس جمع ہو جائیں گے میں تجھے کسی کام کو کہوں گا تو انکار کر دینا میں تجھے برا بھلا کہوں گا تو بھی مجھے میری گالیوں کا جواب دینا میں اٹھ کر تجھے تھپڑ ماروں گا تو بھی اس کے جواب میں مجھے تھپڑ مارنا اس نے کہا ابا جی مجھ سے یہ کیسے ہو سکے گا؟ کاہن نے کہا تم نہیں سمجھتے ایک ایسا ہی اہم معاملہ درپیش ہے اور تمہیں میرا حکم مان لینا چاہئے۔ اس نے اقرار کیا دوسرے دن جب کہ اس کے پاس اس کے ملنے جلنے والے سب جمع ہو گئے اس نے اپنے اس لڑکے سے کسی کام کو کہا اس نے صاف انکار کر دیا اس نے اسے گالیاں دیں تو اس نے بھی سامنے گالیاں دیں۔ یہ غصے میں اٹھا اور اسے مارا لڑکے نے بھی پلٹ کر اسے پیٹا یہ اور غضبناک ہوا اور کہنے لگا چھری لاؤ تو میں اسے ذبح کروں گا تمام لوگ گھبرا گئے ہر چند سمجھایا لیکن یہ یہی کہتا رہا کہ میں تو اسے ذبح کروں گا لوگ دوڑے بھاگے اور لڑکے کے ننھیال والوں کو خبر کی وہ سب آ گئے اول تو منت سماجت کی منوانا چاہا لیکن یہ کب مانتا تھا انہوں نے کہا آپ اسے کوئی اور سزا دیجئے اس کے بدلے ہمیں جو جی چاہے سزا دیجئے لیکن اس نے کہا میں تو اسے لٹا کر باقاعدہ اپنے ہاتھوں سے ذبح کروں گا انہوں نے کہا ایسا آپ نہیں کر سکتے اس سے پہلے ہم آپ کو مار ڈالیں گے۔صفحہ نمبر7179اس نے کہا اچھا جب یہاں تک بات پہنچ گئی ہے تو میں ایسے شہر میں نہیں رہنا چاہتا جہاں میرے اور میری اولاد کے درمیان اور لوگ پڑیں مجھ سے میرے مکانات جائیدادیں اور زمینیں خرید لو میں یہاں سے کہیں اور چلا جاتا ہوں چنانچہ اس نے سب کچھ بیچ ڈالا اور قیمت نقد وصول کر لی جب اس طرف سے اطمینان ہو گیا تو اس نے اپنی قوم کو خبر دی سنو عذاب اللہ آ رہا ہے زوال کا وقت قریب پہنچ چکا ہے اب تم میں سے جو محنت کر کے لمبا سفر کر کے نئے گھروں کا آرزو مند ہو تو وہ عمان چلا جائے اور جو کھانے پینے کا شوقین ہو وہ بصرہ چلا جائے اور جو مزیدار کھجوریں باغات میں بیٹھ کر آزادی سے کھانا چاہتا ہو وہ مدینے چلا جائے۔ قوم کو اس کی باتوں کا یقین تھا جسے جو جگہ اور جو چیز پسند تھی وہ اسی طرف منہ اٹھائے بھاگا۔ بعض عمان کی طرف، بعض بصرہ کی طرف، بعض مدینے کی طرف۔ اس طرف تین قبیلے چلے تھے۔ اوس اور خزرج اور بنو عثمان جب یہ لوگ بطن مر میں پہنچے تو بنو عثمان نے کہا ہمیں یہ جگہ بہت پسند ہے اب ہم آگے نہیں جائیں گے۔ چنانچہ یہ یہیں بس گئے اور اسی وجہ سے انہیں خزاعہ کہا گیا۔ کیونکہ وہ اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ گئے اور اوس و خزرج برابر مدینے پہنچے اور یہاں آ کر قیام کیا۔صفحہ نمبر7180یہ اثر بھی عجیب و غریب ہے۔ جس کاہن کا اس میں ذکر ہے اس کا نام عمرو بن عامر ہے یہ یمن کا ایک سردار تھا اور سبا کے بڑے لوگوں میں سے تھا اور ان کا کاہن تھا۔ سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ سب سے پہلے یہی یمن سے نکلا تھا اس لیے کہ سد مارب کو کھوکھلا کرتے ہوئے اس نے چوہوں کو دیکھ لیا تھا اور سمجھ لیا تھا کہ اب یمن کی خیر نہیں۔ یہ دیوار گری اور سیلاب سب تہ و بالا کرے گا تو اس نے اپنے سب سے چھوٹے لڑکے کو وہ مکر سکھایا جس کا ذکر اوپر گزرا اس وقت اس نے غصے میں کہا کہ میں ایسے شہر میں رہنا پسند نہیں کرتا میں اپنی جائیدادیں اور زمینیں اسی وقت بیچتا ہوں لوگوں نے کہا عمرو کے اس غصے کو غنیمت جانو چنانچہ سستا مہنگا سب کچھ بیچ ڈالا اور فارغ ہو کر چل پڑا قبیلہ اسد بھی اس کے ساتھ ہو لیا راستے میں عکہ ان سے لڑے برابر برابر کی لڑائی رہی۔ جس کا ذکر عباس بن مرداس اسلمی کے شعروں میں بھی ہے۔ پھر یہ یہاں سے چل کر مختلف شہروں میں پہنچ گئے۔ آل جفتہ بن عمرو بن عامر شام میں گئے اوس و خزرج مدینے میں خزاعہ مرمیں، از مراۃ سراۃ میں۔ ازد عمان عمان میں یہاں سیلاب آیا جس نے مارب کے بند کو توڑ دیا۔ سدی نے اس قصے میں بیان کیا ہے کہ اس نے اپنے مقابلے کے لیے اپنے بیٹے کو نہیں بلکہ اپنے بھتیجے کو کہا تھا۔ بعض اہل علم کا بیان ہے کہ اس کی عورت جس کا نام طریفہ تھا اس نے اپنی کہانت سے یہ بات معلوم کر کے سب کو بتائی تھی۔ اور روایت میں ہے کہ عمان میں غسانی اور ازد بھی ہلاک کر دیئے گئے۔ میٹھے اور ٹھنڈے پانی کی ریل پیل پھلوں اور کھیتوں کی بےشمار روزی کے باوجود سیل عرم سے یہ حالت ہو گئی کہ ایک ایک لقمے کو اور ایک بوند پانی کو ترس گئے یہ پکڑ اور عذاب یہ تنگی اور سزا جو انہیں پہنچی اس سے ہر صابر و شاکر عبرت حاصل کر سکتا ہے کہ اللہ کی نافرمانیاں کس طرح انسان کو گھیر لیتی ہیں عافیت کو ہٹا کر آفت کو لے آتی ہیں۔ مصیبتوں پر صبر، نعمتوں پر شکر کرنے والے اس پر دلائل قدرت پائیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مومن کے لیے تعجب ناک فیصلہ کیا ہے اگر اسے راحت ملے اور یہ شکر کرے تو اجر پائے۔ اور اگر اسے مصیبت پہنچے اور صبر کرے تو اجر پائے۔ غرض مومن کو ہر حالت پر اجر و ثواب ملتا ہے اس کا ہر کام نیک ہے۔ یہاں تک کہ محبت کے ساتھ جو لقمہ اٹھا کر یہ اپنی بیوی کے منہ میں دے اس پر بھی اسے ثواب ملتا ہے۔ [مسند احمد:177/1:حسن] ‏ (‏مسند احمد)صفحہ نمبر7181بخاری و مسلم میں ہے آپ فرماتے ہیں تعجب ہے کہ مومن کے لیے اللہ تعالیٰ کی ہر قضا بھلائی کے لیے ہوتی ہے اگر اسے راحت اور خوشی پہنچتی ہے تو شکر کر کے بھلائی حاصل کرتا ہے اور اگر برائی اور غم پہنچتا ہے تو یہ صبر کرتا ہے اور بدلہ حاصل کرتا ہے۔ یہ نعمت تو صرف مومن کو ہی حاصل ہے کہ جس کی ہر حالت بہتری اور بھلائی والی ہے۔ [صحیح مسلم:2999] ‏ مطرف رحمہ اللہ فرماتے ہیں صبر و شکر کرنے والا بندہ کتنا ہی اچھا ہے کہ جب نعمت اسے ملے تو شکر کرے اور جب زحمت پہنچے تو صبر کرے۔صفحہ نمبر7182

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 18{ وَجَعَلْنَا بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ الْقُرَی الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْہَا قُرًی ظَاہِرَۃً } ”ہم نے ان کے علاقے اور ان بستیوں کے درمیان جنہیں ہم نے برکت عطا کر رکھی تھی واضح نظر آنے والی بستیاں قائم کردی تھیں“ یہاں پر ”بابرکت بستیوں“ سے ارض فلسطین مرا د ہے۔ اس ضمن میں سورة بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں مذکور بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ کے الفاظ بھی مدنظر رہنے چاہئیں۔ آیت زیر مطالعہ میں دراصل اس زمانے کی ایک اہم شاہراہ کا ذکر ہوا ہے جس پر یورپ اور ایشیا کے مابین ہونے والی تجارت کے حوالے سے قوم سبا کی اجارہ داری تھی۔ جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر ہوچکا ہے ‘ یہ اپنے زمانے کی ایک بہت خوشحال اور طاقتور قوم تھی۔ ان کا علاقہ بہت سرسبز و شاداب تھا اور وہاں مختلف اقسام کی خوشبوئیں کثرت سے پیدا ہوتی تھیں۔ پرانے زمانے کے سیاحوں کے حوالے سے قوم سبا کے بارے میں ایسی بہت سی معلومات تاریخ میں دستیاب ہیں۔ چناچہ اپنے دور کی ایک طاقتور اور خوشحال قوم کی حیثیت سے مشرق و مغرب کے درمیان ہونے والی تجارت پر ان کی اجارہ داری تھی بعد میں ایک مدت تک اس تجارت پر قریش ِمکہ ّکی اجارہ داری رہی جس کا ذکر سورة القریش میں آیا ہے۔ ہندوستان ‘ چین اور دیگر مشرقی ممالک سے آنے والا تجارتی سامان یمن کی بندرگاہ پر اترتا تھا ‘ جبکہ یورپ سے آنے والا سامان بحیرہ روم Mediterranean Sea کے راستے فلسطین کی بندرگاہ پر پہنچتا تھا۔ چناچہ یمن اور فلسطین کے درمیان قوم سبا کے تجارتی قافلے اس سامان کی نقل و حمل کے سلسلے میں مذکورہ شاہراہ پر سارا سال رواں دواں رہتے تھے۔ یہ تجارتی شاہراہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی مہربانی سے بہت ُ پر سکون ‘ پر امن اور ہر لحاظ سے مثالی تھی۔ اس کی کیفیت یوں تھی کہ تقریباً سو میل کے فاصلے تک اس شاہراہ کے دونوں طرف ان کے باغات پھیلے ہوئے تھے۔ اس کے بعد عین شاہراہ کے اوپر جگہ جگہ بستیاں اس طرح آباد تھیں کہ ایک بستی کی حدود ختم ہوتے ہی دوسری بستی کے آثار شروع ہوجاتے تھے۔ اس طرح تجارتی قافلے نہ صرف رہزنی وغیرہ کے خطرات سے محفوظ رہتے تھے بلکہ انہیں سفر و قیام کے دوران اشیائِ ضرورت اور مطلوبہ سہولیات بھی ہر جگہ ہر وقت دستیاب رہتی تھیں۔ { وَّقَدَّرْنَا فِیْہَا السَّیْرَ } ”اور ہم نے اندازہ مقرر کردیا تھا ان میں سفر کرنے کا۔“ یعنی ان کے درمیان سفر کی منزلیں مقرر کردی تھیں۔ یہ آبادیاں شاہراہ کے عین کناروں پر اس طرح واقع تھیں کہ ایک آبادی سے دوسری آبادی تک کا درمیانی فاصلہ تیس چالیس میل کے لگ بھگ تھا اور یہ فاصلہ سفر کی منزلوں کے حساب سے رکھا گیا تھا تاکہ ہر منزل پر قافلوں کو قیام و طعام کی مطلوبہ سہولیات آسانی سے میسر آسکیں۔ { سِیْرُوْا فِیْہَا لَیَالِیَ وَاَیَّامًا اٰمِنِیْنَ } ”ہم نے انہیں کہہ دیا تھا کہ تم سفر کرو ان میں راتوں کو بھی اور دن کو بھی امن کے ساتھ۔“ یعنی ان میں رات دن بےخوف و خطر سفر کرو۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

In verse 18, it was said: وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْقُرَ‌ى الَّتِي بَارَ‌كْنَا فِيهَا قُرً‌ى ظَاهِرَ‌ةً وَقَدَّرْ‌نَا فِيهَا السَّيْرَ‌ سِيرُ‌وا (And We had made towns to be seen between them and between the towns in which We had placed Our blessings, and had measured the journey between them: "Travel along them at nights and days peacefully. - 18" ) This verse mentions yet another blessing Allah Ta’ ala had bestowed on the people of Saba'. Then it goes on to refer to the ungratefulness of those people who acted ignorantly and chose to ask for a reversal of this blessing by praying that the thing be made harder and more challenging for them. The statement: الْقُرَ‌ى الَّتِي بَارَ‌كْنَا فِيهَا (towns in which We had placed Our blessings) in this verse probably means the rural areas of the country of Syria, because the reference to the descent of mercy in several verses of the Qur'an is specifically related to that country. The sense of the verse is that Allah Ta’ ala had made their travels to the towns of Syria very easy for them during their trips they had to undertake for their business. Given the conditions that prevailed in the world of that time, the travel distance between the city of Ma'arib and the country of Syria was fairly long with routes being uneven. In view of this difficulty, Allah Ta’ ala had blessed the people of Saba' by having made for their convenience a series of towns at intermittent distances all the way from the city of Ma'arib to the country of Syria.These habitations were close by the main road, therefore, these were called: قَدَّرْ‌نَا فِيهَا السَّيْرَ‌ (had measured the journey between them). These habitations appearing one after the other were a source of convenience for weary travelers. If a traveler from one of them left home in the morning, he had the choice of reaching some other town on his way, stop there, have lunch or take rest as he wished and could leave after Zuhr and reach the next stage by sundown and spend the night there. The sentence: سِيرُ‌وا فِيهَا لَيَالِيَ وَأَيَّامًا آمِنِينَ (Travel along them at nights and days peacefully - 18) means that these habitations were made at distances that were balanced and equal so that they would reach from one to the other within a fixed time.In the last sentence of verse 18: (Travel along them at nights and days peacefully.), mention has been made of a third blessing bestowed on the people of Saba'. It means that these settlements were located at such equal and balanced distances that a traveler would be able to cover them in almost identical time. Then the routes were secure. Theft and highway robbery were unknown. One could travel at any time of the night or day without any hesitation or concern.

Historical Context: Saba (Sheba) — From Gratitude to Ingratitude c. 570 CE (final dispersion) and pre-Islamic

The Quran (34:15-19) describes Saba as a society given ideal conditions — the land of gardens, good provisions, and divine command to be grateful. They asked for longer travel distances between towns (wishing for greater commerce and adventure), so Allah dispersed them into scattered groups. This narrative has multiple dimensions: it is geographically accurate (the dispersion of Yemeni tribes throughout Arabia following the Ma'rib dam collapse); it is sociologically profound (societies that disrupt their sustainable patterns out of greed are scattered); and it is spiritually instructive (gratitude is the precondition of maintained blessing).

🏛️ Civilization: Kingdom of Saba / Pre-Islamic Arabian
📍 Region: Yemen and Arabian Peninsula
🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.