Surah Al-Ahzab • Ayah 69
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The Fabrications of the Jews against MusaAl-Bukhari recorded in the Book of Hadiths about the Prophets, that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said:«إِنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ رَجُلًا حَيِيًّا سِتِّيرًا لَا يُرَى مِنْ جِلْدِهِ شَيْءٌ اسْتِحْيَاءً مِنْهُ، فَآذَاهُ مَنْ آذَاهُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَقَالُوا: مَا يَتَسَتَّرُ هَذَا التَّسَتُّرَ إِلَّا مِنْ عَيْبٍ فِي جِلْدِهِ إِمَّا بَرَصٌ وَإِمَّا أُدْرَةٌ وَإِمَّا آفَةٌ. وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرَادَ أَنْ يُبَرِّئَهُ مِمَّا قَالُوا لِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَخَلَا يَوْمًا وَحْدَهُ فَخَلَعَ ثِيَابَهُ عَلَى حَجَرٍ ثُمَّ اغْتَسَلَ، فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ إِلَى ثِيَابِهِ لِيَأْخُذَهَا، وَإِنَّ الْحَجَرَ عَدَا بِثَوْبِهِ فَأَخَذَ مُوسَى عَصَاهُ وَطَلَبَ الْحَجَرَ فَجَعَلَ يَقُولُ: ثَوْبِي حَجَرُ، ثَوْبِي حَجَرُ، حَتْى انْتَهَى إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَرَأَوْهُ عُرْيَانًا أَحْسَنَ مَا خَلَقَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَبْرَأَهُ مِمَّا يَقُولُونَ، وَقَامَ الْحَجَرُ، فَأَخَذَ ثَوْبَهُ فَلَبِسَهُ، وَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا بِعَصَاهُ، فَوَاللهِ إِنَّ بِالْحَجَرِ لَنَدَبًا مِنْ أَثَرِ ضَرْبِهِ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا أَوْ خَمْسًا قَالَ: فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى:يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ لاَ تَكُونُواْ كَالَّذِينَ ءَاذَوْاْ مُوسَى فَبرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُواْ وَكَانَ عِندَ اللَّهِ وَجِيهاً »(Musa, peace be upon him, was a shy and modest man who would never show anything of his skin because of his shyness. Some of the Children of Israel annoyed him by saying: "He only keeps himself covered because of some defect in his skin, either leprosy or scrotal hernia or some other defect." Allah, may He be glorified, wanted to clear Musa, peace be upon him, of what they were saying. One day Musa was alone, so he took off his garment and put it on a rock, then he took a bath. When he had finished, he turned back to pick up his garment, but the rock moved away, taking his garment with it. Musa picked up his stick and chased the rock, saying, "My garment, O rock! My garment, O rock!" Until he reached a group of the Children of Israel, who saw him naked and found that he was the best of those whom Allah had created. Thus he was cleared of what they had said about him. Then the rock stood still, so he took his garment and put it on. He started hitting the rock with his stick, and by Allah, the marks of that beating were left on the rock, three or four or five. This is what is referred to in the Ayah: (O you who believe! Be not like those who annoyed Musa, but Allah cleared him of that which they alleged, and he was honorable before Allah.)) This Hadith is one of those which were recorded by Al-Bukhari but not Muslim. Imam Ahmad recorded that `Abdullah (bin Mas`ud) said: "One day, the Messenger of Allah ﷺ distributed some booty and a man among the Ansar said, `This division was not done for the sake of Allah.' I said, `O enemy of Allah! I am going to tell the Messenger of Allah ﷺ what you have said.' So, I told the Prophet about it. His face reddened and he said,«رَحْمَةُ اللهِ عَلَى مُوسَى لَقَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَر»(May Allah have mercy on Musa. He was annoyed with worse than this, yet he remained patient.)" This was recorded in the Two Sahihs.وَكَانَ عِندَ اللَّهِ وَجِيهاً(and he was honorable before Allah. ) means, he had a position of status and honor before his Lord, may He be exalted and glorified. Al-Hasan Al-Basri said: "His supplications would be answered by Allah." Some of them said that part of his great standing before Allah was that he interceded for his brother Harun, asking Allah to send him with him as a Messenger, and Allah granted his request and said:وَوَهَبْنَا لَهُ مِن رَّحْمَتِنَآ أَخَاهُ هَـرُونَ نَبِيّاً(And We granted him his brother Harun, (also) a Prophet, out of Our mercy.) (19:53)يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ اتَّقُواْ اللَّهَ وَقُولُواْ قَوْلاً سَدِيداً - يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَـلَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزاً عَظِيماً
موسیٰ علیہ السلام کا مزاج ٭٭صحیح بخاری شریف میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام بہت ہی شرمیلے اور بڑے لحاظ دار تھے ۔ [صحیح بخاری:4799] یہی مطلب ہے قرآن کی اس آیت کا۔ کتاب التفسیر میں تو امام صاحب رحمہ اللہ اس حدیث کو اتنا ہی مختصر لائے ہیں، لیکن احادیث انبیاء علیہم السلام کے بیان میں اسے مطول لائے ہیں۔ اس میں یہ بھی ہے کہ وہ بوجہ سخت حیاء و شرم کے اپنا بدن کسی کے سامنے ننگا نہیں کرتے تھے۔ بنو اسرائیل آپ علیہ السلام کو ایذاء دینے کے درپے ہو گئے اور یہ افواہ اڑا دی کہ چونکہ ان کے جسم پر برص کے داغ ہیں یا ان کے بیضے بڑھ گئے ہیں یا کوئی اور آفت ہے اس وجہ سے یہ اس قدر پردے داری کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ یہ بدگمانی آپ علیہ السلام سے دور کر دے۔ ایک دن موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام تنہائی میں ننگے نہا رہے تھے، ایک پتھر پر آپ علیہ السلام نے کپڑے رکھ دیئے تھے، جب غسل سے فارغ ہو کر آئے، کپڑے لینے چاہے تو پتھر آگے کو سرک گیا۔ آپ علیہ السلام اپنی لکڑی لیے اس کے پیچھے گئے وہ دوڑنے لگا۔ آپ علیہ السلام بھی اے پتھر میرے کپڑے میرے کپڑے کرتے ہوئے اس کے پیچھے دوڑے۔ بنی اسرائیل کی جماعت ایک جگہ بیٹھی ہوئی تھی۔ جب آپ علیہ السلام وہاں تک پہنچ گئے تو اللہ کے حکم سے پتھر ٹھہر گیا۔ آپ علیہ السلام نے اپنے کپڑے پہن لیے۔ بنو اسرائیل نے آپ علیہ السلام کے تمام جسم کو دیکھ لیا اور جو فضول باتیں ان کے کانوں میں پڑی تھیں ان سے اللہ نے اپنے نبی علیہ السلام کو بری کر دیا۔ غصے میں موسیٰ علیہ السلام نے تین یا چار پانچ لکڑیاں پتھر پر ماری تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں واللہ لکڑیوں کے نشان اس پتھر پر پڑ گئے ۔ اسی برأت وغیرہ کا ذکر اس آیت میں ہے ۔ [صحیح بخاری:3404] یہ حدیث مسلم میں نہیں یہ روایت بہت سی سندوں سے بہت سی کتابوں میں ہے۔ بعض روایتیں موقوف بھی ہیں۔صفحہ نمبر7131سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”ایک مرتبہ موسیٰ اور ہارون علیہما السلام پہاڑ پر گئے جہاں ہارون علیہ السلام کا انتقال ہو گیا لوگوں نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف بدگمانی کی اور آپ علیہ السلام کو ستانا شروع کیا۔ پروردگار عالم نے فرشتوں کو حکم دیا اور وہ اسے اٹھا لائے اور بنو اسرائیل کی مجلس کے پاس سے گزرے اللہ نے اسے زبان دی اور قدرتی موت کا اظہار کیا۔ ان کی قبر کا صحیح نشان نامعلوم ہے صرف اس ٹیلے کا لوگوں کو علم ہے اور وہی ان کی قبر کی جگہ جانتا ہے لیکن بے زبان ہے۔“ تو ہوسکتا ہے کہ ایذاء یہی ہو اور ہوسکتا ہے کہ وہ ایذاء ہو جس کا بیان پہلے گزرا۔ لیکن میں کہتا ہوں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ اور یہ دونوں ہوں بلکہ ان کے سوا اور بھی ایذائیں ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ لوگوں میں کچھ تقسیم کیا اس پر ایک شخص نے کہا اس تقسیم سے اللہ کی رضا مندی کا ارادہ نہیں کیا گیا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے جب یہ سنا تو میں نے کہا اے اللہ کے دشمن میں تیری اس بات کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور پہنچاؤں گا۔ چنانچہ میں نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر کر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہوگیا پھر فرمایا: اللہ کی رحمت ہو موسیٰ علیہ السلام پر وہ اس سے بہت زیادہ ایذاء دے گئے لیکن صبر کیا ۔ [صحیح بخاری:4335] صفحہ نمبر7132اور روایت میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عام ارشاد تھا کہ کوئی بھی میرے پاس کسی کی طرف سے کوئی بات نہ پہنچائے۔ میں چاہتا ہوں کہ میں تم میں آ کر بیٹھوں تو میرے دل میں کسی کی طرف سے کوئی بات چبھتی ہوئی نہ ہو ۔ ایک مرتبہ کچھ مال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لوگوں میں تقسیم کیا۔ دو شخض اس کے بعد آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے ایک دوسرے سے کہہ رہا تھا کہ واللہ اس تقسیم سے نہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی خوشی کا ارادہ کیا نہ آخرت کے گھر کا۔ میں ٹھہر گیا اور دونوں کی باتیں سنیں۔ پھر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا اور کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا ہے کہ کسی کی کوئی بات میرے سامنے نہ لایا کرو ۔ ابھی کا واقعہ ہے کہ میں جا رہا تھا جو فلاں اور فلاں سے میں نے یہ باتیں سنیں اسے سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ غصے کے مارے سرخ ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بات بہت ہی گراں گزری۔ پھر میری طرف دیکھ کر فرمایا: عبداللہ جانے دو دیکھو موسیٰ علیہ السلام اس سے بھی زیادہ ستائے گئے لیکن انہوں نے صبر کیا ۔ [مسند احمد:395/1:ضعیف] قرآن فرماتا ہے موسیٰ علیہ السلام اللہ کے نزدیک بڑے مرتبے والے تھے۔ مستجاب الدعوت تھے۔ جو دعا کرتے تھے قبول ہوتی تھی۔ ہاں اللہ کا دیدار نہ ہوا اس لیے کہ یہ طاقت انسانی سے خارج تھا۔ سب سے بڑھ کر ان کی وجاہت کا ثبوت اس سے ملتا ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کیلئے نبوت مانگی اللہ نے وہ بھی عطا فرمائی۔ فرماتا ہے «وَوَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَآ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِيًّا» [19-مريم:53] ” ہم نے اسے اپنی رحمت سے اس کے بھائی ہارون کو نبی بنا دیا “۔صفحہ نمبر7133
آیت 69 { یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰی } ”اے اہل ِایمان ! تم ان لوگوں کی مانند نہ ہوجانا جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام ٰ کو اذیت دی تھی“ { فَـبَرَّاَہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوْا وَکَانَ عِنْدَ اللّٰہِ وَجِیْہًا } ”تو اللہ نے اس کو بری ثابت کردیا اس بات سے جو انہوں نے کہی تھی ‘ اور وہ اللہ کے نزدیک بڑے مرتبے والا تھا۔“ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی قوم بنی اسرائیل کی طرف سے کئی طرح کی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ سورة الصف میں آپ علیہ السلام کے وہ الفاظ نقل ہوئے ہیں جو آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کے طرزعمل پر شکوہ کرتے ہوئے فرمائے تھے : { یٰـقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ وَقَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْط } آیت 5 ”اے میری قوم ! تم مجھے کیوں اذیت دیتے ہو درآنحالیکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں !“ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی قوم کی طرف سے سب سے بڑی اذیت کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب آپ علیہ السلام نے قوم کو اللہ کے راستے میں قتال کرنے کا حکم دیا تو سوائے دو اشخاص کے پوری قوم نے انکار کردیا۔ قوم کے اس طرز عمل پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جو کو فت اور اذیت محسوس کی اس کا اندازہ اس دعا سے کیا جاسکتا ہے جو آپ علیہ السلام نے اس موقع پر اللہ تعالیٰ سے کی : { قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ اِلاَّ نَفْسِیْ وَاَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۔ المائدۃ ”انہوں علیہ السلام نے عرض کیا : اے میرے پروردگار ! مجھے تو اختیار نہیں ہے سوائے اپنی جان کے اور اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کی جان کے ‘ تو اب تفریق کردے ہمارے اور ان ناہنجار لوگوں کے درمیان۔“ اس کے علاوہ آپ علیہ السلام پر ذاتی نوعیت کا ایک الزام لگا کر بھی آپ علیہ السلام کو سخت اذیت پہنچائی گئی۔ اس حوالے سے احادیث میں ایک واقعہ بہت تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ اس واقعہ کا ُ لب ّلباب یہ ہے کہ اس زمانے میں عام طور پر مرد اپنے ستر کو چھپانے کا خاص اہتمام نہیں کرتے تھے اور سر ِعام برہنہ نہانے میں بھی عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ اس کے برعکس حضرت موسیٰ علیہ السلام اس بارے میں غیر معمولی طور پر احتیاط سے کام لیتے تھے۔ اس پر لوگوں نے کہنا شروع کردیا کہ آپ علیہ السلام جسمانی طور پر کسی عیب یا مرض میں مبتلا ہیں جس کو چھپانے کے لیے آپ علیہ السلام اس قدر شرم و حیا کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے ایک خاص ترکیب کے ذریعے لوگوں پر واضح کردیا کہ ان کا یہ الزام جھوٹا اور بےبنیاد تھا۔ سورة النور میں ہم حضرت عائشہ رض پر منافقین کی طرف سے بہتان تراشی کا وہ واقعہ بھی پڑھ چکے ہیں جو حضور ﷺ کے لیے سخت اذیت کا باعث بنا تھا۔ چناچہ یہاں تمام افرادِ امت کو خبردار کیا جارہا ہے کہ دیکھو ! تم بھی کہیں بنی اسرائیل کے ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو اپنے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مختلف طریقوں سے تنگ کیا کرتے تھے۔ تمہارا کوئی عمل یا قول ایسا نہیں ہونا چاہیے جس کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچے۔
CommentaryThat causing pain to Allah and His Messenger brings fatal consequences was the subject of the previous verse. The present verse instructs Muslims that they should particularly guard against falling into any stance of hostility to Allah and His Messenger because it causes pain to them.In the first verse (69), by mentioning an event relating to Sayyidna Musa (علیہ السلام) an event in which his people had caused pain to him, Muslims have been warned that they should never do something like that. From this, it does not necessarily follow that Muslims may have actually done so. Instead of that, by relating this incident, they have been forewarned as a matter of precaution. As for the incident of some Sahabah ؓ reported in a narration, it is likely that they would have not realized at that time that the word being said would cause pain to the Holy Prophet ﷺ . That a Sahabi would intentionally cause pain to the Holy Prophet ﷺ is not possible. Whatever incidents of intentional causing of pain there are, they all relate to hypocrites. Then, by citing the incident relating to Sayyidna Musa (علیہ السلام) ، the Holy Prophet ﷺ has himself explained the meaning of this verse as it has been reported by Imam al-Bukhari from Sayyidna Abu Hurairah ؓ in Kitabut-Tafsir and Kitabul-Anbiya'. There it is said that Sayyidna Musa (علیہ السلام) was a man of modesty and very particular in keeping his body properly covered. No one had the occasion to see his body uncovered. Whenever he needed a bath, he would take it inside a screened place. Conversely, his people, the Bani Isra'il, had a common custom of their own. Among them, men would bathe naked before everybody. So, some of them started saying that the reason why Sayyidna Musa (علیہ السلام) would not take a bath before anyone is that he had some defect in his body, either leprosy or enlarged testicles or some other evil-fated deformity because of which he preferred to remain hidden. Allah Ta’ ala willed that Sayyidna Musa (علیہ السلام) be cleared from the attribution of such defects. On a certain day, Sayyidna Musa (علیہ السلام) went in for a bath in private while he put off his clothes and placed these on a rock. When done with his bath, he moved to pick up his clothes from the rock. At that time, this rock (moving under Divine command) started running away. Sayyidna Musa (علیہ السلام) with his staff in hand, went after the rock saying: ثَوبِی حَجَرُ ثَوبِٰ حَضَرُ (0 rock, my clothes! 0 rock, my clothes! ). But the rock kept moving until it stopped at a place crowded with the people of Bani Isra'il. At that time, when the Bani Isra'il saw Sayyidna Musa (علیہ السلام) undressed from the head to the feet, they saw a body that was perfect (having no defect attributed by them). Thus, Allah Ta’ ala made it clear before everyone that Sayyidna Musa (علیہ السلام) was free from these supposed defects. The rock had stopped at this place. Once Sayyidna Musa (علیہ السلام) had picked up his clothes and put these on, he started beating up the rock with his staff. "By Allah," said the Holy Prophet ﷺ "the strikes of Sayyidna Musa (علیہ السلام) against the rock left some three or four or five traces on it!"After having recounted this event, the Holy Prophet ﷺ said: This is what this verse of the Qur'an means, that is, the verse under study: كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَىٰ (Like those who caused pain to Musa (علیہ السلام) . - 33:69). The explanation of the pain caused to Sayyidna Musa (علیہ السلام) in this incident has been reported from the Holy Prophet ﷺ himself. There is yet another story relating to the pain caused to Sayyidna Musa (علیہ السلام) reported from the noble Sahabah ؓ which is also necessarily appended to it. But, the weightier Tafsir or explanation is the one that is present in the Hadith reported from the Holy Prophet ﷺ himself.At the end of verse 69, it was said: وَكَانَ عِندَ اللَّـهِ وَجِيهًا (And he was honorable in the sight of Allah). The Arabic word used for Sayyidna Musa (علیہ السلام) wajih denotes the honor and elegance of someone who deserves regard and consideration. When used with: عِندَ اللَّـهِ ` indallah: in the sight of Allah), it would mean a person whose prayer is answered by Allah Ta’ ala and whose wish He does not turn down. Hence, the station of Sayyidna Musa علیہ السلام as a person whose prayers were answered (popularly known as: mustajab-ud-da’ awat) is proved from many events mentioned in the Qur'an where he prayed to Allah for something and He answered it the way he wanted it to be. Most unique of these is the prayer he made about Sayyidna Harun (Aaron) (علیہ السلام) where he wished that he be made a prophet. Allah Ta'ala accepted his prayer and made him a co-prophet with Sayyidna Musa (علیہ السلام) - although, the high office of prophethood is not given to someone on someone's recommendation. (Ibn Kathir)
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.