The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-Ahzab • Ayah 45

Para 22 Surah 33 : 45
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ إِنَّآ أَرْسَلْنَـٰكَ شَـٰهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

يَـٰٓأَيُّهَا
ٱلنَّبِىُّ
إِنَّآ
أَرْسَلْنَـٰكَ
شَـٰهِدًا
وَمُبَشِّرًا
وَنَذِيرًا

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Attributes of the Messenger of Allah ﷺImam Ahmad recorded that `Ata' bin Yasar said that he met `Abdullah bin `Amr bin Al-`As, may Allah be pleased with him, and said to him:"Tell me about the description of the Messenger of Allah in the Tawrah." He said, "Yes, by Allah, he was described in the Tawrah with some of the qualities with which he was described in the Qur'an: `O Prophet! Verily, We have sent you as witness, and a bearer of glad tidings, and a warner, a saviour to the illiterate. You are My servant and My Messenger and I have called you Al-Mutawakkil (reliant). You are not harsh or severe, or noisy in the marketplaces. You do not repay evil with evil, but you overlook and forgive. Allah will not take your soul until you make straight those who have deviated and they say La ilaha illallah, words with which blind eyes, deaf ears and sealed hearts will be opened'." It was also recorded by Al-Bukhari in the Books of Business and At-Tafsir. Wahb bin Munabbih said: "Allah revealed to one of the Prophets of the Children of Israel whose name was Sha`ya' (Isaiah); `Stand up among your people the Children of Israel and I shall cause your tongue to utter (words of) revelation. I shall send an unlettered (Prophet) from among the illiterate (people). He will not be harsh or severe, or noisy in the marketplaces. If he were to pass by a lamp, it would not be extinguished, because of his tranquillity. If he were to walk on reeds no sound would be heard from under his feet. I will send him as a bearer of glad tidings and as a warner, who will never utter immoral speech. Through him I will open blind eyes, deaf ears and sealed hearts. I will guide him to do every good deed and I will bestow upon him every noble characteristic. I will make tranquillity his garment, righteousness his banner, piety his conscience, wisdom his speech, truthfulness and loyalty his nature, tolerance and goodness his character, truth his way, justice his conduct, guidance his leader, Islam his nation. Ahmad is his name and through him I will guide people after they have gone astray, teach them after they have been ignorant, raise their status after they were nothing, make them known after they were unknown, increase the number (of followers of the truth) after they have been few, make them rich after they have been poor, and bring them togther after they have been divided. Through him I will bring together different nations and hearts, and reconcile opposing desires. Through him I will save great numbers of people from their doom. I will make his Ummah the best of peoples ever raised up for mankind; they will enjoin good and forbid evil, sincerely believing in Me Alone and accepting as truth all that My Messengers have brought. I shall inspire them to glorify, praise and magnify Me Alone in their places of worship and in their gatherings, when they lie down and when they return home. They will pray to Me standing and sitting. They will fight for the sake of Allah in ranks and armies. They will go forth from their homes by the thousand, seeking My pleasure, washing their faces and limbs, girding their loins. Their sacrifice will be their blood and their holy Book will be in their hearts. They will be like monks by night and like lions by day. Among the members of his family and his offspring I will make those who are foremost (in faith) and believers in the truth and martyrs and righteous people. His Ummah after him will lead people with truth and establish justice therewith. I will give strength to those who support them and help those who pray for them, and I will inflict defeat upon those who oppose them or transgress against them or seek to take something from their hands. I will make them the heirs of their Prophet, calling people to their Lord, enjoining what is good, forbidding what is evil, establishing regular prayer, paying the Zakah and fulfilling their promises. Through them I will complete the goodness which I started with the first of them. This is My bounty which I bestow upon whomsoever I will, and I am the Possessor of great bounty."'شَاهِداً(as witness) means, a witness to Allah's Oneness, for there is no God except He, and a witness against mankind for their deeds on the Day of Resurrection.وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَـؤُلاءِ شَهِيداً(and We bring you as a witness against these people) (4:41). This is like the Ayah:لِّتَكُونُواْ شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا(that you be witnesses over mankind and the Messenger be a witness over you) (2:143).وَمُبَشِّراً وَنَذِيراً(and a bearer of glad tidings, and a warner.) means, a bearer of glad tidings to the believers of a great reward, and a warner to the disbelievers of a great punishment.وَدَاعِياً إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ(And as one who invites to Allah by His leave,) means, `you call mankind to worship their Lord because He has commanded you to do so. 'وَسِرَاجاً مُّنِيراً(and as a lamp spreading light.) means, `the Message that you bring is as clear as the sun shining brightly, and no one can deny it except those who are stubborn.'وَلاَ تُطِعِ الْكَـفِرِينَ وَالْمُنَـفِقِينَ وَدَعْ أَذَاهُمْ(And obey not the disbelievers and the hypocrites, and harm them not.) means, `do not obey them and do not pay attention to what they say.'وَدَعْ أَذَاهُمْ(and harm them not.) means, `overlook and ignore them, for their matter rests entirely with Allah and He is sufficient for them (to deal with them).' Allah says:وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ وَكَفَى بِاللَّهِ وَكِيلاً(And put your trust in Allah, and sufficient is Allah as a Trustee.)

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

تورات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات ٭٭عطابن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتیں تورات میں کیا ہیں؟ فرمایا جو صفتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآن میں ہیں انہی میں بعض اوصاف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تورات میں بھی ہیں۔ تورات میں ہے ” اے نبی ہم نے تجھے گواہ اور خوشی سنانے والا، ڈرانے والا، امتیوں کو بچانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تو میرا بندہ اور رسول ہے۔ میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے تو بدگو اور فحش کلام نہیں ہے، نہ بازاروں میں شور مچانے والا۔ وہ برائی کے بدلے برائی نہیں کرتا بلکہ در گزر کرتا ہے، اور معاف فرماتا ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ قبض نہیں کرے گا، جب تک لوگوں کو ٹیڑھا کر دئیے ہوئے دین کو اس کی ذات سے بالکل سیدھا نہ کر دے اور وہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے قائل نہ ہو جائیں، جس سے اندھی آنکھیں روشن ہو جائیں، اور بہرے کان سننے والے بن جائیں، اور پردوں والے دلوں کے زنگ چھوٹ جائیں “ ۔ [صحیح بخاری:4838] ‏صفحہ نمبر7057ابن ابی حاتم میں ہے ”وہیب بن منبہ فرماتے ہیں بنی اسرائیل کے ایک نبی شعیب علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی کہ ” اپنی قوم بنی اسرائیل میں کھڑے ہو جاؤ، میں تمہاری زبان سے اپنی باتیں کہلواؤں گا۔ میں امیوں میں سے ایک نبی امی کو بھیجنے والا ہوں جو نہ بدخلق ہے نہ بد گو۔ نہ بازاروں میں شور و غل کرنے والا۔ اس قدر سکون و امن کا حامل ہے کہ اگر چراغ کے پاس سے بھی گزر جائے تو وہ نہ بجھے اور اگر بانسوں پر بھی چلے تو پیر کی چاپ نہ معلوم ہو۔ میں اسے خوشخبریاں سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجوں گا۔ جو حق گو ہو گا اور میں اس کی وجہ سے اندھی آنکھوں کو کھول دوں گا اور بہرے کانوں کو سننے والا کروں گا اور زنگ آلود دلوں کو صاف کردوں گا۔ ہر بھلائی کی طرف اس کی ضمیر ہوگی۔ حکمت اس کی گویائی ہوگی۔ صدق و وفا اس کی عادت ہوگی۔ عفو و در گزر اس کا خلق ہوگا۔ حق اس کی شریعت ہوگی۔ عدل اس کی سیرت ہو گی۔ ہدایت اس کی امام ہوگی اسلام اس کا دین ہوگا۔ احمد اس کا نام ہوگا۔ گمراہوں کو میں اس کی وجہ سے ہدایت دوں گا۔ جاہلوں کو اس کی بدولت علماء بنا دوں گا۔ تنزل والوں کو ترقی پر پہنچا دوں گا۔ انجانوں کو مشہور و معروف کر دوں گا۔ مختلف اور متضاد دلوں کو متفق اور متحد کر دوں گا۔ جداگانہ خواہشوں کو یکسو کر دوں گا۔ دنیا کو اس کی وجہ سے ہلاکت سے بچا لوں گا۔ تمام امتوں سے اس کی امت کو اعلیٰ اور افضل بنا دوں گا۔ وہ لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے دنیا میں پیدا کئے جائیں گے۔ ہر ایک کو نیکی کا حکم کریں گے اور برائی سے روکیں گے۔ وہ موحد ہوں گے، مومن ہوں گے، اخلاص والے ہوں گے، رسولوں پر جو کچھ نازل ہوا ہے سب کو سچ ماننے والے ہوں گے۔ وہ اپنی مسجدوں مجلسوں اور بستروں پر چلتے پھرتے بیٹھے اٹھتے میری تسبیح حمد و ثنا بزرگی اور بڑائی بیان کرتے رہیں گے۔ کھڑے اور بیٹھے نمازیں ادا کرتے رہیں گے۔ دشمنان اللہ سے صفیں باندھ کر حملہ کر کے جہاد کریں گے۔ ان میں سے ہزارہا لوگ میری رضا مندی کی جستجو میں اپنا گھربار چھوڑ کر نکل کھڑے ہوں گے۔ منہ ہاتھ وضو میں دھویا کریں گے۔ تہمد آدھی پنڈلی تک باندھیں گے۔ میری راہ میں قربانیاں دیں گے۔ میری کتاب ان کے سینوں میں ہوگی۔ راتوں کو عابد اور دنوں کو مجاہد ہوں گے۔ میں اس نبی کی اہل بیت اور اولاد میں سبقت کرنے والے صدیق شہید اور صالح لوگ پیدا کر دوں گا “۔صفحہ نمبر7058” اس کی امت اس کے بعد دنیا کو حق کی ہدایت کرے گی، اور حق کے ساتھ عدل و انصاف کرے گی۔ ان کی امداد کرنے والوں کو میں عزت والا کروں گا۔ اور ان کو بلانے والوں کی مدد کروں گا۔ ان کے مخالفین اور ان کے باغی اور ان کے بدخواہوں پر میں برے دن لاؤں گا۔ میں انہیں ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث کر دوں گا۔ جو اپنے رب کی طرف لوگوں کو دعوت دیں گے۔ نیکیوں کی باتیں بتائیں گے، برائیوں سے روکیں گے، نماز ادا کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، وعدے پورے کریں گے، اس خیر کو میں ان کے ہاتھوں پوری کروں گا جو ان سے شروع ہوئی تھی۔ یہ ہے میرا فضل جسے چاہوں دوں۔ اور میں بہت بڑے فضل و کرم کا مالک ہوں “۔ ابن ابی خاتم میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کا حاکم بنا کر بھیج رہے تھے جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: جاؤ خوشخبریاں سنانا نفرت نہ دلانا، آسانی کرنا سختی نہ کرنا، دیکھو مجھ پر یہ آیت اتری ہے ۔ [طبرانی کبیر:11841:ضعیف] ‏ طبرانی میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر یہ اترا ہے کہ ” اے نبی ہم نے تجھے تیری امت پر گواہ بنا کر جنت کی خوشخبری دینے والا بنا کر جہنم سے ڈرانے والا بنا کر اور اللہ کے حکم سے اس کی توحید کی شہادت کی طرف لوگوں کو بلانے والا بنا کر اور روشن چراغ قرآن کے ساتھ بنا کر بھیجا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی وحدانیت پر کہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود نہیں گواہ ہیں، اور قیامت کے دن آپ لوگوں کے اعمال پر گواہ ہوں گے “ ۔ [مجمع الزوائد:92/7:ضعیف] ‏ جیسے ارشاد ہے «وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاءِ شَهِيْدًا» [4-النساء:41] ‏ یعنی ” ہم تجھے ان پر گواہ بنا کر لائیں گے “۔ اور آیت میں ہے کہ «لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا» [2-البقرة:143] ‏ ” تم لوگوں پر گواہ ہو اور تم پر یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم گواہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مومنوں کو بہترین اجر کی بشارت سنانے والے اور کافروں کو بدترین عذاب کاڈر سنانے والے ہیں “۔ اور چونکہ اللہ کا حکم ہے اس کی بجا آوری کے ماتحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق کو خالق کی عبادت کی طرف بلانے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اس طرح ظاہر ہے جیسے سورج کی روشنی۔ ہاں کوئی ضدی اڑ جائے تو اور بات ہے۔ ” اے نبی! کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانو نہ ان کی طرف کان لگاؤ اور ان سے در گزر کرو۔ یہ جو ایذائیں پہنچاتے ہیں انہیں خیال میں بھی نہ لاؤ اور اللہ پر پورا بھروسہ کرو وہ کافی ہے “۔صفحہ نمبر7059

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 45 { یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا } ”اے نبی ﷺ ! یقینا ہم نے بھیجا ہے آپ کو گواہ بنا کر اور بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا۔“ اس آیت کے الفاظ نبوت اور رسالت کے درمیان ربط وتعلق کو بھی واضح کر رہے ہیں۔ نبوت اور رسالت کے تعلق یا فرق کو کسی شخص کے کسی محکمے کے لیے منتخب ہونے اور پھر اس محکمے کے اندر کسی مخصوص منصب پر اس کے ”تقرر“ کی مثال سے سمجھنا چاہیے۔ مثلاً جو لوگ مقابلے کے امتحان میں کامیاب قرار پاتے ہیں وہ سی ایس پی کیڈر cadre کے لیے منتخب ہوجاتے ہیں۔ لیکن محض اس کیڈر میں منتخب ہوجانے سے ان میں سے کسی کو نہ تو کوئی اختیار ملتا ہے اور نہ ہی کسی پر کوئی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ لیکن جب ان میں سے کسی کا کسی منصب یا عہدے پر تقرر کردیا جاتا ہے ‘ مثلاً کسی جگہ ڈپٹی کمشنر کی حیثیت سے تعینات کردیا جاتا ہے ‘ تو اس منصب کے اختیارات بھی اسے حاصل ہوجاتے ہیں اور اس سے متعلقہ ذمہ داریاں بھی اس کے کندھوں پر آجاتی ہیں۔ اس مثال کے حوالے سے یوں سمجھئے کہ نبوت ایک ”کیڈر“ ہے ‘ جبکہ رسالت ایک خصوصی ”تقرر“۔ یعنی نسل ِانسانی میں سے جو لوگ نبوت کے لیے منتخب ہوئے وہ سب انبیاء قرار پائے۔ لیکن جب ان میں سے کسی نبی کو کسی خاص قوم کی طرف بھیجا گیا تو انہیں رسالت مل گئی اور اس ”تقرر“ کے بعد وہ رسول بن گئے۔ اسی اصول کے تحت حضور ﷺ کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺ کی نبوت کا ظہور پہلی وحی کے ساتھ ہوا ‘ جبکہ آپ ﷺ کی رسالت کا آغاز اس وقت ہوا جب آپ ﷺ کو باقاعدہ تبلیغ کی ذمہ داری سونپی گئی۔ پہلی وحی ان آیات پر مشتمل تھی : { اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ۔ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔ اِقْرَاْ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمُ۔ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ۔ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ۔ ”پڑھئے اپنے رب کے نام سے جس نے پید ا کیا۔ اس نے پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے۔ پڑھئے اور آپ ﷺ کا رب بہت کریم ہے۔ وہ ذات جس نے علم سکھایا قلم کے ذریعے۔ اس نے سکھایا انسان کو وہ کچھ جو وہ نہیں جانتا تھا۔“ ان پانچ آیات کے اندر نہ تو آپ ﷺ کو تبلیغ کا کوئی حکم دیا گیا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی اور ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس لیے بجا طور پر سمجھا جاسکتا ہے کہ اس وحی کے ذریعے صرف آپ ﷺ کی نبوت کا ظہور ہوا تھا ‘ جبکہ آپ ﷺ کی رسالت کا آغاز اس وحی سے ہوا : { یٰٓاَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ۔ قُمْ فَاَنْذِرْ۔ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ۔ المدثر ”اے چادر میں لپٹنے والے ! اٹھئے اور خبردار کیجیے ‘ اور اپنے رب کی بڑائی بیان کیجیے“۔ ان آیات میں گویا آپ ﷺ کو لوگوں تک پیغام پہنچانے کا واضح حکم دے کر باقاعدہ ”رسالت“ کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ چناچہ زیر مطالعہ آیت میں حضور ﷺ کو ”نبی“ کی حیثیت سے مخاطب کر کے منصب ِرسالت عطا کرنے کے ذکر یٰٓـاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ سے جہاں نبوت اور رسالت کا فرق واضح ہوجاتا ہے وہاں اس نکتے کی بھی وضاحت ہوجاتی ہے کہ پہلے آپ ﷺ کو نبوت عطا ہوئی اور بعد میں رسالت۔ آیت میں رسالت کے حوالے سے حضور ﷺ کی جن تین ذمہ داریوں شہادت علی الناس ‘ تبشیر اور انذار کا ذکر کیا گیا ہے ان کی وضاحت قرآن کی بہت سی دوسری آیات میں بھی ملتی ہے۔ سورة البقرۃ کی آیت 143 میں آپ ﷺ کی ”شہادت“ کی ذمہ داری کے حوالے سے یوں فرمایا گیا : { وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّـتَکُوْنُوْا شُہَدَآئَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًاط } ”اور اے مسلمانو ! اسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک امت ِوسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسول ﷺ تم پر گواہ ہو“۔ سورة الحج کی آخری آیت میں بھی یہ مضمون ان ہی الفاظ میں آیا ہے ‘ البتہ الفاظ کی ترتیب ذرا مختلف ہے : { لِیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ شَہِیْدًا عَلَیْکُمْ وَتَکُوْنُوْا شُہَدَآئَ عَلَی النَّاسِ } ”تاکہ پیغمبر تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ ہو۔“ اسی طرح تبشیر اور انذار کے حوالے سے بھی قرآن میں بہت سی آیات آئی ہیں ‘ صیغہ واحد میں بھی اور جمع کے صیغہ میں بھی۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

Special Attributes of the Holy Prophet ﷺيَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْ‌سَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرً‌ا وَنَذِيرً‌ا ﴿45﴾ وَدَاعِيًا إِلَى اللَّـهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَ‌اجًا مُّنِيرً‌ا ﴿46﴾O prophet, We have sent you as a witness and a bearer of good news and a warner and as one who calls (people) towards Allah with His permission, and as a luminous lamp. (33:45-46)The text here reverts to the special perfect attributes of the Holy Prophet ﷺ . Five attributes have been mentioned here - 'Shahid', 'mubashshir', "nadhir', da` i ila Allah'. 'siraj munir'. 'Shahid' (a witness) means that the Holy Prophet ﷺ will be a witness of the ummah on the Day of Judgment according to a hadith narrated by Sayyidna Abu Said al-Khudri ؓ and reported by Bukhari, Nasa` i and Tirmidhi. It is mentioned in some parts of that Hadith that on the Day of Judgment when Sayyidna Nuh (علیہ السلام) will be presented before Allah, he will be asked whether he had conveyed Allah's Message to his Ummah. He will reply that he did. Then his Ummah will be presented and they will deny having received any message of Allah. Then Sayyidna Nuh (علیہ السلام) will be asked whether he has any witness to his claim of having conveyed the message of truth, and he will reply that Muhammad and his Ummah are witnesses. Some narrations have it that he will present the Ummah of Muhammad ﷺ as witness and this Ummah will give evidence in his favour. At this, the Ummah of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) will argue 'How can they, who were not even born at that time, give evidence in our case?'Now the Ummah of Muhammad ﷺ will be asked to substantiate their evidence and they will answer that no doubt they were not born at that time but they were told about it by their Holy Prophet ﷺ in whom they believe and trust. At this time the Holy Prophet ﷺ will be asked to give testimony regarding the veracity of his Ummah's statement.Briefly, the Holy Prophet ﷺ through his testimony, will confirm and verify the statement of his Ummah that, of course, he had given them that news.Another general meaning of being a witness for the Ummah may be that the Holy Prophet ﷺ will give evidence about the good and bad deeds of all the individuals of his Ummah. And this evidence would be on the basis that the deeds of the Ummah are presented before the Holy Prophet ﷺ every morning and evening daily; some narrations state that the deeds are presented once a week. The Holy Prophet ﷺ thus recognizes each and every individual of his Ummah by their deeds and as such he will be made witness for the Ummah on the Doomsday. (Ibn al-Mubarak from Sa'id Ibn al- Musayyab, Mazhari)'Mubashshshir' means bearer of good news, and as such the Holy Prophet ﷺ is the announcer of the good news of Paradise for the righteous people of his Ummah.'Nadhir' means the one who warns; thus the Holy Prophet ﷺ also puts the fear of Allah's punishment in the hearts of his Ummah in case they violate or disobey the injunctions of Shari'ah.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.