The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah As-Sajdah • Ayah 26

Para 21 Surah 32 : 26
أَوَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّنَ ٱلْقُرُونِ يَمْشُونَ فِى مَسَـٰكِنِهِمْ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍ ۖ أَفَلَا يَسْمَعُونَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

أَوَلَمْ
يَهْدِ
لَهُمْ
كَمْ
أَهْلَكْنَا
مِن
قَبْلِهِم
مِّنَ
ٱلْقُرُونِ
يَمْشُونَ
فِى
مَسَـٰكِنِهِمْ
ۚ
إِنَّ
فِى
ذَٰلِكَ
لَـَٔايَـٰتٍ
ۖ
أَفَلَا
يَسْمَعُونَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

Learning the Lessons of the PastAllah says: will these people who deny the Messengers not learn from the nations who came before them, whom Allah destroyed for their rejection of His Messengers and their opposition to what the Messengers brought them of the straight path No trace is left of them whatsoever.هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِّنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزاً(Can you find a single one of them or hear even a whisper of them) (19:98). Allah says:يَمْشُونَ فِى مَسَـكِنِهِمْ(in whose dwellings they do walk about) meaning, these disbelievers walk about in the places where those disbelievers used to live, but they do not see any of those who used to live there, for they have gone --كَأَن لَّمْ يَغْنَوْاْ فِيهَآ(As if they had never lived there) (11:68) This is like the Ayat:فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خَاوِيَةً بِمَا ظَلَمُواْ(These are their houses in utter ruin, for they did wrong) (27:52).فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَـهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ فَهِىَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ أَفَلَمْ يَسِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ(And many a township did We destroy while they were given to wrongdoing, so that it lie in ruins, and (many) a deserted well and lofty castle! Have they not traveled through the land) until:وَلَـكِن تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِى فِى الصُّدُورِ(but it is the hearts which are in the breasts that grow blind.) (22:45-46) Allah says here:إِنَّ فِى ذَلِكَ لاّيَاتٍ(Verily, therein indeed are signs.) meaning, in the fact that these people are gone and have been destroyed, and in what happened to them because they disbelieved the Messengers, and how those who believed in them were saved, there are many signs, proofs and important lessons.أَفَلاَ يَسْمَعُونَ(Would they not then listen) means, to the stories of those who came before and what happened to them. nThe Revival of the Earth with Water is Proof of the Resurrection to comeأَوَلَمْ يَرَوْاْ أَنَّا نَسُوقُ الْمَآءَ إِلَى الاٌّرْضِ الْجُرُزِ(Have they not seen how We drive water to the dry land) Here Allah explains His kindness and goodness towards them by His sending water to them, whether from the sky or from water flowing through the land, water carried by rivers down from the mountains to the lands that need it at particular times. Allah says:إِلَى الاٌّرْضِ الْجُرُزِ(to the dry land) which means the land where nothing grows, as in the Ayah,وَإِنَّا لَجَاعِلُونَ مَا عَلَيْهَا صَعِيداً جُرُزاً (And verily, We shall make all that is on it a bare dry soil.) (18:8) i.e., barren land where nothing grows. Allah says here:أَوَلَمْ يَرَوْاْ أَنَّا نَسُوقُ الْمَآءَ إِلَى الاٌّرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهِ زَرْعاً تَأْكُلُ مِنْهُ أَنْعَـمُهُمْ وَأَنفُسُهُمْ أَفَلاَ يُبْصِرُونَ (Have they not seen how We drive water to the dry land that has no vegetation, and therewith bring forth crops providing food for their cattle and themselves Will they not then see) This is like the Ayah,فَلْيَنظُرِ الإِنسَـنُ إِلَى طَعَامِهِ أَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبّاً (Then let man look at his food: We pour forth water in abundance.) (80:24-25). Allah says here:أَفَلاَ يُبْصِرُونَ(Will they not then see)

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

دریائے نیل کے نام عمر بن خطاب رضی اللہ کا خط ٭٭کیا یہ اس کے ملاحظہ کے بعد بھی راہ راست پر نہیں چلتے کہ ان سے پہلے کے گمراہوں کو ہم نے تہہ و بالا کر دیا ہے۔ آج ان کے نشانات مٹ گئے۔ انہوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا اللہ کی باتوں سے بے پرواہی کی، اب یہ جھٹلانے والے بھی ان ہی کے مکانوں میں رہتے سہتے ہیں۔ ان کی ویرانی ان کے اگلے مالکوں کی ہلاکت ان کے سامنے ہے۔ لیکن تاہم یہ عبرت حاصل نہیں کرتے۔ اسی بات کو قرآن حکیم نے کئی جگہ بیان فرمایا ہے کہ ” یہ غیر آباد کھنڈر یہ اجڑے ہوئے محلات تو تمہاری آنکھوں کو اور تمہارے کانوں کو کھولنے کے لیے اپنے اندر بہت سی نشانیاں رکھتے ہیں “۔صفحہ نمبر6936” دیکھ لو کہ اللہ کی باتیں نہ ماننے کا رسولوں کی تحقیر کرنے کا کتنا بد انجام ہوا؟ کیا تمہارے کان ان کی خبروں سے نا آشنا ہیں؟ “ پھر جناب باری تعالیٰ اپنے لطف و کرم کو احسان وانعام کو بیان فرما رہا ہے کہ ” آسمان سے پانی اتارتا ہے پہاڑوں سے اونچی جگہوں سے سمٹ کرندی نالوں اور دریاؤں کے ذریعہ ادھر ادھر پھیل جاتا ہے۔ بنجر غیر آباد زمین میں اس سے ہریالی ہی ہریالی ہو جاتی ہے۔ خشکی تری سے موت زیست سے بدل جاتی ہے “۔ گو مفسرین کا قول یہ بھی ہے کہ جزر مصر کی زمین ہے لیکن یہ ٹھیک ہے۔ ہاں مصر میں بھی ایسی زمین ہو تو ہو آیت میں مراد تمام وہ حصے ہیں جو سوکھ گئے ہوں جو پانی کے محتاج ہوں سخت ہو گئے ہوں زمین یبوست (‏خشکی) کے مارے پھٹنے لگی ہو۔ بے شک مصر کی زمین بھی ایسی ہے دریائے نیل سے وہ سیراب کی جاتی ہے۔ حبش کی بارشوں کا پانی اپنے ساتھ سرخ رنگ کی مٹی کو بھی گھسیٹتا جاتا ہے اور مصر کی زمین جو شور اور ریتلی ہے وہ اس پانی اور اس مٹی سے کھیتی کے قابل بن جاتی ہے اور ہرسال پر فصل کا غلہ تازہ پانی سے انہیں میسر آتا ہے جو ادھر ادھر کا ہوتا ہے۔ اس حکیم و کریم منان و رحیم کی یہ سب مہربانیاں ہیں۔ اسی کی ذات قابل تعریف ہے۔صفحہ نمبر6937روایت ہے کہ جب مصر فتح ہوا تو مصر والے بوائی کے مہینے میں عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے ہماری قدیمی عادت ہے کہ اس مہینے میں کسی کو دریائے نیل کی بھینٹ چڑھاتے ہیں اور اگر نہ چڑھائیں تو دریا میں پانی نہیں آتا۔ ہم ایسا کرتے ہیں کہ اس مہینے کی بارہویں تاریخ کو ایک باکرہ لڑکی کو جو اپنے ماں باپ کی اکلوتی ہو اس کے والدین کو دے دلا کر رضا مند کرلیتے ہیں اور اسے بہت عمدہ کپڑے اور بہت قیمتی زیور پہنا کر بنا سنوار کر اس نیل میں ڈال دیتے ہیں تو اس کا بہاؤ چڑھتا ہے ورنہ پانی چڑھتا ہی نہیں۔ سپہ سلار اسلام عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فاتح مصر نے جواب دیا کہ ”یہ ایک جاہلانہ اور احمقانہ رسم ہے۔ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا اسلام تو ایسی عادتوں کو مٹانے کے لیے آیا ہے تم اب ایسا نہیں کر سکتے۔‏“ وہ باز رہے لیکن دریائے نیل کا پانی نہ چڑھا مہنیہ پورا نکل گیا لیکن دریا خشک رہا۔ لوگ تنگ آ کر ارادہ کرنے لگے کہ مصر کو چھوڑ دیں۔ یہاں کی بود و باش ترک کر دیں۔ اب فاتح مصر کو خیال گزرتا ہے اور دربار خلافت کو اس سے مطلع فرماتے ہیں۔ اسی وقت خلیفۃ المسلمین امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف سے جواب ملتا ہے کہ ”آپ رضی اللہ عنہ نے جو کیا اچھا کیا اب میں اپنے اس خط میں ایک پرچہ دریائے نیل کے نام بھیج رہا ہوں تم اسے لے کر نیل کے دریا میں ڈال دو۔‏“ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اس پرچے کو نکال کر پڑھا تو اس میں تحریر تھا کہ ”یہ خط اللہ کے بندے امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے اہل مصر کے دریائے نیل کی طرف۔‏“صفحہ نمبر6938”بعد حمد وصلوۃ کے مطلب یہ ہے کہ اگر تو اپنی طرف سے اور اپنی مرضی سے چل رہا ہے تب تو خیر نہ چل اگر اللہ تعالیٰ واحد و قہار تجھے جاری رکھتا ہے تو ہم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگ رہیں کہ وہ تجھے رواں کر دے۔‏“ یہ پرچہ لے کر امیر عسکر نے دریائے نیل میں ڈال دیا، ابھی ایک رات بھی گزرنے نہیں پائی تھی جو دریائے نیل میں سولہ ہاتھ گہرا پانی چلنے لگا اور اسی وقت مصر کی خشک سالی تر سالی سے گرانی ارزانی سے بدل گئی۔ خط کے ساتھ ہی خطہٰ کا خطہٰ سرسبز ہو گیا اور دریا پوری روانی سے بہتا رہا۔ اس کے بعد سے ہر سال جو جان چڑھائی جاتی تھی وہ بچ گئی اور مصر سے اس ناپاک رسم کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوا۔ [کتاب السنہ للحافظ ابوالقاسم اللالکائی:ضعیف] ‏صفحہ نمبر6939اسی آیت کے مضمون کی آیت یہ بھی ہے «فَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖٓ» [80-عبس:24] ‏، یعنی ” انسان اپنی غذا کو دیکھے کہ ہم نے بارش اتاری اور زمین پھاڑ کر اناج اور پھل پیدا کئے “۔ اسی طرح یہاں بھی فرمایا کہ ” یہ لوگ اسے نہیں دیکھتے؟ “ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” «جُرُزِ» وہ زمین ہے جس پر بارش ناکافی برستی ہے پھر نالوں اور نہروں کے پانی سے وہ سیراب ہوتی ہے۔‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ زمین یمن میں ہے۔‏“ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ایسی بستیاں یمن اور شام میں ہیں۔‏“ ابن زید وغیرہ کا قول ہے ”یہ وہ زمین ہے جس میں پیداوار نہ ہو اور غبار آلود ہو۔‏“ اسی کو اس آیت میں بیان فرمایا ہے «وَاٰيَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَيْتَةُ ښ اَحْيَيْنٰهَا وَاَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَاْكُلُوْنَ» [36-يس:33] ‏، ” ان کے لیے مردہ زمین بھی اک نشانی ہے جسے ہم زندہ کر دیتے ہیں “۔صفحہ نمبر6940

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 26 اَوَلَمْ یَہْدِ لَہُمْ کَمْ اَہْلَکْنَا مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰکِنِہِمْ ط۔قریش کے قافلے اپنے سفر شام کے دوران میں قوم ثمود کی بستیوں کے کھنڈرات کے پاس سے گزرتے تھے اور یہاں یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰکِنِہِمْ کے الفاظ میں دراصل اسی طرف اشارہ ہے۔ یعنی یہ لوگ ان بستیوں کی تباہی کی خود تصدیق کرچکے ہیں۔ حال ہی میں کچھ برطانوی محققین نے بحر مردار Dead Sea کے ساحل کے ساتھ پانی کے نیچے قوم لوط کی بستیوں کے آثار کی نشان دہی کر کے اس بارے میں تورات اور قرآن کے بیانات کی تصدیق کی ہے۔ ان بستیوں کے بارے میں میرا خیال یہی تھا کہ وہ سمندر کے اندر آچکی ہیں اور متعلقہ سمندر کو شاید Dead Sea کا نام بھی اسی لیے دیا گیا ہے کہ اس کے نیچے ان شہروں کے باسیوں کی اجتماعی قبریں ہیں۔ مستقبل میں سائنس کی ترقی کے باعث قرآن میں دی گئی اس نوعیت کی بہت سی معلومات کے حوالے سے مزید انکشافات کی بھی امید ہے۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

Two conditions for the leader of any peopleIn the next verse (24), it was said:وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِ‌نَا لَمَّا صَبَرُ‌وا ۖ وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ(And We appointed leaders from among them who guided (people) under Our command, when they observed patience, and kept firm belief in Our verses).In this verse, two reasons have been given as to why religious leadership was bestowed on some of the sages of Bani Isra'il: (1) Observance of patience and (2) the certitude of Divine words. In terms of the Arabic usage, the sense of doing sabr or patience is very wide and general. Literally, it means to tie or to be firm. At this place, sabr means to stay firm on the implementation of Divine injunctions and to hold one's desiring self in check against the infringement of what Allah Ta'ala has declared to be Karam (unlawful) or makruh (reprehensible). This covers one's obedience to all injunctions of the Sharl'ah which is pragmatic perfection at its best. The second reason lies in their certitude - they are certain of the Divine words. This includes the initial understanding of the sense of the verses as well as the resulting certitude which emerges from such comprehension - both. This is intellectual perfection at its best.In short, in the sight of Allah Ta’ ala, only those who are perfect both in 'ilm (knowledge) and 'amal (practice) are worthy of religious leadership. It is interesting here that perfection in practice has been made to precede perfection in knowledge while, usually 'ilm (knowledge) precedes ` amal (practice). This arrangement releases a strong hint, that is, a knowledge which has no corresponding practice with it is just not credible in the sight of Allah.Ibn Kathir has reported the following saying of some ` Ulama' in his tafsir of this verse:بِالصَّبرِ وَ الیَقِینِ تُنَالُ الِا مَا مَۃُ فِی الدِّینِOne can arrive at the station of leadership in religion only through sabr (patience) and yagin (certitude).

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.