The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah As-Sajdah • Ayah 24

Para 21 Surah 32 : 24
وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا۟ ۖ وَكَانُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا يُوقِنُونَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

وَجَعَلْنَا
مِنْهُمْ
أَئِمَّةً
يَهْدُونَ
بِأَمْرِنَا
لَمَّا
صَبَرُوا۟
ۖ
وَكَانُوا۟
بِـَٔايَـٰتِنَا
يُوقِنُونَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Book of Musa and the Leadership of the Children of IsraelAllah tells us that He gave the Book -- the Tawrah -- to His servant and Messenger Musa, peace be upon him.فَلاَ تَكُن فِى مِرْيَةٍ مِّن لِّقَآئِهِ(So, be not you in doubt of meeting him.) Qatadah said, "This refers to the Night of Isra'," then he narrated that Abu Al-`Aliyah Ar-Riyahi said, "The cousin of your Prophet, meaning Ibn `Abbas, told me that the Messenger of Allah ﷺ said:«أُرِيتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي مُوسى بْنَ عِمْرَانَ رَجُلًا آدَمَ طِوَالًا جَعْدًا كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَرَأَيْتُ عِيسى رَجُلًا مَرْبُوعَ الْخَلْقِ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ، سَبْط الرَّأْسِ، وَرَأَيْتُ مَالِكًا خَازِنَ النَّارِ وَالدَّجَّال»(On the night of Isra', I saw Musa bin `Imran, a tall, brown-skinned man with curly hair, looking like the men of Shanu'ah; and I saw `Isa, a man of medium stature and ruddy white skin, and with lank hair. And I saw Malik the Keeper of Hell, and the Dajjal.) Among the signs which Allah showed him were:فَلاَ تَكُن فِى مِرْيَةٍ مِّن لِّقَآئِهِ(So, be not you in doubt of meeting him.) i.e., he saw Musa and met with him on the Night of Isra'."وَجَعَلْنَـهُ(And We made it) means, `the Book which We gave to him, 'هُدًى لِّبَنِى إِسْرَءِيلَ(a guide to the Children of Israel.) This is similar to what Allah says in Surat Al-Isra':وَءَاتَيْنَآ مُوسَى الْكِتَـبَ وَجَعَلْنَاهُ هُدًى لِّبَنِى إِسْرَءِيلَ أَلاَّ تَتَّخِذُواْ مِن دُونِى وَكِيلاً(And We gave Musa the Scripture and made it a guidance for the Children of Israel (saying): "Take none other than Me as Trustee.") (17:2)وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُواْ وَكَانُواْ بِـَايَـتِنَا يُوقِنُونَ(And We made from among them, leaders, giving guidance under Our command, when they were patient and used to believe with certainty in Our Ayat.) means, because they were patient in adhering to the commands of Allah and avoiding what He prohibited, and they believed in His Messengers and followed what they brought, there were among them leaders who guided others to the truth by the command of Allah, calling for goodness, enjoining what is right and forbidding what is wrong. Then when they changed the Words of Allah, twisting and distorting them, they lost that position and their hearts became hard. They change the words from their places, so they do no righteous deeds and have no correct beliefs. Allah says:وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُواْ(And We made from among them (Children of Israel), leaders, giving guidance under Our command, when they were patient) Qatadah and Sufyan said: "When they patiently shunned the temptations of this world." This was also the view of Al-Hasan bin Salih. Sufyan said, "This is how these people were. A man cannot be an example to be followed unless he shuns the temptation of this world." Allah says:وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ الْكِتَـبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ وَرَزَقْنَـهُمْ مِّنَ الطَّيِّبَـتِ وَفَضَّلْنَـهُمْ عَلَى الْعَـلَمينَ وَءاتَيْنَـهُم بَيِّنَـتٍ مِّنَ الاٌّمْرِ(And indeed We gave the Children of Israel the Scripture, and the understanding of the Scripture and its laws, and the prophethood; and provided them with good things, and preferred them above the nations. And We gave them clear proofs in matters.) (45:16-17). And He says here:إِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقَيَـمَةِ فِيمَا كَانُواْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ(Verily, your Lord will judge between them on the Day of Resurrection, concerning that wherein they used to differ.) meaning, with regard to beliefs and actions.

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

شب معراج اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭فرماتا ہے ” ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات دی تو اس کی ملاقات کے بارے میں شک و شبہ میں نہ رہ “۔ قتادۃ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یعنی معراج والی رات میں۔‏“ حدیث میں ہے میں نے معراج والی رات سیدنا موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ گندم گوں رنگ کے لانبے قد کے گھونگھریالے بالوں والے تھے ایسے جیسے قبیلہ شنواہ کے آدمی ہوتے ہیں۔ اسی رات میں نے عیسیٰ علیہ السلام کو بھی دیکھا وہ درمیانہ قد کے سرخ و سفید تھے سیدھے بال تھے۔ میں نے اسی رات مالک کو دیکھا جو جہنم کے داروغہ ہیں اور دجال کو دیکھا یہ سب ان نشانیوں میں سے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائیں پس ” اس کی ملاقات میں شک و شبہ نہ کر “۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یقیناً موسیٰ کو دیکھا اور ان سے ملے جس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرائی گئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28299:] ‏ ” موسیٰ علیہ السلام کو ہم نے بنی اسرائیل کا ہادی بنا دیا “۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” اس کتاب کے ذریعہ ہم نے اسرائیلیوں کو ہدایت دی “۔ جیسے سورۃ بنی اسرائیل میں ہے آیت «وَاٰتَيْنَا مُوْسَي الْكِتٰبَ وَجَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِيْٓ اِسْرَاءِيْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِيْ ‎وَكِيْلًا» [17-الإسراء:2] ‏، یعنی ” ہم نے موسیٰ (‏علیہ السلام) کو کتاب دی اور بنی اسرائیل کے لیے ہادی بنا دیا کہ تم میرے سوا کسی کو کار ساز نہ سمجھو “۔ پھر فرماتا ہے کہ ” چونکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری اس کی نافرمانیوں کے ترک اس کی باتوں کی تصدیق اور اس کے رسولوں کی اتباع وصبر میں جمے رہے ہم نے ان میں سے بعض کو ہدایت کے پیشوا بنا دیا جو اللہ کے احکام لوگوں کو پہنچاتے ہیں بھلائی کی طرف بلاتے ہیں برائیوں سے روکتے ہیں “۔ لیکن جب ان کی حالت بدل گئی انہوں نے کلام اللہ میں تبدیلی تحریف تاویل شروع کر دی تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے یہ منصب چھین لیا ان کے دل سخت کر دئیے عمل صالح اور اعتقاد صحیح ان سے دور ہوگیا۔ پہلے تو یہ دنیا سے بچے ہوئے تھے۔ سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ لوگ پہلے ایسے ہی تھے لہٰذا انسان کے لیے ضروری ہے کہ اس کا کوئی پیشوا ہو جس کی یہ اقتداء کرکے دنیا سے بچا ہوا رہے۔‏“ آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دین کے لیے علم ضروری ہے جیسے جسم کے لیے غذا ضروری ہے۔‏“ سفیان رحمہ اللہ سے علی رضی اللہ عنہ کے اس قول کے بارے میں سوال ہوا کہ ”صبر کی وجہ سے ان کو ایسا پیشوا بنا دیا کہ وہ ہمارے حکم کی ہدایت کرتے تھے۔‏“ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا مطلب یہ ہے کہ ”چونکہ انہوں نے تمام کاموں کو اپنے ذمہ لے لیا اللہ نے بھی انہیں پیشوا بنا دیا۔‏“ چنانچہ فرمان ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ (‏وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ وَآتَيْنَاهُمْ بَيِّنَاتٍ مِنَ الْأَمْرِ) فَمَا اخْتَلَفُوا إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ» [45-الجاثية:17-16] ‏ ” ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب حکمت اور نبوت دی اور پاکیزہ روزیاں عنایت فرمائیں اور جہاں والوں پر فضیلت دی “۔ یہاں بھی آیت کے آخر میں فرمایا کہ ” جن عقائد واعمال میں ان کا اختلاف ہے ان کا فیصلہ قیامت کے دن خود اللہ کرے گا “۔صفحہ نمبر6933

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 24 وَجَعَلْنَا مِنْہُمْ اَءِمَّۃً یَّہْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا ط۔یعنی بنی اسرائیل کے ائمہ اور پیشواؤں کو تورات کی تعلیمات لوگوں تک پہنچانے کے لیے صبر کی روش پر کاربند رہنا پڑتا تھا۔ اس نکتے کو یوں سمجھئے کہ کتاب اللہ کی تعلیمات کو سیکھنے اور پھر لوگوں تک پہنچانے کے لیے وقت درکار ہے جو انسانی سطح پر بذات خود ایک بہت بڑی قربانی ہے۔ دولت اور عیش و عشرت کے حصول کی حرص ہر انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ اگر کوئی شخص اپنا بیشتر وقت دنیا اور اس کی آسائشوں کے حصول کے لیے صرف کر دے گا تو اس کے شب وروز میں دعوت و تبلیغ اور اللہ کی راہ میں جدوجہد کے لیے وقت کہاں سے آئے گا ؟ چناچہ اگر کسی کو اللہ کے راستے میں نکلنے کے لیے کمربستہ ہونا ہے تو صبر و استقامت کا دامن تھام کر اسے لازمی طور پر دنیا کی بہت سی آسائشوں کو خیرباد کہنا ہوگا۔ اس کے علاوہ اس راستے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے حوالے سے بھی صبر درکار ہے۔ کتاب اللہ کی تعلیم و تبلیغ کے حوالے سے یہ دونوں فرائض گویا بنیاد کا درجہ رکھتے ہیں۔ لیکن جب بھی کوئی شخص امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا علمبردار بن کر نکلے گا تو لوگ اس کی مخالفت کریں گے ‘ اس راہ میں اسے گالیاں بھی سننا پڑیں گی ‘ جسمانی و ذہنی اذیتوں کا سامنا بھی کرنا ہوگا اور مال و جان کے نقصانات بھی برداشت کرنا پڑیں گے۔ بہر حال اس راستے پر جس پہلو سے بھی کوئی جدوجہد کرے گا ‘ اسے قدم قدم پر ایسے سنگ ہائے میل سے سابقہ پڑے گا جو صبر و استقامت اور ایثار و قناعت کے رنگا رنگ مطالبات سے عبارت ہوں گے۔آج قرآن کی تبلیغ و ترویج کے میدان میں یہ آیت ہمارے لیے نشان منزل بن سکتی ہے۔ جس انداز میں یہاں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ائمہ کی تعریف فرمائی ہے اس کے لطیف احساس سے ہمارے دلوں میں ترغیب و تشویق کے جذبات کی نئی نئی کو نپلیں پھوٹنی چاہئیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بنی اسرائیل کے ان ائمہ کے کردار اور خوش نصیبی سے متعلق اپنے دلوں میں رشک پیدا کریں اور پھر اللہ سے توفیق مانگیں کہ وہ ہمیں بھی اس کام کے لیے ُ چن لے۔ لیکن ہمیں اس حقیقت کا بھی ادراک ہونا چاہیے کہ یہ رتبہ بلند محض دعاؤں اور تمناؤں کے سہارے نہیں ملا کرتا۔ اس کے لیے ہمیں صبر و استقامت اور ایثار و قناعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ترجیحی بنیادوں پر عملی کوشش کرنا ہوگی۔ اپنی بہت سی خواہشات کو قربان کرنا ہوگا ‘ اپنے معیار زندگی living standard کو کم سے کم سطح پر رکھنا ہوگا اور یوں اپنے تبلیغی بھائیوں کے بقول تفریغ الاوقات دینی جدوجہد کے لیے وقت نکالنا کو ممکن بنانا ہوگا۔ اس سلسلے میں ہم میں سے ہر ایک کو سنجیدہ غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے ایک دفعہ اپنا بیشتر وقت پیسہ کمانے اور معیار زندگی بلند کرنے کی کوششوں میں صرف کرنے کی روش کو اپنا لیا تو یوں سمجھیں کہ ہم نے خود کو ایک کبھی نہ ختم ہونے والے چکر میں ڈال لیا۔ یعنی خود کو ایک نام نہاد معیار زندگی کے سراب کو پالینے اور پھر اس کو برقرار رکھنے کی خواہشات کا اسیر بنا لیا۔ اگر خدانخواستہ ہم نے اپنی زندگی اسی دنیاداری میں گزار دی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے ایک خاص معیار زندگی کو اپنے معبود کا درجہ دے کر گویا ساری عمر اسی کی پوجا میں گزار دی ہے۔ اس کے برعکس اگر ہم اللہ کی توفیق سے قرآن کا دامن مضبوطی سے تھام لیں ‘ اپنی زندگی کے لیے راہنمائی صرف اور صرف قرآن سے حاصل کرنے کا تہیہ کرلیں تو اللہ کے راستے پر چلنے کے لیے ہمارے سامنے ان شاء اللہ اسباب کے نت نئے دروازے کھلتے چلے جائیں گے۔ یاد رکھیں اللہ تعالیٰ نے انسان کو مسجودِملائک بنایا ہے۔ انسان اللہ تعالیٰ کی تخلیق کا نقطۂعروج climax ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ نے حیرت انگیز صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ جب یہ عزم صمیم کا زاد سفر لے کر کسی راہ پر چل پڑتا ہے تو مشکلات اس سے کنی کترا نے لگتی ہیں اور منزلیں خود آگے بڑھ کر اس کے قدم چومتی ہیں۔وَکَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ ۔بنی اسرائیل کے ائمہ جو کتاب کی تعلیم و تبلیغ میں مصروف تھے وہ صبر کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی آیات پر پختہ یقین بھی رکھتے تھے۔ گویا اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھنا ‘ اس کے وعدوں کو من و عن سچ ماننا اور اس پر توکل کرنا راہ حق کی جدوجہد کی لازمی شرائط ہیں۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

Two conditions for the leader of any peopleIn the next verse (24), it was said:وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِ‌نَا لَمَّا صَبَرُ‌وا ۖ وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ(And We appointed leaders from among them who guided (people) under Our command, when they observed patience, and kept firm belief in Our verses).In this verse, two reasons have been given as to why religious leadership was bestowed on some of the sages of Bani Isra'il: (1) Observance of patience and (2) the certitude of Divine words. In terms of the Arabic usage, the sense of doing sabr or patience is very wide and general. Literally, it means to tie or to be firm. At this place, sabr means to stay firm on the implementation of Divine injunctions and to hold one's desiring self in check against the infringement of what Allah Ta'ala has declared to be Karam (unlawful) or makruh (reprehensible). This covers one's obedience to all injunctions of the Sharl'ah which is pragmatic perfection at its best. The second reason lies in their certitude - they are certain of the Divine words. This includes the initial understanding of the sense of the verses as well as the resulting certitude which emerges from such comprehension - both. This is intellectual perfection at its best.In short, in the sight of Allah Ta’ ala, only those who are perfect both in 'ilm (knowledge) and 'amal (practice) are worthy of religious leadership. It is interesting here that perfection in practice has been made to precede perfection in knowledge while, usually 'ilm (knowledge) precedes ` amal (practice). This arrangement releases a strong hint, that is, a knowledge which has no corresponding practice with it is just not credible in the sight of Allah.Ibn Kathir has reported the following saying of some ` Ulama' in his tafsir of this verse:بِالصَّبرِ وَ الیَقِینِ تُنَالُ الِا مَا مَۃُ فِی الدِّینِOne can arrive at the station of leadership in religion only through sabr (patience) and yagin (certitude).

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.