Surah As-Sajdah • Ayah 17
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The State of the People of Faith and Their Reward Allah states:إِنَّمَا يُؤْمِنُ بِـَايَـتِنَا(Only those believe in Our Ayat,) means, who accept them as true,الَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُواْ بِهَا خَرُّواْ سُجَّداً(who, when they are reminded of them, fall down prostrate,) means, they listen to them and obey them in word and deed.وَسَبَّحُواْ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لاَ يَسْتَكْبِرُونَ(and glorify the praises of their Lord, and they are not proud.) means, they are not too proud to follow them and submit to them, unlike the ignorant among the rebellious disbelievers. Allah says:إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِى سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَخِرِينَ(Verily, those who scorn My worship, they will surely enter Hell in humiliation!) (40:60). Then Allah says:تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ(Their sides forsake their beds,) meaning, they pray the voluntary night prayer and forego sleep and resting on a comfortable bed. Mujahid and Al-Hasan said that the Ayahتَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ(Their sides forsake their beds, ) refers to voluntary night prayer. Ad-Dahhak said, "It refers to Salat Al-`Isha' in congregation and Salat Al-Fajr in congregation.يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفاً وَطَمَعاً(to invoke their Lord in fear and hope,) means, in fear of His punishment and in hope of His reward.وَمِمَّا رَزَقْنَـهُمْ يُنفِقُونَ(and they spend out of what We have bestowed on them.) means, they do both obligatory and supererogatory acts of worship. Their leader in this world and the Hereafter is the Messenger of Allah ﷺ. Imam Ahmad recorded that Mu`adh bin Jabal said, "I was with the Messenger of Allah ﷺ on a journey one morning, walking near him. I said, `O Prophet of Allah, tell me of a deed that will grant me admittance to Paradise and keep me away from Hell.' He said:«لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ عَظِيمٍ وَإِنَّهَ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللهُ عَلَيْهِ، تَعْبُدُ اللهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتَحُجُّ الْبَيْت»(You have asked about something great, and it is easy for the one for whom Allah makes it easy. Worship Allah and do not associate anything with Him, establish regular prayer, pay Zakah, fast Ramadan and perform pilgrimage to the House.) Then he said:«أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَبْوَابِ الْخَيْرِ؟ الصَّومُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِىءُ الْخَطِيئَةَ، وَصَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَوْفِ اللَّيْل»(Shall I not tell you of the gates of goodness Fasting is a shield, charity wipes out sin, and the prayer of a man in the depths of the night.) Then he recited:تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ(Their sides forsake their beds,) until he reachedجَزَآءً بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ(as a reward for what they used to do.) Then he said:«أَلَا أُخْبِرُكَ بِرَأْسِ الْأَمْرِ وَعَمُودِهِ وَذِرْوَةِ سَنَامِهِ؟»(Shall I not tell you of the greatest of all things and its pillars and pinnacle) I said, `Of course, O Messenger of Allah.' He said:«رَأْسُ الْأَمْرِ الْإسْلَامُ، وَعَمُودُهُ الصَّلَاةُ، وَذِرْوَةُ سَنَامِهِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ الله»(The greatest of all things is Islam, its pillars are the prayers and its pinnacle is Jihad for the sake of Allah.) Then he said:«أَلَا أُخْبِرُكَ بِمَلَاكِ ذلِكَ كُلِّهِ؟»(Shall I not tell you the factor on which all of that depends) I said, `Of course, O Messenger of Allah.' He took hold of his tongue and said,«كُفَّ عَلَيْكَ هذَا»(Restrain this.) I said, `O Messenger of Allah, will we be accountable for what we say' He said,«ثَكِلَتْكَ أُمُّكُ يَا مُعَاذُ، وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِي النَّارِ عَلى وُجُوهِهِمْ أَوْ قَالَ: عَلى مَنَاخِرِهِمْ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتهِم»(May your mother be bereft of you, O Mu`adh! Will the people be thrown into Hell -- (or he said) on their faces -- except because of what their tongues say) It was also recorded by At-Tirmidhi, An-Nasa'i and Ibn Majah in their Sunans. At-Tirmidhi said, "It is Hasan Sahih."فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ أُخْفِىَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ(No person knows what is kept hidden for them of delights of eyes) means, no one knows the vastness of what Allah has concealed for them of everlasting joy in Paradise and delights such as no one has ever seen. Because they conceal their good deeds, Allah conceals the reward for them, a fitting reward which will suit their deeds. Al-Hasan Al-Basri said, "If people conceal their good deeds, Allah will conceal for them what no eye has seen and what has never crossed the mind of man. It was recorded by Ibn Abi Hatim. Al-Bukhari quoted the Ayah: dفَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ أُخْفِىَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ(No person knows what is kept hidden for them of delights of eyes) Then he recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Messenger of Allah ﷺ said:«قَالَ اللهُ تَعَالى: أَعْدَدْتُ لِعِبَادِي الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلى قَلْبِ بَشَر»(Allah says: "I have prepared for My righteous servants what no eye has seen, no ear has heard, and it has never crossed the mind of man.") Abu Hurayrah said: "Recite, if you wish:فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ أُخْفِىَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ(No person knows what is kept hidden for them of delights of eyes.) It was also recorded by Muslim and At-Tirmidhi. At-Tirmidhi said, "It is Hasan Sahih." In another version of Al-Bukhari:«وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، ذُخْرًا مِنْ بَلْهِ مَا أُطْلِعْتُمْ عَلَيْه»("and no body has ever even imagined of. All that is reserved, besides which, all that you have seen is nothing.") It was also reported from Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, that the Prophet said:«مَنْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ يَنْعَمْ لَا يَبْأَسْ، لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ، وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ، فِي الْجَنَّةِ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلى قَلْبِ بَشَر»(Whoever enters Paradise, will enjoy a life of luxury and never feel deprivation, his clothes will never wear out, his youth will never fade. In Paradise there is what no eye has ever seen, no ear has ever heard, and has never crossed the mind of man.) This was recorded by Muslim.
ایماندار وہی ہے جس کے اعمال تابع قرآن ہوں! ٭٭” سچے ایمانداروں کی نشانی یہ ہے کہ وہ دل کے کانوں سے ہماری آیتوں کو سنتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں۔ زبانی حق مانتے ہیں اور دل سے بھی برحق جانتے ہیں۔ سجدہ کرتے ہیں اور اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کرتے ہیں۔ اور اتباع حق سے جی نہیں چراتے۔ نہ اکڑتے ضد کرتے ہیں۔ یہ بدعات کافروں کی ہے “۔ جیسے فرمایا آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ» [40-غافر:60] یعنی ” میری عبادت سے تکبر کرنے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں جائیں گے “۔ ” ان سچے ایمانداروں کی ایک یہ بھی علامت ہے کہ وہ راتوں کو نیند چھوڑ کر اپنے بستروں سے الگ ہو کر نمازیں ادا کرتے ہیں، تہجد پڑھتے ہیں “۔ مغرب عشاء کے درمیان کی نماز بھی بعض نے مراد لی ہیں۔ کوئی کہتا ہے مراد اس سے عشاء کی نماز کا انتظار ہے۔ اور قول ہے کہ عشاء کی اور صبح کی نمازیں باجماعت اس سے مراد ہے، وہ اللہ سے دعائیں کرتے ہیں اس کے عذابوں سے نجات کے لیے اور اس کی نعمتیں حاصل کرنے کے لیے ساتھ ہی صدقہ خیرات بھی کرتے رہتے ہیں۔ اپنی حیثیت کے مطابق راہ اللہ میں دیتے رہتے ہیں۔ وہ نیکیاں بھی کرتے ہیں جن کا تعلق انہی کی ذات سے ہے۔ اور وہ نیکیاں بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جن کا تعلق دوسروں سے ہے۔ ان بہترین نیکیوں میں سب سے بڑھے ہوئے وہ ہیں جو درجات میں بھی سب سے آگے ہیں۔ یعنی سید اولاد آدم فخر دو جہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ جیسے کہ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے شعروں میں ہے ؎ «وَفِينَا رَسُولُ اللَّهِ يَتْلُو كِتَابَهُ إِذَا انْشَقَّ مَعْرُوفٌ مِنَ الصُّبْحِ سَاطِعُ» «أَرَانَا الْهُدَى بَعْدَ الْعَمَى فَقُلُوبُنَا بِهِ مُوقِنَاتٌ أَنَّ مَا قَالَ وَاقِعُ» «يَبِيتُ يُجَافِي جَنْبَهُ عَنْ فِرَاشِهِ إِذَا اسْتَثْقَلَتْ بِالْمُشْرِكِينَ الْمَضَاجِعُ» یعنی ہم میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو صبح ہوتے ہی اللہ کی پاک کتاب کی تلاوت کرتے ہیں، راتوں کو جبکہ مشرکین گہری نیند میں سوتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کروٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر سے الگ ہوتی ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ دو شخصوں سے بہت ہی خوش ہوتا ہے ایک تو وہ جو رات کو میٹھی نیند سویا ہوا ہے لیکن دفعۃً اپنے رب کی نعمتیں اور اس کی سزائیں یاد کرکے اٹھ بیٹھتا ہے اپنے نرم وگرم بسترے کو چھوڑ کر میرے سامنے کھڑا ہو کر نماز شروع کر دیتا ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جو ایک غزوے میں ہے کافروں سے لڑتے لڑتے مسلمانوں کا پانسہ کمزور پڑ جاتا ہے لیکن یہ شخص یہ سمجھ کر کہ بھاگنے میں اللہ کی ناراضگی ہے اور اگے بڑھنے میں رب کی رضا مندی ہے میدان کی طرف لوٹتا ہے اور کافروں سے جہاد کرتا ہے یہاں تک کہ اپنا سر اس کے نام پر قربان کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فخر سے اپنے فرشتوں کو اسے دکھاتا ہے اور اس کے سامنے اس کے عمل کی تعریف کرتا ہے ۔ [سنن ابوداود:3536، قال الشيخ الألباني:حسن] مسند احمد میں ہے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا صبح کے وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہی چل رہا تھا میں نے پوچھا اے اللہ کے نبی مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں پہنچا دے اور جہنم سے الگ کر دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے سوال تو بڑے کام کا کیا ہے لیکن اللہ جس پر آسان کردے اس پر بڑا سہل ہے۔ سن تو اللہ کی عبادت کرتا رہ اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر نمازوں کی پابندی کر رمضان کے روزے رکھ بیت اللہ کا حج کر زکوٰۃ ادا کرتا رہ۔ آ اب میں تجھے بھلائیوں کے دروازے بتلاؤں۔ روزہ ڈھال ہے اور انسان کی آدھی رات کی نماز، صدقہ گناہوں کو معاف کرا دیتا ہے ۔صفحہ نمبر6915 پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ۡ وَّمِـمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ۔ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ» [32-السجدة:16-17] کی تلاوت فرمائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آ اب میں تجھے اس امر کے سر اس کے ستون اور اس کی کوہان کی بلندی بتاؤں۔ اس تمام کا سر تو اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے اس کے کوہان کی بلندی اللہ کی راہ کا جہاد ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب میں تجھے تمام کاموں کے سردار کی خبردوں؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا: اسے روک رکھ ۔ میں نے کہا کیا ہم اپنی بات چیت پر بھی پکڑے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! افسوس تجھے معلوم نہیں انسان کو جہنم میں اوندھے منہ ڈالنے والی چیز تو اس کے زبان کے کنارے ہیں ۔ [سنن ترمذي:2616، قال الشيخ الألباني:صحیح] یہی حدیث کئی سندوں سے مروی ہے ایک میں یہ بھی ہے کہ اس آیت «تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ» إلخ [32-السجدة:16-17] کو پڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد بندے کا رات کی نماز پڑھنا ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28240:ضعیف و منقطع] اور روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مروی ہے کہ انسان کا آدھی رات کو قیام کرنا پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی آیت کو تلاوت کرنا مروی ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:27237:ضعیف و منقطع] صفحہ نمبر6916ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن جبکہ اول و آخر سب لوگ میدان محشر میں جمع ہوں گے تو ایک منادی فرشتہ آواز بلند کرے گا جسے تمام مخلوق سنے گی۔ وہ کہے گا کہ آج سب کو معلوم ہو جائے گا کہ سب سے زیادہ ذی عزت اللہ کے نزدیک کون ہے؟ پھر لوٹ کر آواز لگائے گا کہ تہجد گزار لوگ اٹھ کھڑے ہوں اور اس آیت کی تلاوت فرمائے گا تو یہ لوگ اٹھ کھڑے ہونگے اور گنتی میں بہت کم ہوں گے ۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جب یہ آیت اتری تو ہم لوگ مجلس میں بیٹھے تھے۔ اور بعض صحابہ رضی اللہ عنہم مغرب کے بعد سے لے کر عشاء تک نماز میں مشغول رہتے تھے پس یہ آیت نازل ہوئی۔“ [مسند بزار:2250:ضعیف] اس حدیث کی یہی ایک سند ہے۔صفحہ نمبر6917پھر فرماتا ہے“ ان کے لیے جنت میں کیا کیا نعمتیں اور لذتیں پوشیدہ پوشیدہ بنا کر رکھی ہیں، اسی کا کسی کو علم نہیں چونکہ یہ لوگ بھی پوشیدہ طور پر عبادت کرتے تھے اسی طرح ہم نے بھی پوشیدہ طور پر ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کی ٹھنڈک اور ان کے دل کا سکھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی دل میں اس کا خیال آیا “۔ بخاری کی حدیث قدسی میں ہے میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ رحمتیں اور نعمتیں مہیا کر رکھی ہیں جو نہ کسی آنکھ کے دیکھنے میں آئیں نہ کسی کان کے سننے میں نہ کسی کے دل کے سوچنے میں آئے ہوں ۔ اس حدیث کو بیان فرما کر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی حدیث نے کہا قرآن کی اس آیت کو پڑھ لو «فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [32-السجدة:17] ، اس روایت میں «قُرَّةِ» کے بجائے «قُرَّاتِ» پڑھنا بھی مروی ہے۔ [صحیح بخاری:4779] اور روایت میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ جنت کی نعمتیں جسے ملیں وہ کبھی بھی واپس نہیں ہونگی۔ ان کے کپڑے پرانے نہ ہوں گے ان کی جوانی ڈھلے گی نہیں ان کے لیے جنت میں وہ ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا نہ کسی انسان کے دل پر ان کا وہم و گمان آیا ۔ [صحیح مسلم:3836] صفحہ نمبر6918ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کا وصف بیان کرتے ہوئے آخر میں یہی فرمایا اور پھر یہ آیت «تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ۡ وَّمِـمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ۔ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ» [32-السجدة:16-17] تک تلاوت فرمائی ۔ [صحیح مسلم:2825] حدیث قدسی میں ہے میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی نعمتیں تیار کی ہیں جو نہ آنکھوں نے دیکھی ہیں نہ کانوں نے سنی ہیں بلکہ اندازہ میں بھی نہیں آسکتیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28256:صحیح بالشواهد] صحیح مسلم شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ رب العالمین عزوجل سے عرض کیا کہ ”اے باری تعالیٰ ادنٰی جنتی کا درجہ کیا ہے؟ جواب ملا کہ ” ادنٰی جنتی وہ شخص ہے جو کل جنتیوں کے جنت میں چلے جانے کے بعد آئے گا اس سے کہا جائے گا جنت میں داخل ہو جاؤ “ وہ کہے گا یا اللہ کہاں جاؤں ہر ایک نے اپنی جگہ پر قبضہ کرلیا ہے اور اپنی چیزیں سنھبال لی ہیں۔ اس سے کہا جائے گا کہ ” کیا تو اس پر خوش ہے؟ کہ تیرے لیے اتنا ہو جتنا دنیا کے کسی بہت بڑے بادشاہ کے پاس تھا؟ “ وہ کہے گا پروردگار میں اس پر بہت خوش ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” تیرے لیے اتنا ہی اور اتنا ہی اور اتنا ہی اور پانچ گناہ “۔ یہ کہے گا بس بس اے رب میں راضی ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” یہ سب ہم نے تجھے دیا اور اس کا دس گنا اور بھی دیا اور بھی جس چیز کو تیرا دل چاہے اور جس چیز سے تیری آنکھیں ٹھنڈی رہیں “۔ یہ کہے گا میرے پروردگار میری تو باچھیں کھل گئیں جی خوش ہو گیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا پھر اللہ تعالیٰ اعلیٰ درجہ کے جنتی کی کیا کیفیت ہے؟ فرمایا ” یہ وہ لوگ ہیں جن کی خاطر و مدارت کی کرامت میں نے اپنے ہاتھ سے لکھی اور اس پر اپنی مہر لگا دی ہے پھر نہ تو وہ کسی کے دیکھنے میں آئی نہ کسی کے سننے میں نہ کسی کے خیال میں “۔ اس کا مصداق اللہ کی کتاب کی آیت «فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [32-السجدة:17] ، ہے ۔ [صحیح مسلم:189] صفحہ نمبر6919حضرت عباس بن عبدالواحد رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ایک جنتی اپنی حور کے ساتھ محبت پیار میں ستر سال تک مشغول رہے گا کسی دوسری چیز کی طرف اس کا التفات ہی نہیں ہو گا۔ پھر جو دوسری طرف التفات ہوگا تو دیکھے گا کہ پہلی سے بہت زیادہ خوبصورت اور نوارنی شکل کی ایک اور حور ہے۔ وہ اسے اپنی طرف متوجہ دیکھ کر خوش ہو کر کہے گی کہ اب میری مراد بھی پوری ہوگی یہ کہے گا تو کون ہے؟ وہ کہے گی میں اللہ کی مزید نعمتوں میں سے ہوں۔ اب یہ سراپا اس کی طرف متوجہ ہو جائے گا پھر ستر سال کے بعد دوسری طرف دیکھے گا کہ اس سے بھی اچھی ایک اور حور ہے وہ کہے گی اب وقت آ گیا کہ آپ میں میرا حصہ بھی ہو یہ پوچھے گا تم کون ہو؟ وہ جواب دے گی میں ان میں سے ہوں جن کی نسبت جناب باری تعالیٰ نے فرمایا ہے ” کوئی نہیں جانتا کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں کی کیا کیا ٹھنڈک چھپا رکھی ہے “۔ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”فرشتے جنتیوں کے پاس دنیا کے اندازے سے ہر دن میں تین تین بار جنت عدن کے اللہ کے تحفے لے کر جائیں گے جو ان کی جنت میں نہیں اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ وہ فرشتے ان سے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ تم سے خوش ہے۔“ ابوالیمان فزاری یا کسی اور سے مروی ہے کہ جنت کے سو درجے ہیں پہلا درجہ چاندی کا ہے اس کی زمین بھی چاندی کی ہے اس کے محلات بھی چاندی کے اس کی مٹی مشک کی ہے، تیسری موتی کی، زمین بھی موتی کی گھر بھی موتی کے برتن بھی موتی کے اور مٹی مشک کی، اور باقی ستانوے تو وہ ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں نہ کسی کان نے سنیں نہ کسی انسان کے دل میں گزریں، پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔صفحہ نمبر6920ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روح الامین علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ انسان کی نیکیاں بدیاں لائی جائی گی۔ بعض بعض سے کم کی جائیں گی پھر اگر ایک نیکی بھی باقی بچ گئی تو اللہ تعالیٰ اسے بڑھا دے گا اور جنت میں کشادگی عطا فرمائے گا۔ راوی نے یزداد سے پوچھا کہ نیکیاں کہاں چلی گئیں؟ تو انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی «اُولٰىِٕكَ الَّذِيْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَـيِّاٰتِهِمْ فِيْٓ اَصْحٰبِ الْجَــنَّةِ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِيْ كَانُوْا يُوْعَدُوْنَ» [46-الأحقاف:16] ، یعنی ” یہ وہ لوگ ہیں جن کے اچھے اعمال ہم نے قبول فرمالئے اور ان کی برائیوں سے ہم نے در گزر فرما لیا “۔صفحہ نمبر6921 راوی نے کہا پھر اس آیت کے کیا معنی ہیں؟ «فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [32-السجدة:17] ، فرمایا بندہ جب کوئی نیکی لوگوں سے چھپا کر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی قیامت کے دن اس کے آرام کی خبریں جو اس کے لیے پوشیدہ رکھ چھوڑی تھیں عطا فرمائے گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28255:ضعیف] صفحہ نمبر6922
آیت 17 فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَہُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ج آخرت کی جن نعمتوں کا ذکر عمومی طور پر قرآن میں ملتا ہے اور جن کے بارے میں ہم کسی حد تک اندازہ بھی کرسکتے ہیں ان میں سے اکثر کا تعلق اہل جنت کی ابتدائی مہمانی نُزُل سے ہے ‘ جبکہ جنت کی اصل نعمتوں کا نہ تو کسی کو علم ہے اور نہ ہی ان کا تصور انسانی فہم و ادراک میں آسکتا ہے۔ اس آیت کی وضاحت حدیث میں بھی بیان ہوئی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رض روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : قَال اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ : اَعْدَدْتُ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالاَ عَیْنٌ رَأَتْ وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ ، فَاقْرَءُ وْا اِنْ شِءْتُمْ : فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ 1 اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : میں نے اپنے صالح بندوں کے لیے جنت میں وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ‘ نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا گمان ہی گزرا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا : اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو : پس کوئی جان یہ نہیں جانتی کہ ان اہل جنت کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے۔
Before approaching verse 16: تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا (Their sides remain apart from their beds. They call their Lord with fear and hope - 16), it should be borne in mind that disbelievers, Mushriks and the deniers of the day of Qiyamah were warned in the verses previous to it. After that, starting from: اِنَّمَا يُؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا ! (Only those people believe in Our verses - 15) mentioned there are special attributes of sincere believers and the high ranks reserved for them. Pointed to in the cited verse is one such attribute of these believers: They leave the comfort of their beds, rise and get busy with the remembrance of Allah in submission and supplication - because, they are apprehensive of His displeasure and punishment while remaining hopeful of His mercy and reward. This very combination of fear and hope keeps them returning to Dhikr and Du'a' repeatedly, anxiously and animated at the same time.The Salah of TahajjudThe majority of commentators takes the expression denoting the leaving of beds and getting busy with Dhikr and Du'a' to mean the Salah of Tahajjud and Nawafil that are offered after rising from sleep (which is the saying of al-Hasan, Mujahid, Malik and al-Awza'i رحمۃ اللہ علیہم). And it is supported by narrations of Hadith as well.According to a report in the Musnad of Ahmad, at-Tirmidhi, an-Nasa'i and others, Sayyidna Mu` adh Ibn Jabal v narrates: 'Once I was in the company of the Holy Prophet ﷺ on a journey. One morning during the course of the journey when I was near him, I requested: "Y Rasulallah, tell me to do something which helps me enter Paradise and keeps me away from Hell." He said, "You asked for something very difficult. But, for whomsoever Allah Ta’ ala makes it easy, for him it becomes easy." Then he said, "This is what you should do: Worship Allah and associate no one with Him, and establish Salah, and pay Zakah, and keep the fasts of Ramadan, and perform the Hajj of Baytullah." And then he said, "Here, now let me tell you about the gateways of righteousness: Fasting is a shield (that saves you from punishment). Sadaqah puts off the fire of one's sins - so does one's Salah in the middle of the night." And after having said that, he recited the cited verse of the Holy Qur'an: تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ (Their sides remain apart from their beds - 16).Sayyidna Abu ad-Darda', Qatadah and Dahhak ؓ have said that this attribute of sides remaining apart from beds also applies to those who make their Salah of ` Isha' with Jama` ah and then go on to make their Salah of Fajr with Jama` ah. And according to a narration of Sayyidna Anas ؓ appearing in Tirmidhi with sound chains of authority, this verse: تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ (Their sides remain apart) was revealed about people who do not sleep before the Salah of 'Isha' and keep waiting for the Jama’ ah of ` Isha'.And according to some other reports, this verse is about people who offer nawafil between Maghrib and ` Isha' (reported by Muhammad Ibn Nasr). And about this verse, Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ said: People who would, on waking up, remember Allah - lying, sitting and on sides - are also included therein.Ibn Kathir and other Tafsir authorities have said that there is no contradiction in all these sayings. It is correct to say that this verse is inclusive of all - while the late night Salah remains the superior most. Bayan ul-Qur'an has also opted for this approach.And Sayyidah Asma' bint Yazid ؓ narrates: The Holy Prophet ﷺ said, 'when Allah Ta’ ala will gather everyone from the first to the last, a proclaimer whose call will be heard by the entire creation will call: 'This day everyone on the plains of Resurrection will find out as to who is really deserving of honor and compliment.' Then, the proclaiming angel will proclaim: '0 people assembled on the plains of Resurrection, let those rise from among you, those whose attribute was: تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ (Their sides remain apart from their beds - 16) '. At this call, these people will stand up, though their number will be small. (Ibn Kathir) And some words of the same narration say that these people will be sent to Paradise without reckoning. After that, all others will stand and face reckoning. (Mazhari)
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.