Surah Ali 'Imran • Ayah 184
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Allah Warns the IdolatorsSa`id bin Jubayr said that Ibn `Abbas said, "When Allah's statement, مَّن ذَا الَّذِى يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً(Who is he that will lend to Allah a goodly loan so that He may multiply it to him many times) 2:245 was revealed, the Jews said, `O Muhammad! Has your Lord become poor so that He asks His servants to give Him a loan' Allah sent down, لَّقَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّ اللَّهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَآءُ(Indeed, Allah has heard the statement of those (Jews) who say: "Truly, Allah is poor and we are rich!") 3:181." This Hadith was collected by Ibn Marduwyah and Ibn Abi Hatim. Allah's statement, سَنَكْتُبُ مَا قَالُواْ(We shall record what they have said) contains a threat and a warning that Allah followed with His statement, وَقَتْلِهِمُ الاٌّنْبِيَآءَ بِغَيْرِ حَقٍّ(and their killing of the Prophets unjustly,) This is what they say about Allah and this is how they treat His Messengers. Allah will punish them for these deeds in the worst manner, لَّقَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّ اللَّهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَآءُ سَنَكْتُبُ مَا قَالُواْ وَقَتْلَهُمُ الاٌّنبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَنَقُولُ ذُوقُواْ عَذَابَ الْحَرِيقِ - ذلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّـمٍ لِّلْعَبِيدِ (and We shall say: "Taste you the torment of the burning (Fire)." This is because of that which your hands have sent before you. And certainly, Allah is never unjust to (His) servants.) They will be addressed like this as a way of chastising, criticism, disgrace and humiliation. Allah said, الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّ اللَّهَ عَهِدَ إِلَيْنَا أَلاَّ نُؤْمِنَ لِرَسُولٍ حَتَّى يَأْتِيَنَا بِقُرْبَانٍ تَأْكُلُهُ النَّارُ(Those (Jews) who said: "Verily, Allah has taken our promise not to believe in any Messenger unless he brings to us an offering which the fire (from heaven) shall devour.") Allah refuted their claim that in their Books, Allah took a covenant from them to only believe in the Messenger whose miracles include fire coming down from the sky that consumes the charity offered by a member of the Messenger's nation, as Ibn `Abbas and Al-Hasan stated. Allah replied, قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِى بِالْبَيِّنَـتِ(Say: "Verily, there came to you Messengers before me, with Al-Bayinat...") with proofs and evidence, وَبِالَّذِى قُلْتُمْ(and even with what you speak of) a fire that consumes the accepted charity, as you asked, فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُمْ(why then did you kill them) Why did you meet these Prophets with denial, defiance, stubbornness and even murder, إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ(if you are truthful), if you follow the truth and obey the Messengers. Allah then comforts His Prophet Muhammad , فَإِن كَذَّبُوكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ جَآءُوا بِالْبَيِّنَـتِ وَالزُّبُرِ وَالْكِتَـبِ الْمُنِيرِ (Then if they reject you, so were Messengers rejected before you, who came with Al-Baiyyinat and the Scripture, and the Book of Enlightenment.) meaning, do not be sad because they deny you, for you have an example in the Messengers who came before you. These Messengers were rejected although they brought clear proofs, plain evidence and unequivocal signs, وَالزُّبُرِ(and the Zubur), the divinely revealed Books that were sent down to the Messengers, وَالْكِتَـبِ الْمُنِيرِ(and the Book of Enlightenment) meaning the clarification and best explanation.
کافروں کا قرض حسنہ پر احمقانہ تبصرہ اور ان کی ہٹ دھرمی پہ مجوزہ سزا ٭٭سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری «مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّـهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً» [2-البقرة:245] کہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے اور وہ اسے زیادہ در زیادہ کر کے دے تو یہود کہنے لگے کہ اے نبی تمہارا رب فقیر ہو گیا ہے اور اپنے بندوں سے قرض مانگ رہا ہے اس پر یہ آیت «لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ فَقِيْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِيَاءُ» [3-آل عمران:181] ، نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ یہودیوں کے مدرسے میں گئے یہاں کا بڑا معلم فنحاص تھا اور اس کے ماتحت ایک بہت بڑا عالم اشیع تھا لوگوں کا مجمع تھا اور وہ ان سے مذہبی باتیں سن رہے تھے آپ نے فرمایا فنحاص اللہ سے ڈر اور مسلمان ہو جا اللہ کی قسم تجھے خوب معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں وہ اس کے پاس سے حق لے کر آئے ہیں ان کی صفتیں توراۃ و انجیل میں تمہارے ہاتھوں میں موجود ہیں تو فنحاص نے جواب میں کہا ابوبکر رضی اللہ عنہ سن اللہ کی قسم اللہ ہمارا محتاج ہے ہم اس کے محتاج نہیں اس کی طرف اس طرح نہیں گڑگڑاتے جیسے وہ ہماری جانب عاجزی کرتا ہے بلکہ ہم تو اس سے بےپرواہ ہیں ہم غنی اور تونگر ہیں اگر وہ غنی ہوتا تو ہم سے قرض طلب نہ کرتا جیسے کہ تمہارا پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کہہ رہا ہے ہمیں تو سود سے روکتا ہے اور خود سود دیتا ہے اگر غنی ہوتا تو ہمیں سود کیوں دیتا؟صفحہ نمبر1420اس پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو سخت غصہ آیا اور فنحاص کے منہ پر زور سے مارا اور فرمایا اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم یہود سے معاہدہ نہ ہوتا تو میں تجھ اللہ کے دشمن کا سر کاٹ دیتا جاؤ بد نصیبو جھٹلاتے ہی رہو اگر سچے ہو۔ فنحاص نے جا کر اس کی شکایت سرکار محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں کی آپ نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اسے کیوں مارا؟ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے واقعہ بیان کیا لیکن فنحاص اپنے قول سے مکر گیا کہ میں نے تو ایسا کہا ہی نہیں۔ اس بارے میں یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8300:ضعیف] پھر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے عذاب کی خبر دیتا ہے کہ ان کا یہ قول اور ساتھ ہی اسی جیسا ان کا بڑا گناہ یعنی قتل انبیاء ہم نے ان کے نامہ اعمال میں لکھ لیا ہے۔ ایک طرف ان کا جناب باری تعالیٰ کی شان میں بےادبی کرنا دوسری جانب نبیوں کو مار ڈالنا ان کاموں کی وجہ انہیں سخت تر سزا ملے گی۔ ان کو ہم کہیں گے کہ جلنے والے عذاب کا ذائقہ چکھو، اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ تمہارے پہلے کے کرتوت کا بدلہ ہے یہ کہہ کر انہیں ذلیل و رسوا کن عذاب پر عذاب ہوں گے، یہ سراسر عدل و انصاف ہے اور ظاہر ہے کہ مالک اپنے غلاموں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔صفحہ نمبر1421پھر ان کو ان کے اس خیال میں جھوٹا ثابت کیا جا رہا ہے جو یہ کہتے تھے کہ آسمانی کتابیں جو پہلے نازل ہوئیں ان میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم دے رکھا ہے کہ جب تک کوئی رسول ہمیں یہ معجزہ نہ دکھائے کہ اس کی امت میں سے جو شخص قربانی کرے اس کی قربانی کو کھا جانے کے لیے آسمان سے قدرتی آگ آئے اور کھا جائے ان کی اس قول کے جواب میں ارشاد ہوتا ہے کہ پھر اس معجزے والے پیغمبروں کو جو اپنے ساتھ دلائل اور براہین لے کر آئے تھے تم نے کیوں مار ڈالا؟ انہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ معجزہ بھی دے رکھا تھا کہ ہر ایک قبول شدہ قربانی آسمانی آگ کھا جاتی تھی لیکن تم نے انہیں بھی سچا نہ جانا ان کی بھی مخالفت اور دشمنی کی بلکہ انہیں قتل کر ڈالا، اس سے صاف ظاہر ہے کہ تمہیں تمہاری اپنی بات کا بھی پاس و لحاظ نہیں لہٰذا تم حق کے ساتھی نہ ہو، نہ کسی نبی کے ماننے والے ہو۔ تم یقیناً جھوٹے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ ان کے جھٹلانے سے آپ تنگ دل اور غمناک نہ ہوں اگلے اوالوالعزم پیغمبروں کے واقعات کو اپنے لیے باعث تسلی بنائیں کہ وہ بھی باوجود دلیلیں ظاہر کر دینے کے اور باوجود اپنی حقانیت کو بخوبی واضح کر دینے کے پھر بھی جھٹلائے گئے «زبر» سے مراد آسمانی کتابیں ہیں جو ان صحیفوں کی طرح آسمان سے آئیں جو رسولوں پر اتاری گئی تھیں اور «مُنِيرِ» سے مراد واضح جلی اور روشن اور چمکیلی ہے۔صفحہ نمبر1422
آیت 184 فَاِنْ کَذَّبُوْکَ تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔ یہ معاملہ صرف آپ ﷺ ہی کے ساتھ نہیں ہوا۔فَقَدْ کُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِکَ یہ تو اس راستے کا ایک عام تجربہ ہے ‘ جس سے آپ ﷺ ‘ کو بھی گزرنا پڑے گا۔
In the fifth verse (184), the Holy Prophet ﷺ has been comforted by saying that he should not grieve at being falsified by his adversaries for this is something faced by all prophets in the past.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.