Surah Al-Qasas (The Stories) • Ayah 6
BY
And establish them in the land and show Pharaoh and [his minister] Hāmān and their soldiers through them1 that which they had feared.
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Which was revealed in MakkahImam Ahmad bin Hanbal, may Allah have mercy on him, recorded that Ma`diykarib said: "We came to `Abdullah and asked him to recite to us:طسم(Ta Sin Mim.) the two hundred. He said, `I do not know it; you should go to someone who learned it from the Messenger of Allah ﷺ Khabbab bin Al-Aratt.' So we went to Khabbab bin Al-Aratt and he recited it to us, may Allah be pleased with him."بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِIn the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.The Story of Musa and Fir`awn, and what Allah intended for Their PeopleWe have already discussed the significance of the separate letters.تِلْكَ ءَايَـتُ الْكِتَـبِ الْمُبِينِ(These are the Ayat of the manifest Book.) means the Book which is clear and makes plain the true reality of things, and tells us about what happened and what will happen.نَتْلُواْ عَلَيْكَ مِن نَّبَإِ مُوسَى وَفِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ(We recite to you some of the news of Musa and Fir`awn in truth,) This is like the Ayah,نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ(We relate unto you the best of stories) (12:3). which means, `We tell you about things as they really were, as if you are there and are seeing them yourself.' Then Allah says:إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلاَ فِى الاٌّرْضِ(Verily, Fir`awn exalted himself in the land) means, he was an arrogant oppressor and tyrant.وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعاً(and made its people Shiya`) means, he made them into different classes, each of which he used to do whatever he wanted of the affairs of his state.يَسْتَضْعِفُ طَآئِفَةً مِّنْهُمْ(weakening a group among them. ) This refers to the Children of Israel, who at that time were the best of people, even though this tyrant king overpowered them, using them to do the most menial work and forcing them to hard labor night and day for him and his people. At the same time, he was killing their sons and letting their daughters live, to humiliate them and because he feared that there might appear among them the boy who would be the cause of his destruction and the downfall of his kingdom. So Fir`awn took precautions against that happening, by ordering that all boys born to the Children of Israel should be killed, but this precaution did not protect him against the divine decree, because when the term of Allah comes, it cannot be delayed, and for each and every matter there is a decree from Allah. Allah says:وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُواْ فِى الاٌّرْضِ(And We wished to do a favor to those who were weak in the land,) until His saying;يَحْذَرُونَ(which they feared.) And Allah did indeed do this to them, as He says:وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُواْ يُسْتَضْعَفُونَ(And We made the people who were considered weak) until His saying;يَعْرِشُونَ(they erected) (7:137). And Allah said:كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَـهَا بَنِى إِسْرَءِيلَ(Thus and We caused the Children of Israel to inherit them) (26: 59). Fir`awn hoped that by his strength and power he would be saved from Musa, but that did not help him in the slightest. Despite his great power as a king he could not oppose the decree of Allah, which can never be overcome. On the contrary, Allah's ruling was carried out, for it had been written and decreed from past eternity that Fir`awn would meet his doom at the hands of Musa.
تفسیر سورۃ القصص:مسند احمد میں سیدنا معدیکرب رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ہم سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے درخواست کی کہ وہ ہمیں سورۃ طسم سو آیتوں والی پڑھ کر سنائیں تو آپ نے فرمایا مجھے یاد نہیں، تم سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے جا کر سنو جنہیں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی ہے۔ چنانچہ ہم آپ کے پاس گئے اور آپ نے ہمیں یہ مبارک سورت پڑھ کر سنائی۔ [مسند احمد:419/1:ضعیف] کتاب روشن کی آیتیں ٭٭حروف مقطعہ کا بیان پہلے ہو چکا ہے۔ [2-البقرة:1] یہ آیتیں ہیں واضح جلی روشن صاف اور کھلے قرآن کی تمام کاموں کی اصلیت اب گزشتہ اور آئندہ کی خبریں اس میں ہیں اور سب سچی اور کھلی۔ ہم تیرے سامنے موسیٰ اور فرعون کا سچا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ» [12-يوسف:3] ” ہم تیرے سامنے بہترین واقعہ بیان کرتے ہیں “۔ اس طرح کہ گویا تو اس کے ہونے کے وقت وہیں موجود تھا۔ فرعون ایک متکبر سرکش اور بد دماغ انسان تھا اس نے لوگوں پر بری طرح قبضہ جما رکھا تھا اور انہیں آپس میں لڑوا لڑوا کر ان میں پھوٹ اور اختلاف ڈلوا کر انہیں کمزور کر کے خود ان پر جبر و تعدی کے ساتھ سلطنت کر رہا تھا۔ خصوصاً بنی اسرائیل کو تو اس ظالم نے نیست و نابود کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور دن رات یہ بیچارے بیکار میں گھسیٹے جاتے تھے۔ اس پر بھی اس کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوتا تھا یہ ان کی نرینہ اولاد کو قتل کروا ڈالتا تھا تاکہ یہ افرادی قوت سے محروم رہیں قوت والے نہ ہو جائیں اور اس لیے بھی کہ یہ ذلیل و خوار رہیں اور اس لیے بھی کہ اسے ڈر تھا کہ ان میں سے ایک بچے کے ہاتھوں میری سلطنت تباہ ہونے والی ہے۔صفحہ نمبر6525بات یہ ہے کہ جب ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام مصر کی حکومت میں سے مع اپنی بیوی صاحبہ سارہ رضی اللہ عنہا کے جا رہے تھے اور یہاں کے سرکش بادشاہ نے سارہ رضی اللہ عنہا کو لونڈی بنانے کے لیے آپ علیہ السلام سے چھین لیا جنہیں اللہ نے اس کافر سے محفوظ رکھا اور اسے آپ علیہ السلام پر دست درازی کرنے کی قدرت ہی حاصل نہ ہوئی تو اس وقت ابراہیم علیہ السلام نے بطور پیش گوئی فرمایا تھا کہ ”تیری اولاد میں سے ایک کی اولاد کے لڑکے کے ہاتھوں ملک مصر اس قوم سے جاتا رہے گا اور انکا بادشاہ اس کے سامنے ذلت کے ساتھ ہلاک ہو گا۔“ چونکہ یہ روایت چلی آ رہی تھی اور ان کے درس میں ذکر ہوتا رہتا تھا جسے قبطی بھی سنتے تھے جو فرعون کی قوم تھی، انہوں نے دربار میں مخبری کی جب سے فرعون نے یہ ظالمانہ اور سفاکانہ قانوں بنا دیا کہ بنو اسرائیل کے بچے قتل کر دئے جائیں اور ان کی بچیاں چھوڑ دی جائیں۔ لیکن رب کو جو منظور ہوتا ہے وہ اپنے وقت پر ہو کر ہی رہتا ہے موسیٰ علیہ السلام زندہ رہ گئے اور اللہ نے آپ علیہ السلام کے ہاتھوں اس عادی سرکش کوذلیل وخوار کیا۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔صفحہ نمبر6526چنانچہ فرمان ہے کہ ” ہم نے ان ضعیفوں اور کمزوروں پر رحم کرنا چاہا “۔ ظاہر ہے کہ اللہ کی چاہت کا پورا ہونا یقینی ہے۔ جیسے فرمایا آیت «وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ» [7-الاعراف:137] ۔ آپ نے اس گری پڑی قوم کو ان کی تمام چیزوں کا مالک بنا دیا۔ فرعون نے اپنی تمام ترطاقت کا مظاہرہ کیا لیکن اسے اللہ کی طاقت کا اندازہ ہی نہ تھا۔ آخر اللہ کا ارادہ غالب رہا اور جس ایک بچے کی خاطر ہزاروں بےگناہ بچوں کا خون ناحق بہایا تھا۔ اس بچے کو قدرت نے اسی کی گود میں پلوایا، پروان چڑھایا، اور اسی کے ہاتھوں اس کا اس کے لشکر کا اور اس کے ملک و مال کا خاتمہ کرایا تاکہ وہ جان لے اور مان لے کہ وہ اللہ کا ذلیل مسکین بے دست و پا غلام تھا اور رب کی چاہت پر کسی کی چاہت غالب نہیں آ سکتی۔ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو اللہ نے مصر کی سلطنت دی اور فرعون جس سے خائف تھا وہ سامنے آ گیا اور تباہ و برباد ہوا۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» صفحہ نمبر6527
آیت 6 وَنُمَکِّنَ لَہُمْ فِی الْاَرْضِ ”ہم نے فیصلہ کیا کہ دنیا میں ہم بنی اسرائیل کو حکومت ‘ طاقت اور سربلندی عطا کریں گے۔وَنُرِیَ فِرْعَوْنَ وَہَامٰنَ وَجُنُوْدَہُمَا مِنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَحْذَرُوْنَ ”ہامان فرعون کا وزیر تھا۔ ان لوگوں کو بنی اسرائیل کی طرف سے کیا خطرہ تھا ؟ اس کے بارے میں دو توجیہات ملتی ہیں۔ ان میں سے جو توجیہہ ہماری تفسیری روایات میں بہت تکرار سے بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ فرعون نے ایک خواب دیکھا تھا جس سے اسے یہ اشارہ ملا کہ اسرائیلیوں کے ہاں ایک ایسا بچہ پیدا ہونے والا ہے جو اسے اور اس کی سلطنت کو ختم کر دے گا۔ چناچہ اس نے اسرائیلیوں کے ہاں پیدا ہونے والے ہر لڑکے کو قتل کرنے کا فیصلہ کرلیا اور پھر اس نے اپنے اس فیصلے پر سختی سے عمل درآمد بھی کروایا۔ یہ روایت تلمود میں بیان ہوئی ہے اور تلمود سے ہی ہماری تفسیری روایات میں آئی ہے لیکن نہ تو اس کا ذکر تورات میں کہیں ملتا ہے اور نہ ہی قرآن میں ایسا کوئی اشارہ موجود ہے۔ البتہ اس سے ملتے جلتے ایک خواب کا ذکر انجیل میں ضرور ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش کے زمانے میں متعلقہ علاقے کے یہودی بادشاہ نے دیکھا تھا اور اس خواب کے بعد وہ بادشاہ آپ علیہ السلام کی جان کے درپے ہوگیا تھا۔ اس سلسلے میں دوسری توجیہہ البتہ منطقی اور عقلی نوعیت کی ہے اور وہ یہ کہ فرعون اور اس کے مشیروں کو یہ احساس ہونے لگا تھا کہ بنی اسرائیل کی تعداد بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اگر ان کی تعداد میں اسی رفتار سے اضافہ ہوتا رہا تو بہت جلد یہ لوگ ان کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں اور اسی خدشے کے پیش نظر انہوں نے اسرائیلیوں کی نرینہ اولاد کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ بالکل اسی نوعیت کی ایک سوچ ماضی قریب میں ہندوستان کے اندر مسلمانوں کے خلاف بھی پیدا ہوئی تھی ‘ جب ہندوؤں کو بھی بالکل ایسا ہی اندیشہ لاحق ہوا کہ مسلمانوں کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اس طرح یہ لوگ مستقبل میں ان کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ چناچہ اسی اندیشے کے تحت اندرا گاندھی کے دور حکومت میں مسلمانوں کی جبری نس بندی کے لیے طرح طرح کے حربے آزمائے گئے۔ اور پھر اسی کے رد عمل کے طور پر مسلمانوں نے انتخابی معرکے میں کانگرس کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور یوں اندرا گاندھی کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے۔بہر حال اس حوالے سے ان دونوں توجیہات کا اپنی اپنی جگہ پر درست ہونے کا امکان بھی ہے۔ یعنی ممکن ہے فرعون اسرائیلیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے بھی خائف ہو اور اس نے ایسا کوئی خواب بھی دیکھا ہو جس سے اسے اپنا اقتدار ڈولتا ہوا محسوس ہو اہو۔ واللہ اعلم !
وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً ؓ (And We intended to favour those who were held as weak in the land and to make them leaders - 28:5). In this verse it is emphasized that the plan of the Pharaoh was not equal to that of the divine fate, rather it turned out to be completely ineffective and he and his entire courtiers were befooled. On the basis of the dream and it's interpretation about an Isra'ili boy from whom the life of the Pharaoh was at risk, and because of which hundreds of newly born Isra'ili male issues were put to death on their birth, it so turned out that Allah Ta` ala made that very boy to grow up in his own house. Not only that, but for the solace of his mother it was arranged to send him back to her for nursing in a most astonishing manner. On top of that the Pharaoh was made to pay a service charge for nursing, which according to some narrations was one Dinar a day. Since this service charge was taken from an infidel with his consent, hence there is no confusion about its admissibility. The cruelty he had perpetrated to quell the risk was of no avail to him, because that very danger was ultimately made to rear in his own home, and ultimately erupted like lava. This way the dream came true, and he saw that happening with his own eyes. The verse وَنُرِيَ فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُم مَّا كَانُوا يَحْذَرُونَ and to make the Pharaoh and Haman and their armies see [ that ] what they were fearing from (had actually happened - 28:6) describes this only.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.