Surah An-Naml (The Ant) • Ayah 66
BY
Rather, their knowledge is arrested concerning the Hereafter. Rather, they are in doubt about it. Rather, they are, concerning it, blind.
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The One Who knows the Unseen is AllahAllah commands His Messenger to inform all of creation that no one among the dwellers of heaven and earth knows the Unseen, except Allah.إِلاَّ اللَّهُ(except Allah) This is an absolute exception, meaning that no one knows this besides Allah, He is alone in that regard, having no partner in that knowledge. This is like the Ayat:وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لاَ يَعْلَمُهَآ إِلاَّ هُوَ(And with Him are the keys of the Unseen, none knows them but He) (6:59).إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ(Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain) (31:34). until the end of the Surah. And there are many Ayat which mention similar things.وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ(nor can they perceive when they shall be resurrected.) That is, the created beings who dwell in the heavens and on earth do not know when the Hour will occur, as Allah says:ثَقُلَتْ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ لاَ تَأْتِيكُمْ إِلاَّ بَغْتَةً(Heavy is its burden through the heavens and the earth. It shall not come upon you except all of a sudden) (7: 187). meaning, it is a grave matter for the dwellers of heaven and earth.بَلِ ادَرَكَ عِلْمُهُمْ فِى الاٌّخِرَةِ بَلْ هُمْ فِى شَكٍّ مِّنْهَا(Nay, their knowledge will perceive that in the Hereafter. Nay, they are in doubt about it.) means their knowledge and amazement stops short of knowing its time. Other scholars read this with the meaning "their knowledge is all the same with regard to that," which reflects the meaning of the Hadith in Sahih Muslim which states that the Messenger of Allah ﷺ said to Jibril, when the latter asked him when the Hour would come: s«مَا الْمَسْؤُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِل»(The one who is being asked about it does not know any more than the one who is asking.) In other words, they were both equal in the fact that their knowledge did not extend that far.بَلْ هُمْ فِى شَكٍّ مِّنْهَا(Nay, they are in doubt about it.) This refers to the disbelievers in general as Allah says elsewhere:وَعُرِضُواْ عَلَى رَبِّكَ صَفَا لَّقَدْ جِئْتُمُونَا كَمَا خَلَقْنَـكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ بَلْ زَعَمْتُمْ أَلَّن نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا(And they will be set before your Lord in rows, (and Allah will say:) "Now indeed, you have come to Us as We created you the first time. Nay, but you thought that We had appointed no meeting for you (with Us). ") (18:48) i.e., the disbelievers among you. By the same token, Allah says here:بَلْ هُمْ فِى شَكٍّ مِّنْهَا(Nay, they are in doubt about it.) meaning, they doubt that it will come to pass.بَلْ هُم مِّنْهَا عَمُونَ(Nay, they are in complete blindness about it.) They are blind and completely ignorant about it.وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ أَءِذَا كُنَّا تُرَاباً وَءَابَآؤُنَآ أَءِنَّا لَمُخْرَجُونَ - لَقَدْ وُعِدْنَا هَـذَا نَحْنُ وَءَابَآؤُنَا مِن قَبْلُ إِنْ هَـذَآ إِلاَّ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
اللہ کے سوا کوئی غیب داں نہیں ٭٭اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ وہ سارے جہاں کو معلوم کرا دیں کہ ساری مخلوق آسمان کی ہو یا زمین کی غیب کے علم سے خالی ہے بجز اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک لہ کے کوئی اور غیب کا جاننے والا نہیں۔ یہاں استثناء منقطع ہے یعنی سوائے اللہ کے کوئی انسان جن فرشتہ غیب دان نہیں۔ جیسے فرمان ہے «وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ» [6-الأنعام:59] ” یعنی غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہے جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ “ اور فرمان ہے «اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ» [31-لقمان:34] ” اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے۔ “ وہی بارش برساتا ہے وہی مادہ کے پیٹ کے بچے سے واقف ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا نہ کسی کو یہ خبر کہ وہ کہاں مرے گا؟ علیم وخبیر صرف اللہ ہی ہے۔ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں۔ مخلوق تو یہ بھی نہیں جانتی کہ قیامت کب آئے گی۔ آسمانوں اور زمینوں کے رہنے والوں میں سے ایک بھی واقف نہیں کہ قیامت کا دن کون سا ہے؟ جیسے فرمان ہے آیت «ثَقُلَتْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ» [7-الأعراف:187] سب پر یہ علم مشکل ہے اور بوجھل ہے وہ تو اچانک آ جائے گی۔صفحہ نمبر6484سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے جو کہے کہ حضور کل کائنات کی بات جانتے تھے اس نے اللہ تبارک وتعالیٰ پر بہتان عظیم باندھا اس لیے کہ اللہ فرماتا ہے زمین و آسمان والوں میں سے کوئی بھی غیب کی بات جاننے والا نہیں۔ [صحیح مسلم:177] قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ستاروں میں تین فائدے رکھے ہیں۔ آسمان کی زینت بھولے بھٹکوں کی رہبری اور شیطانوں کی مار۔ کسی اور بات کا ان کے ساتھ عقیدہ رکھنا اپنی رائے سے بات بنانا اور خود ساختہ تکلیف اور اپنی عاقبت کے حصہ کو کھونا ہے۔ جاہلوں نے ستاروں کے ساتھ علم نجوم کو متعلق رکھ کر فضول باتیں بنائی ہیں کہ اس ستارے کے وقت جو نکاح کرے یوں ہو گا فلاں ستارے کے موقعہ پر سفر کرنے سے یہ ہوتا ہے فلاں ستارے کے وقت جو تولد ہوا وہ ایسا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب ڈھکوسلے ہیں ان کی بکواس کے خلاف اکثر ہوتا رہتا ہے ہر ستارے کے وقت کالا گورا ٹھنگنا لمبا خوبصورت بد شکل پیدا ہوتا ہی رہتا ہے۔ نہ کوئی جانور غیب جانے نہ کسی پرند سے غیب حاصل ہو سکے نہ ستارے غیب کی رہنمائی کریں۔ سنو اللہ کا فیصلہ ہو چکا ہے کہ آسمان و زمیں کی کل مخلوق غیب سے بےخبر ہے۔ انہیں تو اپنے جی اٹھنے کا وقت بھی نہیں معلوم ہے [ ابن ابی حاتم ] سبحان اللہ قتادہ رحمہ اللہ کا یہ قول کتنا صحیح کس قدر مفید اور معلومات سے پر ہے۔صفحہ نمبر6485فرماتا ہے بات یہ ہے کہ ان کے علم آخرت کے وقت کے جاننے سے قاصر ہیں عاجز ہو گئے ہیں۔ ایک قرأت میں «بل ادرک» ہے یعنی سب کے علم آخرت کا صحیح وقت نہ جاننے میں برابر ہیں۔ جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کے سوال کے جواب میں فرمایا تھا کہ میرا اور تیرا دونوں کا علم اس کے جواب سے عاجز ہے۔ [صحیح مسلم:94-93] پس یہاں بھی فرمایا کہ آخرت سے ان کے علم غائب ہیں۔ چونکہ کفار اپنے رب سے جاہل ہیں اس لیے آخرت کے بھی منکر ہیں۔ وہاں تک ان کے علم پہنچتے ہی نہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ آخرت میں ان کو علم حاصل ہو گا لیکن بےسود ہے۔ جیسے اور جگہ بھی ہیں کہ جس دن یہ ہمارے پاس پہنچے گے بڑے ہی دانا وبینا ہو جائیں گے۔ لیکن آج ظالم کھلی گمراہی میں ہونگے۔ پھر فرماتا ہے کہ بلکہ یہ تو شک ہی میں ہیں اس سے مراد کافر ہے جیسے فرمان ہے «وَعُرِضُوا عَلَىٰ رَبِّكَ صَفًّا لَّقَدْ جِئْتُمُونَا كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ ۚ بَلْ زَعَمْتُمْ أَلَّن نَّجْعَلَ لَكُم مَّوْعِدًا» [18-الكهف:48] ” یعنی یہ لوگ اپنے رب کے سامنے صف بستہ پیش کئے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہم نے جس طرح تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب ہم تمہیں دوبارہ لے آئے ہیں۔ “ لیکن تم تو یہ سمجھتے رہے کہ قیامت تو کوئی چیز ہی نہیں۔ مراد یہ ہے کہ تم میں سے کافر یہ سمجھتے رہے۔ پس مندرجہ بالا آیات بھی گو ضمیر جنس کی طرف لوٹتی ہے لیکن مراد کفار ہی ہیں اسی لیے آخر میں فرمایا کہ یہ تو اس سے اندھاپے میں ہیں، نابینا ہو رہے ہیں، آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔صفحہ نمبر6486
آیت 66 بَلِ ادّٰرَکَ عِلْمُہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِقف ”یعنی یہ لوگ آخرت کی حقیقت کو سمجھ نہیں پا رہے۔بَلْ ہُمْ فِیْ شَکٍّ مِّنْہَاقف بَلْ ہُمْ مِّنْہَا عَمُوْنَ ”اگرچہ یہ لوگ زبانی طور پر آخرت کا اقرار بھی کرتے ہیں اور دوبارہ جی اٹھنے پر بظاہر ایمان بھی رکھتے ہیں ‘ لیکن عملاً وہ اس کے منکر ہیں۔ عملاً انہیں آخرت کی زندگی کو سنوارنے یا قیامت کے احتساب سے بچنے کی کوئی فکر نہیں ہے۔ اس دنیا میں اپنے کل کی فکر انسان کو ہر وقت دامن گیر رہتی ہے ‘ کہ کل کیا کھانا ہے اور باقی ضروریات کیسے پوری کرنی ہیں۔ اس لیے کہ اسے کل کے آنے پر پختہ یقین ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر اسے واقعی یقین ہو کہ مرنے کے بعد اسے دوبارہ زندہ ہونا ہے اور یہ کہ آخرت کی زندگی ہی اصل زندگی ہے تو اس کے لیے وہ لازماً فکر مند بھی ہوگا اور اسے بہتر بنانے کی کوشش بھی کرے گا۔ لیکن کسی انسان کو عملاً اگر اس کی فکر نہیں ہے اور وہ اس کے لیے کوشش بھی نہیں کر رہا تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اسے اس کے بارے میں یقین نہیں ہے۔
بَلِ ادَّارَكَ عِلْمُهُمْ فِي الْآخِرَةِ ۚ بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ مِّنْهَا ۖ بَلْ هُم مِّنْهَا عَمُونَ ﴿66﴾Rather, their knowledge failed in the matter of Hereafter. Rather, they are in doubt about it. Rather, they are blind to it. 27:66.There are different recitations for the word اِدّٰرَکَ (iddaraka) and their meanings are also different. Those who are interested should refer to different commentaries for the details. It is enough to understand here that some commentators have taken it to mean "completion" and have explained the verse thus: "Their knowledge and understanding will be completed in the Hereafter", because then the truth about every thing shall be laid bare. But knowledge of truth at that time will be of no avail, because they had been contradicting the Hereafter in the world. But some other commentators have taken the word in the meaning of 'having failed' and 'hating been lost'. The sense in this case would be that their knowledge about the Hereafter was lost, and they could not understand what it was.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.