Surah An-Naml • Ayah 44
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The Test of BilqisWhen Sulayman brought the throne of Bilqis before she and her people arrived, he issued orders that some of its features should be altered, so that he could test her and see whether she recognized it and how composed she would be when she saw it. Would she hasten to say either that it was her throne or that it was not So he said:نَكِّرُواْ لَهَا عَرْشَهَا نَنظُرْ أَتَهْتَدِى أَمْ تَكُونُ مِنَ الَّذِينَ لاَ يَهْتَدُونَ(Disguise her throne for her that we may see whether she will be guided, or she will be one of those not guided.) Ibn `Abbas said: "Remove some of its adornments and parts." Mujahid said: "He issued orders that it should be changed, so whatever was red should be made yellow and vice versa, and whatever was green should be made red, so everything was altered." `Ikrimah said, "They added some things and took some things away." Qatadah said, "It was turned upside down and back to front, and some things were added and some things were taken away."فَلَمَّا جَآءَتْ قِيلَ أَهَكَذَا عَرْشُكِ(So when she came, it was said: "Is your throne like this") Her throne, which had been altered and disguised, with some things added and others taken away, was shown to her. She was wise and steadfast, intelligent and strong-willed. She did not hasten to say that this was her throne, because it was far away from her. Neither did she hasten to say that it was not her throne, when she saw that some things had been altered and changed. She said,كَأَنَّهُ هُوَ((It is) as though it were the very same. ) This is the ultimate in intelligence and strong resolve.وَأُوتِينَا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِينَ(Knowledge was bestowed on us before her, and we had submitted to Allah.) Mujahid said, "This was spoken by Sulayman."وَصَدَّهَا مَا كَانَت تَّعْبُدُ مِن دُونِ اللَّهِ إِنَّهَا كَانَتْ مِن قَوْمٍ كَـفِرِينَ (And Saddaha that which she used to worship besides Allah has prevented her, for she was of a disbelieving people.) This is a continuation of the words of Sulayman -- according to the opinion of Mujahid and Sa`id bin Jubayr, may Allah be pleased with them both -- i.e., Sulayman said:وَأُوتِينَا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِينَ(Knowledge was bestowed on us before her, and we had submitted to Allah.) and what stopped her from worshipping Allah alone wasمَا كَانَت تَّعْبُدُ مِن دُونِ اللَّهِ إِنَّهَا كَانَتْ مِن قَوْمٍ كَـفِرِينَ(that which she used to worship besides Allah, for she was of a disbelieving people.) What Mujahid and Sa`id said is good; it was also the view of Ibn Jarir. Then Ibn Jarir said, "It could be that the subject of the verb.وَصَدَّهَا(And Saddaha) refers to Sulayman or to Allah, so that the phrase now means:مَا كَانَت تَّعْبُدُ مِن دُونِ اللَّهِ(She would not worship anything over than Allah.)إِنَّهَا كَانَتْ مِن قَوْمٍ كَـفِرِينَ(for she was of a disbelieving people.) I say: the opinion of Mujahid is supported by the fact that she declared her Islam after she entered the Sarh, as we shall see below.قِيلَ لَهَا ادْخُلِى الصَّرْحَ فَلَمَّا رَأَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَكَشَفَتْ عَن سَاقَيْهَا(It was said to her: "Enter As-Sarh" but when she saw it, she thought it was a pool, and she (tucked up her clothes) uncovering her legs.) Sulayman had commanded the Shayatin to build for her a huge palace of glass beneath which water was flowing. Anyone who did not know the nature of the building would think that it was water, but in fact there was a layer of glass between a person walking and the water.Verily, it is a Sarh Mumarrad of Qawarir Sarh means a palace or any lofty construction.Allah says of Fir`awn -- may Allah curse him -- that he said to his minister Haman:ابْنِ لِى صَرْحاً لَّعَـلِّى أَبْلُغُ الاٌّسْبَـبَ(Build me a Sarh that I may arrive at the ways.) (40:36-37) Sarh is also used to refer to the high constructed palaces in Yemen. Mumarrad means sturdily constructed and smooth.مِّن قَوارِيرَ(of Qawarir) means, made of glass, i.e., it was built with smooth surfaces. Marid is a fortress in Dawmat Al-Jandal. What is meant here is that Sulayman built a huge, lofty palace of glass for this queen, in order to show her the greatness of his authority and power. When she saw for herself what Allah had given him and how majestic his position was, she submitted to the command of Allah and acknowledged that he was a noble Prophet, so she submitted to Allah and said:رَب إِنِّى ظَلَمْتُ نَفْسِى(My Lord! Verily, I have wronged myself,) meaning, by her previous disbelief and Shirk and by the fact that she and her people had worshipped the sun instead of Allah.وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَـنَ لِلَّهِ رَبِّ الْعَـلَمِينَ(and I submit, together with Sulayman to Allah, the Lord of all that exists.) meaning, following the religion of Sulayman, worshipping Allah alone with no partner or associate, Who created everything and measured it exactly according to its due measurements.
بلقیس کا تخت آنے کے بعد ٭٭اس تخت کے آجانے کے بعد سلیمان علیہ السلام نے حکم دیا کہ اس میں قدرے تغیر وتبدل کر ڈالو۔ پس کچھ ہیرے جواہر بدل دئیے گئے۔ رنگ وروغن میں بھی تبدیلی کر دی گئی نیچے اور اوپر سے بھی کچھ بدل دیا گیا۔ کچھ کمی زیادتی بھی کر دی گئی تاکہ بلقیس کی آزمائش کریں کہ وہ اپنے تخت کو پہچان لیتی ہے یا نہیں؟ جب وہ پہنچی تو اس سے کہا گیا کہ کیا تیرا تخت یہ ہی ہے؟ اس نے جواب دیا کہ ہوبہو اسی جیسا ہے۔ اس جواب سے اس کی دور بینی عقلمندی، زیر کی دانائی ظاہر ہے کہ دونوں پہلو سامنے رکھے دیکھا کہ تخت بالکل میرے تخت جیسا ہے مگر بظاہر اس کا یہاں پہنچنا ناممکن ہے تو اس نے بیچ کی بات کہی سلیمان علیہ السلام نے فرمایا اس سے پہلے ہی ہمیں علم دیا گیا تھا اور ہم مسلمان تھے بلقیس کو اللہ کے سوا اوروں کی عبادت نے اور اس کے کفر نے توحید اللہ سے روک دیا تھا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے بلقیس کو غیر اللہ کی عبادت سے روک دیا اس سے پہلے کافروں میں سے تھی۔ لیکن پہلے قول کی تائید اس سے بھی ہو سکتی ہے کہ ملکہ نے قبول اسلام کا اعلان محل میں داخل ہونے کے بعد کیا ہے۔ جیسے عنقریب بیان ہو گا۔ سلیمان علیہ السلام نے جنات کے ہاتھوں ایک محل بنوایا تھا جو صرف شیشے اور کانچ کا تھا اور اس کے نیچے پانی سے لباب حوض تھا شیشہ بہت ہی صاف شفاف تھا۔ آنے والا شیشے کا امتیاز نہیں کر سکتا تھا بلکہ اسے یہی معلوم ہوتا تھا۔ کہ پانی ہی پانی ہے۔ حالانکہ اس کے اوپر شیشے کا فرش تھا۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ اس صنعت سے غرض سلیمان علیہ السلام کی یہ تھی کہ آپ اس سے نکاح کرنا چاہتے تھے۔ لیکن یہ سنا تھا کہ اس کی پنڈلیاں بہت خراب ہیں اور اس کے ٹخنے چوپایوں کے کھروں جیسے ہیں اس کی تحقیق کے لیے آپ نے ایسا کیا تھا۔ جب وہ یہاں آنے لگی تو پانی کے حوض کو دیکھ کر اپنے پائنچے اٹھائے آپ نے دیکھ لیا کہ جو بات مجھے پہنچائی گئی ہے غلط ہے۔ اس کی پنڈلیاں اور پیر بالکل انسانوں جیسے ہی ہیں۔ کوئی نئی بات یا بدصورتی نہیں ہے چونکہ بے نکاحی تھی پنڈلیوں پر بال بڑے بڑے تھے۔ آپ نے استرے سے منڈوا ڈالنے کا مشورہ دیا لیکن اس نے کہا اس کی برداشت مجھ سے نہ ہو سکے گی۔ آپ نے جنوں سے کہا کہ کوئی اور چیز بناؤ جس سے یہ بال جاتے رہیں۔ پس انہوں نے ہڑتال پیش کی یہ دوا سب سے پہلے سلیمان علیہ السلام کے حکم سے ہی تلاش کی گئی۔ محل میں بلانے کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے ملک سے اپنے دربار سے اپنی رونق سے اپنے سازو سامان سے اپنے لطف وعیش سے خود اپنے سے بڑی ہستی دیکھ لے اور اپنا جاہ حشم نظروں سے گر جائے جس کے ساتھ ہی تکبر تجبر کا خاتمہ بھی یقینی تھا۔ یہ جب اندر آنے لگی اور حوض کی حد پر پہنچی تو اسے لہلاتا ہوا دریا سمجھ کر پانئچے اٹھائے۔ اسی وقت کہا گیا کہ آپ کو غلطی لگی یہ تو شیشہ منڈہا ہوا ہے۔ آپ اسی کے اوپر سے بغیر قدم تر کئے آ سکتی ہیں۔صفحہ نمبر6441سلیمان علیہ السلام کے پاس پہنچتے ہی اس کے کان میں آپ نے صدائے توحید ڈالی اور سورج پرستی کی مذمت سنائی۔ اس محل کو دیکھتے ہی اس حقیقت پر نظر ڈالتے ہی دربار کے ٹھاٹھ دیکھتے ہی اتنا تو وہ سمجھ گئی تھی کہ میرا ملک تو اس کے پاسنگ میں بھی نہیں۔ نیچے پانی ہے اور اوپر شیشہ ہے بیچ میں تخت سلیمانی ہے اور اوپر سے پرندوں کا سایہ ہے جن و انس سب حاضر ہیں اور تابع فرمان۔ جب اسے توحید کی دعوت دی گئی تو بیدینوں کی طرح اس نے بھی زندیقانہ جواب دیا جس سے اللہ کی جناب میں گستاخی لازم آتی تھی۔ اسے سنتے ہی سلیمان علیہ السلام اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑے اور آپ کو دیکھ کر آپ کا سارا لشکر بھی۔ اب وہ بہت ہی نادم ہو گئی ادھر سے نے ڈانٹا کہ کیا کہہ دیا؟ اسنے کہا مجھ سے غلطی ہوئی۔ اور اسی وقت رب کی طرف جھک گئی اور کہنے لگی اے اللہ میں نے اپنے اوپر ظلم کیا اب میں سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین پر ایمان لے آئی۔ چنانچہ سچے دل سے مسلمان ہو گئی۔صفحہ نمبر6442ابن ابی شیبہ میں یہاں پر ایک غریب اثر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وارد کیا ہے کہ آپ فرماتے ہیں سلیمان علیہ السلام جب تخت پر متمکن ہوتے تو اس کے پاس کی کرسیوں پر انسان بیٹھتے اور اس کے پاس والی کرسیوں پر جن بیٹھتے پھر ان کے بعد شیاطین بیٹھتے پھر ہوا اس تخت کو لے اڑتی اور معلق تھمادیتی پھر پرند آ کر اپنے پروں سے سایہ کر لیتے۔ پھر آپ ہوا کو حکم دیتے اور وہ پرواز کر کے صبح صبح مہینے بھر کے فاصلے پر پہنچادیتی اسی طرح شام کو مہینے بھر کی دوری طے ہوتی ایک مرتبہ اسی طرح آپ جا رہے تھے پرندوں کی دیکھ بھال جو کی تو ہدہد کو غائب پایا بڑے ناراض ہوئے اور فرمایا کیا وہ جمگھٹے میں مجھے نظر نہیں پڑتا یا سچ مچ غیر حاضر ہے؟ اگر واقعی وہ غیر حاضر ہے تو میں اسے سخت سزا دونگا بلکہ ذبح کردونگا۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ غیر حاضری کی کوئی معقول وجہ بیان کر دے ایسے موقعہ پر آپ پرندوں کے پرنچواکر آپ زمین پر ڈلوادیتے تھے کیڑے مکوڑے کھاجاتے تھے۔ اس کے بعد تھوڑ ہی دیر میں خود حاضر ہوتا ہے اپنا سبا جانا اور وہ ان کی خبر لانا بیان کرتا ہے۔ اپنی معلومات کی تفصیل سے آگاہ کرتا ہے سلیمان علیہ السلام اس کی صداقت کی آزمائش کے لیے اسے ملکہ سبا کے نام ایک چھٹی دے کر اسے دوبارہ بھیجتے ہیں جس میں ملکہ کو ہدایت ہوتی ہے کہ میری نافرمانی نہ کرو اور مسلمان ہو کر میرے پاس آ جاؤ۔ اس خط کو دیکھتے ہی ملکہ کے دل میں خط کی اور اس کے لکھنے والے کی عزت سماجاتی ہے۔ وہ اپنے درباریوں سے مشورہ کرتی ہے وہ اپنی قوت وطاقت فوج کی ٹھاٹھ بیان کر کے کہہ دیتے ہیں کہ ہم تیار ہیں صرف اشارے کی دیر ہے لیکن یہ برے وقت اور اپنے شکست کے انجام کو دیکھ کر اس ارادے سے باز رہتی ہے۔ اور دوستی کا سلسلہ اس طرح شروع کرتی ہے کہ تحفے اور ہدیے سلیمان علیہ السلام کے پاس بھیجتی ہے۔ جسے سلیمان علیہ السلام واپس کر دیتے ہیں اور چڑھائی کی دھمکی دیتے ہیں اب یہ اپنے ہاں سے چلتی ہے جب قریب پہنچ جاتی ہے اور اس کے لشکر کی گرد کو سلیمان علیہ السلام دیکھ لیتے ہیں تب فرماتے ہیں کہ اس کا تختہ اٹھالاؤ۔ ایک جن کہتا ہے کہ بہتر میں ابھی لاتا ہوں آپ یہاں سے اٹھیں اس سے پہلے ہی اسے دیکھ لیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ اس سے بھی جلد ممکن ہے؟ اس پر تو یہ خاموش ہو گیا لیکن اللہ کے علم والے نے کہا ابھی ایک آنکھ جھپکتے ہی۔ اتنے میں تو دیکھا کہ جس کرسی پر پاؤ رکھ کر سلیمان اپنے تخت پر چڑھتے ہیں وہاں بلقیس کا تخت نمایا ہوا۔ آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور لوگوں کو نصیحت کی اور اس میں کچھ تبدیلی کا حکم دیا اس کے آتے ہی اس سے اس تخت کے بابت پوچھا تو اس نے کہا کہ گویا یہ وہی ہے۔ اس نے سلیمان علیہ السلام سے دو چیزیں طلب کیں ایک تو ایسا پانی جو نہ زمین سے نکلا ہو اور نہ آسمان سے برساہو۔ آپ کی عادت تھی کہ جب کسی چیز کی ضرورت پڑتی تو اول انسانوں سے پھر جنوں سے پھر شیطانوں سے دریافت فرماتے اس سوال کے جواب میں شیطانوں نے کہا کہ یہ کوئی مشکل چیز نہیں ہے۔ گھوڑے دوڑائیے اور ان کے پسینے سے اس کو پیالہ بھر دیجئیے اس سوال کے پورا ہونے کے بعد اس نے دوسرا سوال کیا کہ اللہ کا رنگ کیسا ہے؟ اسے سن کر آپ اچھل پڑے اور اسی وقت سجدے میں گر پڑے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ باری تعالیٰ اس نے ایسا سوال کیا کہ میں اسے تجھ سے دریافت ہی نہیں کر سکتا۔صفحہ نمبر6443اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ملا کہ بے فکر ہو جاؤ میں نے کفایت کر دی آپ سجدے سے اٹھے اور فرمایا تو نے کیا پوچھا تھا اس نے کہا پانی کے بارے میں میرا سوال تھا جو آپ نے پورا کیا اور تو میں نے کچھ نہیں پوچھا یہ خود اور اس کا لشکر اس دوسرے سوال ہی کو بھول گئے۔ آپ نے لشکریوں سے بھی پوچھا کہ اس نے دوسرا سوال کیا کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا بجز پانی کے اس نے اور کوئی سوال نہیں کیا۔ شیطانوں کے دل میں خیال آیا کہ اگر سلیمان علیہ السلام نے اسے پسند کر لیا اور اسے اپنی نکاح میں لے لیا اور اولاد بھی ہو گئی تو یہ ہم سے ہمیشہ کے لیے گئے۔ اس لیے انہوں نے حوض بنایا پانی سے پر کیا۔ اور اوپر سے بلور کا فرش بنا دیا اس صفت سے کہ دیکھنے والے کو وہ معلوم ہی نہ دے وہ تو پانی ہی سمجھے جب بلقیس دربار میں آئی اور وہاں سے گزرنا چاہا تو پانی جان کر اپنے پائنچے اٹھالئے سلیمان علیہ السلام نے پنڈلیوں کے بال دیکھ کر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ اسے زائل کرنے کی کوشش کرو تو کہا گیا کہ استرے سے مونڈ سکتے ہیں آپ نے فرمایا اس کا نشان مجھے ناپسند ہے کوئی اور ترکیب بتاؤ پس شیاطین نے طلا بنایا جس کے لگاتے ہی بال اڑ گئے۔ پس اول بال صفا طلا سلیمان علیہ السلام کے حکم سے ہی تیار ہوا ہے۔ امام ابن ابی شیبہ نے اس قصے کو نقل کر کے لکھا ہے یہ کتنا اچھا قصہ ہے لیکن میں کہتا ہوں بالکل منکر اور سخت غریب ہے یہ عطا بن سائب کا وہم ہے جو اس سیدنا نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے نام سے بیان کر دیا ہے۔ اور زیادہ قرین قیاس امر یہ ہے کہ یہ بنی اسرائیل کے دفاتر سے لیا گیا ہے جو مسلمانوں میں کعب اور وہب نے رائج کر دیا تھا۔ اللہ ان سے درگذر فرمائے۔ پس ان قصوں کا کوئی اعتماد نہیں بنو اسرائیل تو جدت پسند اور جدت طراز تھے بدل لینا گھڑ لینا کمی زیادتی کر لینا ان کی عادت میں داخل تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں ان کا محتاج نہیں رکھا ہمیں وہ کتاب دی اور اپنے نبی کی زبانی وہ باتیں پہنچائیں جو نفع میں وضاحت میں بیان میں ان کی باتوں سے اعلی اور ارفع ہیں ساتھ ہی بہت مفید اور نہایت احتیاط والی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔صفحہ نمبر6444 «صرح» کہتے ہیں محل کو۔ اور ہر بلند عمارت کو۔ چنانچہ فرعون ملعون نے بھی اپنے وزیر ہامان سے یہی کہا تھا۔ آیت «وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَا هَامَانُ ابْنِ لِي صَرْحًا لَّعَلِّي أَبْلُغُ الْأَسْبَابَ» [40-غافر:36] ۔ یمن کے ایک خاص اور بلند محل کا نام بھی صرح تھا۔ اس سے مراد ہر وہ بنا ہے جو محکم مضبوط استوار اور قوی ہو۔ یہ بنا بلور اور صاف شفاف شیشے سے بنائی گئی تھی۔ دومتہ الجندل میں ایک قلعہ ہے اس کا نام بھی مادر ہے۔ مقصد صرف اتنا ہے کہ جب اس ملکہ نے سلیمان علیہ السلام کی یہ رفعت، یہ عظمت، یہ شوکت، یہ سلطنت دیکھی اور اس میں غور وفکر کے ساتھ ہی سلیمان علیہ السلام کی سیرت ان کی نیکی اور ان کی دعوت سنی تو یقین آ گیا کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اسی وقت مسلمان ہو گئی اپنے اگلے شرک و کفر سے توبہ کر لی اور دین سلیمان علیہ السلام کی مطیع بن گئی۔ اللہ کی عبادت کرنے لگی جو خالق مالک متصرف اور مختارکل ہے۔صفحہ نمبر6445
قَالَ اِنَّہٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ ط ”یعنی وہ شیشے کا چکنا فرش تھا اور ملکہ نے جب اس میں اپنا عکس دیکھاتو اسے پانی سمجھ کر پنڈلیوں سے کپڑا اوپر اٹھا لیا کہ شاید آگے جانے کے لیے اس پانی سے ہو کر گزرنا ہے۔ بہر حال حضرت سلیمان علیہ السلام نے اسے اصل حقیقت سے آگاہ کیا۔ اس سے دراصل اسے احساس دلانا مقصود تھا کہ جو نعمتیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں دے رکھی ہیں ‘ وہ تمہارے حاشیہ خیال میں بھی نہیں ہیں۔قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَاَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ”حضرت سلیمان علیہ السلام کا واقعہ یہاں پر اختتام پذیر ہوا۔ سورت کا یہ حصہ قصص النبییّن کے انداز میں ہے۔ اس کے بعد حضرت صالح اور حضرت لوط علیہ السلام کے واقعات میں انباء الرسل کا انداز پایا جاتا ہے۔
CommentaryDid Sayyidna Sulaiman (علیہ السلام) marry Bilqis?The story of Bilqis has ended in the above verses on the statement that she converted to Islam after coming to Sayyidna Sulaiman ۔ (علیہ السلام) What happened after that? The Qur'an is silent on this. It is for this reason that when someone asked ` Abdullah ibn ` Uyaynah whether Sayyidna Sulaiman (علیہ السلام) had married Bilqis, he answered that her case has finished on this أَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَانَ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (I submit, along with Sulaiman (علیہ السلام) ، to Allah, the Lord of the worlds - 44). The idea behind this answer was that when Qur'an has not divulged anything after that, it is not for us to probe any further. But Ibn ` Asakir has reported on the authority of Sayyidna ` Ikrimah ؓ that Sayyidna Sulaiman (علیہ السلام) had married Bilqis after that, and she was retained as the sovereign of her country. She was then sent back to Yemen, and Sayyidna Sulaiman (علیہ السلام) used to visit her every month for three days. He got three palaces made for her in Yemen, which had no parallel of their kind. (Only God knows best)
Sulayman (Solomon) was given extraordinary dominion over humans, jinn, wind, and animals. His kingdom was the most magnificent of its time. The Quran recounts his interaction with the Hoopoe bird (Hudhud) who reported on the Queen of Sheba (Bilqis), who then submitted to Allah. Historically, Solomon's kingdom (c. 970–931 BCE) is associated with Jerusalem. The Queen of Sheba is historically associated with the ancient kingdom of Saba (Sheba) in modern-day Yemen.
The Queen of Sheba (Bilqis in Islamic tradition) ruled the ancient kingdom of Saba (Sheba) in southern Arabia (modern Yemen). The Quran describes her visit to Prophet Sulayman after receiving his letter. She was tested with the glass floor and recognized that Sulayman's power came from God. She ultimately submitted to Allah. The ancient Kingdom of Saba (c. 900–100 BCE) has been extensively documented archaeologically in Yemen, with the great dam of Ma'rib being its most famous monument.
The Queen of Saba (Sheba / Bilqis) ruled a prosperous Yemeni kingdom and worshipped the sun. Upon receiving Sulayman's letter, she consulted her advisers, sent gifts, and eventually came to Sulayman's court. Her throne was brought to Sulayman supernaturally before she could arrive. She was shown a crystal palace floor she mistook for water. Overwhelmed, she declared: 'My Lord, I have wronged myself, and I submit with Sulayman to Allah, Lord of the worlds' (27:44). Her conversion is the Quran's model of reason leading to faith.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.