The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah An-Naml (The Ant) • Ayah 35

Para 19 Surah 27 : 35
وَإِنِّى مُرْسِلَةٌ إِلَيْهِم بِهَدِيَّةٍ فَنَاظِرَةٌۢ بِمَ يَرْجِعُ ٱلْمُرْسَلُونَ

BY

But indeed, I will send to them a gift and see with what [reply] the messengers will return."

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

وَإِنِّى
مُرْسِلَةٌ
إِلَيْهِم
بِهَدِيَّةٍ
فَنَاظِرَةٌۢ
بِمَ
يَرْجِعُ
ٱلْمُرْسَلُونَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

Bilqis consults with Her ChiefsWhen she read Sulayman's letter to them and consulted with them about this news, she said:يأَيُّهَا الْمَلأ أَفْتُونِى فِى أَمْرِى مَا كُنتُ قَـطِعَةً أَمْراً حَتَّى تَشْهَدُونِ("O chiefs! Advise me in (this) case of mine. I decide no case till you are present with me.") meaning, `until you come together and offer me your advice.'قَالُواْ نَحْنُ أُوْلُواْ قُوَّةٍ وَأُولُو بَأْسٍ شَدِيدٍ(They said: "We have great strength, and great ability for war...") They reminded her of their great numbers, preparedness and strength, then they referred the matter to her and said:وَالاٌّمْرُ إِلَيْكِ فَانظُرِى مَاذَا تَأْمُرِينَ(but it is for you to command; so think over what you will command.) meaning, `we have the power and strength, if you want to go to him and fight him.' The matter is yours to decide, so instruct us as you see fit and we will obey. Ibn `Abbas said: "Bilqis said:إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُواْ قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُواْ أَعِزَّةَ أَهْلِهَآ أَذِلَّةً(Verily, kings, when they enter a town, they destroy it and make the most honorable amongst its people the lowest.) And Allah said:وَكَذلِكَ يَفْعَلُونَ(And thus they do. ) Then she resorted to peaceful means, seeking a truce and trying to placate Sulayman, and said:وَإِنِّى مُرْسِلَةٌ إِلَيْهِمْ بِهَدِيَّةٍ فَنَاظِرَةٌ بِمَ يَرْجِعُ الْمُرْسَلُونَ (But verily, I am going to send him a present, and see with what the messengers return.) meaning, `I will send him a gift befitting for one of his status, and will wait and see what his response will be. Perhaps he will accept that and leave us alone, or he will impose a tax which we can pay him every year, so that he will not fight us and wage war against us.' Qatadah said: "May Allah have mercy on her and be pleased with her -- how wise she was as a Muslim and (before that) as an idolator! She understood how gift-giving has a good effect on people." Ibn `Abbas and others said: "She said to her people, if he accepts the gift, he is a king, so fight him; but if he does not accept it, he is a Prophet, so follow him."

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

بلقیس کو خط ملا ٭٭بلقیس نے سلیمان علیہ السلام کا خط انہیں سنا کر ان سے مشورہ طلب کیا اور کہا کہ تم جانتے ہو جب تک تم سے میں مشورہ نہ کر لوں، تم موجود نہ ہو تو میں چونکہ کسی امر کا فیصلہ تنہا نہیں کرتی اس بارے میں بھی تم سے مشورہ طلب کرتی ہوں بتاؤ کیا رائے ہے؟ سب نے متفقہ طور پر جواب دیا کہ ہماری جنگی طاقت بہت کچھ ہے اور ہماری طاقت مسلم ہے۔ اس طرف سے تو اطمینان ہے آگے جو آپ کا حکم ہو۔ ہم تابعدراری کے لیے موجود ہیں۔ اسمیں ایک حد تک سرداران لشکر نے لڑائی کی طرف اور مقابلے کی طرف رغبت دی تھی۔ لیکن بلقیس چونکہ سمجھدار عاقبت اندیش تھی اور ہدہد کے ہاتھوں خط کے ملنے کا ایک کھلا معجزہ دیکھ چکی تھی یہ بھی معلوم کر لیا تھا کہ سلیمان کی طاقت کے مقابلے میں، میں میرا لاؤ لشکر کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ اگر لڑائی کی نوبت آئی تو علاوہ ملک کی بربادی کے میں بھی سلامت نہ رہ سکوں گی اس لیے اس نے اپنے وزیروں اور مشیروں سے کہا بادشاہوں کا قاعدہ ہے کہ جب وہ کسی ملک کو فتح کرتے ہیں تو اسے برباد کر دیتے ہیں اجاڑ دیتے ہیں۔ وہاں کے ذی عزت لوگوں کو ذلیل کر دیتے ہیں۔ سرداران لشکر اور حکمران شہر خصوصی طور پر ان کی نگاہوں میں پڑھ جاتے ہیں۔صفحہ نمبر6429جناب باری تعالیٰ نے اس کی تصدیق فرمائی کہ فی الواقع یہ صحیح ہے وہ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ اس کے بعد اسنے جو ترکیب سوچی کہ ایک چال چلے اور سلیمان سے موافقت کر لے صلح کر لے وہ اس نے ان کے سامنے پیش کی کہا کہ اس وقت تو میں ایک گراں بہا تحفہ انہیں بھیجتی ہوں دیکھتی ہوں اس کے بعد وہ میرے قاصدوں سے کیا فرماتے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ وہ اسے قبول فرما لیں اور ہم آئندہ بھی انہیں یہ رقم بطور جزیے کے بھیجتے رہیں اور انہیں ہم پر چڑھائی کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ اسلام کی قبولیت میں اسی طرح اس نے ہدیے بھیجنے میں نہاپت دانائی سے کام لیا۔ وہ جانتی تھی کہ روپیہ پیسہ وہ چیز ہے فولاد کو بھی نرم کر دیتا ہے۔ نیز اسے یہ بھی آزمانا تھا کہ دیکھیں وہ ہمارے اس مال کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔؟ اگر قبول کر لیا تو سمجھ لو کہ وہ ایک بادشاہ ہیں پھر ان سے مقابلہ کرنے میں کوئی حرج نہیں اور اگر واپس کر دیا تو ان کی نبوت میں کوئی شک نہیں پھر مقابلہ سراسر بےسود بلکہ مضر ہے۔صفحہ نمبر6430بلقیس نے بہت ہی گراں قدر تحفہ سلیمان علیہ السلام کے پاس بھیجا۔ سونا موتی جواہر وغیرہ سونے کی کثیر مقدار اینٹیں سونے کے برتن وغیرہ۔ بعض کے مطابق کچھ بچے عورتوں کے لباس میں اور کچھ عورتیں لڑکوں کے لباس میں بھیجیں اور کہا کہ اگر وہ انہیں پہچان لیں تو اسے نبی مان لینا چاہیئے۔ جب یہ سلیمان علیہ السلام کے پاس پہنچے تو آپ علیہ السلام نے سب کو وضو کرنے کا حکم دیا۔ لڑکیوں نے برتن سے پانی بہا کر اپنے ہاتھ دھوئے اور لڑکوں نے برتن میں ہی ہاتھ ڈال کر پانی لیا۔ اس سے آپ نے دونوں کو الگ الگ پہچان کر علیحدہ کر دیا کہ یہ لڑکیاں ہیں اور یہ لڑکے ہیں۔ بعض کہتے ہیں اس طرح پہچانا کہ لڑکیوں نے تو پہلے اپنے ہاتھ کے اندرونی حصہ کو دھویا اور لڑکوں نے ان کے برخلاف بیرونی حصے کو پہلے دھویا یہ بھی مروی ہے کہ ان میں سے ایک جماعت نے اس کے برخلاف ہاتھ کی انگلیوں سے شروع کر کے کہنی تک لے گئے۔ ان میں سے کسی میں نفی کا امکان نہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہ بھی مذکور ہے کہ بلقیس نے ایک برتن بھیجا تھا کہا اسے ایسے پانی سے پر کر دو جو نہ زمین کا ہو نہ آسمان کا تو آپ نے گھوڑے دوڑائے اور ان کے پسینوں سے وہ برتن بھر دیا۔ اسنے کچھ خرمہرے اور ایک لڑی بھیجی تھی آپ نے انہیں لڑی میں پرو دیا۔ یہ سب اقوال عموماً بنی اسرائیل کی روایتوں سے لیے جاتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ البتہ بظاہر الفاظ قرآنی سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس رانی کے تحفے کی طرف مطلقاً التفات ہی نہیں کیا۔ اور اسے دیکھتے ہی فرمایا کہ کیا تم مجھے مالی رشوت دے کر شرک پر باقی رہنا چاہتے ہو؟ یہ محض ناممکن ہے مجھے رب نے بہت کچھ دے رکھا ہے۔ ملک، مال، لاؤ، لشکر سب میرے پاس موجود ہے۔ تم سے پر طرح بہتر حالت میں میں ہوں «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ تم ہی اپنے اس ہدیے سے خوش رہو یہ کام تم ہی کو سونپا کہ مال سے راضی ہو جاؤ اور تحفہ تمہیں جھکا دے یہاں تو دو ہی چیزیں ہیں یا شرک چھوڑدو یا تلوار روکو۔ یہ بھی کہا گیا ہے اس سے پہلے کہ اس کے قاصد پہنچیں سلیمان علیہ السلام نے جنات کو حکم دیا اور انہوں نے سونے چاندی کے ایک ہزار محل تیار کر دئے۔ جس وقت قاصد پائے تخت میں پہنچے ان محلات کو دیکھ کر ہوش جاتے رہے اور کہنے لگے یہ بادشاہ تو ہمارے اس تحفے کو اپنی حقارت سمجھے گا۔ یہاں تو سونا مٹی کی وقعت بھی نہیں رکھتا۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ بادشاہوں کو یہ جائز ہے کہ بیرونی لوگوں کے لیے کچھ تکلفات کرے اور قاصدوں کے سامنے اپنی زینت کا اظہار کرے۔ پھر آپ نے قاصدوں سے فرمایا کہ یہ ہدیے انہیں کو واپس کر دو اور ان سے کہدو مقابلے کی تیاری کر لیں یاد رکھو میں وہ لشکر لے کر چڑھائی کروں گا کہ وہ سامنے آہی نہیں سکتے۔ انہیں ہم سے جنگ کرنے کی طاقت ہی نہیں۔ ہم انہیں ان کی سلطنت سے بیک بینی و دوگوش ذلت و حقارت کے ساتھ نکال دیں گے ان کے تخت و تاج کو رونددیں گے۔ جب قاصد اس تحفے کو واپس لے پہنچے اور شاہی پیغام بھی سنادیا۔ بلقیس کو آپ کی نبوت کا یقین ہو گیا فوراً خود بھی اور تمام لشکر اور رعایا مسلمان ہو گئے اور اپنے لشکروں سمیت وہ سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو گئے جب آپ نے اس کا قصد معلوم کیا تو بہت خوش ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کیا۔صفحہ نمبر6431

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 35 وَاِنِّیْ مُرْسِلَۃٌ اِلَیْہِمْ بِہَدِیَّۃٍ فَنٰظِرَۃٌم بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ ”حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں قیمتی تحائف بھیج کر وہ معلوم کرنا چاہتی تھی کہ آیا دنیوی مال و دولت کا حصول ہی ان کا مقصد و مدعا ہے یا اس سے آگے بڑھ کر وہ کچھ اور چاہتے ہیں۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

وَإِنِّي مُرْ‌سِلَةٌ إِلَيْهِم بِهَدِيَّةٍ فَنَاظِرَ‌ةٌ بِمَ يَرْ‌جِعُ الْمُرْ‌سَلُونَ ﴿35﴾And I am going to send a gift to them, then see, what response the envoys will bring back." 27:35.Appearance of envoys of Bilqls in the court of Sulaiman (علیہ السلام)Historical Isra'ili legends describe in great detail the incident of the visit of the envoys of Bilqis and the gifts they had taken with them. All versions of the legends agree on that the gifts included some gold bricks, some precious stones, one hundred slaves and one hundred slave girls. But the slave girls were dressed in men's clothes and the slaves were dressed in ladies outfits. There was also a letter from Bilqis, in which there were some questions for testing Sayyidna Sulaiman (علیہ السلام) the selection of gifts also, his test was intended. Allah Ta’ ala had passed on detailed information of gifts to Sulaiman (علیہ السلام) even before their arrival. Sayyidna Sulaiman (علیہ السلام) commanded the Jinns to lay out a floor of gold and silver bricks over a thirty miles stretch from his court, and that strange looking animals be lined up on either side of this pathway. Their excrement of bowels was also to be placed on the floor of gold and silver. Similarly, his court was decorated with special attention. Four thousand chairs of gold were placed on the left side and four thousand on the right side of the main hall for the scholars, ministers, and other officials of the court. The entire hall was bedecked with precious stones. When Bilqis's envoys saw animals standing on the floor of gold bricks, they were embarrassed with the gifts they had brought with them. It is reported in some narrations that they threw away their gold bricks. Then as they proceeded, they saw rows of beasts and birds on either side of the pathway. After that they came across the rows of jinns. Seeing them, they were browbeaten. Ultimately, when they reached the court and stood before Sayyidna Sulaiman he received them with dignity, and entertained them with veneration. But he returned all their gifts and presents, and answered all the questions sent up by Bilqis. (Qurtubi)

Historical Context: Queen Bilqis — Queen of Sheba Visits Sulayman c. 970–931 BCE

The Queen of Sheba (Bilqis in Islamic tradition) ruled the ancient kingdom of Saba (Sheba) in southern Arabia (modern Yemen). The Quran describes her visit to Prophet Sulayman after receiving his letter. She was tested with the glass floor and recognized that Sulayman's power came from God. She ultimately submitted to Allah. The ancient Kingdom of Saba (c. 900–100 BCE) has been extensively documented archaeologically in Yemen, with the great dam of Ma'rib being its most famous monument.

🏛️ Civilization: Kingdom of Saba (Sheba)
📍 Region: Kingdom of Saba (modern Yemen)
🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.