Surah Ash-Shu'ara • Ayah 220
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The Command to warn His Tribe of near KindredHere Allah commands (His Prophet ) to worship Him alone, with no partner or associate, and tells him that whoever associates others in worship with Him, He will punish them. Then Allah commands His Messenger to warn his tribe of near kindred, i.e., those who were most closely related to him, and to tell them that nothing could save any of them except for faith in Allah. Allah also commanded him to be kind and gentle with the believing servants of Allah who followed him, and to disown those who disobeyed him, no matter who they were. Allah said:فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ(Then if they disobey you, say: "I am innocent of what you do.") This specific warning does not contradict the general warning; indeed it is a part of it, as Allah says elsewhere:لِتُنذِرَ قَوْماً مَّآ أُنذِرَ ءَابَآؤُهُمْ فَهُمْ غَـفِلُونَ(In order that you may warn a people whose forefathers were not warned, so they are heedless.) (36:6),لِّتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا(that you may warn the Mother of the Towns and all around it) (42:7),وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُواْ إِلَى رَبِّهِمْ(And warn therewith those who fear that they will be gathered before their Lord) (6:51),لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْماً لُّدّاً(that you may give glad tidings to those who have Taqwa, and warn with it the most quarrelsome people.) (19:97),لاٌّنذِرَكُمْ بِهِ وَمَن بَلَغَ(that I may therewith warn you and whomsoever it may reach) (6:19), andوَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الاٌّحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ(but those of the sects that reject it, the Fire will be their promised meeting place) (11:17). According to Sahih Muslim, the Prophet said:«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ، ثُمَّ لَا يُؤْمِنُ بِي إِلَّا دَخَلَ النَّار»(By the One in Whose Hand is my soul, no one from these nations -- Jewish or Christian -- hears of me then does not believe in me, but he will enter Hell.) Many Hadiths have been narrated concerning the revelation of this Ayah, some of which we will quote below: Imam Ahmad, may Allah have mercy on him, recorded that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said: "When Allah revealed the Ayah,وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الاٌّقْرَبِينَ(And warn your tribe of near kindred.), the Prophet went to As-Safa', climbed up and called out,«يَا صَبَاحَاه»(O people!) The people gathered around him, some coming of their own accord and others sending people on their behalf to find out what was happening. The Messenger of Allah ﷺ said:«يَا بَنِي عَبْدِالْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي فِهْرٍ، يَااَبنِي لُؤَيَ، أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ تُريدُ أَنْ تُغِيرَ عَلَيْكُمْ صَدَّقْتُمُونِي؟»(O Bani `Abd Al-Muttalib, O Bani Fihr, O Bani Lu'ayy! What do you think, if I told you that there was a cavalry at the foot of this mountain coming to attack you -- would you believe me) They said, "Yes." He said:«فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَي عَذَابٍ شَدِيد»(Then I warn you of a great punishment that is close at hand.) Abu Lahab said, "May you perish for the rest of the day! You only called us to tell us this" Then Allah revealed:تَبَّتْ يَدَآ أَبِى لَهَبٍ وَتَبَّ(Perish the two hands of Abu Lahab and perish he!) 111:1 This was also recorded by Al-Bukhari, Muslim, At-Tirmidhi and An-Nasa'i. Imam Ahmad recorded that `A'ishah, may Allah be pleased with her said: "When the Ayah:وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الاٌّقْرَبِينَ(And warn your tribe of near kindred) was revealed, the Messenger of Allah ﷺ stood up and said:«يَا فَاطِمَةُ ابْنَةُ مُحَمَّدٍ، يَا صَفِيَّةُ ابْنَةُ عَبْدِالْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي عَبْدِالْمُطَّلِبِ، لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُم»(O Fatimah daughter of Muhammad, O Safiyyah daughter of `Abd Al-Muttalib, O Bani `Abd Al-Muttalib, I cannot help you before Allah. Ask me for whatever you want of my wealth.) This was recorded by Muslim. Imam Ahmad recorded that Qabisah bin Mukhariq and Zuhayr bin `Amr said: "When the Ayah:وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الاٌّقْرَبِينَ(And warn your tribe of near kindred.) was revealed, the Messenger of Allah ﷺ climbed on top of a rock on the side of a mountain and started to call out:«يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، إِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ، وَإِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَرَجُلٍ رَأَى الْعَدُوَّ فَذَهَبَ يَرْبَأُ أَهْلَهُ يَخْشَى أَنْ يَسْبِقُوهُ، فَجَعَلَ يُنَادِي وَيَهْتِفُ: يَا صَبَاحَاه»(O Bani `Abd Manaf, I am indeed a warner, and the parable of me and you is that of a man who sees the enemy so he goes to save his family, fearing that the enemy may reach them before he does.) And he started to call out, (O people!) It was also recorded by Muslim and An-Nasa'i. Allah's saying:وَتَوكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ(And put your trust in the All-Mighty, the Most Merciful,) means, `in all your affairs, for He is your Helper, Protector and Supporter, and He is the One Who will cause you to prevail and will make your word supreme.'الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ(Who sees you when you stand up. ) means, He is taking care of you. This is like the Ayah,وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا(So wait patiently for the decision of your Lord, for verily, you are under Our Eyes) (52:48) Ibn `Abbas said that the Ayah,الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ(Who sees you when you stand up.) means, "To pray." `Ikrimah said: "He sees him when he stands and bows and prostrates." Al-Hasan said:الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ(Who sees you when you stand up.) "When you pray alone." Ad-Dahhak said:الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ(Who sees you when you stand up.) "When you are lying in bed and when you are sitting." Qatadah said:الَّذِى يَرَاكَ(Who sees you) "When you are standing, when you are sitting, and in all other situations."وَتَقَلُّبَكَ فِى السَّـجِدِينَ(And your movements among those who fall prostrate.) Qatadah said:الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُوَتَقَلُّبَكَ فِى السَّـجِدِينَ-(Who sees you when you stand up. And your movements among those who fall prostrate.) "When you pray, He sees you when you pray alone and when you pray in congregation." This was also the view of `Ikrimah, `Ata' Al-Khurasani and Al-Hasan Al-Basri.إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ(Verily, He, only He, is the All-Hearer, the All-Knower.) He hears all that His servants say and He knows all their movements, as He says:وَمَا تَكُونُ فِى شَأْنٍ وَمَا تَتْلُواْ مِنْهُ مِن قُرْءَانٍ وَلاَ تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلاَّ كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ(Neither you do any deed nor recite any portion of the Qur'an, nor you do any deed, but We are Witness thereof, when you are doing it) (10:61).
مستحق سزا لوگوں سے الگ ہو جاؤ ٭٭خود اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” صرف میری ہی عبادت کر۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر جو بھی ایسا کرے گا وہ ضرور مستحق سزا ہے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار کر دے کہ بجز ایمان کے کوئی چیز نجات دہندہ نہیں “۔ پھر حکم دیتا ہے کہ ” موحد متبع سنت لوگوں سے فروتنی کے ساتھ ملتا جلتا رہ۔ اور جو بھی میرے حکم نہ مانے خواہ کوئی ہو تو اس سے بے تعلق ہو جا۔ اور اپنی بیزاری کا اظہار کر دے “۔ یہ خاص طور کی خاص لوگوں کی تنبیہہ عام لوگوں کی تنبیہہ کے منافی نہیں کیونکہ یہ اس کا جز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے ” تو اس قوم کو ڈرادے جن کے بڑے بھی ڈرائے نہیں گئے اور جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں “۔ اور آیت میں ہے «وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰي وَمَنْ حَوْلَهَا» [6-الأنعام:92] ” تا کہ تو مکے والوں کو اور اس کے گرد والوں کو سب کو ڈرائے “۔ اور آیت میں ہے ” تو اس قرآن سے انہیں ہوشیار کر دے، جو اپنے رب کے پاس جمع ہونے سے خوف زدہ ہو رہے ہیں “۔ دیگر آیت میں ارشاد فرمایا کہ ” تو اس قرآن سے پرہیزگاروں کو خوشخبری سنا دے اور سرکشوں کو ڈرادے “۔ اور آیت میں فرمایا «لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْ بَلَغَ» [6-الأنعام:19] ” تاکہ میں اسی قرآن کے ساتھ تمہیں اور جسے بھی یہ پہنچے ڈرادوں “۔ اور فرمان ہے ” اس کے ساتھ ان تمام فرقوں میں سے جو بھی کفر کرے اس کی سزا جہنم ہے “۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں سے جس کے کان میری رسالت کی بات پڑ جائے خواہ یہودی ہو یا نصرانی پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو ضرور وہ جہنم میں جائے گا ۔ [صحیح مسلم:153] اس آیت کی تفسیر میں بہت سی حدیثیں ہیں انہیں سن لیجئے۔صفحہ نمبر6356 [١] مسند احمد میں ہے جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اور «یَا صَبَاحَاہ» کرکے آواز دی۔ لوگ جمع ہو گئے جو نہیں آسکتے تھے انہوں نے اپنے آدمی بھیج دئیے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اولاد عبدالمطلب! اے اولاد فہر! بتاؤ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر تمہارے دشمن کا لشکر پڑا ہوا ہے اور گھات میں ہے۔ موقعہ پاتے ہی تم سب کو قتل کر ڈالے گا تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟ سب نے بیک زبان کہا کہ ہاں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا ہی سمجھیں گے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سن لو میں تمہیں آنے والے سخت عذابوں سے ڈرانے والا ہوں ۔ اس پر ابولہب ملعون نے کہا تو ہلاک ہو جائے یہی سنانے کے لیے تو نے ہمیں بلایا تھا اس کے جواب میں سورۃ «تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ» [111-المسد:1-5] اتری ۔ [صحیح بخاری:4971] صفحہ نمبر6357 [٢] مسند احمد میں ہے اس آیت کے اترتے ہی اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اے صفیہ بنت عبدالطلب سنو میں تمہیں اللہ کے ہاں کچھ کام نہیں آ سکتا۔ ہاں میرے پاس جو مال ہو جتنا تم چاہو میں دینے کے لیے تیار ہوں۔ [صحیح مسلم:205] صفحہ نمبر6358 [٣] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے اترتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریشیوں کو بلایا اور انہیں ایک ایک کر کے اور عام طور پر خطاب کر کے فرمایا: اے قریشیو! اپنی جانیں جہنم سے بچالو اے کعب کے خاندان والو! اپنی جانیں آگ سے بچالو اے ہاشم کی اولاد کے لوگو! اپنے آپ کو اللہ کے عذابوں سے چھڑوالو۔ اے عبدالمطلب کے لڑکو! اللہ کے عذابوں سے بچنے کی کوشش کرو۔ اے فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اپنی جان کو دوزخ سے بچالے قسم اللہ کی میں اللہ کے ہاں کی کسی چیز کا مالک نہیں۔ بیشک تمہاری قرابت داری ہے جس کے دنیوی حقوق میں ہر طرح ادا کرنے کو تیار ہوں ۔ [صحیح مسلم:204] بخاری مسلم میں بھی قدرے الفاظ کی تبدیلی سے یہ حدیث مروی ہے اسمیں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی صفیہ اور اپنی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی فرمایا کہ میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے طلب کر لو ۔ [صحیح بخاری:3527] ابویعلیٰ میں ہے کہ آپ نے فرمایا: اے قصی! اے ہاشم! اے عبد مناف کی اولادو! یاد رکھو میں ڈرانے والا ہوں اور موت بدلہ دینے والی ہے اس کا چھاپہ پڑنے ہی والا ہے اور قیامت وعدہ گاہ ہے ۔ [مسند ابویعلیٰ:6149:ضعیف] صفحہ نمبر6359 [٤] مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پہاڑی پر چڑھ گئے جس کی چوٹی پر پتھر تھے وہاں پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنی عبد مناف میں تو صرف چوکنا کر دینے والا ہوں میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے دشمن کو دیکھا اور دوڑ کر اپنے عزیزوں کو ہوشیار کرنے کے لیے آیا تاکہ وہ بچاؤ کر لیں دور سے ہی اس نے غل مچانا شروع کر دیا کہ پہلے ہی خبردار ہو جائیں ۔ [صحیح مسلم:207] صفحہ نمبر6360 [۵] سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل بیت کو جمع کرلیا یہ تیس شخص تھے جب یہ کھا پی چکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمے لے۔ اور میرے بعد میرے وعدے پورے کرے وہ جنت میں بھی میرا ساتھی اور میری اہل میں خلیفہ ہوگا ۔ تو ایک شخص نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو سمندر ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کون کھڑا ہوسکتا ہے؟ تین دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن کوئی تیار نہ ہوا تو میں نے کہا ”یا رسول اللہ میں اس کے لیے تیار ہوں“ ۔ [مسند احمد:111/1:ضعیف] ایک اور سند میں اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدالمطلب کو جمع کیا یہ ایک جماعت کی جماعت تھی اور بڑے کھاؤ تھے ایک شخص ایک ایک بکری کا بچہ کھاجاتا تھا اور ایک بڑا بدھنا دودھ کا پی جاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے کھانے کے لیے صرف تین پاؤ کے قریب کھانا پکوایا لیکن اللہ نے اسی میں اتنی برکت دی کہ سب پیٹ بھر کر کھاچکے اور خوب آسودہ ہو کر پی چکے لیکن نہ تو کھانے میں کمی نظرآئی تھی نہ پینے کی چیز گھٹی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اولاد عبدالمطلب میں تمہاری طرف خصوصا اور تمام لوگوں کی طرف عموماً نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اس وقت تم ایک معجزہ بھی میرا دیکھ چکے ہو۔ اب تم میں سے کون تیار ہے کہ مجھ سے بیعت کرے وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی ہوگا لیکن ایک شخص بھی مجمع سے کھڑا نہ ہوا سوائے میرے اور میں اس وقت عمر کے لحاظ سے ان سب سے چھوٹا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بیٹھ جاؤ ، تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا اور تینوں مرتبہ بجز میرے اور کوئی کھڑا نہ ہوا۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بیعت لی ۔ [مسند احمد:159/1:ضعیف] صفحہ نمبر6361امام بہیقی رحمہ اللہ دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اپنی قوم کے سامنے ابھی ہی اسے پیش کروں گا تو وہ نہ مانیں گے۔ اور ایسا جواب دیں گے جو مجھ پر گراں گزرے ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اتنے میں جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمانے لگے ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعمیل ارشاد میں تاخیر کی تو ڈر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سزا ہوگی۔“ اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرادوں میں نے یہ خیال کر کے اگر پہلے ہی سے ان سے کہا گیا تو یہ مجھے ایسا جواب دیں گے جس سے مجھے ایذاء پہنچے میں خاموش رہا لیکن جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا کہ اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تجھے عذاب ہو گا تو اب اے علی تم ایک بکری ذبح کر کے گوشت پکالو۔ اور کوئی تین سیر اناج بھی تیار کرلو اور ایک بدھنا دودھ کا بھی بھرلو۔ اور اولاد عبدالمطلب کو بھی جمع کرلو ۔ میں نے ایسا ہی کیا اور سب کو دعوت دے دی چالیس آدمی جمع ہوئے یا ایک آدھ کم یا ایک آدھ زیادہ ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا بھی تھے۔ ابوطالب، حمزہ، عباس، اور ابولہب کافر خبیث۔ میں نے سالن پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک بوٹی لے کر کچھ کھائی پھر اسے ہنڈیا میں ڈال دیا اور فرمایا: لو اللہ کا نام لو اور کھانا شروع کرو ۔ سب نے کھانا شروع کیا یہاں تک کہ پیٹ بھر گئے لیکن اللہ کی قسم گوشت اتنا ہی تھا جتنا رکھتے وقت رکھا تھا صرف ان کی انگلیوں کے نشانات تو تھے مگر گوشت کچھ بھی نہ گھٹا تھا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا گوشت تو کھالیتا تھا۔ پھر مجھ سے فرمایا: اے علی انہیں پلاؤ ۔ میں وہ بدھنا لایا سب نے باری باری شکم سیر ہو کر پیا اور خوب آسودہ ہو گئے لیکن دودھ بالکل کم نہ ہوا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا دودھ پی لیا کرتا تھا۔ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ فرمانا چاہا لیکن ابولہب جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا لو صاحب اب معلوم ہوا کہ یہ تمام جادوگری محض اس لیے تھی۔ چنانچہ مجمع اسی وقت اکھڑ گیا اور ہر ایک اپنی راہ لگ گیا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیحت وتبلیغ کو موقعہ نہ ملا۔ دوسرے روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: آج پھر اسی طرح ان سب کی دعوت کرو کیونکہ کل اس نے مجھے کچھ کہنے کا وقت ہی نہیں دیا ۔ میں نے پھر اسی طرح کا انتظام کیا سب کو دعوت دی آئے کھایا پیا پھر کل کی طرح آج بھی ابولہب نے کھڑے ہو کر وہی بات کہی اور اسی طرح سب تتر بتر ہو گئے۔ تیسرے دن پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہی فرمایا آج جب سب کھا پی چکے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جلدی سے اپنی گفتگو شروع کر دی اور فرمایا: اے بنو عبدالمطلب واللہ کوئی نوجوان شخص اپنی قوم کے پاس اس سے بہتر بھلائی نہیں لایا، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں میں دنیا اور آخرت کی بھلائی لایا ہوں ۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:178/2:ضعیف] اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب بتاؤ تم میں سے کون میرے ساتھ اتفاق کرتا ہے اور کون میرا ساتھ دیتا ہے؟ مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا ہے کہ پہلے میں تمہیں اس کی دعوت دوں جو آج میری مان لے گا وہ میرا بھائی ہو گا اور یہ درجے ملیں گے ۔ لوگ سب خاموش ہو گئے لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ جو اس وقت اس مجمع میں سب سے کم عمر تھے اور دکھتی آنکھوں والے اور موٹے پیٹ والے اور بھری پنڈلیوں والے تھے، بول اٹھے یا رسول اللہ اس امر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وزارت میں قبول کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گردن پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ یہ میرا بھائی ہے اور ایسی فضیلتوں والا ہے تم اس کی سنو اور مانو ۔ یہ سن کر وہ سب لوگ ہنستے ہوتے اٹھ کھڑے ہوئے اور ابوطالب سے کہنے لگے لے اب تو اپنے بچے کی سن اور مان ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:40/19:ضعیف] لیکن اس کا راوی عبدالغفار بن قاسم بن ابی مریم متروک ہے کذاب ہے اور ہے بھی شیعہ۔ ابن مدینی وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیثیں گھڑلیاکرتا تھا، دیگر ائمہ حدیث نے بھی اس کو ضعیف لکھا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ اس دعوت میں صرف بکری کے ایک پاؤں کا گوشت پکا تھا اس میں یہ بھی ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے لگے تو انہوں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ آج جیسا جادو تو ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ یہ ہے کہ کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمہ لے اور میری اہل میں میرا خلیفہ بنے اس پر سب خاموش رہے اور عباس بھی چپ تھے صرف اپنے مال کی بخل کی وجہ سے۔ میں عباس کو خاموش دیکھ کر خاموش ہو رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی فرمایا دوبارہ بھی سب طرف خاموشی تھی مجھ سے رہا نہ گیا اور میں بول پڑا۔ میں اس وقت ان سب سے گری پڑی حالت والا۔ چندھی آنکھوں والا بڑے پیٹ والا اور بوجھل پنڈلیوں والا تھا ۔ [ضعیف] ان روایتوں میں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ کون میرا قرض اپنے ذمے لیتا ہے اور میری اہل کی میرے بعد حفاظت اپنے ذمے لیتا ہے؟ اس سے مطلب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تھا کہ جب میں اس تبلیغ دین کو پھیلاؤں گا اور لوگوں کو اللہ کی توحید کی طرف بلاؤں گا تو سب کے سب میرے دشمن ہو جائیں گے اور مجھے قتل کر دیں گے۔ یہی کھٹکا آپ کو لگا رہا یہاں تک کہ یہ آیت اتری «وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» [5-المائدة:67] ” اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے بچالے گا “۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے خطر ہو گئے۔ اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پہرہ چوکی بھی بٹھاتے تھے لیکن اس آیت کے اترنے کے بعد وہ بھی ہٹادی۔ اس وقت فی الواقع تمام بنو ہاشم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ ایمان والا اور تصدیق ویقین والا کوئی نہ تھا۔صفحہ نمبر6362اس لیے ہی آپ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اقرار کیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہ صفا پر عام دعوت دی اور لوگوں کو توحید خالص کی طرف بلایا اور اپنی نبوت کا اعلان کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ایک مرتبہ ابودرداء رضی اللہ عنہ اپنی مسجد میں بیٹھے ہوئے وعظ فرما رہے تھے فتوے دے رہے تھے۔ مجلس کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ ہر ایک کی نگاہیں آپ کی چہرے پر تھیں اور شوق سے سن رہے تھے لیکن آپ کے لڑکے اور گھر کے آدمی آپس میں بے پرواہی سے اپنی باتوں میں مشغول تھے۔ کسی نے ابودرداء رضی اللہ عنہ کی اس طرف توجہ دلائی کہ اور سب لوگ تو دل سے آپ کی علمی باتوں میں دلچسپی لے رہے ہیں اور آپ کے اہل بیت اس سے بالکل بےپرواہ ہیں وہ اپنی باتوں میں نہایت بےپرواہی سے مشغول ہیں تو آپ نے جواب میں فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے دنیا سے بالکل کنارہ کشی کرنے والے انبیاء علیہم السلام ہوتے ہیں اور ان پر سب سے زیادہ سخت اور بھاری ان کے قرابت دار ہوئے ہیں اسی بارے میں آیت «وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» [26-سورةالشعراء:214-216] ہے۔ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:587/10:ضعیف] صفحہ نمبر6363پھر فرماتا ہے ” اپنے تمام امور میں اللہ ہی پر بھروسہ رکھو وہی تمہارا حافظ و ناصر ہے وہی تمہاری تائید کرنے والا اور تمہارے کلمے کو بلند کرنے والا ہے۔ اس کی نگاہیں ہر وقت تم پر ہیں “۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَـقُوْمُ» [52-الطور:48] ” اپنے رب کے حکموں پر صبر کر۔ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے“۔ یہ بھی مطلب ہے کہ ” جب تو نماز کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ ہم تمہارے رکوع سجود دیکھتے ہیں کھڑے ہو یا بیٹھے ہو یا کسی حالت میں ہو ہماری نظروں میں ہو “۔ یعنی تنہائی میں تو نماز پڑھے تو ہم دیکھتے ہیں اور جماعت سے پڑھے تو تو ہماری نگاہ کے سامنے ہوتا ہے یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ حالت نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کی چیزیں دکھاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کے مقتدی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں رہتے تھے۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے صفیں درست کر لیا کرو میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا رہتا ہوں ۔ [صحیح بخاری:718] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ مطلب بھی بیان کرتے ہیں کہ ”ایک نبی کی پیٹھ سے دوسرے نبی کی پیٹھ کی طرف منتقل ہونا برابر دیکھتے رہے ہیں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت نبی دنیا میں آئے۔“ وہ اللہ اپنے بندوں کی باتیں خوب سنتا ہے، ان کی حرکات وسکنات کو خوب جانتا ہے جیسے فرماتا ہے آیت «وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ» [10-یونس:61] ، ” تو جس حالت میں ہو تم جتنا قرآن پڑھو تم جو عمل کرو اس پر ہم شاہد ہیں “۔صفحہ نمبر6364
آیت 219 وَتَقَلُّبَکَ فِی السّٰجِدِیْنَ ”حضور ﷺ کا معمول تھا کہ آپ ﷺ تہجد کی نماز پڑھنے والے مسلمانوں کے گھروں کے پاس سے رات کو گزرتے اور ان کو دیکھتے تھے۔ آپ ﷺ کے اسی معمول کا یہاں ذکر فرمایا گیا ہے۔
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ ﴿214﴾And warn the nearest people of your clan, -26:214.` Ashirah'o, عَشِيرَۃ means clan and by limiting it with 'aqrabin (the nearest people) it is used for close relatives. It is worth noting here that the mission of the Holy Prophet ﷺ as a messenger is universal to the whole Ummah, then what is the wisdom in making it special for the members of the clan? But if we look at it rather closely, we will notice in it an easy and effective way for preaching, which would have far-reaching effect. One's own family members having the privilege of closeness are also entitled to have precedence over others on initiating any act of virtue. By virtue of close mutual relations they know each other well and anyone with false claims would get exposed in no time. Conversely, the one having good reputation among the family members would be readily accepted and listened to. Once the close relatives throw their weight to support a good cause, it brings in unity and mutual help between them. This way they develop a group of the family members on the basis of trust and sincerity and it becomes very easy to spend the daily life in an atmosphere of peace to follow the religious code. Then this homogeneous and sincere group works like a small power in preaching and spreading the precepts and code of religion to others. In another verse of the Holy Qur'an it is said قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا (66:6) that is ` Save yourself and your family members from the fire of Jahannam'. Responsibility of saving one's dependent from the fire of Jahannam is placed on every member of the clan. This is an easy and simple way of reforming the conduct and morals. It is an everyday experience that in order to follow good conduct and morals and then to stick to them is only possible when the environment is favourable for that. If only one person in the entire household wishes to perform his prayers regularly, even that devotee will find it difficult to carry it out. In the present environment it has become difficult to abstain from the unlawful things not because it is not possible to keep away from them, but the reason is that when the whole fraternity is involved in a sin, it becomes very difficult for just one person to keep himself aloof. When this verse was revealed to Holy Prophet ﷺ ، he called out all the members of the family and conveyed to them the message of truth. Although they did not accept the truth at that time but gradually the family members started converting to Islam. When the uncle of Holy Prophet ﷺ Sayyidna Hamzah ؓ ، converted to Islam it provided great strength to the mission.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.