Surah Ash-Shu'ara • Ayah 14
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Between Musa and Fir`awnAllah tells us what He commanded His servant, son of `Imran and Messenger Musa, peace be upon him, who spoke with Him, to do, when He called him from the right side of the mountain, and conversed with him, and chose him, sent him, and commanded him to go to Fir`awn and his people. Allah says:وَإِذْ نَادَى رَبُّكَ مُوسَى أَنِ ائْتَ الْقَوْمَ الظَّـلِمِينَ - قَوْمَ فِرْعَوْنَ أَلا يَتَّقُونَ - قَالَ رَبِّ إِنِّى أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ - وَيَضِيقُ صَدْرِى وَلاَ يَنطَلِقُ لِسَانِى فَأَرْسِلْ إِلَى هَـرُونَ - وَلَهُمْ عَلَىَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ (And when your Lord called Musa: "Go to the people who are wrongdoers. The people of Fir`awn. Will they not have Taqwa" He said: "My Lord! Verily, I fear that they will deny me, And my breast straitens, and my tongue expresses not well. So send for Harun. And they have a charge of crime against me, and I fear they will kill me.") So, Musa asked Allah to remove these difficulties for him, as he said in Surah Ta Ha:قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِى صَدْرِى - وَيَسِّرْ لِى أَمْرِى (Musa said: "O my Lord! Open for me my chest. And ease my task for me.") (20:25-26) until:قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يمُوسَى(You are granted your request, O Musa!) (20:36)وَلَهُمْ عَلَىَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ (And they have a charge of crime against me, and I fear they will kill me.) because he had killed that Egyptian, which was the reason that he left the land of Egypt.قَالَ كَلاَّ((Allah) said: "Nay!...") Allah told him: do not be afraid of anything like that. This is like the Ayah,سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخِيكَ وَنَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطَـناً(Allah said: "We will strengthen your arm through your brother, and give you both power) meaning, proof;فَلاَ يَصِلُونَ إِلَيْكُمَا بِـْايَـتِنَآ أَنتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغَـلِبُونَ(so they shall not be able to harm you, with Our signs, you two as well as those who follow you will be the victors) (28:35),فَاذْهَبَا بِـَايَـتِنَآ إِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُونَ(Go you both with Our signs. Verily, We shall be with you, listening.) This is like the Ayah,إِنَّنِى مَعَكُمَآ أَسْمَعُ وَأَرَى(I am with you both, hearing and seeing) (20:46). Meaning, `I will be with you by My protection, care, support and help.'فَأْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُولا إِنَّا رَسُولُ رَبِّ الْعَـلَمِينَ (And go both of you to Fir`awn, and say: `We are the Messengers of the Lord of the all that exists.') This is like the Ayah,إِنَّا رَسُولاَ رَبِّكَ(Verily, we are both Messengers of your Lord) (20:47). which means, `both of us have been sent to you,'أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ (So allow the Children of Israel to go with us.) Meaning, `let them go, free them from your captivity, subjugation and torture, for they are the believing servants of Allah, devoted to Him, and with you they are in a position of humiliating torture.' When Musa said that to him, Fir`awn turned away and ignored him completely, regarding him with scorn and thinking little of him. Saying:أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيداً(Did we not bring you up among us as a child) meaning, we brought you up among us, in our home and on our bed, we nourished you and did favors for you for many years, and after all that you responded to our kindness in this manner: you killed one of our men and denied our favors to you.' So he said to him:وَأَنتَ مِنَ الْكَـفِرِينَ(While you were one of the ingrates.) meaning, one of those who deny favors. This was the view of Ibn `Abbas and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam, and was the view favored by Ibn Jarir.قَالَ فَعَلْتُهَآ إِذاً((Musa) said: "I did it then...") meaning, at that time,وَأَنَاْ مِنَ الضَّآلِّينَ(when I was in error.) meaning, `before revelation was sent to me and before Allah made me a Prophet and sent me with this Message.'فَفَرَرْتُ مِنكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِى رَبِّى حُكْماً وَجَعَلَنِى مِنَ الْمُرْسَلِينَ (So, I fled from you when I feared you. But my Lord has granted me Hukm, and made me one of the Messengers.) means, `the first situation came to an end and another took its place. Now Allah has sent me to you, and if you obey Him, you will be safe, but if you oppose Him, you will be destroyed.' Then Musa said:وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَىَّ أَنْ عَبَّدتَّ بَنِى إِسْرَءِيلَ (And this is the past favor with which you reproach me, -- that you have enslaved the Children of Israel.) meaning, `whatever favors you did in bringing me up are offset by the evil you did by enslaving the Children of Israel and using them to do your hard labor. Is there any comparison between your favors to one man among them and the evil you have done to all of them What you have mentioned about me is nothing compared to what you have done to them.'
موسیٰ علیہ السلام اور اللہ جل شانہ کے مکالمات ٭٭اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ ” طور کے دائیں طرف سے آپ علیہ السلام کو آواز دی آپ علیہ السلام سے سرگوشیاں کیں آپ علیہ السلام کو اپنا رسول اور برگزیدہ بنایا اور آپ علیہ السلام کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمربستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی “۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کر دی گئیں جیسے سورۃ طہٰ میں آپ علیہ السلام کے سوالات پور کر دئیے گئے۔ یہاں آپ علیہ السلام کے عذر یہ بیان ہوئے کہ ” مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔ میرا سینہ تنگ ہے، میری زبان لکنت والی ہے، ہارون کو بھی میرے ساتھ نبی بنا دیا جائے۔ اور میں نے ان ہی میں سے ایک قبطی کو بلا قصور مار ڈالا تھا جس وجہ سے میں نے مصر چھوڑا اب جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بدلہ نہ لے لیں “۔ جناب باری تعالیٰ نے جواب دیا کہ ” کسی بات کا کھٹکا نہ رکھو۔ ہم تیرے بھائی کو تیرا ساتھی بنا دیتے ہیں۔ اور تمہیں روشن دلیل دیتے ہیں وہ لوگ تمہیں کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں گے میرا وعدہ ہے کہ تم کو غالب کرونگا۔ تم میری آیتیں لے کر جاؤ تو سہی، میری مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ میں تمہاری ان کی سب باتیں سنتا رہونگا “۔صفحہ نمبر6128جیسے فرمان ہے ” میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں دیکھتا رہونگا۔ میری حفاظت میری مدد میری نصرت وتائید تمہارے ساتھ ہے۔ تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس پر اپنی رسالت کا اظہار کرو “۔ جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ” اس سے کہو کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک اللہ کا فرستادہ ہے “۔ فرعون سے کہا کہ ” تو ہمارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں تو نے انہیں اپنا غلام بنارکھا ہے اور ان کی حالت زبوں کر رکھی ہے۔ ذلت کے ساتھ ان سے اپنا کام لیتا ہے اور انہیں عذابوں میں جکڑ رکھاہے اب انہیں آزاد کر دے “۔صفحہ نمبر6129حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس پیغام کو فرعون نے نہایت حقارت سے سنا۔ اور آپ علیہ السلام کو ڈانٹ کر کہنے لگا کہ کیا تو وہی نہیں کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا؟ مدتوں تک تیری خبرگیری کرتے رہے اس احسان کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو مار ڈالا اور ہماری ناشکری کی۔ جس کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ سب باتیں نبوت سے پہلے کی ہیں جب کہ میں خود بے خبر تھا۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا کی قرائت میں بجائے «مِنَ الضَّالِّینَ» کے «مِنَ الْجَاهِلِیْنَ» ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ساتھ ہی فرمایا کہ ”پھر وہ پہلا حال جاتا رہا دوسرا دور آیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بنا کر تیری طرف بھیجا اب اگر تو میرا کہا مانے گا تو سلامتی پائے گا اور میری نافرمانی کرے گا تو ہلاک ہو گا۔ اس خطا کے بعد جب کہ میں تم میں سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا اب پرانے قصہ یاد نہ کر۔ میری آواز پر لبیک کہہ۔ سن اگر ایک مجھ پر تو نے احسان کیا ہے تو میری قوم کی قوم پر تو نے ظلم وتعدی کی ہے۔ ان کو بری طرح غلام بنارکھا ہے کیا میرے ساتھ کا سلوک اور ان کے ساتھ کی یہ سنگدلی اور بدسلوکی برابر برابر ہوجائیگی؟“صفحہ نمبر6130چونکہ فرعون نے اپنی رعیت کو بہکا رکھا تھا اور انہیں یقین دلایا تھا کہ معبود اور رب صرف میں ہی ہوں میرے سوا کوئی نہیں اس لیے ان سب کا عقیدہ یہ تھا۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”میں رب العالمین کا رسول علیہ السلام ہوں“، تو اس نے کہا کہ رب العالمین ہے کیا چیز؟ مقصد یہی تھا کہ میرے سوا کوئی رب ہے ہی نہیں تو جو کہہ رہا ہے محض غلط ہے۔ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ اس نے پوچھا آیت «قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يَا مُوسَىٰ قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ» [20-سورةطه:49،50] ” موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے؟ اس کے جواب میں کلیم اللہ نے فرمایا جس نے ہر ایک کی پیدائش کی ہے اور جو سب کا ہادی ہے “۔ یہاں پر یہ یاد رہے کہ بعض منطقیوں نے یہاں ٹھوکر کھائی ہے اور کہا ہے کہ فرعون کا سوال اللہ کی ماہیت سے تھا یہ محض غلط ہے اس لیے کہ ماہیت کو تو جب پوچھتا جب کہ پہلے وجود کا قائل ہوتا۔ وہ تو سرے سے اللہ کے وجود کا منکر تھا۔ اپنے اسی عقیدے کو ظاہر کرتا تھا اور ہر ایک ایک کو یہ عقیدہ گھونٹ گھونٹ کر پلا رہا تھا گو اس کے خلاف دلائل وبراہین اس کے سامنے کھل گئے تھے۔صفحہ نمبر6131پس اس کے اس سوال پر کہ رب العالمین کون ہے؟ کلیم اللہ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”وہ جو سب کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، سب پر قادر ہے یکتا ہے اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ عالم علوی آسمان اور اس کی مخلوق عالم سفلی زمین اور اس کی کائنات اب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ ان کے درمیان کی چیزیں ہوا پرندہ وغیرہ سب اس کے سامنے ہیں اور اس کے عبادت گزار ہیں۔ اگر تمہارے دل یقین کی دولت سے محروم نہیں اگر تمہاری نگاہیں روشن ہیں تو رب العالمین کے یہ اوصاف اس کی ذات کے ماننے کے لیے کافی ہیں۔“ یہ سن کر فرعون سے چونکہ کوئی جواب نہ بن سکا اس لیے بات کو مذاق میں ڈالنے کے لیے لوگوں کو اپنے سکھائے بتائے ہوئے عقیدے پر جمانے کے لیے ان کی طرف دیکھ کر کہنے لگا لو اور سنو یہ میرے سوا کسی اور کو ہی اللہ مانتا ہے؟ تعجب کی بات ہے۔ موسیٰ علیہ السلام اس کی اس بے التفاتی سے گھبرائے نہیں اور وجود اللہ کے دلائل بیان کرنے شروع کر دیئے کہ وہ تم سب کا اور تمہارے اگلوں کا مالک اور پروردگار ہے۔ آج اگر تم فرعون کو اللہ مانتے ہو تو ذرا اسے تو سوچو کہ فرعون سے پہلے جہان والوں کا اللہ کون تھا؟ اس کے وجود سے پہلے آسمان و زمین کا وجود تھا تو ان کا موجد کون تھا؟ بس وہی میرا رب ہے وہی تمام جہانوں کا رب ہے اسی کا بھیجا ہوا ہوں میں۔ فرعون دلائل کی تاب نہ لاسکا کوئی جواب بن نہ پڑا تو کہنے لگا اسے چھوڑو یہ تو کوئی پاگل آدمی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میرے سوا کسی اور کو رب کیوں مانتا۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی دلیلوں کو جاری رکھا۔ اس کے لغو کلام سے بے تعلق ہو کر فرمانے لگے کہ ”سنو میرا اللہ مشرق و مغرب کا مالک ہے اور وہی میرا رب ہے۔ وہ سورج چاند ستارے مشرق سے چڑھاتا ہے۔ مغرب کی طرف اتارتا ہے اگر فرعون اپنی الوہیت کے دعوے میں سچا ہے تو ذرا ایک دن اس کا خلاف کر کے دکھا دے یعنی انہیں مغرب سے نکالے اور مشرق کو لے جائے۔“ یہی بات خلیل علیہ السلام نے اپنے زمانے کے بادشاہ سے بوقت مناظرہ کہی تھی پہلے تو اللہ کا وصف بیان کیا کہ ”وہ جلاتا مارتا ہے“ لیکن اس بیوقوف نے جب کہ اس وصف کا اللہ کے ساتھ مختص ہونے سے انکار کر دیا اور کہنے لگا یہ تو میں بھی کر سکتا ہوں آپ علیہ السلام نے باوجود اسی دلیل میں بہت سی گنجائش ہونے کے اس سے بھی واضح دلیل اس کے سامنے رکھی کہ ”اچھا میرا رب مشرق سے سورج نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال۔“ اب تو اس کے حواس گم ہو گئے۔ اسی طرح موسیٰ ٰعلیہ السلام کی زبانی تابڑ توڑ ایسی واضح اور روشن دلیلیں سن کر فرعون کے اوسان خطا ہو گئے وہ سمجھ گیا کہ اگر ایک میں نے نہ مانا تو کیا؟ یہ واضح دلیلیں ان سب لوگوں پر اثر کر جائیں گی اس لیے اب اپنی قوت کو کام میں لانے کا ارادہ کیا اور موسیٰ علیہ السلام کو ڈرانے دھمکانے لگا جیسے آگے آرہا ہے۔صفحہ نمبر6132
آیت 14 وَلَہُمْ عَلَیَّ ذَنْبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ ”مصر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں ایک قبطی قتل ہوگیا تھا۔ اس واقعہ کی تفصیل سورة القصص میں آئے گی۔ اگرچہ یہ قتل عمد نہیں بلکہ قتل خطا تھا ‘ لیکن تھا تو بہر حال قتل۔ اس لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اندیشہ درست تھا کہ وہ انہیں دیکھتے ہی گرفتار کرلیں گے اور مقدمہ چلا کر سزائے موت کا مستحق ٹھہرا دیں گے۔
CommentaryRequest for favourable conditions for obedience is not tantamount to making excusesقَالَ رَبِّ إِنِّي أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ ﴿12﴾ وَيَضِيقُ صَدْرِي وَلَا يَنطَلِقُ لِسَانِي فَأَرْسِلْ إِلَىٰ هَارُونَ ﴿13﴾ وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ ﴿14﴾He (Musa) said, "My Lord, I fear they will belie me. [ 12] And my heart gets straitened and my tongue is not fluent; so send for Harun. [ 13] And they have a charge of offence against me and I fear they will kill me;" [ 14]This verse indicates that Sayyidna Musa (علیہ السلام) requested Allah to provide him with some resources to help them in carrying out his mission. It leads to the principle that so far as the objective is to obey Allah's command, praying for some helping resources cannot be regarded as seeking ruses and excuses to escape from the required act. The request of Sayyidna Musa علیہ السلام was only to facilitate the implementation of Allah's command which is quite lawful.The meaning of the word dalal used for Sayyidna Musa (علیہ السلام)قَالَ فَعَلْتُهَا إِذًا وَأَنَا مِنَ الضَّالِّينَHe said, "I did that at that time when I was one of the unaware people. (26:20)This was the answer of Musa (علیہ السلام) to the objection of the Pharaoh that Musa (علیہ السلام) had killed an Egyptian. The gist of the answer is that it was not a deliberate murder; in fact the Egyptian was killed by mistake, because Musa (علیہ السلام) had only struck him with a blow which, by accident, caused his death. The word used, by the present verse, for this mistake is derived from ضَلَال (dalal) which is commonly used for intentional error. But the word is also used for 'unawareness' (which includes unintentional mistakes) It is this meaning that is intended here. This interpretation is supported by Qatdah and Ibn Zaid رحمۃ اللہ علیہم .It is impossible for man to comprehend fully the entity and reality of the magnificence of Allah Ta’ alaقَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَPharaoh said, "And what is the Lord of the worlds?" (26:23)This verse proves that it is not possible to know the exact reality of Allah's Being. Since the Pharaoh had asked a question regarding Allah Ta’ ala's intrinsic-self and reality, Sayyidna Musa (علیہ السلام) instead of giving a direct answer to his query, described the attributes of Allah Ta’ ala in reply. He hinted in his reply that it is not possible for a man to perceive the essence and reality of Allah Ta’ ala. Hence, it was a futile question. (Ruh)
The Quran describes in detail how Pharaoh (Firaun) oppressed the Children of Israel in Egypt, enslaving them and killing their sons. Allah chose Musa (Moses) as His prophet and commanded him to free the Israelites. The Quran mentions ten plagues (referred to as signs/ayat) and the parting of the sea. Archaeological and Egyptological scholarship has proposed various dates ranging from Ramesses II (1279–1213 BCE) to Thutmose III, though the exact identification remains debated.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.