The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-Furqan • Ayah 49

Para 19 Surah 25 : 49
لِّنُحْـِۧىَ بِهِۦ بَلْدَةً مَّيْتًا وَنُسْقِيَهُۥ مِمَّا خَلَقْنَآ أَنْعَـٰمًا وَأَنَاسِىَّ كَثِيرًا

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

لِّنُحْـِۧىَ
بِهِۦ
بَلْدَةً
مَّيْتًا
وَنُسْقِيَهُۥ
مِمَّا
خَلَقْنَآ
أَنْعَـٰمًا
وَأَنَاسِىَّ
كَثِيرًا

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

This is also part of His complete power and supreme authority:Allah sends the winds as heralds of glad tidings, i.e., they bring the clouds behind them. The winds are of many different types, depending on the purpose for which they are sent. Some of them form the clouds, others carry the clouds or drive them, and others come ahead of the clouds as heralds announcing their coming. Some of them come before that to stir up the earth, and some of them fertilize or "seed" the clouds to make it rain. Allah says:وَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوراً(and We send down pure water from the sky), meaning, as a means of purifying it. Abu Sa`id said, "It was said: "O Messenger of Allah, can we perform Wudu' with the water of the well of Buda`ah For it is a well in which rubbish and the flesh of dogs are thrown. He said:«إِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْء»(Water is pure and nothing makes it impure.) This was recorded by Ash-Shafi`i and Ahmad, who graded it Sahih, and also by Abu Dawud and At-Tirmidhi, who graded it Hasan, and by An-Nasa'i. His saying:لِّنُحْيِىَ بِهِ بَلْدَةً مَّيْتاً(That We may give life thereby to a dead land,) means, a land that waited a long time for rain. It is devoid of vegetation or anything at all. When the rain comes to it, it becomes alive and its hills are covered with all kinds of colorful flowers, as Allah says:فَإِذَآ أَنزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ(but when We send down water to it, it is stirred to life and growth...) (41:39). His saying:وَنُسْقِيَهِ مِمَّا خَلَقْنَآ أَنْعَـماً وَأَنَاسِىَّ كَثِيراً(and We give to drink thereof many of the cattle and men that We had created. ) means, so that animals such as cattle can drink from it, and people who are in desperate need of water can drink from it and water their crops and fruits. This is like the Ayah:وَهُوَ الَّذِى يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِن بَعْدِ مَا قَنَطُواْ(And He it is Who sends down the rain after they have despaired,) (42:28)فَانظُرْ إِلَى ءَاثَـرِ رَحْمَةِ اللَّهِ كَيْفَ يُحْىِ الاٌّرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَآ(Look then at the effects of Allah's mercy, how He revives the earth after its death.) (30:50) His saying:وَلَقَدْ صَرَّفْنَـهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُواْ(And indeed We have distributed it among them in order that they may remember) means, `We cause rain to fall on this land and not on that, and We cause the clouds to pass over one land and go to another, where We cause sufficient rain to fall so that its people have plenty, but not one drop falls on the first land.' There is a reason and great wisdom behind this. Ibn `Abbas and Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with them said: "One year does not have more rain than another, but Allah distributes the rain as He wills. Then he recited this Ayah:وَلَقَدْ صَرَّفْنَـهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُواْ فَأَبَى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلاَّ كُفُوراً(And indeed We have distributed it (rain or water) amongst them in order that they may remember the grace of Allah, but most men refuse (out of) ingratitude. )" meaning, so that they may be reminded, when Allah brings the dead earth back to life, that He is able to bring the dead and dry bones back to life, or that those from whom rain is withheld are suffering this because of some sin they have committed, so that they may give it up.فَأَبَى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلاَّ كُفُورًا(but most men refuse (out of) ingratitude.) `Ikrimah said, "This refers to those who say that rain comes because of such and such a star." This view of `Ikrimah is similar to the authentic Hadith recorded in Sahih Muslim; one day after a night's rain, the Messenger of Allah ﷺ said to his Companions:«أَتَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟»(Do you know what your Lord says) They said: "Allah and His Messenger know best." He said:«قَالَ: أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللهِ وَرَحْمَتِهِ فَذَاكَ مُؤْمِنٌ بِي، كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، فَذَاكَ كَافِرٌ بِي، مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَب»(He says: "This morning some of My servants became believers in Me, and some became disbelievers. As for the one who said, `We have been given rain by the mercy and grace of Allah,' he is a believer in Me and a disbeliever in the stars. As for the one who said, `We have been given rain by such and such a star,' he is a disbeliever in Me and a believer in the stars.")

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

بارش سے پہلے بارش کی خوشخبری ٭٭اللہ تعالیٰ اپنی ایک اور قدرت کا بیان فرما رہا ہے کہ وہ بارش سے پہلے بارش کی خوشخبری دینے والی ہوائیں چلاتا ہے۔ ان ہواؤں میں رب نے بہت سے خواص رکھے ہیں۔ بعض بادلوں کو پراگندہ کر دیتی ہیں، بعض انہیں اٹھاتی ہیں، بعض انہیں لے چلتی ہیں، بعض خنک اور بھیگی ہوئی چل کر لوگوں کو باران رحمت کی طرف متوجہ کر دیتی ہیں، بعض اس سے پہلے زمین کو تیار کر دیتی ہیں، بعض بادلوں کو پانی سے بھر دیتی ہیں اور انہیں بوجھل کر دیتی ہیں۔ آسمان سے ہم پاک صاف پانی برساتے ہیں کہ وہ پاکیزگی کا آلہ بنے۔ یہاں طہور ایسا ہی ہے جیسا سحور اور وجور وغیرہ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ فعول معنی فاعل کے ہے یا یہ مبالغہ کے لیے مبنی ہے یا متعدی کے لیے۔ یہ سب اقوال لغت اور حکم کے اعتبار سے مشکل ہیں۔ پوری تفصیل کے لائق یہ مقام نہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ثابت بنانی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں ابوالعالیہ رحمہ اللہ کے ساتھ بارش کے زمانہ میں نکلا۔ بصرے کے راستے اس وقت بڑے گندے ہو رہے تھے۔ آپ نے ایسے راستہ پر نماز ادا کی۔ میں نے آپ کو توجہ دلائی تو آپ نے فرمایا: اسے آسمان کے پاک پانی نے پاک کر دیا۔ اللہ فرماتا ہے کہ ہم آسمان سے پاک پانی برساتے ہیں۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے اسے پاک اتارا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔صفحہ نمبر6073سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ بئر بضاعہ سے وضو کر لیں؟ یہ ایک کنواں ہے جس میں لوگ گندگی اور کتوں کا گوشت پھینکتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پاک ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ [سنن ابوداود:66،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ نے اسے وارد کیا ہے۔ امام ابوداؤد اور امام ترمذی رحمہما اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ نسائی میں بھی یہ روایت ہے۔ عبدالملک بن مروان کے دربار میں ایک مرتبہ پانی کا ذکر چھڑا تو خالد بن یزید رحمہ اللہ نے کہا: بعض پانی آسمان کے ہوتے ہیں، بعض پانی وہ ہوتے ہیں جسے بادل سمندر سے پیتا ہے اور اسے گرج، کڑک اور بجلی میٹھا کر دیتی ہے لیکن اس سے زمین میں پیداوار نہیں ہوتی۔ ہاں آسمانی پانی سے پیداوار اگتی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آسمان کے پانی کے ہر قطرہ سے چارہ، گھاس وغیرہ پیدا ہوتا ہے۔ سمندر میں لؤلؤ اور موتی پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی «فِیْ الْبَرِّ بَرٌّ وَّ فِیْ الْبَحْرِ دَرٌّ» زمین میں گیہوں اور سمندر میں موتی۔ پھر فرمایا کہ اسی سے ہم غیر آباد بنجر خشک زمین کو زندہ کر دیتے ہیں، وہ لہلہانے لگتی ہے اور تروتازہ ہو جاتی ہے۔ جیسے فرمان ہے «فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ إِنَّ الَّذِي أَحْيَاهَا لَمُحْيِي الْمَوْتَىٰ إِنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» [22-الحج:5] ‏ علاوہ مردہ زمین کے زندہ ہو جانے کے، یہ پانی حیوانوں اور انسانوں کے پینے میں آتا ہے، ان کے کھیتوں اور باغات کو پلایا جاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ ” وہ اللہ وہی ہے، جو لوگوں کی کامل ناامیدی کے بعد ان پر بارشیں برساتا ہے۔ “ [42-الشورى:28] ‏ اور آیت میں ہے کہ ” اللہ کے آثار رحمت کو دیکھو کہ کس طرح مردہ زمین کو زندہ کر دیتا ہے۔ “ [30-الروم:5] ‏ پھر فرماتا ہے: ساتھ ہی میری قدرت کا ایک نظارہ یہ بھی دیکھو کہ ابر اٹھتا ہے، گرجتا ہے لیکن جہاں میں چاہتا ہوں برستا ہے، اس میں بھی حکمت و حجت ہے۔صفحہ نمبر6074بارش اللہ کے حکم سے ٭٭سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ کوئی سال کسی سال کے کم و بیش بارش کا نہیں لیکن اللہ جہاں چاہے، برسائے۔ جہاں سے چاہے، پھیرے۔ پس چاہئے تھا کہ ان نشانات کو دیکھ کر اللہ کی ان زبردست حکمتوں کو اور قدرتوں کو سامنے رکھ کر اس بات کو بھی مان لیتے کہ بیشک ہم دوبارہ زندہ کئے جائیں گے اور یہ بھی جان لیتے کہ بارشیں ہمارے گناہوں کی شامت سے بند کر دی جاتی ہیں تو ہم گناہ چھوڑ دیں لیکن ان لوگوں نے ایسا نہ کیا بلکہ ہماری نعمتوں پر اور ناشکری کی۔ ایک مرسل حدیث ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے کہا کہ میں بادل کی نسبت کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: بادلوں پر جو فرشتہ مقرر ہے، وہ یہ ہے۔ آپ ان سے جو چاہیں، دریافت فرما لیں۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس تو اللہ کا حکم آتا ہے کہ فلاں فلاں شہر اتنے اتنے قطرے برساؤ، ہم تعمیل ارشاد کر دیتے ہیں۔ بارشیں جیسی نعمت کے وقت اکثر لوگوں کے کفر کا طریقہ یہ بھی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے یہ بارش برسائے گئے۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ بارش برس چکنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوب جاننے والا ہے۔ آپ نے فرمایا: سنو! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندوں میں سے بہت سے میرے ساتھ مومن ہو گئے اور بہت سے کافر ہو گئے۔ جنہوں نے کہا کہ صرف اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بارش ہم پر برسی ہے، وہ تو میرے ساتھ ایمان رکھنے والے اور ستاروں سے کفر کرنے والے ہوئے اور جنہوں نے کہا کہ ہم پر فلاں فلاں تارے کے اثر سے پانی برسایا گیا، انہوں نے میرے ساتھ کفر کیا اور تاروں پر ایمان لائے۔ [صحیح بخاری:810] ‏صفحہ نمبر6075

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 49 لِّنُحْیِیَ بِہٖ بَلْدَۃً مَّیْتًا وَّنُسْقِیَہٗ مِمَّا خَلَقْنَآ اَنْعَامًا وَّاَنَاسِیَّ کَثِیْرًا ”جہاں یہ پانی بہت سی آلودگیوں کو صاف کرتا ہے وہاں یہ جانوروں اور انسانوں کے پینے کے کام بھی آتا ہے۔ میڈیکل سائنس کی نظر سے دیکھا جائے تو انسانی یا حیوانی جسم کے اندر استعمال ہو کر پانی کہیں ختم consume نہیں ہوجاتا بلکہ یہاں بھی وہ جسم کے اندرونی نظام کو چلانے اور اس کی صفائی کرنے کا کام کرتا ہے۔ پانی کے ذریعے سے ہی جسم کے اندر خون کی گردش circulation ممکن ہوتی ہے اور metabolism کے نتیجے میں پیدا ہونے والے فاضل اور نقصان دہ فضلات کا معدے ‘ گردوں ‘ پھیپھڑوں وغیرہ سے اخراج ممکن ہوتا ہے۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

وَنُسْقِيَهُ مِمَّا خَلَقْنَا أَنْعَامًا وَأَنَاسِيَّ كَثِيرً‌ا And give drink to the many cattle and humans We have created - 25:49). The word أَنَاسِيَّ is the plural of إنسِیّ and some linguistics have taken it as a plural of إنسَان (both the words mean 'human' ). This verse has described that the rain is a source of irrigation for land, while it serves as a drink for 'many cattle and humans'. The point worth consideration here is why the word 'many' is used which indicates that some human beings do not benefit from it. This question may be answered by saying that the reference here is to the cattle and human beings living in jungles and deserts who directly use the water of rain. As for the urban people, they normally use the water of wells and canals etc.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.