Surah Al-Furqan • Ayah 40
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Frightening the Idolators of Quraysh Allah threatens the idolators who denied and opposed His Messenger Muhammad ﷺ and He warns them of the punishment and painful torment He sent upon the previous nations who rejected their Messengers. Allah begins by mentioning Musa, upon him be peace, whom He sent along with his brother Harun as a helper -- i.e., as another Prophet who helped and supported him -- but Fir`awn and his chiefs denied them both: دَمَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلِلْكَـفِرِينَ أَمْثَـلُهَا (Allah destroyed them completely, and similar (awaits) the disbelievers) (47:10). And when the people of Nuh denied him, Allah destroyed them likewise, for whoever denies one Messenger denies all the Messengers, because there is no difference between one Messenger and another. If it had so happened that Allah had sent all His Messengers to them, they would have denied them all. Allah says: وَقَوْمَ نُوحٍ لَّمَّا كَذَّبُواْ الرُّسُلَ (And Nuh's people, when they denied the Messengers,) although Allah sent only Nuh to them, and he stayed among them for 950 years, calling them to Allah and warning them of His punishment, وَمَآ ءَامَنَ مَعَهُ إِلاَّ قَلِيلٌ (And none believed with him, except a few) (11:40). For this reason Allah drowned them all and left no one among the sons of Adam alive on earth apart from those who boarded the boat, وَجَعَلْنَـهُمْ لِلنَّاسِ ءَايَةً (and We made them a sign for mankind.) meaning a lesson to be learned. This is like the Ayah, إِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنَـكُمْ فِى الْجَارِيَةِ - لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَآ أُذُنٌ وَعِيَةٌ (Verily, when the water rose beyond its limits, We carried you in the boat. That We might make it a remembrance for you, and the keen ear may understand it) (69:11-12), which means: `We left for you ships that you ride upon to travel across the depths of the seas, so that you may remember the blessing of Allah towards you when He saved you from drowning, and made you the descendants of those who believed in Allah and followed His commandments.' وَعَاداً وَثَمُودَاْ وَأَصْحَـبَ الرَّسِّ (And (also) `Ad and Thamud, and the Dwellers of Ar-Rass,) We have already discussed their story, which is referred to in more than one Surah, such as Surat Al-A`raf, and there is no need to repeat it here. As for the Dwellers of Ar-Rass, Ibn Jurayj narrated from Ibn `Abbas about the Dwellers of Ar-Rass that they were the people of one of the villages of Thamud. Ath-Thawri narrated from Abu Bukayr from `Ikrimah that Ar-Rass was a well where they buried (Rassu) their Prophet. وَقُرُوناً بَيْنَ ذَلِكَ كَثِيراً (and many generations in between. ) means nations, many more than have been mentioned here, whom We destroyed. Allah said: وَكُلاًّ ضَرَبْنَا لَهُ الاٌّمْثَالَ (And for each We put forward examples,) meaning, `We showed them the proof and gave them clear evidence,' as Qatadah said, "They had no excuse." وَكُلاًّ تَبَّرْنَا تَتْبِيراً (and each (of them) We brought to utter ruin.) means, `We destroyed them completely.' This is like the Ayah, وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ (And how many generations (Qurun) have We destroyed after Nuh!) (17:17). "Generations" (Qurun) here refers to nations among mankind. This is like the Ayah, ثُمَّ أَنشَأْنَا مِن بَعْدِهِمْ قُرُوناً ءَاخَرِينَ (Then, after them, We created other generations (Qurun).) (23:42) Some defined a generation as being 120 years, or it was said that a generation was one hundred years, or eighty, or forty, etc. The most correct view is that a generation refers to nations who are one another's contemporaries, living at the same time. When they go and others succeed them, this is another generation, as it was recorded in the Two Sahihs: «خَيْرُ الْقُرُونِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ،ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُم» (The best of generations is my generation, then the one that follows it, then the one that follows that.) وَلَقَدْ أَتَوْا عَلَى الْقَرْيَةِ الَّتِى أُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ (And indeed they have passed by the town on which was rained the evil rain.) refers to the town of the people of Lut, which was called Sodom, and the way in which Allah dealt with it, when He destroyed it by turning it upside down and by sending upon it the rain of stones of baked clay, as Allah says: وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَراً فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ (And We rained on them a rain. And how evil was the rain of those who had been warned!) (26:173), وَإِنَّكُمْ لَّتَمُرُّونَ عَلَيْهِمْ مُّصْبِحِينَ - وَبِالَّيْلِ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ (Verily, you pass by them in the morning. And at night; will you not then reflect) (37:137-138), وَإِنَّهَا لَبِسَبِيلٍ مُّقِيمٍ (And verily, they were right on the highroad.) (15:76), وَإِنَّهُمَا لَبِإِمَامٍ مُّبِينٍ (They are both on an open highway, plain to see) (15:79). Allah says: أَفَلَمْ يَكُونُواْ يَرَوْنَهَا (Did they not then see it) meaning, so that they might learn a lesson from what happened to its inhabitants of punishment for denying the Messenger and going against the commands of Allah. بَلْ كَانُواْ لاَ يَرْجُونَ نُشُوراً (Nay! But they used not to expect any resurrection.) means, the disbelievers who passed by it did not learn any lesson, because they did not expect any resurrection, i.e., on the Day of Judgement.
انبیأ سے دشمنی کا خمیازہ ٭٭اللہ تعالیٰ مشرکین کو اور آپ کے مخالفین کو اپنے عذابوں سے ڈرا رہا ہے کہ تم سے پہلے کے جن لوگوں نے میرے نبیوں کی نہ مانی، ان سے دشمنی کی، ان کی مخالفت کی، میں نے انہیں تہس نہس کر دیا۔ فرعونیوں کا حال تم سن چکے ہو کہ ہم نے موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا لیکن انہوں نے نہ مانا جس کے باعث اللہ کا عذاب آ گیا اور سب ہلاک کر دیئے گئے۔ قوم نوح کو دیکھو، انہوں نے بھی ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور چونکہ ایک رسول کا جھٹلانا تمام نبیوں کو جھٹلانا ہے، اس واسطے یہاں ”رسل“ جمع کر کے کہا گیا۔ اور یہ اس لیے بھی کہ اگر بالفرض ان کی طرف تمام رسول بھی بھیجے جاتے تو بھی یہ سب کے ساتھ وہی سلوک کرتے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کیا۔ یہ مطلب نہیں کہ ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے گئے بلکہ ان کے پاس تو صرف نوح علیہ السلام ہی آئے تھے جو ساڑھے نو سو سال تک ان میں رہے اور ہر طرح سے انہیں سمجھایا بجھایا سوائے معدودے چند کے کوئی ایمان نہ لایا۔ اس لیے اللہ نے سب کو غرق کر دیا۔ سوائے ان کے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں تھے، ایک بھی بنی آدم روئے زمین پر نہ بچا۔ لوگوں کے لیے ان کی ہلاکت باعث عبرت بنا دی گئی۔ جیسے فرمان ہے کہ پانی کی ظغیانی کے وقت ہم نے تمہیں کشی میں سوار کر لیا تھا تاکہ تم اسے اپنے لیے باعث عبرت بناؤ اور کشتی کو ہم نے تمہارے لیے اس طوفان سے نجات پانے اور لمبے لمبے سفر طے کرنے کا ذریعہ بنا دیا تاکہ تم اللہ کی اس نعمت کو یاد رکھو کہ اس نے عالمگیر طوفان سے تمہیں بچا لیا اور ایماندار اور ایمانداروں کی اولاد میں رکھا۔ عادیوں اور ثمودیوں کا قصہ تو بارہا بیان ہو چکا ہے۔ جیسے کہ سورۃ الاعراف وغیرہ میں «اَصْحَابَ الرَّسِّ» کی بابت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا قول ہے کہ یہ ثمودیوں کی ایک بستی والے تھے۔صفحہ نمبر6056عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ فلج (یمامہ) والے تھے جن کا ذکر سورۃ یاسین میں ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ آذر بائیجان کے ایک کنویں کے پاس ان کی بستی تھی۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انہیں کنویں والے اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کو کنویں میں ڈال دیا تھا۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ محمد بن کعب رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سیاہ فام غلام سب سے اول جنت میں جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بستی والوں کی طرف اپنا نبی بھیجا تھا لیکن ان بستی والوں میں سے بجز اس کے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ انہوں نے اللہ کے نبی کو ایک غیر آباد کنویں میں، ویران میدان میں ڈال دیا اور اس کے منہ پر ایک بڑی بھاری چٹان رکھ دی کہ یہ وہیں مر جائیں۔ یہ غلام جنگل میں جاتا، لکڑیاں کاٹ کر لاتا، انہیں بازار میں فروخت کرتا اور روٹی وغیرہ خرید کر کنویں پر آتا، اس پتھر کو سرکا دیتا جو کئی آدمیوں سے کھسک نہ سکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں اسے سرکا دیتا۔ یہ ایک رسی میں لٹکا کر روٹی اور پانی اس پیغمبر علیہ السلام کے پاس پہنچا دیتا جسے وہ کھا پی لیتے۔ مدتوں تک یونہی ہوتا رہا۔ ایک مرتبہ یہ گیا، لکڑیاں کاٹیں، چنیں، جمع کیں، گٹھری باندھی، اتنے میں نیند کا غلبہ ہوا، سوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر نیند ڈال دی۔ سات سال تک وہ سویا رہا۔ سات سال بعد آنکھ کھلی، انگڑائی لی، کروٹ بدل کر پھر سو رہا۔ سات سال بعد پھر آنکھ کھلی تو اس نے لکڑیوں کی گٹھری اٹھائی اور شہر کی طرف چلا۔ اسے یہی خیال تھا کہ ذرا سی دیر کے لیے سو گیا تھا۔ شہر میں آ کر لکڑیاں فروخت کیں۔ حسب عادت کھانا خریدا اور وہیں پہنچا۔ دیکھتا ہے کہ کنواں تو وہاں ہے ہی نہیں۔ بہت ڈھونڈا لیکن نہ ملا۔ درحقیقت اس عرصہ میں یہ ہوا تھا کہ قوم کے دل ایمان کی طرف راغب ہوئے، انہوں نے جا کر اپنے نبی کو کنویں سے نکالا۔ سب کے سب ایمان لائے، پھر نبی فوت ہو گئے۔ نبی علیہ السلام بھی اپنی زندگی میں اس حبشی غلام کو تلاش کرتے رہے لیکن اس کا پتہ نہ چلا۔ پھر اس نبی علیہ السلام کے انتقال کے بعد یہ شخص اپنی نیند سے جگایاگیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پس یہ حبشی غلام ہے جو سب سے پہلے جنت میں جائے گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:26381:ضعیف] یہ روایت مرسل ہے اور اس میں غرابت و نکارت ہے اور شاید ادراج بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔صفحہ نمبر6057اس روایت کو ان اصحاب رس پر چسپاں بھی نہیں کر سکتے، اس لیے کہ یہاں تو مذکور ہے کہ انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ ہاں یہ ایک توجیہہ ہو سکتی ہے کہ یہ لوگ تو ہلاک کر دئیے گئے پھر ان کی نسلیں ٹھیک ہو گئیں اور انہیں ایمان کی توفیق ملی۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ اصحاب رس وہی ہیں جن کا ذکر سورۃ البروج میں ہے جنہوں نے خندقیں کھدوائی تھیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔صفحہ نمبر6058پھر فرمایا کہ اور بھی ان کے درمیان بہت سی امتیں آئیں جو ہلاک کر دی گئیں۔ ہم نے ان سب کے سامنے اپنا کلام بیان کر دیا تھا، دلیلیں پیش کر دی تھیں، معجزے دکھائے تھے، عذر ختم کر دئیے تھے۔ پھر سب کو غارت اور برباد کر دیا۔ جیسے فرمان ہے کہ ” نوح علیہ السلام کے بعد کی بھی بہت سی بستیاں ہم نے غارت کر دیں۔ “ [17-الإسراء:17] قرن کہتے ہیں امت کو۔ جیسے فرمان ہے کہ ” ان کے بعد ہم نے بہت سی قرن یعنی امتیں پیدا کیں۔ “ [23-المؤمنون:31] قرن کی مدت بعض کے نزدیک ایک سو بیس سال ہے۔ کوئی کہتا ہے سو سال، کوئی کہتا ہے اسی سال، کوئی کہتا ہے چالیس سال، اور بھی بہت سے قول ہیں۔ زیادہ ظاہر بات یہ ہے کہ ایک زمانہ والے ایک قرن ہیں جب وہ سب مرجائیں تو دوسرا قرن شروع ہوتا ہے۔ جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: سب سے بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے۔ [صحیح بخاری:3651] پھر فرماتا ہے کہ سدوم نامی بستی کے پاس سے تو یہ عرب برابر گزرتے رہتے ہیں۔ یہیں لوطی آباد تھے۔ جن پر زمین الٹ دی گئی اور آسمان سے پتھر برسائے گئے اور برا مینہ ان پر برسا جو سنگلاخ پتھروں کا تھا۔ یہ دن رات وہاں سے آمدورفت رکھتے ہیں پھر بھی عقلمندی کو کام میں نہیں لیتے۔ یہ بستیاں تو تمہاری گزرگاہ پر ہیں۔ ان کے واقعات مشہور ہیں۔ کیا تم انہیں نہیں دیکھتے؟ یقیناً دیکھتے ہو لیکن عبرت کی آنکھیں ہی نہیں کہ سمجھ سکو اور غور کرو کہ اپنی بدکاریوں کی وجہ سے وہ اللہ کے عذابوں کے شکار ہو گئے۔ بس انہیں اڑا دیا گیا، بےنشان کر دئیے گئے۔ بری طرح دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ اسے سوچے تو وہ جو قیامت کا قائل ہو۔ لیکن انہیں کیا عبرت حاصل ہو گی جو قیامت ہی کے منکر ہیں؟ دوبارہ زندگی کو ہی محال جانتے ہیں۔صفحہ نمبر6059
آیت 40 وَلَقَدْ اَتَوْا عَلَی الْقَرْیَۃِ الَّتِیْٓ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ ط ”اس سے سدوم اور عامورہ کی بستیاں مراد ہیں جن کی طرف حضرت لوط علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے۔ بدترین بارش سے مراد پتھروں کی بارش ہے ‘ جس کا ذکر قرآن حکیم میں کئی جگہ آیا ہے۔اَفَلَمْ یَکُوْنُوْا یَرَوْنَہَا ج ”سفر شام کے دوران آتے جاتے قریش کے تجارتی قافلے جب ان بستیوں کے کھنڈرات کے پاس سے گزرتے ہیں تو کیا یہ لوگ انہیں نگاہ عبرت سے نہیں دیکھتے ؟بَلْ کَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا ”اصل بات یہ ہے کہ انہیں بعث بعد الموت پر یقین نہیں ہے۔ یہی سبب ہے کہ ایسے عبرت انگیز حقائق پر سے یہ لوگ بغیر کوئی سبق حاصل کیے اندھوں کی طرح گزر جاتے ہیں۔
CommentaryIn the above verses it is mentioned that it had been the common practice of the people through the ages to rebuff the prophets and the message they had brought. In order to give weight to this assertion a few of the well known prophets are mentioned who were rejected by their people and then they were subjected to Allah's wrath and were annihilated completely. By drawing a parallel with the past generations it is elucidated that the pagans of Makkah would not listen to any reason as they were no better than the animals or even worse than that.It is stated about the people of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) that they had rejected the prophets, although they had neither seen the past prophets nor had they rejected them. at is actually meant here is that while denying Sayyidna Nuh (علیہ السلام) they had by implication rejected all the prophets, because the principals of religion expounded by all prophets are essentially the same. Hence rejection of one prophet is tantamount to rejection of all.أَصْحَابَ الرَّسِّ (People of Rass - 25:38). In Arabic رَس (Rass) means unlined well. Neither Qur'an nor any authentic tradition describes these people in any detail. Whatever information is available about them is through Israelite traditions, which differ from one another. It is more likely that the remaining people of Thamud had settled down near a well. It is not mentioned in the Qur'an or any tradition as to how they were tormented. (Bayan u1-Qur'an)
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.