Surah Al-Furqan • Ayah 27
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The Terrors of the Day of Resurrection, and how the Wrongdoers will wish that They had taken a Path with the MessengerHere Allah tells us about the terror of the Day of Resurrection and the tremendous events that will happen, including the splitting of heavens when they are pierced by the clouds, that is the shadow of the magnificent light which dazzles all sight. The angels of heaven will come down on that Day and surround all creatures at the place of gathering, then the Lord, may He be blessed and exalted, will come to pass judgement. Mujahid said, "This is as Allah says:هَلْ يَنظُرُونَ إِلاَّ أَن يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَـئِكَةُ(Do they then wait for anything other than that Allah should come to them in the shadows of the clouds and the angels)" (2:210)الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـنِ(The sovereignty on that Day will be the true (sovereignty) of the Most Gracious,) This is like the Ayah,لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَحِدِ الْقَهَّارِ(Whose is the kingdom this Day: It is Allah's, the One, the Irresistable!) (40:16) In the Sahih it says:«أَنَّ اللهَ تَعَالَى يَطْوِي السَّمَوَاتِ بِيَمِينِهِ، وَيَأْخُذُ الْأَرَضِينَ بِيَدِهِ الْأُخْرَى، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَنَا الدَّيَّانُ، أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ؟ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ؟»(Allah, may He be exalted, will fold up the heavens in His Right Hand, and will take the earths in His other Hand, then He will say: "I am the Sovereign, I am the Judge. Where are the kings of the earth Where are the tyrants Where are the arrogants")وَكَانَ يَوْماً عَلَى الْكَـفِرِينَ عَسِيراً(and it will be a hard Day for the disbelievers.) means it will be very difficult, because it will be the Day of justice and the decisive judgement, as Allah says:فَذَلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ - عَلَى الْكَـفِرِينَ غَيْرُ يَسِيرٍ (Truly, that Day will be a hard Day -- Far from easy for the disbelievers) (74:9-10). This is how the disbelievers will be on the Day of Resurrection. As for the believers, Allah says:لاَ يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الاٌّكْبَرُ(The greatest terror will not grieve them.)وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّـلِمُ عَلَى يَدَيْهِ يَقُولُ يلَيْتَنِى اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلاً (And (remember) the Day when the wrongdoer will bite at his hands, he will say: "O! Would that I had taken a path with the Messenger.") Here Allah tells us of the regret felt by the wrongdoer who rejected the path of the Messenger and what he brought from Allah of clear truth concerning which there is no doubt, and followed another path. When the Day of Resurrection comes, he will feel regret but his regret will avail him nothing, and he will bite on his hands in sorrow and grief. Whether this Ayah was revealed concerning `Uqbah bin Abi Mu`it or someone else among the doomed, it applies to every wrongdoer, as Allah says:يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِى النَّارِ(On the Day when their faces will be turned over in the Fire) as mentioned in those two Ayat 33:66 Every wrongdoer will feel the ultimate regret on the Day of Resurrection, and will bite at his hands, saying:وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّـلِمُ عَلَى يَدَيْهِ يَقُولُ يلَيْتَنِى اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلاً - يوَيْلَتَا لَيْتَنِى لَمْ أَتَّخِذْ فُلاَناً خَلِيلاً (O! Would that I had taken a path with the Messenger. Ah! Woe to me! Would that I had never taken so-and-so as an intimate friend!) meaning, the one among the propagators of misguidance who diverted him from true guidance and led him to follow the path of misguidance, whether this refers to Umayyah bin Khalaf or his brother Ubayy bin Khalaf, or to someone else.لَّقَدْ أَضَلَّنِى عَنِ الذِّكْرِ(He indeed led me astray from the Reminder) means the Qur'an,بَعْدَ إِذْ جَآءَنِى(after it had come to me.) means, after it had reached me. Allah says:وَكَانَ الشَّيْطَـنُ لِلإِنْسَـنِ خَذُولاً(And Shaytan is to man ever a deserter (in the hour of need). ) meaning, he leads him away from the truth and diverts him from it, and uses him for the purposes of falsehood and calls him to it.
فیصلوں کا دن ٭٭قیامت کے دن جو ہولناک امور ہوں گے، ان میں سے ایک آسمان کا پھٹ جانا اور نورانی ابر کا نمودار ہونا بھی شامل ہے جس کی روشنی سے آنکھیں چکا چوند ہو جائیں گی، پھر فرشتے اتریں گے اور میدان محشر میں تمام انسانوں کو گھیر لیں گے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلے کے لیے تشریف لائے گا۔ جیسے فرمان ہے: «هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا أَن يَأْتِيَهُمُ اللَّـهُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَائِكَةُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَإِلَى اللَّـهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ» [2-البقرة:210] یعنی کہ ” انہیں اس بات کا انتظار ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بادلوں میں آئیں۔ “ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق کو سب انسانوں اور کل جنات کو ایک میدان میں جمع کرے گا۔ تمام جانور، چوپائے، درندے، پرندے اور کل مخلوق وہاں ہو گی پھر آسمان اول پھٹے گا اور اس کے فرشتے اتریں گے جو تمام مخلوق کو دو طرف سے گھیرلیں گے اور وہ گنتی میں بہت زیادہ ہوں گے۔ پھر دوسرا آسمان پھٹے گا اس کے فرشتے بھی آئیں گے جو زمین کی اور آسمان اول کی تمام مخلوق کی گنتی سے بھی زیادہ ہوں گے۔ پھر تیسرا آسمان شق ہو گا اس کے فرشتے بھی، دونوں آسمانوں کے فرشتے مل کر زمین کی مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، سب کو گھیر کر کھڑے ہو جائیں گے۔ پھر اسی طرح چوتھا پانچواں پھر چھٹا پھر ساتواں۔ پھر ہمارا رب عز و جل ابر کے سائے میں تشریف لائے گا، اس کے اردگرد بزرگ تر پاک فرشتے ہوں گے جو ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کی کل مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، ان پر سینگوں جیسے نشان ہونگے، وہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے اللہ کی تسبیح و تہلیل و تقدس بیان کریں گے، ان کے تلوے سے لے کر ٹخنے تک کا فاصلہ پانچ سو سال کا راستہ ہو گا اور ٹخنے سے گھٹنے تک کا بھی اتنا ہی۔ اور گھٹنے سے ناف تک کا بھی اتنا فاصلہ ہو گا۔ اور ناف سے گردن کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور گردن سے کان کی لو تک بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور اس کے اوپر سے سر تک کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا۔ [ضعیف] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ قیامت کا نام «یَوْمَ التَّلاَقِ» اسی لیے ہے کہ اس میں زمین و آسمان والے ملیں گے، انہیں دیکھ کر پہلے تو محشر والے سمجھ لیں گے کہ ہمارا اللہ آیا۔صفحہ نمبر6040لیکن فرشتے سمجھا دیں گے کہ وہ آنے والا ہے، ابھی تک نازل نہیں ہوا۔ پھر جب ساتوں آسمانوں کے فرشتے آ جائیں گے، اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر تشریف لائے گا جسے آٹھ فرشتے اٹھائے ہوں گے جن کے ٹخنے سے گھٹنے تک ستر سال کا راستہ ہے اور ران اور مونڈھے کے درمیان بھی ستر سال کا راستہ ہے۔ ہر فرشتہ دوسرے سے علیحدہ اور جداگانہ ہے۔ ہر ایک کی ٹھوڑی سینے سے لگی ہوئی ہے اور زبان پر «سبُْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ» کا وظیفہ ہے۔ ان کے سروں پر ایک پھیلی ہوئی چیز ہے جیسے سرخ شفق، اس کے اوپر عرش ہو گا۔ اس میں راوی علی بن زید بن جدعان ہیں جو ضعیف ہیں اور بھی اس حدیث میں بہت سی خامیاں ہیں۔ صور کی مشہور حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔صفحہ نمبر6041اور آیت میں ہے کہ ” اس دن ہو پڑنے والی ہو پڑے گی اور آسمان پھٹ کر روئی کی طرح ہو جائے گا۔ اور اس کے کناروں پر فرشتے ہوں گے اور اس دن تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے لیے ہوں گے۔ “ [69-الحاقة:15-17] شہر بن حوشب رحمہ اللہ کہتے ہیں: ان میں سے چار کی تسبیح تو یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکّ الْحَمْدُ عَلیٰ حِلْمِکَ بَعْدَ عِلْمِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے، تو قابل ستائش و تعریف ہے۔ باوجود علم کے پھر بھی بردباری برتنا تیرا وصف ہے جس پر ہم تیری تعریف بیان کرتے ہیں۔ اور چار کی تسبیح یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکَ الْحَمْدُ عَلیٰ عَفْوِکَ بَعْدَ قُدْرَتِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے اور اپنی تعریفوں کے ساتھ ہے تیرے ہی لیے سب تعریف ہے کہ تو باوجود قدرت کے معاف فرماتا رہتا ہے۔ ابوبکر بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرش کو اترتا دیکھ کر اہل محشر کی آنکھیں پھٹ جائیں گی، جسم کانپ اٹھیں گے، دل لرز جائیں گے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس وقت اللہ عز و جل مخلوق کی طرف اترے گا تو درمیان میں ستر ہزار پردے ہوں گے۔ بعض نور کے، بعض ظلمت کے۔ اس ظلمت میں سے ایک ایسی آواز نکلے گی جس سے دل پاش پاش ہو جائیں گے۔ شاید ان کی یہ روایت انہی دو تھیلوں میں سے لی ہوئی ہو گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔صفحہ نمبر6042اس دن صرف اللہ ہی کی بادشاہت ہو گی۔ جیسے فرمان ہے «لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّـهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» [40-غافر:16] ” آج ملک کس کے لیے ہے؟ صرف اللہ غالب و قہار کے لیے۔ “ صحیح حدیث میں ہے: اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور زمینوں کو اپنے دوسرے ہاتھ میں لے لے گا، پھر فرمائے گا: میں مالک ہوں، میں فیصلہ کرنے والا ہوں۔ زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟ تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟ [صحیح بخاری:7413] وہ دن کفار پر بڑا بھاری پڑا ہو گا۔ اسی کا بیان اور جگہ بھی ہے کہ کافروں پر وہ دن گراں گزرے گا۔ [74-المدثر:9-10] ہاں مومنوں کو اس دن مطلق گھبراہٹ یا پریشانی نہ ہو گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پچاس ہزار سال کا دن تو بہت ہی دراز ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ مومنوں پر تو وہ ایک وقت کی فرض نماز سے بھی ہلکا اور آسان ہو گا۔ [مسند احمد:75/3:ضعیف] پیغمبر علیہ السلام کے طریقے اور آپ کے لائے ہوئے کھلے حق سے ہٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ کے سوا دوسری راہوں پہ چلنے والے اس دن بڑے ہی نادم ہونگے اور حسرت و افسوس کے ساتھ اپنے ہاتھ چبائیں گے۔ گو اس کا نزول عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں ہو یا کسی اور کے بارے میں لیکن حکم کے اعتبار سے یہ ہر ایسے ظالم کو شامل ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّـهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا» [33-الأحزاب:66-67] ” پس ہر ظالم قیامت کے دن پچھتائے گا، اپنے ہاتھوں کو چبائے گا اور آہ و زاری کر کے کہے گا: کاش! کہ میں نے نبی کی راہ اپنائی ہوتی۔ کاش! کہ میں نے فلاں کی عقیدت مندی نہ کی ہوتی۔ جس نے مجھے راہ حق سے گمراہ کر دیا۔ “ امیہ بن خلف کا اور اس کے بھائی ابی بن خلف کا بھی یہی حال ہو گا اور ان کے سوا اور بھی ایسے لوگوں کا یہ حال ہو گا۔ کہے گا کہ اس نے مجھے ذکر یعنی قرآن سے بیگانہ کر دیا حالانکہ وہ مجھ تک پہنچ چکا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: شیطان انسان کو رسوا کرنے والا ہے، وہ اسے ناحق کی طرف بلاتا ہے اور حق سے ہٹا دیتا ہے۔صفحہ نمبر6043
آیت 27 وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیْہِ ”عَضَّ یَعُضُّکے معنی دانتوں سے پکڑنا یا کاٹنا کے ہیں۔ سورة النور کی آیت 55 کے ضمن میں جو حدیث بیان ہوئی ہے اس میں مُلْکًا عَاضًّا کا لفظ اسی مادے سے مشتق ہے ‘ یعنی کاٹ کھانے والی ملوکیت۔ اس دن ہر گنہگار اور مجرم شخص حسرت و یاس کی تصویر بنا جھنجھلاہٹ اور پچھتاوے میں اپنے ہاتھوں کو اپنے دانتوں سے کاٹے گا۔یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا ”حسرت سے کہے گا کہ کاش میں نے رسول ﷺ کا ساتھ دیا ہوتا ‘ ان کا اتباعّ کیا ہوتا۔ ان کے ساتھیوں میں شامل ہوگیا ہوتا !
تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ (The sky will break open with a cloud - 25:25). The explanation of the verse is that the sky will rip apart and a sort of liquid cloud will descend from it which will be carrying angels with it. This cloud will look like a canopy descending from the sky and will be bearing Allah Ta’ ala's refulgence surrounded by angels. This will precede the beginning of the reckoning and the sky will rip open only to make an opening. It will not be the same ripping as the one when the sur (صُور) will be blown to finish off the earth and the sky, because this descension of the cloud will take place after the second blowing of the sur (صُور) when the earth and the sky would have taken the new shape. (Bayan u1-Qur’ an)
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.