The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah An-Nur • Ayah 25

Para 18 Surah 24 : 25
يَوْمَئِذٍ يُوَفِّيهِمُ ٱللَّهُ دِينَهُمُ ٱلْحَقَّ وَيَعْلَمُونَ أَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْحَقُّ ٱلْمُبِينُ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

يَوْمَئِذٍ
يُوَفِّيهِمُ
ٱللَّهُ
دِينَهُمُ
ٱلْحَقَّ
وَيَعْلَمُونَ
أَنَّ
ٱللَّهَ
هُوَ
ٱلْحَقُّ
ٱلْمُبِينُ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

A Threat to Those who accuse Chaste Women, Who never even think of anything touching their Chastity and are Good BelieversThis is a warning and threat from Allah to those who accuse chaste women, who never even think of anything effecting their chastity since they are good believers. The Mothers of the believers are more entitled to be included in this category than any other chaste woman, especially the one who was the reason for this Ayah being revealed: `A'ishah bint As-Siddiq, may Allah be pleased with them both. All of the scholars agree that whoever slanders her or makes accusations against after what has been said in this Ayah, is a disbeliever, because of his being obstinate with the Qur'an. The same ruling applies to all of the Mothers of the believers.لُعِنُواْ فِى الدُّنْيَا وَالاٌّخِرَةِ(are cursed in this life and in the Hereafter,) This is like the Ayah:إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ(Verily, those who annoy Allah and His Messenger,) 33:57 `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said, "This is about `A'ishah, and whoever does anything similar nowadays to Muslim women, the same applies to him, but `A'ishah is the one who is primarily referred to here." Ibn Abi Hatim recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said:«اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ»(Shun the seven destructive sins. ) He was asked, "What are they, O Messenger of Allah" He said:«الشِّرْكُ بِاللهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ»(Associating partners with Allah; magic; killing a soul whom Allah has forbidden to be killed, except with just cause; consuming Riba; consuming the property of orphans; desertion at the time of war; and accusing chaste women, who never even think of anything touching their chastity and are good believers.) This was recorded by Al-Bukhari and Muslim in the Two Sahihs.يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ(On the Day when their tongues, their hands, and their legs will bear witness against them as to what they used to do.) Ibn Abi Hatim recorded that Ibn `Abbas said, "This refers to the idolators when they realize that no one will enter Paradise except the people who used to perform Salah. They will say, `Come, let us deny (everything).' So they will deny (everything), then their mouths will be sealed and their hands and feet will testify against them, and they will not be able to hide anything from Allah." Ibn Abi Hatim also recorded that Anas bin Malik said, "We were with the Prophet and he smiled so broadly that his back teeth could be seen, then he said:«أَتَدْرُونَ مِمَّ أَضْحَكُ؟»(Do you know why I am smiling) We said, `Allah and His Messenger know best.' He said,«مِنْ مُجَادَلَةِ الْعَبْدِ لِرَبِّهِ يَقُولُ: يَا رَبِّ أَلَمْ تُجِرْنِي مِنَ الظُّلْمِ؟ فَيَقُولُ: بَلَى، فَيَقُولُ: لَا أُجِيزُ عَلَيَّ شَاهِدًا إِلَّااِمنْ نَفْسِي، فَيَقُولُ: كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ شَهِيدًا وَبِالْكِرَامِ عَلَيْكَ شُهُودًا، فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ وَيُقَالُ لِأَرْكَانِهِ: انْطِقِي فَتَنْطِقَ بِعَمَلِهِ، ثُمَّ يُخَلَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَلَامِ فَيَقُولُ: بُعْدًا لَكُنَّ وَسُحْقًا فَعَنْكُنَّ كُنْتُ أُنَاضِلُ»(Because of the way a person will dispute with his Lord. He will say, "O Lord, did you not protect me from doing wrong" Allah will say, "Of course," The person will say, "I will not accept for anyone to give testimony concerning me except myself." Allah will say, "You are sufficient as a witness against yourself." Then a seal will be put upon his mouth and it will be said to his faculties, "Speak." So they will speak about his deeds. Then he will be permitted to speak, and he will say, "Away with you! I was only speaking in your defence!") This was recorded by Muslim and An-Nasa'i.يَوْمَئِذٍ يُوَفِّيهِمُ اللَّهُ دِينَهُمُ الْحَقَّ(On that Day Allah will pay Dinahum,) Ibn `Abbas said,دِينَهُمُ(Dinahum) "Meaning `their account.' Every time Dinahum appears in the Qur'an it means `their account."' This was also the view of other scholars.وَيَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِينُ(and they will know that Allah, He is the Manifest Truth.) means, His promise, His threat and His reckoning are all just and there is no unfairness in them.

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گستاخ پر اللہ کی لعنت ٭٭جب کہ عام مسلمان عورتوں پر طوفان اٹھانے والوں کی سزا یہ ہے تو انبیاء علیہم السلام کی بیویوں پر جو مسلمانوں کی مائیں ہیں، بہتان باندھنے والوں کی سزا کیا ہوگی؟ اور خصوصا اس بیوی پر جو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں رضی اللہ عنہا۔ علماء کرام کا اس پر اجماع ہے کہ ان آیتوں کے نزول کے بعد بھی جو شخص ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کو اس الزام سے یاد کرے، وہ کافر ہے کیونکہ اس نے قرآن پاک کے خلاف کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کے بارے میں صحیح قول یہی ہے کہ وہ بھی مثل صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ فرماتا ہے کہ ” ایسے موذی بہتان پرداز دنیا اور آخرت میں لعنت اللہ کے مستحق ہیں “۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا» [33-الأحزاب:57] ‏، یعنی ” جو لوگ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لیے رسواکرنے والے عذاب تیار ہیں “۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ یہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ مخصوص ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں۔ سعید بن جبیر، مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی قول ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ نقل کیا ہے لیکن پھر جو تفصیل وار روایت لائے ہیں اس میں آپ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگنے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آنے اور اس آیت کے نازل ہونے کا ذکر ہے لیکن آپ رضی اللہ عنہا کے ساتھ اس حکم کے مخصوص ہونے کا ذکر نہیں۔ پس سبب نزول گو خاص ہو لیکن حکم عام رہتا ہے۔ ممکن ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ کے قول کا بھی یہی مطلب ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔صفحہ نمبر5891بعض بزرگ فرماتے ہیں کہ کل ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کا تو یہ حکم ہے لیکن اور مومنہ عورتوں کا یہ حکم نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس آیت سے تو مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» ہیں کہ اہل نفاق جو اس تہمت میں تھے، سب راندہ درگاہ ہوئے، لعنتی ٹھہرے اور غضب اللہ کے مستحق بن گئے۔ اس کے بعد عام مومنہ عورتوں پر بدکاری کا بہتان باندھنے والوں کے حکم میں آیت «وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِيْنَ جَلْدَةً وَّلَا تَــقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا وَاُولٰىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [24-النور:5، 4] ‏، اتری پس انہیں کوڑے لگیں گے۔ اگر انہوں نے توبہ کی توبہ تو قبول ہے لیکن گواہی ان کی ہمیشہ تک غیر معبتر رہے گی۔صفحہ نمبر5892سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سورۃ النور کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ”یہ آیت توحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کے بارے میں اتری ہے، ان بہتان بازوں کی توبہ بھی قبول نہیں۔ اس آیت میں ابہام ہے، اور چار گواہ نہ لاسکنے کی آیت عام ایماندار عورتوں پر تہمت لگانے والوں کے حق میں ہے، ان کی توبہ مقبول ہے“، یہ سن کر اکثر لوگوں کا ارادہ ہوا کہ آپ کی پیشانی چوم لیں۔ کیونکہ آپ نے نہایت ہی عمدہ تفسیر کی تھی۔ ابہام سے مراد یہ ہے کہ ہر پاک دامن عورت کی شان میں حرمت تہمت عام ہے، اور ایسے سب لوگ ملعون ہیں۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر ایک بہتان باز اس حکم میں شامل ہے لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بطور اولیٰ ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی عموم ہی کو پسند فرماتے ہیں اور یہی صحیح بھی ہے اور عموم کی تائید میں یہ حدیث بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سات گناہوں سے بچو جو مہلک ہیں ۔ پوچھا گیا وہ کیا ہیں؟ فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کسی کو بلا وجہ مار ڈالنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جہاد سے بھاگنا، پاک دامن بھولی مومنہ پر تہمت لگانا ۔ [صحیح بخاری:2766] ‏ اور حدیث میں ہے پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانے والے کی سو سال کی نیکیاں غارت ہیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:3023:ضعیف] ‏صفحہ نمبر5893اعضاء کی گواہی ٭٭سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”جب مشرکین دیکھیں گے کہ جنت میں سوائے نمازوں کے اور کوئی نہیں بھیجا جاتا تو وہ کہیں گے آؤ ہم بھی انکار کردیں چنانچہ اپنے شرک کا یہ انکار کردیں گے۔ اسی وقت ان کے منہ پر مہر لگ جائے گی اور ہاتھ پاؤں گواہی دینے لگیں گے اور اللہ سے کوئی بات چھپا نہ سکیں گے۔‏“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کافروں کے سامنے جب ان کی بداعمالیاں پیش کی جائیں گی تو وہ انکار کر جائیں گے اور اپنی بے گناہی بیان کرنے لگیں گے تو کہا جائے گا یہ ہیں تمہارے پڑوسی یہ تمہارے خلاف شہادت دے رہے ہیں۔ یہ کہیں گے یہ سب جھوٹے ہیں تو کہا جائے گا کہ اچھا خود تمہارے کنبے کے قبیلے کے لوگ موجود ہیں۔ یہ کہہ دیں گے یہ بھی جھوٹے ہیں تو کہا جائے گا۔ اچھا تم قسمیں کھاؤ، یہ قسمیں کھا لیں گے پھر اللہ انہیں گونگا کر دے گا اور خود ان کے ہاتھ پاؤں ان کی بداعمالیوں کی گواہی دیں گے۔ پھر انہیں جہنم میں بھیج دیا جائے گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:25888:ضعیف] ‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دئے اور فرمانے لگے، جانتے ہو میں کیوں ہنسا؟ ہم نے کہا اللہ ہی جانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ قیامت کے دن اپنے رب سے جو حجت بازی کرے گا اس پر یہ کہے گا کہ اللہ کیا تو نے مجھے ظلم سے نہیں روکا تھا؟ اللہ فرمائے گا ” ہاں “۔ تو یہ کہے گا، بس آج جو گواہ میں سچا مانوں، اسی کی شہادت میرے بارے میں معتبر مانی جائے۔ اور وہ گواہ سوا میرے اور کوئی نہیں۔ اللہ فرمائے گا، ” اچھا یونہی سہی تو ہی اپنا گواہ رہ “، اب منہ پر مہر لگ جائے گی اور اعضاء سے سوال ہوگا تو وہ سارے عقدے کھول دیں گے۔ اس وقت بندہ کہے گا، تم غارت ہو جاؤ، تمہیں بربادی آئے تمہاری طرف سے ہی تو میں لڑ جھگڑ رہا تھا ۔ [صحیح مسلم:2969] ‏صفحہ نمبر5894قتادہ رحمہ اللہ فرماتے تھے ”اے ابن آدم تو خود اپنی بد اعمالیوں کا گواہ ہے، تیرے کل جسم کے اعضاء تیرے خلاف بولیں گے، ان کا خیال رکھ اللہ سے پوشیدگی اور ظاہری میں ڈرتا رہ۔ اس کے سامنے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، اندھیرا اس کے سامنے روشنی کی مانند ہے۔ چھپا ہوا اس کے سامنے کھلا ہوا ہے۔ اللہ کے ساتھ نیک گمانی کی حالت میں مرو۔ اللہ ہی کے ساتھ ہماری قوتیں ہیں۔‏“ یہاں دین سے مراد حساب ہے۔ جمہور کی قرأت میں حق کا زبر ہے کیونکہ وہ دین کی صفت ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ نے «الْحَقَّ» پڑھا ہے کہ یہ لغت ہے لفظ اللہ کی۔ ابی بن کعب کے مصحف میں «يَوْمَئِذٍ يُوَفِّيهِمُ اللَّهُ الْحَقُّ دِينَهُمْ» بعض سلف سے پڑھنا مروی ہے۔ ” اس وقت جان لیں گے کہ اللہ کے وعدے وعید حق ہیں۔ اس کا حساب عدل والا ہے ظلم سے دور ہے “۔صفحہ نمبر5895

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 25 یَوْمَءِذٍ یُّوَفِّیْہِمُ اللّٰہُ دِیْنَہُمُ الْحَقَّ ”یہاں پر لفظ ”دین“ بدلے کے معنی میں آیا ہے ‘ جیسے سورة الفاتحہ میں ”یَوْمِ الدِّیْنِ“ کے معنی ہیں ”بدلے کا دن۔“

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْ‌جُلُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿24﴾On the Day their tongues, their hands and their legs will testify against them of what they used to do. - 24:24.The Day on which their own tongues, hands and feet will speak against them and will testify against their crimes, they will be punished precisely according to the crimes they had committed. It is related in Ahadith that on the Dooms Day those who will admit their sins will be pardoned by Allah Ta’ ala, and He will conceal their sins from the crowd of people. If anyone will deny his sins and will claim that he did not commit them, and say that the angels did not write his record of actions correctly, then his speech will be taken away from him and his hands and feet will be asked to testify, who will speak and testify. Another verse الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَىٰ أَفْوَاهِهِمْ (Today We set a seal on their mouths, - 36:65) states this very point. This verse says that their mouths will be sealed, but the verse under discussion (of Surah An-Nur) says that their tongues will testify. There is no contradiction in the two verses in that they will not be able to use their tongues at their discretion. In other words they will have no control on tongues to say anything wrong, as they have in this world. Instead their tongues will say only the right things against their intent and wish. It is also possible that at a certain time their mouths and tongues will be completely sealed and then the tongues are commanded to speak the truth (Only Allah knows best).

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.