The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-Mu'minun • Ayah 47

Para 18 Surah 23 : 47
فَقَالُوٓا۟ أَنُؤْمِنُ لِبَشَرَيْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُهُمَا لَنَا عَـٰبِدُونَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

فَقَالُوٓا۟
أَنُؤْمِنُ
لِبَشَرَيْنِ
مِثْلِنَا
وَقَوْمُهُمَا
لَنَا
عَـٰبِدُونَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Story of Musa, Peace be upon Him; and Fir`awnAllah tells us that He sent Musa, peace be upon him, and his brother Harun to Fir`awn and his chiefs with decisive evidence and definitive proof, but Fir`awn and his people were too arrogant to follow them and obey their commands because they were human beings, just as previous nations had denied the Message of the human Messengers. They were of a similar mentality, so Allah destroyed Fir`awn and his chiefs, drowning them all in one day. He revealed the Book to Musa, i.e., the Tawrah, in which were rulings, commands and prohibitions, after He had destroyed Fir`awn and the Egyptians and seized them with a punishment of the All-Mighty, All-Capable to carry out what He wills. After Allah revealed the Tawrah, Allah did not destroy any nation with an overwhelming calamity; instead, He commanded the believers to fight the disbelievers, as He says:وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى الْكِتَـبَ مِن بَعْدِ مَآ أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ الاٍّولَى بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ (And indeed We gave Musa -- after We had destroyed the generations of old -- the Scripture as an enlightenment for mankind, and a guidance and a mercy, that they might remember.) 28:43

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

دریا برد فرعون ٭٭حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے بھائی ہارون علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے فرعون اور قوم فرعون کے پاس پوری دلیلوں کے ساتھ اور زبردست معجزوں کے ساتھ بھیجا لیکن انہوں نے بھی سابقہ کافروں کی طرح اپنے نبیوں کی تکذیب ومخالفت کی اور سابقہ کفار کی طرح یہی کہا کہ ہم اپنے جیسے انسانوں کی نبوت کے قائل نہیں ان کے دل بھی بالکل ان جیسے ہی ہو گئے بالآخر ایک ہی دن میں ایک ساتھ سب کو اللہ تعالیٰ نے دریا برد کر دیا۔ اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام کو لوگوں کی ہدایت کے لیے تورات ملی۔ دوبارہ مومنوں کے ہاتھوں کافر ہلاک کئے گئے جہاد کے احکام اترے اس طرح عام عذاب سے کوئی امت فرعون اور قوم فرعون یعنی قبطیوں کے بعد ہلاک نہیں ہوئی۔ ایک اور آیت میں فرمان ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ مِن بَعْدِ مَا أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ الْأُولَىٰ بَصَائِرَ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ» [ 28-القص: 43 ] ‏ گزشتہ امتوں کی ہلاکت کے بعد ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب عنائت فرمائی جو لوگوں کے لیے بصیرت ہدایت اور رحمت تھی۔ تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔صفحہ نمبر5741

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 47 فَقَالُوْٓا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُہُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَ ”فرعون اور اس کے درباریوں نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہ السلام پر ایک اعتراض تو وہی کیا جو حضرت نوح ‘ حضرت ہود اور حضرت صالح علیہ السلام کی قومیں اپنے رسولوں کے بارے میں کرچکی تھیں۔ یعنی یہ کہ وہ ہماری طرح کے انسان ہیں۔ لیکن یہاں ایک دوسرا مسئلہ بھی تھا اور وہ یہ کہ حضرت موسیٰ اور ہارون علیہ السلام کا تعلق فرعون کی محکوم قوم سے تھا۔ بنی اسرائیل مصر میں فرعون کے غلام تھے اور وہ کیسے برداشت کرسکتا تھا کہ اس کی غلام قوم کے دو اشخاص اس کے سامنے کھڑے ہو کر اس سے دو بدو بات کریں۔ سیاق وسباق کے حوالے سے یہاں پر لفظ ”عبادت“ کے اصل مفہوم کو بھی سمجھ لیں۔ ظاہر ہے کہ اس لفظ کا جو مفہوم آج ہمارے ذہنوں میں ہے بنی اسرائیل اس مفہوم میں فرعون یا اس کی قوم کی عبادت نہیں کرتے تھے ‘ یعنی وہ ان کی پرستش یا پوجا نہیں کرتے تھے ‘ بلکہ وہ ان کی اطاعت کرتے تھے اور یہاں فرعون نے اسی اطاعت کو لفظ ”عبادت“ سے تعبیر کیا ہے۔ چناچہ فرعون کے اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی قوم ہماری غلام ہے ‘ ہماری اطاعت شعار ہے ‘ ہم ان پر مطلق اختیار رکھتے ہیں ‘ ہم جو چاہیں انہیں حکم دیں اور جیسا قانون ہم چاہیں ان پر لاگو کریں۔ ہم چاہیں تو ان کے لڑکوں کو قتل کرواتے رہیں اور چاہیں تو ان کی بیٹیوں کو زندہ رہنے دیا کریں۔ یہ لوگ ہمارے غلام اور محکوم ہونے کے باعث ہمارے کسی حکم سے سرتابی کی جرأت نہیں کرسکتے۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

Commentaryوَآوَيْنَاهُمَا إِلَىٰ رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِينٍ (and We gave them shelter on a height, a place of rest and running springs). According to Bayan-ul-Qur’ an, this verse refers to the event that a tyrant was resolute to kill Sayyidna ` Isa and his mother (علیہما السلام) right from his childhood. They escaped from him and, with Allah's grace, found a place on a height where they enjoyed a peaceful life until Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) attained maturity and was entrusted with prophethood. (This commentary is taken from Khulasa-e-tafsir of Ma` ariful-Qur’ an).

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.