The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-Mu'minun • Ayah 104

Para 18 Surah 23 : 104
تَلْفَحُ وُجُوهَهُمُ ٱلنَّارُ وَهُمْ فِيهَا كَـٰلِحُونَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

تَلْفَحُ
وُجُوهَهُمُ
ٱلنَّارُ
وَهُمْ
فِيهَا
كَـٰلِحُونَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The sounding of the Trumpet and the weighing of Deeds in the Scales.Allah says that when the Trumpet is blown for the Resurrection, and the people rise from their graves,فَلاَ أَنسَـبَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلاَ يَتَسَآءَلُونَ(there will be no kinship among them that Day, nor will they ask of one another.) meaning that lineage will be of no avail on that Day, and a father will not ask about his son or care about him. Allah says:وَلاَ يَسْـَلُ حَمِيمٌ حَمِيماً يُبَصَّرُونَهُمْ(And no friend will ask a friend (about his condition), though they shall be made to see one another) 70:10-11. meaning, no relative will ask about another relative, even if he can see him and even if he is carrying a heavy burden. Even if he was the dearest of people to him in this world, he will not care about him or take even the slightest part of his burden from him. Allah says:يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ - وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ - وَصَـحِبَتِهُ وَبَنِيهِ (That Day shall a man flee from his brother. And from his mother and his father. And from his wife and his children.) 80:34-36 Ibn Mas`ud said, "On the Day of Resurrection, Allah will gather the first and the last, then a voice will call out, `Whoever is owed something by another, let him come forth and take it.' And a man will rejoice if he is owed something or had been mistreated by his father or child or wife, even if it is little. " This is confirmed in the Book of Allah, where Allah says:فَإِذَا نُفِخَ فِى الصُّورِ فَلاَ أَنسَـبَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلاَ يَتَسَآءَلُونَ (Then, when the Trumpet is blown, there will be no kinship among them that Day, nor will they ask of one another.) This was recorded by Ibn Abi Hatim.فَمَن ثَقُلَتْ مَوَزِينُهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (Then, those whose Scales are heavy, these! they are the successful.) means, the one whose good deeds outweigh his bad deeds, even by one. This was the view of Ibn `Abbas.فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ(they are the successful.) means, those who have attained victory and been saved from Hell and admitted to Paradise. Ibn `Abbas said, "These are the ones who have attained what they wanted and been saved from an evil from which there is no escape."وَمَنْ خَفَّتْ مَوَزِينُهُ(And those whose Scales are light,) means, their evil deeds outweigh their good deeds.فَأُوْلَـئِكَ الَّذِينَ خَسِرُواْ أَنفُسَهُم(they are those who lose themselves,) means, they are doomed and have ended up with the worst deal. Allah says:فِى جَهَنَّمَ خَـلِدُونَ(in Hell will they abide. ) meaning, they will stay there forever and will never leave.تَلْفَحُ وُجُوهَهُمُ النَّارُ(The Fire will burn their faces,) This is like the Ayah:وَتَغْشَى وُجُوهَهُمْ النَّارُ(and fire will cover their faces) 14:50. and:لَوْ يَعْلَمُ الَّذِينَ كَفَرُواْ حِينَ لاَ يَكُفُّونَ عَن وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلاَ عَن ظُهُورِهِمْ(If only those who disbelieved knew (the time) when they will not be able to ward off the Fire from their faces, nor from their backs) 21:39.وَهُمْ فِيهَا كَـلِحُونَ(and therein they will grin, with displaced lips.) `Ali bin Abi Talhah narrated from Ibn `Abbas, "Frowning."

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

قبروں سے اٹھنے کے بعد ٭٭جب جی اٹھنے کا صور پھونکا جائے گا اور لوگ اپنی قبروں سے زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے، اس دن نہ تو کوئی رشتے ناتے باقی رہیں گے۔ نہ کوئی کسی سے پوچھے گا، نہ باپ کو اولاد پرشفقت ہو گی، نہ اولاد باپ کا غم کھائے گی۔ عجب آپا دھاپی ہو گی۔ جیسے فرمان ہے کہ «وَلَا يَسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا يُبَصَّرُونَهُمْ يَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِي مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍ بِبَنِيهِ» [ 70-المعارج: 10، 11 ] ‏ کوئی دوست کسی دوست سے ایک دوسرے کو دیکھنے کے باوجود کچھ نہ پوچھے گا۔ صاف دیکھے گا کہ قریبی شخص ہے مصیبت میں ہے، گناہوں کے بوجھ سے دب رہا ہے لیکن اس کی طرف التفات تک نہ کرے گا، نہ کچھ پوچھے گا آنکھ پھیرلے گا، جیسے قرآن میں ہے کہ «يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» [ 80-عبس: 34- 37 ] ‏ اس دن آدمی اپنے بھائی سے، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے، اپنی بیوی سے، اور اپنے بچوں سے بھاگتا پھرے گا“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اگلوں پچھلوں کو جمع کرے گا پھر ایک منادی ندا کرے گا جس کسی کا کوئی حق کسی دوسرے کے ذمہ ہو وہ بھی آئے اور اس سے اپنا حق لے جائے۔ تو اگرچہ کسی کا کوئی حق باپ کے ذمہ یا اپنی اولاد کے ذمہ یا اپنی بیوی کے ذمہ ہو وہ بھی خوش ہوتا ہوا اور دوڑتا ہوا آئے گا اور اپنے حق کے تقاضے شروع کرے گا جسے اس آیت «فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلَا أَنسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ» [ سورة المؤمنون-23: 101 ] ‏ میں ہے۔صفحہ نمبر5815مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”فاطمہ رضی اللہ عنہا میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے جو چیز اسے نہ خوش کرے وہ مجھے بھی ناخوش کرتی ہے اور جو چیز اسے خوش کرے وہ مجھے بھی خوش کرتی ہے قیامت کے روز سب رشتے ناتے ٹوٹ جائیں گے لیکن میرا نسب میرا سبب میری رشتہ داری نا ٹوٹے گی“ [مسند احمد:323/4:صحیح] ‏ اس حدیث کی اصل بخاری مسلم میں بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”فاطمہ رضی اللہ عنہا میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے اسے ناراض کرنے والی اور اسے ستانے والی چیزیں مجھے ناراض کرنے والی اور مجھے تکلیف پہنچانے والی ہے۔‏“ [صحیح بخاری:3714] ‏صفحہ نمبر5816رضی اللہ عنہا مسند احمد میں ہے رسول اللہ علیہ وسلم نے منبر پر فرمایا ”لوگوں کا کیا حال ہے کہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رشتہ بھی آپ کی قوم کو کوئی فائدہ نہ دے گا واللہ میرے رشتہ دنیا میں اور آخرت میں ملا ہوا ہے۔ اے لوگو! میں تمہارا میرسامان ہوں، جب تم آؤ گے، ایک شخص کہے گا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں فلاں بن فلاں ہوں، میں جواب دونگا کہ ہاں نسب تو میں نے پہچان لیا لیکن تم لوگوں نے میرے بعد بدعتیں ایجاد کی تھیں اور ایڑیوں کے بل مرتد ہو گے تھے۔‏“ [مسند احمد:18/3:حسن لغیرہ] ‏ مسند امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما میں ہم نے کئی سندوں سے یہ روایت کی ہے کہ جب آپ نے ام کلثوم بنت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو فرمایا کرتے تھے واللہ مجھے اس نکاح سے صرف یہ غرض تھی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ہر سبب ونسب قیامت کے دن کٹ جائے گا مگر میرا نسب اور سبب۔ [مسند عمر بن الخطاب لابن کثیر 398/3] ‏ بھی مذکور ہے کہ آپ نے ان کا مہر از روئے تعظیم وبزرگی چالیس ہزار مقرر کیا تھا۔ ابن عساکر میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کل رشتے ناتے اور سسرالی تعلقات بجز میرے ایسے تعلقات کے قیامت کے دن کٹ جائیں گے۔‏“ [طبرانی کبیر:45/3:صحیح بالشواھد] ‏ ایک حدیث میں ہے کہ ”میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ جہاں میرا نکاح ہوا ہے اور جس کا نکاح میرے ساتھ ہوا ہے وہ سب جنت میں بھی میرے ساتھ رہیں تو اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول فرمائی۔‏“ [تاریخ دمشق 119/19:ضعیف] ‏ جس کی ایک نیکی بھی گناہوں سے بڑھ گئی وہ کامیاب ہو گیا جہنم سے آزاد اور جنت میں داخل ہو گیا اپنی مراد کو پہنچ گیا اور جس سے ڈرتا تھا اس سے بچ گیا۔ اور جس کی برائیاں بھلائیوں سے بڑھ گئیں وہ ہلاک ہوئے نقصان میں آ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں”قیامت کے دن ترازو پر ایک فرشتہ مقرر ہو گا جو ہر انسان کو لا کر ترازو کے پاس بیچوں بیچ کھڑا کرے گا، پھر نیکی بدی تولی جائے گی اگر نیکی بڑھ گئی تو باآواز بلند اعلان کرے گا کہ فلاں بن فلاں نجات پا گیا اب اس کے بعد ہلاکت اس کے پاس بھی نہیں آئے گی اور اگر بدی بڑھ گئی تو ندا کرے گا اور سب کو سنا کر کہے گا کہ فلاں کا بیٹا فلاں ہلاک ہوا اب وہ بھلائی سے محروم ہوگیا“ [ابو نعیم فی الحلیة کما فی تخریج الاحیاء:4098،ضعیف] ‏ اس کی سند ضعیف ہے داؤد ابن حجر راوی ضعیف و متروک ہے۔ ایسے لوگ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے دوزخ کی آگ ان کے منہ جھلس دے گی چہروں کو جلادے گی کمر کو سلگا دے گی یہ بے بس ہوں گے آگ کو ہٹا نہ سکیں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں”پہلے ہی شعلے کی لپٹ ان کا سارے گوشت پوست ہڈیوں سے الگ کر کے ان کے قدموں میں ڈال دے گی وہ وہاں بدشکل ہوں گے دانت نکلے ہوں گے ہونٹ اوپر چڑھا ہوا اور نیچے گرا ہوا ہو گا اوپر کا ہونٹ تو تالو تک پہنچا ہوا ہو گا اور نیچے کا ہونٹ ناف تک آ جائے گا۔‏“ [مسند احمد:88/3:ضعیف] ‏صفحہ نمبر5817

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 104 تَلْفَحُ وُجُوْہَہُمُ النَّارُ وَہُمْ فِیْہَا کٰلِحُوْنَ ”چہروں کے جھلس جانے کے باعث ان کی شکلیں بگڑ جائیں گی۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ And they will be disfigured therein - 23:104). The word is used for a person whose lips do not meet and leave his teeth fully exposed, which looks very ugly. It is said that the upper lip of a person consigned to Hell will be drawn up and his lower lip will be drawn down so that his teeth will remain visible at all times.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.