Surah Al-Anbya • Ayah 10
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The Virtue of the Qur'an HereAllah points out the noble status of the Qur'an and urges them to recognize its worth:لَقَدْ أَنزَلْنَآ إِلَيْكُمْ كِتَـباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ(Indeed, We have sent down for you a Book in which there is Dhikrukum). Ibn `Abbas said: "Honor for you."أَفَلاَ تَعْقِلُونَ(Will you not then understand) means, will you not understand this blessing, and accept it This is like the Ayah:وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْـَلُونَ (And verily, this is indeed a Reminder for you and your people, and you will be questioned.) 43:44How the Evildoers were destroyedوَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَـلِمَةً(How many a town given to wrongdoing, have We destroyed,) meaning, they were very many. This is like the Ayah:وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ(And how many generations have We destroyed after Nuh!) 17:17فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَـهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ فَهِىَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا(And many a township did We destroy while they were given to wrongdoing, so that it lie in ruins) 22:45.وَأَنشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْماً ءَاخَرِينَ(and raised up after them another people!) means, another nation which came after them.فَلَمَّآ أَحَسُّواْ بَأْسَنَآ(Then, when they sensed Our torment,) when they realized that the torment would undoubtedly come upon them, just as their Prophet had warned them,إِذَا هُمْ مِّنْهَا يَرْكُضُونَ(behold, they (tried to) flee from it.) they tried to run away.لاَ تَرْكُضُواْ وَارْجِعُواْ إِلَى مَآ أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَـكِنِكُمْ(Flee not, but return to that wherein you lived a luxurious life, and to your homes,) This is a way of ridiculing them. It will be said to them by way of ridicule: "Do not run away from the coming torment; go back to the delights and luxuries and fine homes in which you were living." Qatadah said, "Mocking them."لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ(in order that you may be questioned) about whether you gave thanks for what you had.قَالُواْ يوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَ (They cried: "Woe to us! Certainly we have been wrong- doers.") They will confess their sins when it will be of no benefit to them.فَمَا زَالَت تِلْكَ دَعْوَاهُمْ حَتَّى جَعَلْنَـهُمْ حَصِيداً خَـمِدِينَ (And that cry of theirs ceased not, till We made them as a field that is reaped, extinct.) meaning, "they will keep on saying that, admitting their wrong- doing, until We harvest them as it were, and their movements and voices come to a stop."
قدر ناشناس لوگ ٭٭اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس کی قدر و منزلت پر رغبت دلانے کے لیے فرماتا ہے کہ ” ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف اتاری ہے جس میں تمہاری بزرگی ہے، تمہارا دین، تمہاری شریعت اور تمہاری باتیں ہیں۔ پھر تعجب ہے کہ تم اس اہم نعمت کی قدر نہیں کرتے؟ اور اس اتنی بڑی شرافت والی کتاب سے غفلت برت رہے ہو؟ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:611/21:] جیسے اور آیت میں ہے «وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ» [43-الزخرف:44] ” تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے یہ نصیحت ہے اور تم اس کے بارے میں ابھی بھی سوال کئے جاؤ گے “۔صفحہ نمبر5385پھر فرماتا ہے ” ہم نے بہت سی بستیوں کے ظالموں کو پیس کر رکھ دیا ہے “۔ اور آیت میں ہے، «وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ» [17-الإسراء:17] ” ہم نے نوح علیہ السلام کے بعد بھی بہت سی بستیاں ہلاک کر دیں “۔ اور آیت میں ہے «فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ» [22-الحج:45] ” کتنی ایک بستیاں ہیں جو پہلے بہت عروج پر اور انتہائی رونق پر تھیں لیکن پھر وہاں کے لوگوں کے ظلم کی بنا پر ہم نے ان کا چورا کر دیا، بھس اڑا دیا، آبادی ویرانی سے اور رونق سنسان سناٹے میں بدل گئی “۔ ان کی ہلاکت کے بعد اور لوگوں کو ان کا جانشین بنا دیا، ایک قوم کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری یونہی آتی رہیں۔ جب ان لوگوں نے عذابوں کو آتا دیکھ لیا، یقین ہو گیا کہ اللہ کے نبی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق اللہ کے عذاب آگئے تو اس وقت گھبرا کر راہ فرار ڈھونڈنے لگے، ادھر ادھر دوڑ دھوپ کرنے لگے۔ ” اب بھاگو دوڑو نہیں بلکہ اپنے محلات میں اور عیش وعشرت کے سامانوں میں پھر آ جاؤ تاکہ تم سے سوال جواب تو ہو جائے کہ تم نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا بھی کیا یا نہیں؟ “ یہ فرمان بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں ذلیل وحقیر کرنے کے ہوگا۔ اس وقت یہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے، صاف کہیں گے کہ بے شک ہم ظالم تھے لیکن اس وقت کا اقرار بالکل بے نفع ہے۔ پھر تو یہ اقراری ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا ناس ہو جائے اور ان کی آواز دبا دی جائے اور یہ مسل دیئے جائیں۔ ان کا چلنا پھرنا، آنا جانا، بولنا چالنا سب یک قلم بند ہو جائے۔صفحہ نمبر5386
آیت 10 لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکُمْ کِتٰبًا فِیْہِ ذِکْرُکُمْط اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ”یہاں ”ذِکْرُکُمْ“ کے دو ترجمے ہوسکتے ہیں ‘ ایک تو یہ کہ اس میں تمہارے حصے کی نصیحت اور تعلیم ہے یعنی ذکرٌ لکم اور دوسرا یہ کہ ”اس میں تمہارا اپنا ذکر بھی موجود ہے“۔ اس دوسرے مفہوم کی وضاحت ایک حدیث سے ملتی ہے ‘ جس کے راوی حضرت علی رض ہیں۔ آپ رض فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : أَلَا اِنَّھَا سَتَکُوْنُ فِتْنَۃٌ ”آگاہ ہوجاؤ ! عنقریب ایک بہت بڑا فتنہ رونما ہوگا“ فَقُلْتُ : مَا الْمَخْرَجُ مِنْھَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ؟ ”تو میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ﷺ اس سے نکلنے کا راستہ کون سا ہوگا ؟“ یعنی اس فتنے سے بچنے کی سبیل کیا ہوگی ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : کِتَاب اللّٰہِ ، فِیْہِ نَبَأُ مَا کَانَ قَبْلَکُمْ وَخَبَرُ مَا بَعْدَکُمْ وَحُکْمُ مَا بَیْنَکُمْ 1 ”للہ کی کتاب ! اس میں تم سے پہلے لوگوں کی خبریں بھی ہیں ‘ تمہارے بعد آنے والوں کے احوال بھی ہیں اور تمہارے باہمی مسائل و اختلافات کا حل بھی ہے“۔ ان معانی میں یہاں ذِکْرُکُمْ سے مراد یہی ہے کہ تمہارے ہر دور کے تمام مسائل کا حل اس کتاب کے اندر موجود ہے۔ میں اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ آج بھی ہمیں ہر قسم کی صورت حال میں قرآن مجید سے راہنمائی مل سکتی ہے۔
The Holy Qur'an is an honour and pride for the Arabsكِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ (a book having a good name for you - 21:10): The word (Book) is meant for Qur'an and ذکر (name) is used here for honour, excellence and fame. Thus what is meant here is that the revelation of Qur'an in Arabic language is a great honour and everlasting fame for the Arabs and they should value it as such. History has proved that by Allah's Mercy and by the blessings of Qur'an Arabs have dominated the world and ruled over it for a long time. This is also a fact of life that Arabs gained dominance over the world not because of any tribal or linguistic supremacy but because of Qur'an. If there was no Qur'an, probably no one would have known about the Arabs at all.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.