Surah Taha • Ayah 40
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Choosing Musa to go to Fir`awn and to be Soft and Gentle in His InvitationAllah, the Exalted, says in His address to Musa that he had lived among the people of Madyan, avoiding Fir`awn and his chiefs. He worked as a shepherd for his father-in-law until the appointed time for his work ended. Then he met the decree of Allah and His predetermined will, without him having any set appointment. This entire situation was under the control of Allah, Blessed be He, the Most High. He compels His servants and His creatures to whatever end He wills. This is why Allah says,ثُمَّ جِئْتَ عَلَى قَدَرٍ يمُوسَى(Then You came here according to the fixed term which I ordained (for you), O Musa!) Mujahid said, "For a set appointment." `Abdur-Razzaq recorded that Ma`mar reported from Qatadah that he said,ثُمَّ جِئْتَ عَلَى قَدَرٍ يمُوسَى(Then You came here according to the fixed term which I ordained (for you), O Musa!) "For the decree of messengership and prophethood." Concerning Allah's statement,وَاصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِى(And I have chosen you for Myself.) This means, "I have chosen you and selected you to be a Messenger for Myself. This is as I wish and according to My will." Concerning the Tafsir of this Ayah, Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,«الْتَقَى آدَمُ وَمُوسَى فَقَالَ مُوسَى: أَنْتَ الَّذِي أَشْقَيْتَ النَّاسَ وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ، فَقَالَ آدَمُ: وَأَنْتَ الَّذِي اصْطَفَاكَ اللهُ بِرِسَالَتِهِ وَاصْطَفَاكَ لِنَفْسِهِ، وَأَنْزَلَ عَلَيْكَ التَّوْرَاةَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَوَجَدْتَهُ مَكْتُوبًا عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي؟ قَالَ: نَعَمْ، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى»(Adam and Musa met, and Musa said, "You are the one who made things difficult for mankind and you caused them to be evicted from Paradise." Adam said, "Are you the one whom Allah chose for His Message, and He selected you for Himself and He revealed the Tawrah to you" Musa replied, "Yes." Then Adam said, "Did you find that it was preordained upon me before He (Allah) created me" Musa replied, "Yes." Therefore, Adam defeated Musa's argument.) Both Al-Bukhari and Muslim recorded this narration. Concerning Allah's statement,اذْهَبْ أَنتَ وَأَخُوكَ بِـَايَـتِى(Go you and your brother with My Ayat,) This means with My proofs, evidences and miracles.وَلاَ تَنِيَا فِى ذِكْرِى(And do not, you both, slacken and become weak in My remembrance.) `Ali bin Abi Talhah related from Ibn `Abbas that he said, "This means do not be slow." Mujahid reported that Ibn `Abbas said, "This means do not be weak." The meaning here is that they should not slacken in the remembrance of Allah. Rather, they both should remember Allah during their meeting with Fir`awn so that the remembrance of Allah can be an aid for them against him. The remembrance of Allah would be their strength and their power that would defeat him. Allah's statement;اذْهَبَآ إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى(Go both of you to Fir`awn, Verily, he has transgressed.) means that he has rebelled and become haughty and insolent against Allah and he has disobeyed Him.فَقُولاَ لَهُ قَوْلاً لَّيِّناً لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى(And speak to him mildly, perhaps he may accept admonition or fear (Allah).) This Ayah contains a great lesson. Even though Fir`awn was the most insolent and arrogant of people and Musa was the friend of Allah among His creation at that time, Musa was still commanded to speak to Fir`awn with mildness and softness. Therefore, their invitation to him was with gentle, soft and easy speech that is used by one who is a close friend. This is so that the message may have more effect on the souls, and so it would have deeper and more beneficial results. This is as Allah, the Exalted, says,ادْعُ إِلِى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَـدِلْهُم بِالَّتِى هِىَ أَحْسَنُ(Invite (mankind) to the way of your Lord with wisdom and fair preaching, and argue with them in a way that is better.) 16:125 Concerning Allah's statement,لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى(perhaps he may accept admonition or fear (Allah). ) This means that perhaps he will recant from that which he is in of misguidance and destruction,أَوْ يَخْشَى(or he will fear) meaning that he will become obedient due to fear of Allah. This is as Allah says,لِّمَنْ أَرَادَ أَن يَذَّكَّرَ أَوْ أَرَادَ شُكُوراً(For such who desires to remember or desires to show his gratitude.) 25:62 Thus, to remember means to recant from that which is dangerous, and fear means to attain obedience.
موسیٰ علیہ السلام کا بچپن ٭٭حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تمام دعائیں قبول ہوئیں اور فرما دیا گیا کہ تمہاری درخواست منظور ہے۔ اس احسان کے ساتھ ہی اور احسان کا بھی ذکر کر دیا گیا کہ ہم نے تجھ پر ایک مرتبہ اور بھی بڑا احسان کیا ہے۔ پھر اس واقعہ کو مختصر طور پر یاد دلایا کہ ہم نے تیرے بچپن کے وقت تیری ماں کی طرف وحی بھیجی جس کا ذکر اب تم سے ہو رہا ہے۔ تم اس وقت دودھ پیتے بچے تھے، تمہاری والدہ کو فرعون اور فرعونیوں کا کھٹکا تھا کیونکہ اس سال وہ بنو اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کر رہا تھا۔ اس خوف کے مارے وہ ہر وقت کانپتی رہتی تھیں تو ہم نے وحی کی کہ ایک صندوق بنا لو، دودھ پلا کر بچے کو اس میں لٹا کر دریائے نیل میں اس صندوق کو چھوڑ دو چنانچہ وہ یہی کرتی رہیں۔ ایک رسی اس میں باندھ رکھی تھی جس کا ایک سرا اپنے مکان سے باندھ لیتی تھیں۔ ایک مرتبہ باندھ رہی تھیں جو رسی ہاتھ سے چھوٹ گئی اور صندوق کو پانی کی موجیں بہا لے چلیں۔ اب تو کلیجہ تھام کر رہ گئیں اس قدر غمزدہ ہوئیں کہ صبر ناممکن تھا، شاید راز فاش کر دیتیں لیکن ہم نے دل مضبوط کر دیا۔ صندوق بہتا ہوا فرعون کے محل کے پاس سے گزرا آل فرعون نے اسے اٹھا لیا کہ جس غم سے وہ بچنا چاہتے تھے، جس صدمے سے وہ محفوظ رہنا چاہتے تھے، وہ ان کے سامنے آ جائے۔ جسکی شمع حیات کو بجھانے کے لیے وہ بےگناہ معصوموں کا قتل عام کر رہے تھے، وہ انہی کے تیل سے انہی کے ہاں روشن ہوا اور اللہ کے ارادے بیروک پورے ہو جائیں۔ ان کا دشمن انہی کے ہاتھوں پلے انہی کا کھائے ان کے ہاں تربیت پائے۔صفحہ نمبر5221خود فرعون اور اس کی اہلیہ محترمہ نے جب بچے کو دیکھا، رگ رگ میں محبت سما گئی، لے کر پرورش کرنے لگے۔ آنکھوں کا تارا سمجھنے لگے شاہزادوں کی طرح ناز و نعمت سے پلنے لگے شاہی دربار میں رہنے لگے۔ اللہ نے اپنی محبت تجھ پر ڈال دی گو فرعون تیرا دشمن تھا لیکن رب کی بات کون بدلے؟ اللہ کے ارادے کو کون ٹالے؟ فرعون پر ہی کیا منحصر ہے، جو دیکھتا آپ کا والہ و شیدا بن جاتا۔ یہ اس لیے تھا کہ تیری پرورش میری نگاہ کے سامنے ہو، شاہی خوراکیں کھا عزت و وقعت کے ساتھ رہ۔ فرعون والوں نے صندوقچہ اٹھا لیا کھولا بچے کو دیکھا، پالنے کا ارادہ کیا لیکن آپ کسی دایہ کا دودھ دباتے ہی نہیں بلکہ منہ میں ہی نہیں لیتے۔ بہن جو صندوق کو دیکھتی بھالتی کنارے کنارے آ رہی تھی وہ بھی موقعہ پر پہنچ گئیں، کہنے لگیں کہ آپ اگر اس کی پرورش کی تمنا کرتے ہیں اور معقول اجرت بھی دیتے ہیں تو میں ایک گھرانہ بتاؤں جو اسے محبت سے پالے اور خیر خواہانہ برتاؤ کرے۔ سب نے کہا ہم تیار ہیں۔ آپ انہیں لیے ہوئے اپنی والدہ کے پاس پہنچیں، جب بچہ ان کی گود میں ڈال دیا گیا، آپ نے جھٹ سے منہ لگا دودھ پینا شروع کیا۔ جس سے فرعون کے ہاں بڑی خوشیاں منائی گئیں اور بہت کچھ انعام و اکرام دیا گیا۔ تنخواہ مقرر ہو گئی، اپنے ہی بچے کو دودھ پلاتیں اور تنخواہ اور انعام بھی اور عزت و اکرام بھی پاتیں۔ دنیا بھی ملے دین بھی بڑھے۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص اپنے کام کو کرے اور نیک نیتی سے کرے، اس کی مثال ام موسیٰ علیہ السلام کی مثال ہے کہ اپنے ہی بچے کو دودھ پلائے اور اجرت بھی لے۔ پس یہ بھی ہماری کرم فرمائی ہے کہ ہم نے تجھے تیری ماں کی گود میں واپس کیا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور غم و رنج جاتا رہے۔ پھر تمہارے ہاتھ سے ایک فرعونی قبطی مار ڈالا گیا تو بھی ہم نے تمہیں بچا لیا، فرعونیوں نے تمہارے قتل کا ارادہ کر لیا تھا، راز فاش ہو چکا تھا۔ تمہیں یہاں سے نجات دی تم بھاگ کھڑے ہوئے۔ مدین کے کنوئیں پر جا کر تم نے دم لیا۔ وہیں ہمارے ایک نیک بندے نے تمہیں بشارت سنائی کہ اب کوئی خوف نہیں ان ظالموں سے تم نے نجات پا لی۔ تجھے ہم نے بطور آزمائش اور بھی بہت سے فتنوں میں ڈالا۔صفحہ نمبر5222سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کی بابت سوال کیا تو آپ نے فرمایا اب تو دن ڈوبنے کو ہے واقعات زیادہ ہیں پھر سہی۔ چنانچہ میں نے دوسری صبح پھر سوال کیا تو آپ نے فرمایا سنو! فرعون کے دربار میں ایک دن اس بات کا ذکر چھڑا کہ اللہ کا وعدہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام سے یہ تھا کہ ان کی اولاد میں انبیاء اور بادشاہ ہوں گے۔ چنانچہ بنو اسرائیل اس کے آج تک منتظر ہیں اور انہیں یقین ہے کہ مصر کی سلطنت پھر ان میں جائے گی۔ پہلے تو ان کا خیال تھا کہ یہ وعدہ یوسف علیہ السلام کی بابت تھا لیکن ان کی وفات تک جب کہ یہ وعدہ پورا نہیں ہوا تو وہ اب عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ ان میں اپنے ایک پیغمبر کو بھیجے گا جن کے ہاتھوں انہیں سلطنت بھی ملے گی اور ان کی قومی و مذہبی ترقی ہو گی۔ ً یہ باتیں کر کے انہوں نے مجلس مشاورت قائم کی کہ اب کیا کیا جائے جس سے آئندہ کے اس خطرے سے محفوظ رہ سکیں۔ آخر اس جلسے میں قرار داد منظور ہوئی کہ پولیس کا ایک محکمہ قائم کیا جائے جو شہر کا گشت لگاتا رہے اور بنی اسرائیل میں جو نرینہ اولاد ہو، اسے اسی وقت سرکار میں پیش کیا جائے اور ذبح کر دیا جائے۔ لیکن جب ایک مدت گزر گئی تو انہیں خیال پیدا ہوا کہ اس طرح تو بنی اسرائیل بالکل فنا ہو جائیں گے اور جو ذلیل خدمتیں ان سے لی جاتی ہیں، جو بیگاریں ان سے وصول ہو رہی ہیں، سب موقوف ہو جائیں گی، اس لیے اب تجویز ہوا کہ ایک سال ان کے بچوں کو چھوڑ دیا جائے اور ایک سال ان کے لڑکے قتل کر دیئے جائیں۔ اس طرح موجودہ بنی اسرائیلیوں کی تعداد بھی نہ بڑھے گی اور نہ اتنی کم ہو جائے گی کہ ہمیں اپنی خدمت گزاری کے لیے بھی نہ مل سکیں۔ جتنے بڈھے دو سال میں مریں گے، اتنے بچے ایک سال میں پیدا ہو جائیں گے۔صفحہ نمبر5223جس سال قتل موقوف تھا، اس سال تو ہارون علیہ السلام پیدا ہوئے اور جس سال قتل عام بچوں کا جاری تھا، اس برس موسیٰ علیہ السلام تولد ہوئے۔ آپ کی والدہ کی اس وقت کی گھبراہٹ اور پریشانی کا کیا پوچھنا؟ بے اندازہ تھی۔ ایک فتنہ تو یہ تھا۔ چنانچہ یہ خطرہ اس وقت دفع ہو گیا جب کہ اللہ کی وحی ان کے پاس آئی کہ ڈر خوف نہ کر ہم اسے تیری طرف پھر لوٹائیں گے اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔ چنانچہ بحکم الٰہی آپ نے اپنے بچے کو صندوق میں بند کر کے دریا میں بہا دیا، جب صندوق نظروں سے اوجھل ہو گیا تو شیطان نے دل میں وسوسے ڈالنے شروع کئے کہ افسوس اس سے تو یہی بہتر تھا کہ میرے سامنے ہی اسے ذبح کر دیا جاتا تو میں اسے خود ہی کفناتی دفناتی تو سہی لیکن اب تو میں نے خود اسے مچھلیوں کا شکار بنایا۔ یہ صندوق یونہی بہتا ہوا خاص فرعونی گھاٹ سے جا لگا، وہاں اس وقت محل کی لونڈیاں موجود تھیں، انہوں نے اس صندوق کو اٹھا لیا اور ارادہ کیا کہ کھول کر دیکھیں لیکن پھر ڈر گئیں کہ ایسا نہ ہو کہ چوری کا الزام لگے یونہی مقفل صندوق ملکہ فرعون کے پاس پہنچا دیا۔ یہ صندوق بادشاہ ملکہ کے سامنے کھولا گیا تو اس میں سے چاند جیسی صورت کا ایک چھوٹا سا معصوم بچہ نکلا جسے دیکھتے ہی فرعون کی بیوی صاحبہ کا دل محبت کے جوش سے اچھلنے لگا۔صفحہ نمبر5224ادھر ام موسیٰ کی حالت غیر ہو گئی، سوائے اپنے اس پیارے بچے کے خیال کے دل میں اور کوئی تصور ہی نہ تھا۔ ادھر ان قصائیوں کو جو حکومت کی طرف سے بچوں کے قتل کے محکمے کے ملازم تھے، معلوم ہوا تو وہ اپنی چھریاں تیز کئے ہوئے بڑھے اور ملکہ سے تقاضا کیا کہ بچہ انہیں سونپ دیں تاکہ وہ اسے ذبح کر ڈالیں۔ یہ دوسرا فتنہ تھا، آخر ملکہ نے جواب دیا کہ ٹھہرو میں خود بادشاہ سے ملتی ہوں اور اس بچے کو طلب کرتی ہوں، اگر وہ مجھے دے دیں تو خیر ورنہ تمہیں اختیار ہے۔ چنانچہ آپ آئیں اور بادشاہ سے کہا کہ یہ بچہ تو میری اور آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ثابت ہو گا۔ اس خبیث نے کہا بس تم ہی اس سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی رکھو، میری ٹھنڈک وہ کیوں ہونے لگا؟ مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔صفحہ نمبر5225اللہ تعالٰی کی تدابیر اعلیٰ اور محروم ہدایت فرعون ٭٭رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہ حلف بیان فرماتے ہیں کہ اگر وہ بھی کہہ دیتا کہ ہاں بیشک وہ میری آنکھوں کی بھی ٹھنڈک ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بھی ضرور راہ راست دکھا دیتا جیسا کہ اس کی بیوی صاحبہ مشرف بہ ہدایت ہوئی لیکن اس نے خود اس سے محروم رہنا چاہا اللہ نے بھی اسے محروم کر دیا۔ الغرض فرعون کو جوں توں راضی رضامند کر کے اس بچے کے پالنے کی اجازت لے کر آپ آئیں، اب محل کی جتنی دایہ تھیں سب کو جمع کیا ایک ایک کی گود میں بچہ دیا گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے سب کا دودھ آپ پر حرام کر دیا، آپ نے کسی کا دودھ منہ میں لیا ہی نہیں۔ اس سے ملکہ گھبرائیں کہ یہ تو بہت ہی برا ہوا، یہ پیارا بچہ یونہی ہلاک ہو جائے گا۔ آخر سوچ کر حکم دیا کہ انہیں باہر لے جاؤ، ادھر ادھر تلاش کرو اور اگر کسی کا دودھ یہ معصوم قبول کرے تو اسے بہ منت سونپ دو۔ باہر بازار میں میلہ سا لگ گیا ہر شخص اس سعادت سے مالا مال ہونا چاہتا تھا لیکن موسیٰ علیہ السلام نے کسی کا دودھ نہ پیا۔ آپ کی والدہ نے اپنی بڑی صاحبزادی آپ کی بہن کو باہر بھیج رکھا تھا کہ وہ دیکھیں کیا ہوتا ہے؟ وہ اس مجمع میں موجود تھیں اور تمام واقعات دیکھ سن رہی تھیں۔ جب یہ لوگ عاجز آ گئے تو آپ نے فرمایا، اگر تم کہو تو میں ایک گھرانہ ایسا بتلاؤں جو اس کی نگہبانی کرے اور ہو بھی اس کا خیرخواہ۔ یہ کہنا تھا کہ لوگوں کو شک ہوا کہ ضرور یہ لڑکی اس بچے کو جانتی ہے اور اس کے گھر کو بھی پہچانتی ہے۔ اے ابن جبیر یہ تھا تیسرا فتنہ۔ لیکن اللہ نے لڑکی کو سمجھ دے دی اور اس نے جھٹ سے کہا کہ بھلا تم اتنا نہیں سمجھے کون بدنصیب ایسا ہو گا جو اس بچے کی خیر خواہی یا پرورش میں کمی کرے جو بچہ ہماری ملکہ کا پیارا ہے۔ کون نہ چاہے گا کہ یہ ہمارے ہاں پلے تاکہ انعام و اکرام سے اس کا گھر بھر جائے۔ یہ سن کر سب کی سمجھ میں آ گیا اسے چھوڑ دیا اور کہا بتا تو کون سی دایہ اس کے لیے تجویز کرتی ہے؟ اس نے کہا میں ابھی لائی، دوڑی ہوئی گئیں اور والدہ کو یہ خوشخبری سنائی۔ والدہ صاحبہ شوق و امید سے آئیں اپنے پیارے بچے کو گود میں لیا، اپنا دودھ منہ میں دیا بچے نے پیٹ بھر کر پیا۔ اسی وقت شاہی محلات میں یہ خوشخبری پہنچائی گئی ملکہ کا حکم ہوا کہ فوراً اس دایہ کو اور بچے کو میرے پاس لاؤ، جب ماں بیٹا پہنچے تو اپنے سامنے دودھ پلوایا اور یہ دیکھ کر کہ بچہ اچھی طرح دودھ پیتا ہے، بہت ہی خوش ہوئیں اور فرمانے لگیں کہ دائی اماں مجھے اس بچے سے وہ محبت ہے جو دنیا کی کسی اور چیز سے نہیں، تم یہیں محل میں رہو اور اس بچے کی پرورش کرو۔صفحہ نمبر5226لیکن موسیٰ علیہ السلام کی والدہ صاحبہ کے سامنے اللہ کا وعدہ تھا انہیں یقین کامل تھا اس لیے آپ ذرا رکیں اور فرمایا کہ یہ تو ناممکن ہے کہ میں اپنے گھر کو اور اپنے بچوں کو چھوڑ کر یہاں رہوں۔ اگر آپ چاہتی ہیں تو یہ بچہ میرے سپرد کر دیں میں اسے اپنے گھر لے جاتی ہوں ان کی پرورش میں کوئی کوتاہی نہ کروں گی۔ ملکہ صاحبہ نے مجبوراً اس بات کو بھی مان لیا اور آپ اسی دن خوشی خوشی اپنے بچے کو لیے ہوئے گھر آ گئیں۔ اس بچے کی وجہ سے اس محلے کے بنو اسرائیل بھی فرعونی مظالم سے رہائی پا گئے۔ جب کچھ زمانہ گزر گیا تو بادشاہ بیگم نے حکم بھیجا کہ کسی دن میرے بچے کو میرے پاس لاؤ، ایک دن مقرر ہو گیا، تمام ارکان سلطنت اور درباریوں کو حکم ہوا کہ آج میرا بچہ میرے پاس آئے گا۔ تم سب قدم قدم پر اس کا استقبال کرو اور دھوم دھام سے نذریں دیتے ہوئے اسے میرے محل سرائے تک لاؤ۔ چنانچہ جب سواری روانہ ہوئی، وہاں سے لے کر محل سرائے سلطانی تک برابر تحفے تحائف نذریں اور ہدیے پیشکش ہوتے رہے اور بڑے ہی عزت و اکرام کے ساتھ آپ یہاں پہنچے تو خود بیگم نے بھی خوشی خوشی بہت بڑی رقم پیش کی اور بڑی خوشی منائی گئی۔ پھر کہنے لگی کہ میں تو اسے بادشاہ کے پاس لے جاؤں گی، وہ بھی اسے انعام و اکرام دیں گے، لے گئیں اور بادشاہ کی گود میں لٹا دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس کی داڑھی پکڑ کر زور سے گھسیٹی۔ فرعون کھٹک گیا اور اس کے درباریوں نے کہنا شروع کیا کہ کیا عجب یہی وہ لڑکا ہو آپ اسے فوراً قتل کرا دیجئیے۔صفحہ نمبر5227اے ابن جبیر یہ تھا چوتھا فتنہ۔ ملکہ بیتاب ہو کر بول اٹھیں، اے بادشاہ کیا ارادہ کر رہے ہو؟ آپ اسے مجھے دے چکے ہیں میں اسے اپنا بیٹا بنا چکی ہوں۔ بادشاہ نے کہا یہ سب ٹھیک ہے لیکن دیکھو تو اس نے تو آتے ہی داڑھی پکڑ کر مجھے نیچا کر دیا گویا یہی میرا گرانے والا اور مجھے تاخت و تاراج کرنے والا ہے۔ بیگم صاحبہ نے فرمایا، بادشاہ بچوں کو ان چیزوں کی کیا تمیز؟ سنو میں ایک فیصلہ کن بات بتاؤں، اس کے سامنے دو انگارے آگ کے سرخ رکھ دو اور دو موتی آبدار چمکتے ہوئے رکھ دو پھر دیکھو یہ کیا اٹھاتا ہے؟ اگر موتی اٹھا لے تو سمجھنا کہ اس میں عقل ہے اور اگر آگ کے انگارے تھام لے تو سمجھ لینا کہ عقل نہیں۔ جب عقل و تمیز نہیں تو اس کی داڑھی پکڑ لینے پر اتنے لمبے خیالات کر کے اس کی جان کا دشمن بن جانا کون سی دانائی کی بات ہے؟ چنانچہ یہی کیا گیا دونوں چیزیں آپ کے سامنے رکھی گئیں۔ آپ نے دہکتے ہوئے انگارے اٹھا لیے اسی وقت وہ چھین لیے کہ ایسا نہ ہو ہاتھ جل جائیں۔ اب فرعون کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور اس کا بدلا ہوا رخ ٹھیک ہو گیا۔ حق تو یہ ہے کہ اللہ کو جو کام کرنا مقصود ہوتا ہے، اس کے قدرتی اسباب مہیا ہو ہی جاتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کی دربار فرعون میں فرعون کے خاص محل میں فرعون کی بیوی کی گود میں ہی پرورش ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ آپ اچھی عمر کو پہنچ گئے اور بالغ ہو گئے۔صفحہ نمبر5228اب تو فرعونیوں کے جو مظالم اسرائیلیوں پر ہو رہے تھے، ان میں بھی کمی ہو گئی تھی سب امن و امان سے تھے۔ ایک دن موسیٰ علیہ السلام کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں ایک فرعونی اور ایک اسرائیلی کی لڑائی ہو رہی تھی۔ اسرائیلی نے موسیٰ علیہ السلام سے فریاد کی آپ کو سخت غصہ آیا اسلئے کہ اس وقت وہ فرعونی اس بنی اسرائیلی کو دبوچے ہوئے تھا، آپ نے اسے ایک مکا مارا، اللہ کی شان مکا لگتے ہی وہ مر گیا۔ یہ تو لوگوں کو عموماً معلوم تھا کہ موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیلیوں کی طرف داری کرتے ہیں لیکن لوگ اس کی وجہ اب تک یہی سمجھتے تھے کہ چونکہ آپ نے انہی میں دودھ پیا ہے، اس لیے ان کے طرفدار ہیں۔ اصلی راز کا علم تو صرف آپ کی والدہ کو تھا اور ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے کلیم کو بھی معلوم کرا دیا ہو۔ اسے مردہ دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام کانپ اٹھے کہ یہ تو شیطانی حرکت ہے وہ بہکانے والا اور کھلا دشمن ہے۔صفحہ نمبر5229پھر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے لگے کہ باری تعالیٰ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا تو معاف فرما۔ پروردگار نے بھی آپ کی اس خطا سے درگزر فرما لیا وہ تو غفور و رحیم ہے ہی۔ چونکہ قتل کا معاملہ تھا، آپ پھر بھی خوفزدہ ہی رہے، تاک جھانک میں رہے کہ کہیں معاملہ کھل تو نہیں گیا۔ ادھر فرعون کے پاس شکایت ہوئی کہ ایک قبطی کو کسی بنی اسرائیلی نے مار ڈالا ہے، فرعون نے حکم جاری کر دیا کہ واقعہ کی پوری تحقیق کرو قاتل کو تلاش کر کے پکڑ لاؤ اور گواہ بھی پیش کرو اور جرم ثابت ہو جانے کی صورت میں اسے بھی قتل کر دو۔ پولیس نے ہر چند تفتیش کی لیکن قاتل کا کوئی سراغ نہ ملا۔ اتفاق کی بات کہ دوسرے ہی دن موسیٰ علیہ السلام پھر کہیں جا رہے تھے کہ دیکھا وہی بنی اسرائیلی شخص ایک دوسرے فرعونی سے جھگڑ رہا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی وہ دہائی دینے لگا لیکن اس نے یہ محسوس کیا کہ شاید موسیٰ علیہ السلام اپنے کل کے فعل سے نادم ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کو بھی اس کا یہ باربار کا جھگڑنا اور فریاد کرنا برا معلوم ہوا اور کہا تم تو بڑے لڑاکا ہو، یہ فرما کر اس فرعونی کو پکڑنا چاہا لیکن اس بنی اسرائیلی بزدل نے سمجھا کہ شاید آپ چونکہ مجھ پر ناراض ہیں مجھے ہی پکڑنا چاہتے ہیں۔صفحہ نمبر5230حالانکہ اس کا یہ صرف بزدلانہ خیال تھا آپ تو اسی فرعونی کو پکڑنا چاہتے تھے اور اسے بچانا چاہتے تھے لیکن خوف و ہراس کی حالت میں بےساختہ اس کے منہ سے نکل گیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) جیسے کہ کل تو نے ایک آدمی کو مار ڈالا تھا، کیا آج مجھے مار ڈالنا چاہتا ہے؟ یہ سن کر وہ فرعونی اسے چھوڑ بھاگا، دوڑا گیا اور سرکاری سپاہ کو اس واقعہ کی خبر کر دی۔ فرعون کو بھی قصہ معلوم ہوا۔ اسی وقت جلادوں کو حکم دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو پکڑ کر قتل کر دو۔ یہ لوگ شارع عام سے آپ کی جستجو میں چلے۔ ادھر ایک بنی اسرائیلی نے راستہ کاٹ کر نزدیک کے راستے سے آ کر موسیٰ علیہ السلام کو خبر کر دی۔ اے ابن جبیر رحمہ اللہ یہ ہے پانچواں فتنہ۔ موسیٰ علیہ السلام یہ سنتے ہی مٹھیاں بند کرکے مصر سے بھاگ کھڑے ہوئے، نہ کبھی پیدل چلے تھے نہ کبھی کسی مصیبت میں پھنسے تھے، شہزادوں کی طرح لاڈ چاؤ میں پلے تھے، نہ راستے کی خبر تھی نہ کبھی سفر کا اتفاق پڑا تھا۔ رب پر بھروسہ کر کے یہ دعا کر کے کہ اے اللہ مجھے سیدھی راہ لے چلنا، چل کھڑے ہوئے یہاں تک کہ مدین کی حدود میں پہنچے۔صفحہ نمبر5231یہاں دیکھا کہ لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں وہیں دو لڑکیوں کو دیکھا کہ اپنے جانوروں کو روکے کھڑی ہیں۔ پوچھا کہ تم ان کے ساتھ اپنے جانوروں کو پانی کیوں نہیں پلا لیتیں؟ الگ کھڑی ہوئی انہیں کیوں روک رہی ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس بھیڑ میں ہمارے بس کی بات نہیں کہ اپنے جانوروں کو پانی پلائیں، ہم تو جب یہ لوگ پانی پلا چکتے ہیں ان کا بقیہ اپنے جانوروں کو پلا دیا کرتی ہیں۔ آپ فوراً آگے بڑھے اور ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا۔ چونکہ بہت جلد پانی کھینچا، آپ بہت قوی آدمی تھے، سب سے پہلے ان کے جانوروں کو سیر کر دیا۔ یہ اپنی بکریاں لے کر اپنے گھر روانہ ہوئیں اور آپ ایک درخت کے سائے تلے بیٹھ گئے اور اللہ سے دعا کرنے لگے کہ پروردگار میں تیری تمام تر مہربانیوں کا محتاج ہوں۔ یہ دونوں لڑکیاں جب اپنے والد کے پاس پہنچیں تو انہوں نے کہا، آج کیا بات ہے کہ تم وقت سے پہلے ہی آ گئیں؟ اور بکریاں بھی خوب آسودہ اور شکم سیر معلوم ہوتی ہیں۔ تو ان بچیوں نے سارا واقعہ کہہ سنایا آپ نے حکم دیا کہ تم میں سے ایک ابھی چلی جائے اور انہیں میرے پاس بلا لائے۔ وہ آئیں اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنے والد صاحب کے پاس لے گئیں۔ انہوں نے سرسری ملاقات کے بعد واقعہ پوچھا تو آپ نے سارا قصہ کہہ سنایا، اس پر وہ فرمانے لگے اب کوئی ڈر کی بات نہیں آپ ان ظالموں سے چھوٹ گئے۔ ہم لوگ فرعون کی رعایا نہیں نہ ہم پر اس کا کوئی دباؤ ہے۔ اسی وقت ایک لڑکی نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا جی انہوں نے ہمارا کام کر دیا ہے اور یہ ہیں بھی قوت والے امانت دار شخص، کیا اچھا ہو کہ آپ انہیں اپنے ہاں مقرر کر لیجئے کہ یہ اجرت پر ہماری بکریاں چرا لایا کریں۔ باپ کو غیرت اور غصہ آ گیا اور پوچھا بیٹی تمہیں یہ کیسے معلوم ہو گیا کہ یہ قوی اور امین ہیں؟ بچی نے جواب دیا کہ قوت تو اس وقت معلوم ہوئی جب انہوں نے ہماری بکریوں کے لیے پانی نکالا اتنے بڑے ڈول کو اکیلے ہی کھینچتے تھے اور بڑی پھرتی اور ہرپن سے۔ امانت داری یوں معلوم ہوئی کہ میری آواز سن کر انہوں نے نظر اونچی کی اور جب یہ معلوم ہو گیا کہ میں عورت ہوں، پھر نیچی گردن کر کے میری باتیں سنتے رہے، واللہ! آپ کا پورا پیغام پہنچانے تک انہوں نے نگاہ اونچی نہیں کی۔ پھر مجھ سے فرمایا کہ تم میرے پیچھے رہو مجھے دور سے راستہ بتا دیا کرنا۔ یہ بھی دلیل ہے ان کی اللہ خوفی اور امانت داری کی۔ باپ کی غیرت و حمیت بھی رہ گئی، بچی کی طرف سے بھی دل صاف ہو گیا اور موسیٰ علیہ السلام کی محبت دل میں سما گئی۔صفحہ نمبر5232اب موسیٰ علیہ السلام سے فرمانے لگے، میرا ارادہ ہے کہ اپنی ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کا نکاح آپ کے ساتھ کر دوں اس شرط پر کہ آپ آٹھ سال تک میرے ہاں کام کاج کرتے رہیں، ہاں اگر دس سال تک کریں تو اور بھی اچھا ہے، ان شاءاللہ آپ دیکھ لیں گے کہ میں بھلا آدمی ہوں۔ چنانچہ یہ معاملہ طے ہو گیا اور اللہ کے پیغمبر علیہ السلام نے بجائے آٹھ سال کے دس سال پورے کئے۔ سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پہلے مجھے یہ معلوم نہ تھا اور ایک نصرانی عالم مجھ سے یہ پوچھ بیٹھا تھا تو میں اسے کوئی جواب نہ دے سکا، پھر جب میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا اور آپ نے جواب دیا تو میں نے اس سے ذکر کیا، اس نے کہا تمہارے استاد بڑے عالم ہیں۔ میں نے کہا، ہاں ہیں ہی۔ اب موسیٰ علیہ السلام اس مدت کو پوری کر کے اپنی اہلیہ صاحبہ کو لیے ہوئے یہاں سے چلے۔ پھر وہ واقعات ہوئے جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ آگ دیکھی، گئے، اللہ سے کلام کیا، لکڑی کا اژدھا بننا، ہاتھ کا نورانی بننا ملاحظہ کیا، نبوت پائی، فرعون کی طرف بھیجے گئے تو قتل کے واقعہ کے بدلے کا اندیشہ ظاہر فرمایا۔ اس سے اطمینان حاصل کر کے زبان کی گرہ کشائی کی طلب کی۔ اس کو حاصل کر کے اپنے بھائی ہارون کی ہمدردی اور شرکت کار چاہی۔ یہ بھی حاصل کر کے لکڑی لیے ہوئے شاہ مصر کی طرف چلے۔صفحہ نمبر5233ادھر ہارون علیہ السلام کے پاس وحی پہنچی کہ اپنے بھائی کی موافقت کریں اور ان کا ساتھ دیں۔ دونوں بھائی ملے اور فرعون کے دربار میں پہنچے۔ اطلاع کرائی بڑی دیر میں اجازت ملی، اندر گئے، فرعون پر ظاہر کیا کہ ہم اللہ کے رسول بن کر تیرے پاس آئے ہیں۔ اب جو سوال جواب ہوئے وہ قرآن میں موجود ہیں۔ فرعون نے کہا اچھا تم چاہتے کیا ہو؟ اور واقعہ قتل یاد دلایا جس کا عذر موسیٰ علیہ السلام نے بیان کیا جو قرآن میں موجود ہے اور کہا، ہمارا ارادہ یہ ہے کہ تو ایمان لا اور ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے رہائی دے۔ اس نے انکار کیا اور کہا کہ اگر سچے ہو تو کوئی معجزہ دکھاؤ، آپ نے اسی وقت اپنی لکڑی زمین پر ڈال دی وہ زمین پر پڑتے ہی ایک زبردست خوفناک اژدھے کی صورت میں منہ پھاڑے کچلیاں نکالے فرعون کی طرف لپکا۔ مارے خوف کے فرعون تخت سے کود گیا اور بھاگتا ہوا عاجزی سے فریاد کرنے لگا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے واسطے اسے پکڑ لو۔ آپ نے ہاتھ لگایا اسی وقت لاٹھی اپنی اصلی حالت میں آ گئی۔ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال کر نکالا تو وہ بغیر کسی مرض کے داغ کے چمکتا ہوا نکلا جسے دیکھ کر وہ حیران ہو گیا، آپ نے پھر ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ اپنی اصلی حالت میں تھا۔ اب فرعون نے اپنے درباریوں کی طرف دیکھ کر کہا کہ تم نے دیکھا، یہ دونوں جادوگر ہیں چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کریں اور تمہارے ملک پر قابض ہو کر تمہارے طریقے مٹا دیں۔صفحہ نمبر5234پھر موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ ہمیں آپ کی نبوت ماننے سے بھی انکار ہے اور آپ کا کوئی مطالبہ بھی ہم پورا نہیں کر سکتے بلکہ ہم اپنے جادوگروں کو تمہارے مقابلہ کے لیے بلا رہے ہیں جو تمہارے اس جادو پر غالب آ جائیں گے۔ چنانچہ یہ لوگ اپنی کوششوں میں مشغول ہو گئے۔ تمام ملک سے جادوگروں کو بڑی عزت سے بلوایا جب سب جمع ہو گئے تو انہوں نے پوچھا کہ اس کا جادو کس قسم کا ہے؟ فرعون والوں نے کہا لکڑی کا سانپ بنا دیتا ہے۔ انہوں نے کہا، اس میں کیا ہے؟ ہم لکڑیوں کی رسیوں کے وہ سانپ بنائیں گے کہ روئے زمین پر ان کا کوئی مقابلہ نہ کر سکے۔ لیکن ہمارے لیے انعام مقرر ہو جانا چاہیئے۔ فرعون نے ان سے قول و قرار کیا کہ انعام کیسا؟ میں تو تمہیں اپنا مقرب خاص اور درباری بنا لوں گا اور تمہیں نہال نہال کر دونگا جو مانگو گے پاؤ گے۔ چنانچہ انہوں نے اعلان کر دیا کہ عید کے روز دن چڑھے فلاں میدان میں مقابلہ ہو گا۔ مروی ہے کہ ان کی یہ عید عاشورا کے دن تھی۔صفحہ نمبر5235اس دن تمام لوگ صبح ہی صبح اس میدان میں پہنچ گئے کہ آج چل کر دیکھیں گے کہ کون غالب آتا ہے؟ ہم تو جادوگروں کے کمالات کے قائل ہیں وہی غالب آئیں گے اور ہم انہی کی مانیں گے۔ مذاق سے اس بات کو بدل کر کہتے تھے کہ چلو انہی دونوں جادوگروں کے مطیع بن جائیں گے اگر وہ غالب رہیں۔ میدان میں آ کر جادوگروں نے انبیاء اللہ علیہم السلام سے کہا کہ لو اب بتاؤ، تم پہلے اپنا جادو ظاہر کرتے ہو یا ہم ہی شروع کریں؟ آپ نے فرمایا تم ہی ابتداء کرو تاکہ تمہارے ارمان پورے ہوں۔ اب انہوں نے اپنی لکڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈالیں تو ایسا لگا کہ وہ سب سانپ اور بلائیں بن کر اللہ کے نبیوں کی طرف دوڑیں جس سے خوفزدہ ہو کر آپ پیچھے ہٹنے لگے۔ اس وقت اللہ کی وحی آئی کہ آپ اپنی لکڑی زمین پر ڈال دیجئیے، آپ نے ڈالدی، وہ ایک خوفناک بھیانک عظیم الشان اژدھابن کر ان کی طرف دوڑا یہ لکڑیاں رسیاں سب گڈ مڈ ہو گئیں اور وہ ان سب کو نگل گیا۔ جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کیطرف کا نشان ہے، جادو میں یہ بات کہاں؟ چنانچہ سب نے اپنے ایمان کا اعلان کر دیا کہ ہم موسیٰ کے رب پر ایمان لائے اور ان دونوں بھائیوں کی نبوت ہمیں تسلیم ہے۔ ہم اپنے گزشتہ گناہوں سے توبہ کرتے ہیں۔ فرعون اور فرعونیوں کی کمر ٹوٹ گئی، رسوا ہوئے، منہ کالے پڑ گئے، ذلت کے ساتھ خاموش ہو گئے۔ خون کے گھونٹ پی کر چپ ہو گئے۔ ادھر یہ ہو رہا تھا۔ ادھر فرعون کی بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو اپنے سگے بچے کی طرح پالا تھا، بیقرار بیٹھی تھیں اور اللہ سے دعائیں مانگ رہی تھیں کہ اللہ ذولجلال اپنے نبی کو غالب کرے۔ فرعونیوں نے بھی اس حال کو دیکھا تھا لیکن انہوں نے خیال کیا کہ اپنے خاوند کی طرفداری میں ان کا یہ حال ہے۔ یہاں سے ناکام واپس جانے پر فرعون نے بےایمانی پر کمر باندھ لی۔ اللہ کی طرف سے موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں بہت سے نشانات ظاہر ہوئے۔ جب کبھی کوئی پکڑ آ جاتی، یہ گھبرا کر بلکہ گڑ گڑا کر وعدہ کرتا کہ اچھا اس مصیبت کے ہٹ جانے پر میں بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ کر دونگا لیکن جب عذاب ہٹ جاتا پھر منکر بن کر سرکشی پر آ جاتا اور کہتا تیرا رب اس کے سوا کچھ اور بھی کر سکتا ہے؟ چنانچہ ان پر طوفان آیا، ٹڈیاں آئیں، جوئیں آئیں، مینڈک آئے، خون آیا اور بھی بہت سی صاف صاف نشانیاں دیکھیں۔ جہاں آفت آئی، ڈرا وعدہ کیا، جہاں وہ ٹل گئی، مکر گیا اور اکڑ گیا۔ اب اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو لے کر یہاں سے نکل جاؤ آپ راتوں رات انہیں لے کر روانہ ہو گئے۔صفحہ نمبر5236صبح فرعونیوں نے دیکھا کہ رات کو سارے بنی اسرائیل چلے گئے ہیں۔ انہوں نے فرعون سے کہا۔ اس نے سارے ملک میں احکام بھیج کر ہر طرف سے فوجیں جمع کیں اور بہت بڑی جمعیت کے ساتھ ان کا پیچھا کیا۔ راستے میں جو دریا پڑتا تھا اس کی طرف اللہ کی وحی پہنچی کہ تجھ پر جب میرے بندے موسیٰ علیہ السلام کی لکڑی پڑے تو تو انہیں راستہ دے دینا۔ تجھ میں بارہ راستے ہو جائیں کہ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے الگ الگ اپنی راہ لگ جائیں۔ پھر جب یہ پار ہو جائیں اور فرعونی آ جائیں تو تو مل جانا اور ان میں سے ایک کو بھی بے ڈبوئے نہ چھوڑنا۔ موسیٰ علیہ السلام جب دریا پر پہنچے دیکھا کہ وہ موجیں مار رہا ہے پانی چڑھا ہوا ہے شور اٹھ رہا ہے، گھبرا گئے اور لکڑی مارنا بھول گئے۔ دریا بیقرار یوں تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو اس کے کسی حصے پر موسیٰ علیہ السلام لکڑی مار دیں اور اسے خبر نہ ہو تو عذاب الٰہی میں بہ سبب اللہ کی نافرمانی کے پھنس جائے۔ اتنے میں فرعون کا لشکر بنی اسرائیل کے سر پر جا پہنچا، یہ گھبرا گئے اور کہنے لگے لو موسیٰ ہم تو پکڑ لیے گئے۔ اب آپ وہ کیجئے جو اللہ کا آپ کو حکم ہے یقیناً نہ تو اللہ جھوٹا ہے نہ آپ۔صفحہ نمبر5237آپ نے فرمایا مجھے سے تو یہ فرمایا گیا ہے کہ جب تو دریا پر پہنچے گا، وہ تجھے بارہ راستے دیدے گا، تو گزر جانا۔ اسی وقت یاد آیا کہ لکڑی مارنے کا حکم ہوا ہے، چنانچہ لکڑی ماری۔ ادھر فرعونی لشکر کا اول حصہ بنی اسرائیل کے آخری حصے کے پاس آ چکا تھا کہ دریا خشک ہو گیا اور اس میں راستے نمایاں ہو گئے اور آپ اپنی قوم کو لیے ہوئے اس میں بیخطر اتر گئے اور با آرام جانے لگے۔ جب یہ نکل چکے، فرعونی سپاہ ان کے تعاقب میں دریا میں اتری۔ جب یہ سارا لشکر اس میں اتر گیا تو فرمان الٰہی کے مطابق دریا رواں ہو گیا اور سب کو بیک وقت غرق کر دیا۔ بنو اسرایئل اس واقعہ کو اپنی آنکھوں دیکھ رہے تھے تاہم انہوں نے کہا کہ اے رسول اللہ! (علیہ السلام) ہمیں کیا خبر کہ فرعون بھی مرا یا نہیں؟ آپ نے دعا کی اور دریا نے فرعون کی بے جان لاش کو کنارے پر پھینک دیا۔ جسے دیکھ کر انہیں یقین کامل ہو گیا کہ ان کا دشمن مع اپنے لاؤ و لشکر کے تباہ ہو گیا۔صفحہ نمبر5238فرعون سے نجات کے بعد بنی اسرائیل کی نافرمانیاں ٭٭اب یہاں سے آگے چلے تو دیکھا کہ ایک قوم اپنے بتوں کی مجاور بن کر بیٹھی ہے تو کہنے لگے اے اللہ کے رسول ہمارے لئے بھی کوئی معبود ایسا ہی مقرر کر دیجئیے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ناراض ہو کر کہا کہ تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو، تم نے اتنی بڑی عبرتناک نشانیاں دیکھیں۔ ایسے اہم واقعات سنے لیکن اب تک نہ عبرت ہے نہ غیرت۔ یہاں سے آگے بڑھ کر ایک منزل پر آپ نے قیام کیا اور یہاں اپنے خلیفہ اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو بنا کر قوم سے فرمایا کہ میری واپسی تک ان کی فرمانبرداری کرتے رہنا میں اپنے رب کے پاس جا رہا ہوں۔ تیس دن کا اس کا وعدہ ہے۔ چنانچہ قوم سے الگ ہو کر وعدے کی جگہ پہنچ کر تیس دن رات کے روزے پورے کر کے اللہ سے باتیں کرنے کا دھیان پیدا ہوا لیکن یہ سمجھ کر کہ روزوں کی وجہ سے منہ سے بھبکا نکل رہا ہو گا، تھوڑی سی گھاس لے کر آپ نے چبا لی۔ اللہ تعالیٰ نے باوجود علم کے دریافت فرمایا کہ ایسا کیوں کیا؟ آپ نے جواب دیا، صرف اس لیے کہ تجھ سے باتیں کرتے وقت میرا منہ خوشبودار ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، کیا تجھے معلوم نہیں کہ روزہ دار کے منہ کی بو مجھے مشک و عنبر کی خوشبو سے زیادہ اچھی لگتی ہے؟ اب تو دس روزے اور رکھ پھر مجھ سے کلام کرنا۔ آپ نے روزے رکھنا شروع کر دیئے۔ قوم پر تیس دن جب گزر گئے اور حسب وعدہ موسیٰ علیہ السلام نہ لوٹے تو وہ غمگین رہنے لگے۔صفحہ نمبر5239ہارون علیہ السلام نے ان میں خطبہ کیا اور فرمایا کہ جب تم مصر سے چلے تھے تو قبطیوں کی رقمیں تم میں سے بعض پر ادھار تھیں اسی طرح ان کی امانتیں بھی تمہارے پاس رہ گئی ہیں، یہ ہم انہیں واپس تو کرنے کے نہیں لیکن میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ وہ ہماری ملکیت میں رہیں۔ اس لیے تم ایک گہرا گڑھا کھودو اور جو اسباب برتن بھانڈا زیور سونا چاندی وغیرہ ان کا تمہارے پاس ہے، سب اس میں ڈالو پھر آگ لگا دو۔ چنانچہ یہی کیا گیا۔ ان کے ساتھ سامری نامی ایک شخص تھا، یہ گائے بچھڑے پوجنے والوں میں سے تھا، بنی اسرائیل میں سے نہ تھا لیکن بوجہ پڑوسی ہونے کے اور فرعون کی قوم میں سے نہ ہونے کے یہ بھی ان کے ساتھ وہاں سے نکل آیا تھا، اس نے کسی نشان سے کچھ مٹھی میں اٹھا لیا تھا۔ ہارون علیہ السلام نے فرمایا تو بھی اسے ڈال دے، اس نے جواب دیا کہ یہ تو اس کے اثر سے ہے جو تمہیں دریا سے پار کرا لے گیا۔ خیر میں اسے ڈال دیتا ہوں لیکن اس شرط پر کہ آپ اللہ سے دعا کریں کہ اس سے وہ بن جائے جو میں چاہتا ہوں۔ آپ نے دعا کی اور اس نے اپنی مٹھی میں جو تھا اسے ڈال دیا اور کہا میں چاہتا ہوں اس کا ایک بچھڑا بن جائے۔ قدرت الٰہی سے اس گڑھے میں جو تھا، وہ ایک بچھڑے کی صورت میں ہو گیا جو اندر سے کھوکھلا تھا اس میں روح نہ تھی لیکن ہوا اس کے پیچھے کے سوراخ سے جا کر منہ سے نکلتی تھی اس سے ایک آواز پیدا ہوتی تھی۔صفحہ نمبر5240بنو اسرائیل نے پوچھا سامری یہ کیا ہے؟ اس بے ایمان نے کہا، یہی تمہارا سب کا رب ہے لیکن موسیٰ علیہ السلام راستہ بھول گئے اور دوسری جگہ رب کی تلاش میں چلے گئے۔ اس بات نے بنی اسرائیل کے کئی فرقے کر دیئے۔ ایک فرقے نے تو کہا کہ موسیٰ علیہ السلام کے آنے تک ہم اس کی بابت کوئی بات طے نہیں کر سکتے، ممکن ہے یہی اللہ ہو تو ہم اس کی بے ادبی کیوں کریں؟ اور اگر یہ رب نہیں ہے تو موسیٰ علیہ السلام کے آتے ہی حقیقت کھل جائے گی۔ دوسری جماعت نے کہا، محض واہیات ہے یہ شیطانی حرکت ہے ہم اس لغویت پر مطلقاً ایمان نہیں رکھتے، نہ یہ ہمارا رب نہ ہمارا اس پر ایمان۔ ایک پاجی فرقے نے دل سے اسے مان لیا اور سامری کی بات پر ایمان لائے مگر بہ ظاہر اس کی بات کو جھٹلایا۔ ہارون علیہ السلام نے اسی وقت سب کو جمع کر کے فرمایا کہ لوگو! یہ اللہ کی طرف سے تمہاری آزمائش ہے تم اس جھگڑے میں کہاں پھنس گئے؟ تمہارا رب تو رحمان ہے تم میری اتباع کرو اور میرا کہنا مانو۔ انہوں نے کہا آخر اس کی کیا وجہ کہ تیس دن کا وعدہ کر کے موسیٰ علیہ السلام گئے ہیں اور آج چالیس دن ہونے کو آئے لیکن اب تک لوٹے نہیں۔ بعض بیوقوفوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ان سے ان کا رب خطا کر گیا اب یہ اس کی تلاش میں ہوں گے۔ ادھر دس روزے اور پورے ہونے کے بعد موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ سے ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا۔ آپ کو بتایا گیا کہ آپ کے بعد آپ کی قوم کا اس وقت کیا حال ہے؟ آپ اسی وقت رنج و افسوس اور غم و غصے کے ساتھ واپس لوٹے اور یہاں آ کر قوم سے بہت کچھ کہا سنا، اپنے بھائی کے سر کے بال پکڑ کر گھسیٹنے لگے۔ غصے کی زیادتی کی وجہ سے تختیاں بھی ہاتھ سے پھینک دیں۔ پھر اصل حقیقت معلوم ہو جانے پر آپ نے اپنے بھائی سے معذرت کی، ان کے لیے استغفار کیا۔صفحہ نمبر5241اور سامری کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے جواب دیا کہ اللہ کے بھیجے ہوئے کے پاؤں تلے سے میں نے ایک مٹھی اٹھالی یہ لوگ اسے نہ پہچان سکے اور میں نے جان لیا تھا۔ میں نے وہی مٹھی اس آگ میں ڈال دی تھی میری رائے میں یہی بات آئی۔ آپ نے فرمایا، جا اس کی سزا دنیا میں تو یہ ہے کہ تو یہی کہتا رہے کہ“ہاتھ لگانا نہیں“ پھر ایک وعدے کا وقت ہے جس کا ٹلنا ناممکن ہے اور تیرے دیکھتے دیکھتے ہم تیرے اس معبود کو جلا کر اس کی خاک بھی دریا میں بہا دیں گے۔ چنانچہ آپ نے یہی کیا۔ اس وقت بنی اسرائیل کو یقین آ گیا کہ واقعی وہ اللہ نہ تھا۔ اب وہ بڑے نادم ہوئے اور سوائے ان مسلمانوں کے جو ہارون علیہ السلام کے ہم عقیدہ رہے تھے، باقی کے لوگوں نے عذر معذرت کی اور کہا کہ اے اللہ کے نبی! اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ ہمارے لیے توبہ کا دروازہ کھول دے، جو وہ فرمائے گا ہم بجا لائیں گے تاکہ ہماری یہ زبردست خطا معاف ہو جائے۔صفحہ نمبر5242آپ نے بنی اسرائیل کے اس گروہ میں سے ستر لوگوں کو چھانٹ کر علیحدہ کیا اور توبہ کے لیے چلے، وہاں زمین پھٹ گئی اور آپ کے سب ساتھی اس میں اتار دیئے گئے۔ موسیٰ علیہ السلام کو فکر لاحق ہوا کہ میں بنی اسرائیل کو کیا منہ دکھاؤں گا؟ گریہ و زاری شروع کی اور دعا کی کہ اے اللہ! اگر تو چاہتا تو اس سے پہلے ہی مجھے اور ان سب کو ہلاک کر دیتا، ہمارے بیوقوفوں کے گناہ کے بدلے تو ہمیں ہلاک نہ کر۔ آپ تو ان کے ظاہر کو دیکھ رہے تھے اور اللہ کی نظریں ان کے باطن پر تھیں۔ ان میں ایسے بھی تھے جو بہ ظاہر مسلمان بنے ہوئے تھے لیکن دراصل دلی عقیدہ ان کا اس بچھڑے کے رب ہونے پر تھا۔ ان ہی منافقین کی وجہ سے سب کو تہ زمین کر دیا گیا تھا۔ نبی اللہ علیہ السلام کی اس آہ و زاری پر رحمت الٰہی جوش میں آئی اور جواب ملا کہ یوں تو میری رحمت سب پر چھائے ہوئے ہے لیکن میں اسے ان کے نام ہبہ کروں گا جو متقی پرہیزگار ہوں، زکوٰۃ کے ادا کرنے والے ہوں، میری باتوں پر ایمان لائیں اور میرے اس رسول و نبی کی اتباع کریں جس کے اوصاف وہ اپنی کتابوں میں لکھے پاتے ہیں یعنی توراۃ و انجیل میں۔صفحہ نمبر5243کلیم اللہ علیہ السلام نے عرض کی کہ یا الٰہی میں نے اپنی قوم کے لیے توبہ طلب کی، تو نے جواب دیا کہ تو اپنی رحمت کو ان کے ساتھ کر دے گا جو آگے آنے والے ہیں، پھر اللہ مجھے بھی تو اپنے اسی رحمت والے نبی کی امت میں پیدا کرتا۔ رب العالمین نے فرمایا، سنو ان کی توبہ اس وقت قبول ہو گی کہ یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیں، نہ باپ بیٹے کو دیکھے نہ بیٹا باپ کو چھوڑے، آپس میں گتھ جائیں اور ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیں۔ چنانچہ بنو اسرائیل نے یہی کیا اور جو منافق لوگ تھے، انہوں نے بھی سچے دل سے توبہ کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، جو بچ گئے تھے وہ بھی بخشے گئے، جو قتل ہوئے وہ بھی بخش دیئے گئے۔ موسیٰ علیہ السلام اب یہاں سے بیت المقدس کی طرف چلے۔ توراۃ کی تختیاں اپنے ساتھ لیں اور انہیں احکام الٰہی سنائے جو ان پر بہت بھاری پڑے اور انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ چنانچہ ایک پہاڑ ان کے سروں پر معلق کھڑا کر دیا گیا، وہ مثل سائبان کے سروں پر تھا اور ہر دم ڈر تھا کہ اب گرا، انہوں نے اب اقرار کیا اور تورات قبول کر لی پہاڑ ہٹ گیا۔ اس پاک زمین پر پہنچے جہاں کلیم اللہ علیہ السلام انہیں لے جانا چاہتے تھے، دیکھا کہ وہاں ایک بڑی طاقتور زبردست قوم کا قبضہ ہے۔ تو موسیٰ علیہ السلام کے سامنے نہایت نامردی سے کہا کہ یہاں تو بڑی زور آور قوم ہے، ہم میں ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں، یہ نکل جائیں تو ہم شہر میں داخل ہو سکتے ہیں۔ یہ تو یونہی نامردی اور بزدلی ظاہر کرتے رہے۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے ان سرکشوں میں سے دو شخصوں کو ہدایت دے دی، وہ شہر سے نکل کر موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں آ ملے اور انہیں سمجھانے لگے کہ تم ان کے جسموں اور تعداد سے مرعوب نہ ہو جاؤ، یہ لوگ بہادر نہیں ان کے دل گردے کمزور ہیں، تم آگے تو بڑھو۔ ان کے شہر کے دروازے میں گئے اور ان کے ہاتھ پاؤں ڈھیلے ہوئے، یقیناً تم ان پر غالب آ جاؤ گے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ دونوں شخص جنہوں نے بنی اسرائیل کو سمجھایا اور انہیں دلیر بنایا، خود بنی اسرایئل میں سے ہی تھے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔صفحہ نمبر5244لیکن ان کے سمجھانے بجھانے، اللہ کے حکم ہو جانے اور موسیٰ علیہ السلام کے وعدے نے بھی ان پر کوئی اثر نہ کیا بلکہ انہوں نے صاف کورا جواب دے دیا کہ جب تک یہ لوگ شہر میں ہیں، ہم تو یہاں سے اٹھنے کے بھی نہیں، موسیٰ علیہ السلام تو آپ اپنے رب کو اپنے ساتھ لے کر چلا جا اور ان سے لڑ بھڑ لے، ہم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اب تو موسیٰ علیہ السلام سے صبر نہ ہو سکا، آپ کے منہ سے ان بزدلوں اور ناقدروں کے حق میں بد دعا نکل گئی اور آپ نے ان کا نام فاسق رکھ دیا۔ اللہ کی طرف سے بھی ان کا یہی نام مقرر ہو گیا اور انہیں اسی میدان میں قدرتی طور پر قید کر دیا گیا۔ چالیس سال انہیں یہیں گزر گئے کہیں قرار نہ تھا، اسی بیاباں میں پریشانی کے ساتھ بھٹکتے پھرتے تھے۔ اسی میدان قید میں ان پر ابر کا سایہ کر دیا گیا اور من و سلویٰ اتار دیا گیا، کپڑے نہ پھٹتے تھے نہ میلے ہوتے تھے۔ ایک چوکونہ پتھر رکھا ہوا تھا جس پر موسیٰ علیہ السلام نے لکڑی ماری تو اس میں سے بارہ نہریں جاری ہو گئیں، ہر طرف سے تین تین لوگ چلتے چلتے آگے بڑھ جاتے، تھک کر قیام کر دیتے، صبح اٹھتے تو دیکھتے کہ وہ پتھر وہیں ہے جہاں کل تھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس حدیث کو مرفوع بیان کیا ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنی تو فرمایا کہ اس فرعونی نے موسیٰ علیہ السلام کے اگلے دن کے قتل کی خبر رسانی کی تھی یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔ کیونکہ قبطی کے قتل کے وقت سوائے اس بنی اسرایئلی ایک شخص کے جو قبطی سے لڑ رہا تھا، وہاں کوئی اور نہ تھا۔صفحہ نمبر5245اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بہت بگڑے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھام کر سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے اور ان سے کہا، آپ کو یاد ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے اس شخص کا حال بیان فرمایا تھا جس نے موسیٰ کے قتل کے راز کو کھولا تھا، بتاؤ وہ بنی اسرائیلی شخص تھا یا فرعونی؟ سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا، بنی اسرائیلی سے اس فرعونی نے سنا، پھر اس نے جا کر حکومت سے کہا اور خود اس کا شاہد بنا [تفسیر ابن جریر الطبری:24131:ضعیف] یہی روایت اور کتابوں میں بھی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اپنے کلام سے بہت تھوڑا سا حصہ مرفوع بیان کیا گیا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ آپ نے بنو اسرائیل میں سے کسی سے یہ روایت لی ہو کیونکہ ان سے روایتیں لینا مباح ہیں۔ یا تو آپ نے سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ سے ہی یہ روایت سنی ہو گی اور ممکن ہے کسی اور سے سنی ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ میں نے اپنے استاد شیخ حافظ ابو الحجاج مزی علیہ السلام سے بھی یہی سنا ہے۔صفحہ نمبر5246
آیت 40 اِذْ تَمْشِیْٓ اُخْتُکَ ”اور وہ چلتے چلتے فرعون کے محل تک پہنچ گئی جہاں بچے کو فوری طور پر دودھ پلانے کے انتظامات کیے جا رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کسی بھی عورت کا دودھ پینے سے منع کردیا تھا۔ جب بہت سی عورتیں بلائی گئیں اور وہ سب کی سب آپ علیہ السلام کو دودھ پلانے میں ناکام رہیں تو آپ علیہ السلام کی بہن جو یہ سب کچھ دیکھ رہی تھی بول پڑی :فَتَقُوْلُ ہَلْ اَدُلُّکُمْ عَلٰی مَنْ یَّکْفُلُہٗ ط ”آپ علیہ السلام کی بہن نے اپنی ہی والدہ کے بارے میں ان لوگوں کو مشورہ دیا۔ چناچہ جب آپ علیہ السلام کی والدہ کو بلایا گیا تو آپ علیہ السلام نے ان کا دودھ فوراً پی لیا۔فَرَجَعْنٰکَ الآی اُمِّکَ کَیْ تَقَرَّ عَیْنُہَا وَلَا تَحْزَنَ ط ”چنانچہ مامتا کی تسلی و تسکین کے لیے بچے کو واپس والدہ کی گود میں پہنچا دیا گیا۔ مقام غور ہے ! اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کے جذبات و احساسات کا کس حد تک پاس ہے۔ وَقَتَلْتَ نَفْسًا ”پھر جب آپ علیہ السلام جوان ہوئے اور مصر میں آپ علیہ السلام کے ہاتھوں ایک قبطی قتل ہوگیا :فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْٓ اَہْلِ مَدْیَنَ ”آپ علیہ السلام کے مدین پہنچنے اور وہاں ٹھہرنے کے بارے میں تفصیل سورة القصص میں بیان ہوئی ہے۔ یہاں صرف اشارہ کیا گیا ہے۔ثُمَّ جِءْتَ عَلٰی قَدَرٍ یّٰمُوْسٰی ”یعنی اس وقت آپ علیہ السلام کا یہاں پہنچنا کسی حسن اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طے شدہ پروگرام کا حصہ ہے۔ میں نے آپ علیہ السلام کے سب معاملات کے متعلق باقاعدہ منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ آپ علیہ السلام نے اس سے پہلے جو کچھ کیا ‘ آپ علیہ السلام جہاں جہاں رہے ‘ یہ سب اس منصوبہ بندی کا حصہ تھا اور اب اسی منصوبہ بندی اور ایک طے شدہ فیصلے کے مطابق آپ علیہ السلام اس جگہ پہنچ گئے ہو۔
إِذْ تَمْشِي أُخْتُكَ (When your sister was going - 20:40). The story of the sister of Sayyidna Musa (علیہ السلام) following the box along the river and the subsequent events are alluded to in this verse, which ends with the words وَفَتَنَّاكَ فُتُونًا (We tested you with a great ordeal - 20:40). According to Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ these words mean "We tried you repeatedly", while Dahhak (رح) has translated them as "We subjected you to severe trials". Full details of this story have been given in a long Hadith reported by Imam an-Nisa'i (رح) in his book on the authority of Sayyidna Ibn ` Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہما . This story is as follows:Detailed Story of Sayyidna Musa (علیہ السلام)In Kitab-ut-Tafsir of his Sunan, Imam Nisa'i رحمۃ اللہ علیہ has reported a long Hadith known as (حدیث الفتون) (Hadith-ul-Futun) on the authority of Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ . Ibn Kathir has also reproduced the whole of it in his commentary and then has added that Sayyidna Ibn 'Abbas ؓ thought that it was مَرفُوع (Marfu' ), in other words, it was a statement of the Holy Prophet ﷺ . Ibn Kathfr has confirmed this view with the words: وَ صَدَقَ ذٰلِکَ ؟ عِندِی (I too believe that this Hadith is مَرفُوع ), and also gave reason in support of his opinion. However, he has admitted that the version of this story given by Ibn Jabir and Ibn Abi Haim رحمۃ اللہ علیہم is the statement of Ibn ` Abbas ؓ ، and not of the Holy Prophet ﷺ while it contains some parts which were stated by the Holy Prophet ﷺ . It appears that Ibn ` Abbas ؓ has learnt this story from Ka'b al-Ahbar as has happened in many other cases. Be that as it may, the critics like Imam Nasai and Ibn Kathir رحمۃ اللہ علیہما hold it to be marfu' (statement of the Holy Prophet ﷺ) and even those who do not accept it as such have never challenged its contents, while a major part of this story is also mentioned in the Holy Qur'an itself. Therefore, we would like to give full translation of this Hadith which has many beneficial points having academic and practical value. Imam Nisa'i (رح) has related this story which he learnt from Sa'id bin Jubair ؓ that he (Sa'id Ibn Jubair ) asked Sayyidna ` Abdullah Ibn ` Abbas ؓ to explain to him the meaning of the expression وَفَتَنَّاكَ فُتُونًا ، specially the word فُتُونًا which occurs in the verse relating to Sayyidna Musa (علیہ السلام) . Ibn ` Abbas ؓ said it was a long story which he would tell him (Said Ibn Jubair) if he comes to him early the next morning. This he did and Ibn ` Abbas' ؓ told him the story which runs as follows:One day the Pharaoh and his companions were talking about Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) and the promise which Allah Ta’ ala had made to him to raise prophets and Kings from his progeny. Some of those present said that the Bani Isra'il were indeed expecting the birth of a prophet in their community and were in no doubt that Allah Ta’ ala's promise would be fulfilled. In the beginning they thought that Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) was the prophet promised by Allah Ta’ ala but when he died they said he was not the prophet promised to Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) and that there must surely come another prophet whose arrival would fulfill Allah Ta` ala's promise. This information upset the Pharaoh who feared that if ever a prophet was born in the Isra'ili community, whom he held in bondage, he (the prophet) would try to liberate them from their servitude. He, therefore, asked his friends to advise him how such a catastrophe could be avoided. After much deliberation they came to the unanimous conclusion that the only way to meet this contingency was to put to death every male child born in an Isra'ili family. In pursuance of this decision, armed soldiers were sent out with orders to search every Isra'ili house and kill all male children.This bloodshed continued for some time but then the Egyptians realized that all their work was done and arduous duties performed by the Bani Isra'il and if the process of killing their male children continued then a time would come when, their old men having died a natural death, no young men would be left to serve them, and they themselves would have to perform all the hard and toilsome work. In order to overcome this problem they came up with another proposal according to which all male children born in one year should be put to death while all those born in the following year should be spared. Such a device would ensure the availability of a continuous supply of labour force of young Isra'ilis who could replace the older men, yet at the same time their number would not be large enough to pose a threat to the Pharaoh's authority. Everybody approved of this proposal and a law was passed for its implementation. (And now the wisdom and power of Allah Ta` ala demonstrated itself in the following way). Sayyidna Musa's mother gave birth to Sayyidna Harun (علیہ السلام) in the year when, according to the law of the Pharaoh, male Isra'ili children were spared and there was no danger to his life. But when Sayyidna Musa (علیہ السلام) was conceived, his birth was expected in the year when the Pharaoh's decree required that all male Isra'ili children be put to death. His mother was, therefore, greatly distressed at the thought of losing her son after its birth.Here Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ عنہما paused in his story and said, "0 Ibn Jubair! This was the first test (فتُون) to which Sayyidna Musa (علیہ السلام) was put in that his life was at risk even before he was born."Then Allah Ta` ala, by means of وَحی الھام (Divine inspiration) told the mother of Sayyidna Musa (علیہ السلام) to set her mind at rest.لَا تَخَافِي وَلَا تَحْزَنِي إِنَّا رَادُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ الْمُرْسَلِينَDo not fear and do not grieve, surely We are going to bring him back to you and appoint him one of (Our) messengers - 28:7.When Sayyidna Musa (علیہ السلام) was born Allah Ta` ala commanded his mother to put him in a box and float him down the river Nile, which she did. After she had completed this task the Shaitan tried to perplex her with the suggestion that she had made a mistake by floating her son down the river because even if he had been put to death by the order of the Pharaoh she would at least have had the satisfaction of burying him with her own hands. Now there is no hope for him and he would probably be eaten up by the river animals. While the mother of Sayyidna Musa (علیہ السلام) was greatly worried at what the Shaitan had told her, the waves cast the box upon a rock where the Pharaoh's slave girls used to come for bathing and washing. When they saw the box they wanted to open it, but one of them said that if the box contained some valuable articles and they opened it, then the Pharaoh's wife would suspect that they had kept back some of these for themselves and nothing that they could say would satisfy her. Accordingly, they brought the box unopened to the Pharaoh's wife.When the Pharaoh's wife opened the box she found a boy and she instinctively felt a sudden surge of love for him - something which she had never experienced before. This was just as Allah Ta` ala had told him (وَأَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّي : And I have cast love on you from Myself). On the other hand, the mother of Sayyidna Musa (علیہ السلام) in a state of puzzle caused by the Shaitan forgot the promise made to her by Allah Ta` ala and was so overwhelmed by grief that all happiness forsook her heart leaving it an empty shell. وَأَصْبَحَ فُؤَادُ أُمِّ مُوسَىٰ فَارِغًا (And the heart of the mother of Musa became restless - 28:10). At the same time the Pharaoh's soldiers learnt about the presence of an Isra'ili boy in the palace and they rushed with knives in their hands, and asked the Pharaoh's wife to surrender the boy so that they could put him to death.Here Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ paused again and said, "0 Ibn Jubair! This was the second test (فُتُون) to which Sayyidna Musa (علیہ السلام) was exposed."The Pharaoh's wife remonstrated with the soldiers. "What?" She said, "Do you think this small and frail baby, if allowed to live, can ever increase the strength of Bani Isra'il? You wait here and I will go to the Pharaoh and plead for his life. I hope the Pharaoh will spare his life. If not, then I will not stand in your way and you can take him." Saying so, she went to the Pharaoh and said to him, "This child is the joy of my heart and yours also." The Pharaoh replied, "Yes, I know that he is the joy of your heart, but as for me, I do not need him."At this point of the story Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ quoted the Holy Prophet ﷺ as saying, I swear by Allah that if on that occasion the Pharaoh had also admitted to Sayyidna Musa (علیہ السلام) being the joy of his heart, as his wife did, Allah Ta’ ala would have guided him along the path of the True Faith as He guided his wife."(However, on account of his wife's urgent pleas the Pharaoh spared the life of the child). Now she needed a woman to nurse him. Many women offered their services but he would not suck from any of them وَحَرَّمْنَا عَلَيْهِ الْمَرَاضِعَ مِن قَبْلُ (And We had already barred him (Musa) from (accepting) any suckling woman - 28:12). The Pharaoh's wife was in a real predicament. How will the child live if he was not nursed? She sent him with her servants to the market place to find any woman whose milk he would draw.While these events were taking place in the Pharaoh's palace, the mother of Sayyidna Musa (علیہ السلام) was concerned by anguish at the fate of her son. She asked her daughter to go out and make inquiries about the box and the child that whether he was still alive or was he eaten up by the river animals. The promise which Allah had made to her when she was pregnant that he would protect her child and return him to her after a brief separation had completely escaped her memory. And then a miracle happened. As soon as the sister of Sayyidna Musa (علیہ السلام) came to the market place she met the Pharaoh's female servants who held Sayyidna Musa (علیہ السلام) in their arms and were looking for a woman who could nurse him. She also noticed that the child would not accept milk from any woman which caused them great anxiety and distress. So she said to them, "I can take you to a family where there is a woman whose milk, I hope, the child will accept and who will bring him up with great love and affection." Thereupon the servants held her on the suspicion that she was, perhaps, the mother or a close relation of the child and for that reason spoke with such a confidence that the proposed family is well-wisher of and sympathetic to this child.Here Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ stopped and told Ibn Jubair ؓ that this was the third test (فُتُون) (for the sister of Sayyidna Musa (علیہ السلام) was naturally frightened at being held like that but she kept her pose and told the servants that when she said that the family would love the child and serve him with devotion what she meant was that they would do so in the hope of getting access to the Pharaoh's court and thus obtaining some material benefit for themselves. This explanation satisfied the servants and they released her. She hurried back home and informed her mother of what had happened. Then both of them went to the market place where the servants stood with the baby. The mother took him in her arms and put him to her breast, and he sucked greedily until he was satiated. The Pharaoh's wife was overjoyed when she was informed that at last a woman had been found whose milk the child would take and ordered her to be brought to her. On arrival the mother of Sayyidna Musa (علیہ السلام) sensed that the Pharaoh's wife needed her and her services badly. At the same time she remembered Allah's promise to her that her son would be re-united to her after a brief separation. So she decided that she would offer her services on her own terms. The Pharaoh's wife told her that she was extremely fond of the child and could not bear parting from him for a moment. Therefore she should come and live in the palace and nurse the child. But Sayyidna Musa's (علیہ السلام) mother declined to do so. She said she had a child of her own who too had to be nursed and fed and therefore it was not possible for her to leave her home. However, if the child was entrusted to her care she would keep him with her and nurse him. She assured the Pharaoh's wife that if she agreed to her proposal no effort shall be wanting on her part to give him the best care and attention. There was no choice for the Pharaoh's wife and she accepted this arrangement. Thus the child was, re-united to his mother and Allah's promise to her was fulfilled.After some time when Sayyidna Musa (علیہ السلام) grew comparatively stronger, the Pharaoh's wife asked the mother of Musa (علیہ السلام) to bring the child to her so that she may see him (as she was longing for him). She also told all the courtiers that the child was coming to their home and they must show him due respect and offer him gifts. She warned them that she would watch what they would do with the child. So when Musa (علیہ السلام) came out with his mother from her home, he was showered with gifts and presents right from that moment. The Pharaoh's wife was delighted to see him and gave him many expensive presents on her own and delivered all these presents to the mother of Sayyidna Musa (علیہ السلام) . She then took him to the Pharaoh hoping that he too would give him presents. The Pharaoh took the child in his arms who suddenly clutched at his beard and pulled it causing his head to bow down. The courtiers were horrified and said to the Pharaoh: "We warned you about the promise of Allah to Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) that a prophet will be born in the tribe of Bani Isra'il who will inherit your Kingdom and your wealth and will defeat and overthrow you. You have seen with your own eyes the first signs of the fulfillment of Allah's promise". The Pharaoh took the warning and ordered his soldiers to put the child to death.Here Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ stopped again in his narration and said, "0 Ibn Jubair ؓ ! This is the fourth test (فُتُون) for Sayyidna Musa (علیہ السلام) where death seemed so near".The Pharaoh's wife at once came to the child's rescue and addressed her husband thus, "You have given this child to me. He is all mine. So what is all this fuss about?" The Pharaoh said, "Can't you see that by his action this child is warning me that one day he would overthrow me and deprive me of my Kingdom?" His wife replied, "I know a sure means of ascertaining whether his action was the action of an uninformed and innocent child or he deliberately intended to defy and challenge your authority. You order a servant to bring two trays. Put two live coals in one and two shining pearls in the other and place both the trays in front of the child. If he picks up the coal, that would be proof enough that he is totally unaware of the consequences of his action because nobody with any sense would put his hand in fire." The Pharaoh agreed to this test and when the two trays were placed before Sayyidna Musa (علیہ السلام) he picked up the coal. (However there is another tradition that he wanted to reach for the pearls but Jibra'il (علیہ السلام) guided his hand and placed it on the coal). When the Pharaoh saw this he snatched away the coal from the child's hand to save him from harm. Thus the Pharaoh's wife was proved right. She turned to him and said, "0 King! Now you know the truth." Thus Allah once again saved his life because He had chosen him for a very special mission.(And so Sayyidna Musa (علیہ السلام) continued to enjoy the favours of the Pharaoh and the great love of his mother until he grew to full manhood). Knowing in what esteem the royal family held him, the people of the Pharaoh did not dare to insult and torment Bani Isra'il as they used to do previously. One day he was out for a stroll in the city when he came across two persons who were quarrelling over some matter. One of them was a man of the Pharaoh and the other was an Isra'ili. The latter called out to Sayyidna Musa (علیہ السلام) to help him. Musa (علیہ السلام) got very angry at the Pharaoh's man. How dare he bully an Isra'ili in his presence knowing that he held a place of honour in the royal court, and also that he was full of sympathy for the Isra'ilies (on account of the harsh treatment to which they were constantly subjected by the Egyptians). People in general thought that his sympathy for the Isra'ilis was due to his being nursed and brought up by an Isra'ili woman. It is also possible that Allah Ta` ala may have informed him through his mother or by some other means that he himself was an Isra'ili and that the woman who had nursed him was in fact his own mother.Anyway, being in extreme anger, Sayyidna Musa (علیہ السلام) hit the Egyptian with such force that he died on the spot. There were no witnesses to this incident except the Isra'i1i, and Sayyidna Musa (علیہ السلام) was certain that he (the Isra'ili) would not inform against him.The Egyptian's death filled Sayyidna Musa علیہ السلام with remorse and he said, هَـٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِينٌ (This is some of Shaitan's act, He is indeed a clear enemy who misleads - 28:15). Then he prayed to Allah.رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَغَفَرَ لَهُ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ0 my Lord! I have wronged myself, so forgive me. So He forgave him. Indeed He is the Most-Forgiving, Very-Merciful - 28:16.After this incident Sayyidna Musa (علیہ السلام) made secret inquiries about the reaction of the Egyptian about the murder and whether the matter was reported to the Pharaoh. He learned that the report that was made to the Pharaoh merely said that an Isra'i1i had killed an Egyptian for which their tribe should make full retribution, and that no mercy should be shown to them.The Pharaoh asked them to apprehend the murderer and produce him with full proof of his guilt because although he was their own king he did not think it was right to punish someone without sufficient evidence. He assured them that if they produced the offender with sufficient proof of his guilt he would not be spared. Thereupon people went out in search of the murderer but found no clue which could lead them to him.The next day as Sayyidna Musa (علیہ السلام) carne out of his house he saw the same Isra'ili again fighting with an Egyptian. On seeing Sayyidna Musa (علیہ السلام) he again called to him for help. But Sayyidna Musa (علیہ السلام) who was full of remorse at what had happened the day before was very angry and blamed the Isra'ilie for picking up fights. However, he wanted to stop the man of Pharaoh from attacking the Isra'ili, and at the same time reproached the Isra'ili for being so quarrelsome. The Isra'ili, seeing Musa (علیہ السلام) in anger was frightened and feared that he would kill him too. So he called out, "0 Musa! Will you kill me too as you killed a man yesterday"?And so they parted, but the Egyptian hastened to inform the people who were on the lookout for the murderer that the Isra'ili himself had accused Sayyidna Musa (علیہ السلام) of having murdered a man the day before. The Pharaoh who was informed of this latest development at once sent his soldiers to apprehend Sayyidna Musa (علیہ السلام) and to execute him. The soldiers were confident that there was no way for Sayyidna Musa (علیہ السلام) to escape and therefore they took the main road of the city searching for him. Somehow a follower of Sayyidna Musa (علیہ السلام) who lived in a far flung area of the city got wind of the Pharaoh's order to kill him and managed to reach Musa علیہ السلام through smaller streets to warn him of the impending danger.At this point in his narration, Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ paused again and said, "0 Ibn Jubair! This was the fifth test (فُتُون) for Sayyidna Musa (علیہ السلام) when death had overcome him but Allah Ta` ala saved his life".Sayyidna Musa (علیہ السلام) at once left the city and headed for Madyan. All his life was spent in comfort and luxury and he had never undertaken a task involving physical exertion. He was also unfamiliar with the surrounding areas and the roads connecting them. But he had full faith in Allah عَسَىٰ رَبِّي أَن يَهْدِيَنِي سَوَاءَ السَّبِيلِ (I hope my Lord will guide me to the straight path - 28:22).As he approached Madyan, he stopped at a well where people had gathered and were drawing water for their animals. There he saw two girls standing away from the crowd with their goats. He asked them why they stood apart to which they replied that being unable to contend with men for water they were waiting until they had finished watering their animals and then, if any water was left, they would give it to their goats, Sayyidna Musa (علیہ السلام) was moved to pity for the girls and being physically a strong man he pushed forward and in no time he watered their goats. The girls went home with their herd and he sat under the shade of a tree and prayed: رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ (0 my Lord, I am in need of whatever good you may send down to me - 28:24). By this payer he sought Allah's help in providing him something to eat and a place to stay.Now when the girls returned home with their herd earlier than usual their father was surprised, but the girls told him how a kind man had helped them and watered their goats. The father asked one of the girls to bring the man home which she did, and when he heard the story of Sayyidna Musa (علیہ السلام) ، he said: ("Do not fear, you have escaped from the wrongdoing people." - 28:25).One of the girls suggested to her father to engage Sayyidna Musa (علیہ السلام) on wages and said يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ (Dear father, hire him; the best man you hire, is the one who is strong, trustworthy - 28:26). the father was disconcerted at her words and asked her how she knew, that he was strong and trust-worthy. The girl replied that she witnessed his strength when he pushed aside all the other shepherds and drew water for her goats. And she knew him to be trustworthy because when she went to bring him home he cast his eyes down and did not raise them until she had conveyed to him his invitation. Then he told her to follow him and to guide him to this place from behind. Only a person who is totally trustworthy would conduct himself in such a manner. The father (He was Sayyidna Shua'ib (علیہ السلام) ، a prophet of Allah), having being fully satisfied on this score, proposed to Sayyidna Musa (علیہ السلام) that if he would agree to work for him for eight years he would give the latter one of his daughters in marriage. He also said that he would like it if Sayyidna Musa (علیہ السلام) ، of his own free choice, worked for him for a further period of two years, but this would not be a condition for his marriage with his daughter. Sayyidna Musa علیہ السلام accepted these terms and ultimately, by Allah's command, rendered full ten years service to Sayyidna Shu'aib (علیہ السلام) .Sayyidna Said Ibn Jubair ؓ says, "Once a Christian scholar met me and asked me whether I knew how long Sayyidna Musa (علیہ السلام) worked for Sayyidna Shu'aib (علیہ السلام) . This was before Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ had narrated to me this Hadith. So I told him that I did not know the answer to his question. Afterwards when I met Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ and put the same question to him he informed me that Sayyidna Musa (علیہ السلام) was bound to do service for the contractual period of eight years which could not be reduced in any circumstances. Also, it was Allah's will that he should also serve the additional optional two years. Therefore, he did actually serve Sayyidna Shu'aib (علیہ السلام) for full ten years. Later, when I met the Christian scholar and gave him the information, he asked me whether the person from whom I learnt this was more knowledgeable than I was. I replied him in affirmative and told him that indeed he was a very learned person and the best among us".Having completed ten years of service with Sayyidna Shu'aib (علیہ السلام) Sayyidna Musa (علیہ السلام) departed from Madyan with his wife. He had chosen an unfrequented and unfamiliar route, and on a cold, dark night when he saw fire on the mount of Tur he went there to bring some for his wife. There he saw strange sights, was granted the miracles of the staff (عصا) and the bright hand (یدِ بَیضاء) and was also entrusted with the Mission of Prophethood. This story has been related by the Holy Qur'an in the preceding pages. At the mount of Tur he was also commanded by Allah to proceed to Egypt and place his message before the Pharaoh. He was anxious how he would discharge this duty when he has been declared by the royal court as an absconding offender and was under the sentence of death. Moreover, he recalled his stammer. So he prayed to Allah to remove these impediments. In response to his prayer Allah appointed his brother Haran (علیہ السلام) to share his prophethood and through a revelation commanded the latter to receive him before he entered Egypt. The two brothers met and as commanded by Allah both of them went to the Pharaoh's court to invite him to accept the True Faith. After a while they were admitted to his presence after passing through several stages. They said to him: إِنَّا رَسُولَا رَبِّكَ "We are the messengers of your Lord". The Pharaoh asked them فَمَن رَّبُّكُمَا (Who then is the Lord of you two? - 20:49).Their reply to this question has been reported in the Qur'an itself.(جاری ہے)
Pharaoh ordered all male Israelite infants killed. Allah inspired Musa's mother to place him in a basket on the Nile (28:7). The basket was found by Pharaoh's household, and Pharaoh's wife pleaded to adopt the infant. Musa's sister followed and arranged for him to be nursed by his own mother — paid by Pharaoh's household. This divine orchestration, preserved in Quran 28:7-13, shows Allah's ability to protect the destined prophet within the enemy's own palace.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.