Surah Taha • Ayah 2
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Which was revealed at Makkahبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِIn the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.The Qur'an is a Reminder and a Revelation from AllahWe have already discussed the separated letters at the beginning of Surah Al-Baqarah, so there is no need to repeat its discussion here. Allah says,مَآ أَنَزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْءَانَ لِتَشْقَى(We have not sent down the Qur'an unto you to cause you distress,) Juwaybir reported that Ad-Dahhak said, "When Allah sent the Qur'an down to His Messenger , he and his Companions adh- ered to it. Thus, the idolators of the Quraysh said, `This Qur'an was only reve- aled to Muhammad to cause him distress.' Therefore, Allah revealed,طه - مَآ أَنَزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْءَانَ لِتَشْقَى - إِلاَّ تَذْكِرَةً لِّمَن يَخْشَى(Ta Ha. We have not sent down the Qur'an unto you to cause you distress, but only as a Reminder to those who fear (Allah).) The matter is not like the people of falsehood claim. Rather, whomever Allah gives knowledge to, it is because Allah wants him to have an abundance of good. This like what is confirmed in the Two Sahihs on the authority of Ibn Mas`ud, who said that the Messenger of Allah ﷺ said,«مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّين»(Whomever Allah wants good for, then He gives him the understanding of the religion. ) Mujahid commented on Allah's statement,مَآ أَنَزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْءَانَ لِتَشْقَى(We have not sent down the Qur'an unto you to cause you distress,) "This is like His statement,مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ وَأَقِيمُواْ(So recite as much of the Qur'an as may be easy (for you).) 73:20 For, the people used to hang ropes at their chests (to hang on to when tired) in the prayer." Qatadah said,مَآ أَنَزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْءَانَ لِتَشْقَى(We have not sent down the Qur'an unto you to cause you distress,) "No, by Allah, He did not make it a thing of distress. Rather, He made it a mercy, a light and a guide to Paradise." Allah said,إِلاَّ تَذْكِرَةً لِّمَن يَخْشَى(But only as a Reminder to those who fear (Allah).) Allah revealed His Book and sent His Messenger as a mercy for His servants, so that the person who reflects may be reminded. Thus, a man will benefit from what he hears of the Book of Allah, it is a remembrance in which Allah revealed what He permits and prohibits. His saying,تَنزِيلاً مِّمَّنْ خَلَق الاٌّرْضَ وَالسَّمَـوَتِ الْعُلَى(A Revelation from Him (Allah) Who has created the earth and high heavens. ) means, `This Qur'an, which has come to you, O Muhammad, is a revelation from your Lord. He is the Lord of everything and its King. He is Most Able to do whatever He wills. He created the earth with its low depths and dense regions. He created the lofty heavens with their high altitudes and subtleties.' It has been reported in a Hadith, which At-Tirmidhi and others graded as authentic, that the density of each sky of the heavens is the distance of five hundred years travel and the distance between it and the next heaven is also five hundred years. Concerning Allah's statement,الرَّحْمَـنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى(The Most Gracious Istawa the Throne.) A discussion concerning this has already preceded in Surat Al-A`raf, so there is no need to repeat it here. The safest path to take in understanding this, is the way of the Salaf (predecessors). Their way was to accept that which has been reported concerning this from the Book and the Sunnah without describing it, reinterpreting it, resembling it to creation, rejecting it, or comparing it to attributes of the creatures. Concerning Allah's statement,لَهُ مَا فِي السَّمَـوَتِ وَمَا فِي الاٌّرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَمَا تَحْتَ الثَّرَى(To Him belongs all that is in the heavens and all that is on the earth, and all that is between them, and all that is under the soil.) This means all of this is owned by Him and in His grasp. It is all under His control, will, intent and judgement. He created all of this, He owns it and He is the God of all of it. There is no true God other than He and no Lord other than He. Concerning Allah's statement,وَمَا تَحْتَ الثَّرَى(and all that is under the soil.) Muhammad bin Ka`b said, "This means that which is beneath the seventh earth." Concerning Allah's statement,وَإِن تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَإِنَّهُ يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى(And if you speak aloud, then verily, He knows the secret and that which is yet more hidden.) This means that He Who revealed this Qur'an, has also created the high heavens and the earth and He knows that which is secret and what is even more hidden. As Allah says,قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِى يَعْلَمُ السِّرَّ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ إِنَّهُ كَانَ غَفُوراً رَّحِيماً(Say: "It has been sent down by Him Who knows the secret of the heavens and the earth. Truly, He is Oft-Forgiving, Most Merciful.") 25:6 `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said,يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى(He knows the secret and that which is yet more hidden.) "The secret is what the son of Adam hides within himself, andوَأَخْفَى(that which is yet more hidden. ) is the deeds of the son of Adam, which are hidden before he does them. Allah knows all of that. His knowledge encompasses that which has passed and that which is in the future and it is one, complete knowledge. In this regard, all of the creatures are as one soul to Him. That is the meaning of His statement,مَّا خَلْقُكُمْ وَلاَ بَعْثُكُمْ إِلاَّ كَنَفْسٍ وَحِدَةٍ(The creation of you all and the resurrection of you all are only as a single person.) 31:28 Concerning Allah's statement,اللَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ لَهُ الاٌّسْمَآءُ الْحُسْنَى(Allah! There is no God but Him! To Him belongs the Best Names.) This means, `He Who revealed this Qur'an to you (O Muhammad), He is Allah, there is no God except Him. He is the Owner of the Best Names and the most lofty attributes.'
تفسیر سورۃ طہ:امام الائمہ محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب التوحید میں حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پیدائش سے ایک ہزار سال پہلے سورۃ طہ اور سورۃ یاسین کی تلاوت فرمائی، جسے سن کر فرشتے کہنے لگے وہ امت بہت ہی خوش نصیب ہے جس پر یہ کلام نزل ہو گا۔ وہ زبانیں یقیناً مستحق مبارکباد ہیں جن سے کلام اللہ کے یہ الفاظ ادا ہوں گے۔ [بیهقی فی شعب الایمان:476/2:ضعیف و موضوع] یہ روایت غریب ہے اور اس میں نکارت بھی ہے اور اس کے راوی ابراہیم بن مہاجر اور ان کے استاد پر جرح بھی ہے۔علم قرآن سب سے بڑی دولت ہے ٭٭سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں سورتوں کے اول حروف مقطعات کی تفسیر پوری طرح بیان ہو چکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ گو یہ بھی مروی ہے کہ مراد طہٰ سے اے شخص ہے، کہتے ہیں کہ یہ نبطی کلمہ ہے۔ کوئی کہتا ہے معرب ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ایک پاؤں زمین پر ٹکاتے اور دوسرا اٹھا لیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ [ضعیف:اس کی سند میں ابو جعفر راوی ضعیف ہے] یعنی طہٰ یعنی زمین پر دونوں پاؤں ٹکا دیا کر۔ ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لیے نہیں اتارا کہ تجھے مشقت و تکلیف میں ڈال دیں۔ کہتے ہیں کہ جب قرآن پر عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے شروع کر دیا تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ لوگ تو اچھی خاصی مصیبت میں پڑ گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ یہ پاک قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنے کو نہیں اترا بلکہ یہ نیکوں کے لیے عبرت ہے، یہ الہامی علم ہے۔ جسے یہ ملا اسے بہت بڑی دولت مل گئی۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ جس کے ساتھ اللہ کا ارادہ بھلائی کا ہو جاتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ [صحیح بخاری:71] صفحہ نمبر5176حافظ ابوالقاسم طبرانی رحمتہ اللہ علیہ ایک مرفوع صحیح حدیث لائے ہیں کہ قیامت کے دن جب کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے فرمانے کے لیے اپنی کرسی پر اجلاس فرمائے گا تو علماء سے فرمائے گا کہ میں نے اپنا علم اور اپنی حکمت تمہیں اسی لیے عطا فرمائی تھی کہ تمہارے تمام گناہوں کو بخش دوں اور کچھ پرواہ نہ کروں کہ تم نے کیا کیا ہے؟ [طبرانی کبیر:1381:ضعیف] پہلے لوگ اللہ کی عبادت کے وقت اپنے آپ کو رسیوں میں لٹکا لیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مشقت اپنے اس کلام پاک کے ذریعہ آسان کر دی اور فرما دیا کہ یہ قرآن تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا جیسے فرمان ہے، «فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ» [73-المزمل:20] ” جس قدر آسانی سے پڑھا جائے پڑھ لیا کرو “ یہ قرآن شقاوت اور بدبختی کی چیز نہیں بلکہ رحمت و نور اور دلیل جنت ہے۔ یہ قرآن نیک لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں خوف الٰہی ہے، تذکرہ وعظ و ہدایت و رحمت ہے۔ اسے سن کر اللہ کے نیک انجام بندے حلال حرام سے واقف ہو جاتے ہیں اور اپنے دونوں جہان سنوار لیتے ہیں۔ یہ قرآن تیرے رب کا کلام ہے اسی کی طرف سے نازل شدہ ہے جو ہرچیز کا خالق مالک رازق قادر ہے۔ جس نے زمین کو نیچی اور کثیف بنایا ہے اور جس نے آسمان کو اونچا اور لطیف بنایا ہے۔ ترمذی وغیرہ کی صحیح حدیث میں ہے کہ ہر آسمان کی موٹائی پانچ سو سال کی راہ ہے اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک کا فاصلہ بھی پانچ سو سال کا ہے۔ [سنن ترمذي:3298،قال الشيخ الألباني:ضعیف] صفحہ نمبر5177حضرت عباس رضی اللہ عنہ والی حدیث امام ابن ابی حاتم نے اسی آیت کی تفسیر میں وارد کی ہے۔ وہ رحمان اپنے عرش پر مستوی ہے اس کی پوری تفسیر سورۃ الاعراف میں گزر چکی ہے یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ سلامتی والا طریقہ یہی ہے کہ آیات و احادیث صفات کو بطریق سلف صالحین ان کے ظاہری الفاظ کے مطابق ہی مانا جائے بغیر کیفیت طلبی کے اور بغیر تحریف و تشبیہ اور تعطیل و تمثیل کے۔ تمام چیزیں اللہ کی ہی ملک ہیں۔ اسی کے قبضے اور ارادے اور چاہت تلے ہیں۔ وہی سب کا خالق، مالک، الٰہ اور رب ہے کسی کو اس کے ساتھ کسی طرح کی شرکت نہیں۔ ساتویں زمین کے نیچے بھی جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں اس زمین کے نیچے پانی ہے پانی کے نیچے پھر زمین ہے پھر اس کے نیچے پانی ہے اسی طرح مسلسل، پھر اس کے نیچے ایک پتھر ہے اس کے نیچے ایک فرشتہ ہے اس کے نیچے ایک مچھلی ہے، جس کے دونوں بازو عرش تک ہیں۔ اس کے نیچے ہوا، خلا اور ظلمت ہے یہیں تک انسان کا علم ہے باقی اللہ جانے۔صفحہ نمبر5178حدیث میں ہے ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ سب سے اوپر کی زمین مچھلی کی پشت پر ہے جس کے دونوں بازوں آسمان سے ملے ہوئے ہیں، یہ مچھلی ایک پتھر پر ہے، وہ پتھر فرشتے کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری زمین ہواؤں کا خزانہ ہے۔ تیسری میں جہنم کے پتھر ہیں، چوتھی میں جہنم کی گندھک ہے، پانچویں میں جہنم کے سانپ ہیں، چھٹی میں جہنمی بچھو ہیں۔ ساتویں میں دوزخ ہے وہیں ابلیس جکڑا ہوا ہے ایک ہاتھ آگے ہے ایک پیچھے ہے، جب اللہ چاہتا ہے اسے چھوڑ دیتا ہے۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کا فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونا بھی غور طلب ہے۔ [مستدرک حاکم:594/4:ضعیف] مسند ابویعلیٰ میں ہے، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں، ہم غزوہ تبوک سے لوٹ رہے تھے گرمی سخت تڑاخے کی پڑ رہی تھی دو دو چار چار آدمی منتشر ہو کر چل رہے تھے، میں لشکر کے شروع میں تھا، اچانک ایک شخص آیا اور سلام کر کے پوچھنے لگا، تم میں سے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کون ہیں؟۔ میں اس کے ساتھ ہو گیا میرے ساتھی آگے بڑھ گئے۔ جب لشکر کے درمیان کا حصہ آیا تو اسی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، میں نے اسے بتلایا کہ یہ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ رنگ کی اونٹنی پر سوار ہیں سر پر بوجہ دھوپ کے کپڑا ڈالے ہوئے ہیں، وہ آپ کی سواری کے پاس گیا اور نکیل تھام کر عرض کرنے لگا کہ آپ ہی محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں، اس نے کہا، میں چند باتیں آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں جنہیں زمین والوں میں سے بجز ایک دو آدمیوں کے اور کوئی نہیں جانتا۔ صفحہ نمبر5179 آپ نے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو۔ اس نے کہا بتائیے انبیاء اللہ سوتے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا ان کی آنکھیں سو جاتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ اس نے کہا بجا ارشاد ہوا۔ اب یہ فرمائیے کہ کیا وجہ ہے کہ بچہ کبھی تو باپ کی شباہت پر ہوتا ہے کبھی ماں کی؟ آپ نے فرمایا سنو مرد کا پانی سفید اور غلیظ ہے اور عورت کا پانی پتلا ہے جو پانی غالب آگیا اسی پر شبیہ جاتی ہے۔ اس نے کہا یہ بھی بجا ارشاد فرمایا۔ اچھا یہ بھی فرمائیے کہ بچے کے کون سے اعضاء مرد کے پانی سے بنتے ہیں اور کون سے عورت کے پانی سے؟ فرمایا مرد کے پانی سے ہڈیاں، رگ اور پٹھے اور عورت کے پانی سے گوشت، خون اور بال۔ اس نے کہا یہ بھی صحیح جواب ملا۔ اچھا یہ بتلائیے کہ اس زمین کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا ایک مخلوق ہے۔ کہا ان کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا زمین۔ کہا اس کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا پانی۔ کہا پانی کے نیچے کیا ہے؟ فرمایا اندھیرا۔ کہا اس کے نیچے؟ فرمایا ہوا۔ کہا ہوا کے نیچے؟ فرمایا تر مٹی۔ کہا اس کے نیچے؟ آپ کے آنسو نکل آئے اور ارشاد فرمایا کہ مخلوق کا علم تو یہیں تک پہنچ کر ختم ہو گیا۔ اب خالق کو ہی اس کے آگے کا علم ہے۔ اے سوال کرنے والے اس کی بابت تو جس سے سوال کر رہا ہے وہ تجھ سے زیادہ جاننے والا نہیں۔ اس نے آپ کی صداقت کی گواہی دی۔ آپ نے فرمایا اسے پہچانا بھی؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول کو ہی پورا علم ہے آپ نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف جداً] یہ حدیث بھی بہت ہی غریب ہے اور اس میں جو واقعہ ہے، بڑا ہی عجیب ہے اس کے راویوں میں قاسم بن عبدالرحمٰن کا تفرد ہے جنہیں امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ کسی چیز کے برابر نہیں۔ امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ بھی انہیں ضعیف کہتے ہیں۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ معروف شخص نہیں اور اس حدیث میں خلط ملط کر دیا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ جان بوجھ کر ایسا کیا ہے یا ایسی ہی کسی سے لی ہے۔ اللہ وہ ہے جو ظاہر و باطن، اونچی نیچی، چھوٹی بڑی سب کچھ جانتا ہے۔صفحہ نمبر5180جیسے فرمان ہے «قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [25-الفرقان:6] ” اعلان کر دے کہ اس قرآن کو اس نے نازل فرمایا ہے جو آسمان و زمین کے اسرار سے واقف ہے جو غفور و رحیم ہے۔ “ ابن آدم خود جو چھپائے اور جو اس پر خود پر بھی چھپا ہوا ہو اللہ تعالیٰ کے پاس کھلا ہوا ہے۔ اس کے عمل کو اس کے علم سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ تمام گزشتہ موجودہ اور آئندہ مخلوق کا علم اس کے پاس ایسا ہی ہے جیسا ایک شخص کا علم۔ سب کی پیدائش اور مار کر جلانا بھی اس کے نزدیک ایک شخص کی پیدائش اور اس کی موت کے بعد کی دوسری بار کی زندگی کے مثل ہے۔ تیرے دل کے خیالات کو اور جو خیالات نہیں آتے ان کو بھی وہ جانتا ہے۔ تجھے زیادہ سے زیادہ آج کے پوشیدہ اعمال کی خبر ہے اور اسے تو تم کل کیا چھپاؤ گے ان کا بھی علم ہے۔ ارادے ہی نہیں بلکہ وسوسے بھی اس پر ظاہر ہیں۔ کئے ہوئے عمل اور جو کرے گا وہ عمل بھی اس پر ظاہر ہیں۔ وہی معبود برحق ہے اعلیٰ صفتیں اور بہترین نام اسی کے ہیں۔ سورۃ الاعراف کی تفسیر کے آخر میں اسماء حسنی کے متعلق حدیثیں گزر چکی ہیں۔صفحہ نمبر5181
آیت 2 مَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْآٰی ” آپ ﷺ کی ذمہ داری صرف پیغام پہنچا دینے کی حد تک ہے۔ اب اگر یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے تو آپ ﷺ ان کے پیچھے خود کو ہلکان نہ کریں۔ یہی مضمون اس سے پہلے سورة الکہف میں اس طرح آچکا ہے : فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ عَآٰی اٰثَارِہِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِہٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا ”تو اے نبی ﷺ ! آپ شاید اپنے آپ کو غم سے ہلاک کرلیں گے ان کے پیچھے ‘ اگر وہ ایمان نہ لائے اس بات قرآن پر“۔ سورة الشعراء میں بھی فرمایا گیا : لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ ”شاید کہ آپ ﷺ ہلاک کر ڈالیں اپنے آپ کو اس وجہ سے کہ وہ ایمان نہیں لا رہے“۔ بہر حال یہ تو اس آیت کا وہ ترجمہ اور مفہوم ہے جو عمومی طور پر اختیار کیا گیا ہے ‘ لیکن میرے نزدیک اس کا زیادہ بہتر مفہوم یہ ہے کہ اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ پر یہ قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ ﷺ ناکام ہوں۔ اس لیے کہ شَقِیَ یَشْقٰی کے معنی ناکام و نامراد ہونے کے ہیں۔عربی زبان کے بہت سے مادے ایسے ہیں جن کے حروف کی آپس میں مشابہت پائی جاتی ہے۔ مثلاً ”رب ب“ مادہ سے رَبَّ یَرُبُّ کا معنی ہے : مالک ہونا ‘ انتظام کرنا۔ اس سے لفظ ”رب“ بنا ہے۔ ”ر ب و“ سے رَبَا یَرْبُوْ رَبْوًاکا مفہوم ہے : مال زیادہ ہونا ‘ بڑھنا۔ اس سے ربا سود مستعمل ہے۔ جبکہ ”ر ب ی“ سے رَبّٰی یُرَبِّیْ تَرْبِیَۃً کا معنی و مراد ہے : پرورش کرنا ‘ نشوونما دینا۔ ان مادوں کے معنی اگرچہ الگ الگ ہیں مگر حروف کے اشتراک کی وجہ سے ان میں بہت مشابہت پائی جاتی ہے۔ اسی طرح ”ش ق ی“ اور ”ش ق ق“ بھی دو مختلف المعانی لیکن باہم مشابہ مادے ہیں۔ ایسے مشابہ مادوں سے مشتق اکثر اسماء و افعال بھی باہم مشابہ ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے بہت سے الفاظ ذو معنی بھی قرار پاتے ہیں۔ چناچہ تَشْقٰی کو اگر ”ش ق ق“ سے مشتق مانا جائے تو اس کے معنی مشقت اور محنت کے ہوں گے اور اگر اس کا تعلق ”ش ق ی“ سے تسلیم کیا جائے تو معنی ناکامی و نامرادی کے ہوں گے۔ یہاں اگر اس لفظ کا دوسرا ترجمہ مراد لیا جائے تو یہ آیت حضور ﷺ کے لیے گویا ایک بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اے نبی ﷺ یہ قرآن قول فیصل بن کر نازل ہوا ہے ‘ لہٰذا آپ ﷺ کے اس مشن میں ناکامی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ عنقریب کامیابی آپ ﷺ کے قدم چومے گی۔
مَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَىٰ (We did not reveal the Qur'an to you to [ make you ] face hardship - 20:2) The word لِتَشْقَىٰ is derived from شقاء which means pain and distress. In the early days of Islam when the Qur'an was first revealed, the Holy Prophet ﷺ and his Companions ؓ used to spend whole nights in prayers and in reciting the Qur'an, as a result of which his feet used to get swollen due to standing for long hours in the prayers. Whereas during day time he would worry himself on how to bring light to the infidels in order that they should accept the teachings of the Qur’ an. This verse seeks to lessen the burden of long hours of prayers by informing the Holy Prophet ﷺ that the Qur’ an was not revealed to inflict toil and hardship on him and that it was not expected of him to stay awake the whole night reciting the Qur'an. Thereafter, the Holy Prophet ﷺ adopted a routine by which he rested in the early hours of the night and would get up later to offer the salah of tahajjud.This verse also suggests that the duty of the Holy Prophet ﷺ is merely to convey the Message of Allah Ta` ala to the unbelievers, and thereafter he need not concern himself as to who accepted the Message and who did not.
Umar ibn al-Khattab initially was one of the strongest opponents of Islam. His conversion came when he was on his way to kill the Prophet (ﷺ) and was told his sister had accepted Islam. He went to her house, heard Quran being recited (Surah Ta-Ha), and was profoundly moved. He went directly to the Prophet's gathering and embraced Islam. His conversion doubled the strength of the Muslim community and they began praying openly at the Kaaba.
Umar ibn al-Khattab (RA) initially opposed Islam fiercely. One day, intending to kill the Prophet, he was told his own sister Fatimah had become Muslim. He went to her house, struck her in anger, then read a page of Surah Ta-Ha that had fallen to the ground and was so moved that he rushed to the Prophet and declared Islam. His conversion strengthened the Muslim community enormously.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.