The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-Baqarah • Ayah 75

Para 1 Surah 2 : 75
۞ أَفَتَطْمَعُونَ أَن يُؤْمِنُوا۟ لَكُمْ وَقَدْ كَانَ فَرِيقٌ مِّنْهُمْ يَسْمَعُونَ كَلَـٰمَ ٱللَّهِ ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُۥ مِنۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوهُ وَهُمْ يَعْلَمُونَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

۞
أَفَتَطْمَعُونَ
أَن
يُؤْمِنُوا۟
لَكُمْ
وَقَدْ
كَانَ
فَرِيقٌ
مِّنْهُمْ
يَسْمَعُونَ
كَلَـٰمَ
ٱللَّهِ
ثُمَّ
يُحَرِّفُونَهُۥ
مِنۢ
بَعْدِ
مَا
عَقَلُوهُ
وَهُمْ
يَعْلَمُونَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

There was little Hope that the Jews Who lived during the Time of the Prophet could have believedAllah said,أَفَتَطْمَعُونَ(Do you covet) O believers,أَن يُؤْمِنُواْ لَكُمْ(That they will believe in your religion) meaning, that these people would obey you They are the deviant sect of Jews whose fathers witnessed the clear signs but their hearts became hard afterwards. Allah said next,وَقَدْ كَانَ فَرِيقٌ مِّنْهُمْ يَسْمَعُونَ كَلَـمَ اللَّهِ ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُ(Inspite of the fact that a party of them (Jewish rabbis) used to hear the Word of Allah (the Tawrah), then they used to change it) meaning, distort its meaning,مِن بَعْدِ مَا عَقَلُوهُ(after they understood it). They understood well, yet they used to defy the truth,وَهُمْ يَعْلَمُونَ(knowingly), being fully aware of their erroneous interpretations and corruption. This statement is similar to Allah's statement,فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَـقَهُمْ لَعنَّـهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَةً يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَن مَّوَضِعِهِ(So, because of their violation of their covenant, We cursed them and made their hearts grow hard. They change the words from their (right) places) (5:13).Qatadah commented that Allah's statement;ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُ مِن بَعْدِ مَا عَقَلُوهُ وَهُمْ يَعْلَمُونَ(Then they used to change it knowingly after they understood it) "They are the Jews who used to hear Allah's Words and then alter them after they understood and comprehended them." Also, Mujahid said, "Those who used to alter it and conceal its truths; they were their scholars." Also, Ibn Wahb said that Ibn Zayd commented,يَسْمَعُونَ كَلَـمَ اللَّهِ ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُ(used to hear the Word of Allah (the Tawrah), then they used to change it) "They altered the Tawrah that Allah revealed to them, making it say that the lawful is unlawful and the prohibited is allowed, and that what is right is false and that what is false is right. So when a person seeking the truth comes to them with a bribe, they judge his case by the Book of Allah, but when a person comes to them seeking to do evil with a bribe, they take out the other (distorted) book, in which it is stated that he is in the right. When someone comes to them who is not seeking what is right, nor offering them bribe, then they enjoin righteousness on him. This is why Allah said to them,أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَكُمْ وَأَنتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَـبَ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ(Enjoin you Al-Birr (piety and righteousness and every act of obedience to Allah) on the people and you forget (to practise it) yourselves, while you recite the Scripture (the Tawrah)! Have you then no sense) (2:44)"The Jews knew the Truth of the Prophet , but disbelieved in HimAllah said next,وَإِذَا لَقُواْ الَّذِينَ ءَامَنُواْ قَالُواْ ءَامَنَّا وَإِذَا خَلاَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ(And when they (Jews) meet those who believe (Muslims), they say, "We believe", but when they meet one another in private..). Muhammad bin Ishaq reported that Ibn `Abbas commented,وَإِذَا لَقُواْ الَّذِينَ ءَامَنُواْ قَالُوا ءَامَنَّا(And when they (Jews) meet those who believe (Muslims), they say, "We believe") "They believe that Muhammad ﷺ is the Messenger of Allah, `But he was only sent for you (Arabs)"' However, when they meet each other they say, "Do not convey the news about this Prophet to the Arabs, because you used to ask Allah to grant you victory over them when he came, but he was sent to them (not to you)." Allah then revealed,وَإِذَا لَقُواْ الَّذِينَ ءَامَنُواْ قَالُواْ ءَامَنَّا وَإِذَا خَلاَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ قَالُواْ أَتُحَدِّثُونَهُم بِمَا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ لِيُحَآجُّوكُم بِهِ عِندَ رَبِّكُمْ(And when they (Jews) meet those who believe (Muslims), they say, "We believe," but when they meet one another in private, they say, "Shall you (Jews) tell them (Muslims) what Allah has revealed to you, that they (Muslims) may argue with you (Jews) about it before your Lord") meaning, "If you admit to them that he is a Prophet, knowing that Allah took the covenant from you to follow him, they will know that Muhammad ﷺ is the Prophet that we were waiting for and whose coming we find foretold of in our Book. Therefore, do not believe in him and deny him." Allah said,أَوَلاَ يَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ(Know they (Jews) not that Allah knows what they conceal and what they reveal).Al-Hasan Al-Basri said, "When the Jews met the believers they used to say, `We believe.' When they met each other, some of them would say, `Do not talk to the companions of Muhammad ﷺ about what Allah has foretold in your Book, so that the news (that Muhammad ﷺ is the Final Messenger) does not become a proof for them against you with your Lord, and, thus, you will win the dispute."' Further, Abu Al-`Aliyah said about Allah's statement,أَوَلاَ يَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ(Know they (Jews) not that Allah knows what they conceal and what they reveal), "Meaning their secret denial and rejection of Muhammad ﷺ, although they find his coming recorded in their Book." This is also the Tafsir of Qatadah. Al-Hasan commented on,أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ(That Allah knows what they conceal), "What they concealed refers to when they were alone with each other away from the Companions of Muhammad ﷺ . Then they would forbid each other from conveying the news that Allah revealed to them in their Book to the Companions of Muhammad ﷺ, fearing that the Companions would use this news (about the truth of Muhammad ) against them before their Lord."وَمَا يُعْلِنُونَ(And what they reveal) meaning, when they said to the Companions of Muhammad ﷺ,ءَامَنَّا(We believe), as Abu Al-`Aliyah, Ar-Rabi` and Qatadah stated.وَمِنْهُمْ أُمِّيُّونَ لاَ يَعْلَمُونَ الْكِتَـبَ إِلاَّ أَمَانِىَّ وَإِنْ هُمْ إِلاَّ يَظُنُّونَ

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

یہودی کردار کا تجزیہ ٭٭اس گمراہ قوم یہود کے ایمان سے اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو ناامید کر رہے ہیں جب ان لوگوں نے اتنی بڑی نشانیاں دیکھ کر بھی اپنے دل سخت پتھر جیسے بنا لیے اللہ تعالیٰ کے کلام کو سن کر سمجھ کر پھر بھی اس کی تحریف اور تبدیلی کر ڈالی تو ان سے تم کیا امید رکھتے ہو؟ ٹھیک اس آیت کی طرح اور جگہ فرمایا «فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِـيَةً» [ 5۔ المائدہ: 13 ] ‏ یعنی ” ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دل سخت کر دئے یہ اللہ کے کلام کو رد و بدل کر ڈالا کرتے تھے “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہاں اللہ تعالیٰ نے کلام اللہ سننے کو فرمایا اس سے مراد موسیٰ علیہ السلام کے صحابیوں کی وہ جماعت ہے جنہوں نے آپ علیہ السلام سے اللہ کا کلام اپنے کانوں سے سننے کی درخواست کی تھی اور جب وہ پاک صاف ہو کر روزہ رکھ کر موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ طور پہاڑ پر پہنچ کر سجدے میں گر پڑے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا کلام سنایا جب یہ واپس آئے اور نبی اللہ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا یہ کلام بنی اسرائیل میں بیان کرنا شروع کیا تو ان لوگوں نے اس کی تحریف اور تبدیلی شروع کر دی۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان لوگوں نے توراۃ میں تحریف کی تھی یہی عام معنی ٹھیک ہیں جس میں وہ لوگ بھی شامل ہو جائیں گے اور اس بدخصلت والے دوسرے یہودی بھی۔ قرآن میں ہے «فَأَجِرْهُ حَتَّىٰ يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّـهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ» [ 9-التوبہ-69 ] ‏ یعنی ” مشرکوں میں سے کوئی اگر تجھ سے پناہ طلب کرے تو تو اسے پناہ دے یہاں تک کہ وہ کلام اللہ سن لے “۔ تو اس سے یہ مراد نہیں کہ اللہ کا کلام اپنے کانوں سے سنے بلکہ قرآن سنے تو یہاں بھی کلام اللہ سے مراد توراۃ ہے۔ یہ تحریف کرنے والے اور چھپانے والے ان کے علماء تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:245/2] ‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جو اوصاف ان کی کتاب میں تھے ان سب میں انہوں نے تاویلیں کر کے اصل مطلب دور کر دیا تھا اسی طرح حلال کو حرام، حرام کو حلال، حق کو باطل، باطل کو حق لکھ دیا کرتے تھے۔ رشوتیں لینی اور غلط مسائل بتانے کی عادت ڈال لی تھی ہاں کبھی کبھی جب رشوت ملنے کا امکان نہ ہوتا، ریاست جانے کا خوف نہ ہوتا، مریدوں سے الگ ہوتے تو حق بات بھی کہہ دیا کرتے تھے۔ مسلمانوں سے ملتے تو کہہ دیا کرتے کہ تمہارے نبی علیہ السلام سچے ہیں۔ یہ برحق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:250/2] ‏ لیکن پھر آپس میں بیٹھ کر کہتے، عربوں سے یہ باتیں کیوں کہتے ہو۔ پھر تو یہ تم پر چھا جائیں گے۔ اللہ کے ہاں بھی تمہیں لاجواب کر دیں گے۔ تو ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان بیوقوفوں کو اتنا علم نہیں کہ ہم پوشیدہ اور ظاہر سب جانتے ہیں۔صفحہ نمبر344ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مدینہ میں ہمارے پاس سوائے ایمان والوں کے اور کوئی نہ آئے۔‏“ تو ان کافروں اور یہودیوں نے کہا کہ جاؤ کہہ دو ہم بھی ایمان لاتے ہیں اور جب یہاں آؤ تو ویسے ہی رہے جیسے تھے۔ پس یہ لوگ صبح آ کر ایمان کا دعویٰ کرتے تھے اور شام کو جا کر کفار میں شامل ہو جاتے تھے۔ قرآن میں ہے «وَقَالَتْ طَّاىِٕفَةٌ مِّنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِيْٓ اُنْزِلَ عَلَي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُوْٓا اٰخِرَهٗ لَعَلَّھُمْ يَرْجِعُوْنَ» [ 3۔ آل عمران: 72 ] ‏ یعنی ” اہل کتاب کی ایک جماعت نے کہا ایمان والوں پر جو اترا ہے اس پر دن کے شروع حصہ میں ایمان لاؤ پھر آخر میں کفر کرو تاکہ خود ایمان والے بھی اس دین سے پھر جائیں “۔ یہ لوگ اس فریب سے یہاں کے راز معلوم کرنا اور انہیں اپنے والوں کو بتانا چاہتے تھے اور مسلمانوں کو بھی گمراہ کرنا چاہتے تھے مگر ان کی یہ چالاکی نہ چلی اور یہ راز اللہ نے کھول دیا جب یہ یہاں ہوتے اور اپنا ایمان اسلام و ظاہر کرتے تو صحابہ ان سے پوچھتے کیا تمہاری کتاب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت وغیرہ نہیں؟ وہ اقرار کرتے۔ جب اپنے بڑوں کے پاس جاتے تو وہ انہیں ڈانٹتے اور کہتے اپنی باتیں ان سے کہہ کر کیوں ان کی اپنی مخالفت کے ہاتھوں میں ہتھیار دے رہے ہو؟ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریظہ والے دن یہودیوں کے قلعہ تلے کھڑے ہو کر فرمایا اے بندر اور خنزیر اور طاغوت کے عابدوں کے بھائیو! تو وہ آپس میں کہنے لگے یہ ہمارے گھر کی باتیں انہیں کس نے بتا دیں خبردار اپنی آپس کی خبریں انہیں نہ دو ورنہ انہیں اللہ کے سامنے تمہارے خلاف دلائل میسر آ جائیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:1348:مرسل] ‏ اب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ گو تم چھپاؤ لیکن مجھ سے تو کوئی چیز چھپ نہیں سکتی تم جو چپکے چپکے اپنوں سے کہتے ہو کہ اپنی باتیں ان تک نہ پہنچاؤ اور اپنی کتاب کی باتیں کو چھپاتے ہو تو میں تمہارے اس برے کام سے بخوبی آگاہ ہوں۔ تم جو اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہو۔ تمہارے اس اعلان کی حقیقت کا علم بھی مجھے اچھی طرح ہے۔صفحہ نمبر345

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

اب تک ہم نے سورة البقرۃ کے آٹھ رکوع اور ان پر مستزاد تین آیات کا مطالعہ مکمل کیا ہے۔َ سابقہ امت مسلمہ یعنی بنی اسرائیل کے ساتھ خطاب کا سلسلہ سورة البقرۃ کے دس رکوعوں پر محیط ہے۔ یہ سلسلہ پانچویں رکوع سے شروع ہوا تھا اور پندرہویں رکوع کے آغاز تک چلے گا۔ اس سلسلۂ خطاب کے بارے میں یہ بات اچھی طرح ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اس میں سے پہلا رکوع دعوت پر مشتمل ہے اور وہ بہت فیصلہ کن ہے ‘ جبکہ اگلے رکوع سے اسلوب کلام تبدیل ہوگیا ہے اور تہدید اور دھمکی کا انداز اختیار کیا گیا ہے۔ میں نے عرض کیا تھا کہ پانچواں رکوع اس پورے سلسلۂ خطاب میں بمنزلۂ فاتحہ بہت اہم ہے اور جو بقیہ نو 9 رکوع ہیں ان کے آغاز و اختتام پر بریکٹ کا انداز ہے کہ دو آیتوں سے بریکٹ شروع ہوتی ہے اور انہی دو آیتوں پر بریکٹ ختم ہوتی ہے ‘ جبکہ پانچویں رکوع کے مضامین اس پورے سلسلۂ خطاب سے ضرب کھا رہے ہیں۔ ان رکوعوں میں بنی اسرائیل کے خلاف ایک مفصل فرد قرارداد جرم عائد کی گئی ہے ‘ جس کے نتیجے میں وہ اس منصب جلیلہ سے معزول کردیے گئے جس پر دو ہزار برس سے فائز تھے اور ان کی جگہ پر اب نئی امت مسلمہ یعنی امت محمد ﷺ کا اس منصب پر تقرر عمل میں آیا اور اس مسند نشینی کی تقریب Installation Ceremony کے طور پر تحویل قبلہ کا معاملہ ہوا۔ یہ ربط کلام اگر سامنے نہ رہے تو انسان قرآن مجید کی طویل سورتوں کو پڑھتے ہوئے کھو جاتا ہے کہ بات کہاں سے چلی تھی اور اب کدھر جا رہی ہے۔ ان نو رکوعوں کے مضامین میں کچھ تو تاریخ بنی اسرائیل کے واقعات بیان ہوئے ہیں کہ تم نے یہ کیا ‘ تم نے یہ کیا ! لیکن ان واقعات کو بیان کرتے ہوئے بعض ایسے عظیم ابدی حقائق اور Universal Truths بیان ہوئے ہیں کہ ان کا تعلق کسی وقت سے ‘ کسی قوم سے یا کسی خاص گروہ سے نہیں ہے۔ وہ تو ایسے اصول ہیں جنہیں ہمّ سنت اللہ کہہ سکتے ہیں۔ اس کائنات میں ایک تو قوانین طبیعیہ Physical Laws ہیں ‘ جبکہ ایک Moral Laws ہیں جو اللہ کی طرف سے اس دنیا میں کارفرما ہیں۔ سورة البقرۃ کے زیر مطالعہ نو رکوعوں میں تاریخ بنی اسرائیل کے واقعات کے بیان کے دوران تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد ایسی آیات آتی ہیں جو اس سلسلۂ کلام کے اندر انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ ان میں درحقیقت موجودہ امت مسلمہ کے لیے راہنمائی پوشیدہ ہے۔ مثال کے طور پر اس سلسلۂ خطاب کے دوران آیت 61 میں وارد شدہ یہ الفاظ یاد کیجیے : وَضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الذِّلَّۃُ وَالْمَسْکَنَۃُ ق وَبَآءُ ‘ وْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ ط ”اور ان پر ذلت و خواری اور محتاجی و کم ہمتی تھوپ دی گئی اور وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے“۔ معلوم ہوا کہ ایسا ہوسکتا ہے کہ ایک مسلمان امت جس پر اللہ کے بڑے فضل ہوئے ہوں ‘ اسے بڑے انعام و اکرام سے نوازا گیا ہو ‘ اور پھر وہ اپنی بےعملی یا بدعملی کے باعث اللہ تعالیٰ کے غضب کی مستحق ہوجائے اور ذلتّ و مسکنت اس پر تھوپ دی جائے۔ یہ ایک ابدی حقیقت ہے جو ان الفاظ میں بیان ہوگئی۔ امت مسلمہ کے لیے یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ کیا آج ہم تو اس مقام پر نہیں پہنچ گئے ؟دوسرا اسی طرح کا مقام گزشتہ آیت 74 میں گزرا ہے ‘ جہاں ایک عظیم ابدی حقیقت بیان ہوئی ہے :ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُکُمْ مِّنْم بَعْدِ ذٰلِکَ فَہِیَ کَالْحِجَارَۃِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَۃً ط ”پھر تمہارے دل سخت ہوگئے اس سب کے بعد ‘ پس اب تو وہ پتھروں کی مانند ہیں ‘ بلکہ سختی میں ان سے بھی شدید تر ہیں گویا اسی امت مسلمہ کا یہ حال بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے دل اتنے سخت ہوجائیں کہ سختی میں پتھروں اور چٹانوں کو مات دے جائیں۔ حالانکہ یہ وہی امت ہے جس کے بارے میں فرمایا : وَاَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ع ”ببیں تفاوتِ رہ از کجاست تابہ کجا !“ البتہ یہاں ایک بات واضح رہے کہ اس قساوت قلبی میں پوری امت مبتلا نہیں ہوا کرتی ‘ بلکہ اس کیفیت میں امت کے قائدین مبتلا ہوجاتے ہیں اور امت مسلمہ کے قائدین اس کے علماء ہوتے ہیں۔ چناچہ سب سے زیادہ شدت کے ساتھ یہ خرابی ان میں درآتی ہے۔ اس لیے کہ باقی لوگ تو پیروکار ہیں ‘ ان کے پیچھے چلتے ہیں ‘ ان پر اعتماد کرتے ہیں کہ یہ اللہ کی کتاب کے پڑھنے والے اور اس کے جاننے والے ہیں۔ لیکن جو لوگ جان بوجھ کر اللہ کی کتاب میں تحریف کر رہے ہوں اور جانتے بوجھتے حق کو پہچان کر اس کا انکار کر رہے ہوں انہیں تو پتا ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں ! درحقیقت یہ سزا ان پر آتی ہے۔ یہ بات ان آیات میں جو آج ہم پڑھنے چلے ہیں ‘ بہت زیادہ واضح ہوجائے گی اِن شاء اللہ۔ فرمایا :آیت 75 اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَکُمْ عام مسلمانوں کو یہ توقع تھی کہ یہود دین اسلام کی مخالفت نہیں کریں گے۔ اس لیے کہ مشرکین مکہ تو دین توحید سے بہت دور تھے ‘ رسالت کا ان کے ہاں کوئی تصور ہی نہیں تھا ‘ کوئی کتاب ان کے پاس تھی ہی نہیں۔ جبکہ یہود تو اہل کتاب تھے ‘ حاملین تورات تھے ‘ موسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے تھے ‘ توحید کے علمبردار تھے اور آخرت کا بھی اقرار کرتے تھے۔ چناچہ عام مسلمانوں کا خیال تھا کہ انہیں توٌ محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ ‘ کی دعوت کو جھٹ پٹ مان لینا چاہیے۔ تو مسلمانوں کے دلوں میں یہود کے بارے میں جو حسن ظن تھا ‘ یہاں اس کا پردہ چاک کیا جا رہا ہے اور مسلمانوں کو اس کی حقیقت سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ مسلمانو ! تمہیں بڑی طمع ہے ‘ تمہاری یہ خواہش ہے ‘ آرزو ہے ‘ تمناّ ہے ‘ تمہیں توقع ہے کہ یہ تمہاری بات مان لیں گے۔وَقَدْ کَانَ فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ یَسْمَعُوْنَ کَلٰمَ اللّٰہِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَہٗ مِنْم بَعْدِ مَا عَقَلُوْہُ وَہُمْ یَعْلَمُوْنَ “ ظاہر بات ہے وہ گروہ ان کے علماء ہی کا تھا۔ عام آدمی تو اللہ کی کتاب میں تحریف نہیں کرسکتا۔اب اگلی آیت میں بڑی عجیب بات سامنے آرہی ہے۔ جس طرح مسلمانوں کے درمیان منافقین موجود تھے اسی طرح یہود میں بھی منافقین تھے۔ یہود میں سے کچھ لوگ ایسے تھے کہ جب ان پر حق منکشف ہوگیا تو اب وہ اسلام کی طرف آنا چاہتے تھے۔ لیکن ان کے لیے اپنے خاندان کو ‘ گھر بار کو ‘ اپنے کاروبار کو اور اپنے قبیلے کو چھوڑنا بھی ممکن نہیں تھا ‘ جبکہ قبیلوں کی سرداری ان کے علماء کے پاس تھی۔ ایسے لوگوں کے دل کچھ کچھ اہل ایمان کے قریب آ چکے تھے۔ ایسے لوگ جب اہل ایمان سے ملتے تھے تو کبھی کبھی وہ باتیں بھی بتا جاتے تھے جو انہوں نے علماء یہود سے نبی آخرالزمان ﷺ اور ان کی تعلیمات کے بارے میں سن رکھی تھیں کہ تورات ان کی گواہی دیتی ہے۔ اس کے بعد جب وہ اپنے ”شیاطین“ یعنی علماء کے پاس جاتے تھے تو وہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرتے تھے کہ بیوقوفو ! یہ کیا کر رہے ہو ؟ تم انہیں یہ باتیں بتا رہے ہو تاکہ اللہ کے ہاں جا کر وہ تم پر حجت قائم کریں کہ انہیں پتا تھا اور پھر بھی انہوں نے نہیں مانا !

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

The Muslims used to take great pains in trying to make the Jews accept Islam. Having recounted so many stories of the perversity of the Jews, the Holy Qur'an points out to the Muslims that they cannot expect such a people to be sensible, and asks them not to worry much about them. For, some of the Jews have been committing an even more heinous sin - they used to change and distort the Word of Allah in spite of knowing the ignominy of such a deed. So, the Holy Qur'an wants the Muslims to realize that men who are so enslaved to their desires and so shameless in their pursuit of evil, cannot be expected to listen to anyone.The "Word of Allah" mentioned in the verse refers to the Torah which the Jews had "heard" from the prophets, and the distortion pertains to the changes made in the words themselves or in the sense or in both; or it refers to the words of Allah which the seventy men had heard directly on the Mount Tur طور (Sinai) where they had gone to seek divine confirmation of what Sayyidna Musa (Moses (علیہ السلام) ) had been telling and the distortion pertains to their declaration before their people that Allah had promised to forgive them if they could not act upon certain commandments.The Jews who were the contemporaries of the Holy Prophet ﷺ may not have themselves been involved in some of these transgressions, but since they did not abhor the misdeeds of their forefathers, they are to be considered as their counterparts.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.