The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-Baqarah • Ayah 55

Para 1 Surah 2 : 55
وَإِذْ قُلْتُمْ يَـٰمُوسَىٰ لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ نَرَى ٱللَّهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْكُمُ ٱلصَّـٰعِقَةُ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

وَإِذْ
قُلْتُمْ
يَـٰمُوسَىٰ
لَن
نُّؤْمِنَ
لَكَ
حَتَّىٰ
نَرَى
ٱللَّهَ
جَهْرَةً
فَأَخَذَتْكُمُ
ٱلصَّـٰعِقَةُ
وَأَنتُمْ
تَنظُرُونَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Best among the Children of Israel ask to see Allah; their subsequent Death and ResurrectionAllah said, `Remember My favor on you for resurrecting you after you were seized with lightning when you asked to see Me directly, which neither you nor anyone else can bear or attain.' This was said by Ibn Jurayj. Ibn `Abbas said that the Ayah وَإِذْ قُلْتُمْ يَـمُوسَى لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً(And (remember) when you said: "O Musa ! We shall never believe in you until we see Allah plainly.") means, "Publicly", "So that we gaze at Allah." Also, `Urwah bin Ruwaym said that Allah's statement, وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ(While you were looking) means, "Some of them were struck with lightning while others were watching." Allah resurrected those, and struck the others with lightning. As-Suddi commented on, فَأَخَذَتْكُمُ الصَّـعِقَةُ(But you were seized with a bolt of lightning) saying; "They died, and Musa stood up crying and supplicating to Allah, `O Lord! What should I say to the Children of Israel when I go back to them after You destroyed the best of them, لَوْ شِئْتَ أَهْلَكْتَهُم مِّن قَبْلُ وَإِيَّـىَ أَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّآ(If it had been Your will, You could have destroyed them and me before; would You destroy us for the deeds of the foolish ones among us)' Allah revealed to Musa that these seventy men were among those who worshipped the calf. Afterwards, Allah brought them back to life one man at a time, while the rest of them were watching how Allah was bringing them back to life. That is why Allah's said, ثُمَّ بَعَثْنَـكُم مِّن بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (Then We raised you up after your death, so that you might be grateful.)" Ar-Rabi` bin Anas said, "Death was their punishment, and they were resurrected after they died so they could finish out their lives." Qatadah said similarly. `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam commented on this Ayah, "Musa returned from meeting with his Lord carrying the Tablets on which He wrote the Tawrah. He found that they had worshipped the calf in his absence. Consequently, he commanded them to kill themselves, and they complied, and Allah forgave them. He said to them, `These Tablets have Allah's Book, containing what He commanded you and what He forbade for you.' They said, `Should we believe this statement because you said it By Allah, we will not believe until we see Allah in the open, until He shows us Himself and says: This is My Book, therefore, adhere to it. Why does He not talk to us as He talked to you, O, Musa"' Then he (`Abdur-Rahman bin Zayd) recited Allah's statement, لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً(We shall never believe in you until we see Allah plainly) and said, "So Allah's wrath fell upon them, a thunderbolt struck them, and they all died. Then Allah brought them back to life after He killed them." Then he (`Abdur-Rahman) recited Allah's statement, ثُمَّ بَعَثْنَـكُم مِّن بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (Then We raised you up after your death, so that you might be grateful), and said, "Musa said to them, `Take the Book of Allah.' They said, `No.' He said, `What is the matter with you' They said, `The problem is that we died and came back to life.' He said, `Take the Book of Allah.' They said, `No.' So Allah sent some angels who made the mountain topple over them." This shows that the Children of Israel were required to fulfill the commandments after they were brought back to life. However, Al-Mawardy said that there are two opinions about this matter. The first opinion is that since the Children of Israel witnessed these miracles, they were compelled to believe, so they did not have to fulfill the commandments. The second opinion states that they were required to adhere to the commandments, so that no responsible adult is free of such responsibilities. Al-Qurtubi said that this is what is correct, because, he said, although the Children of Israel witnessed these tremendous calamities and incidents, that did not mean that they were not responsible for fulfilling the commandments any more. Rather they are responsible for that, and this is clear. Allah knows best.

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

ہم بھی اللہ عزوجل کو خود دیکھیں گے ٭٭موسیٰ علیہ السلام جب اپنے ساتھ بنی اسرائیل کے ستر شخصوں کو لے کر اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق کوہ طور پر گئے اور ان لوگوں نے کلام الٰہی سنا تو موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگے ہم تو جب مانیں جب اللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے خود دیکھ لیں۔ اس گستاخانہ سوال پر ان پر آسمان سے ان کے دیکھتے ہوئے بجلی گری اور ایک سخت ہولناک آواز ہوئی جس سے سب کے سب مر گئے۔ موسیٰ علیہ السلام یہ دیکھ کر گریہ و زاری کرنے لگے اور رو رو کر جناب باری میں عرض کرنے لگے کہ اللہ بنی اسرائیل کو میں کیا جواب دوں گا یہ جماعت تو ان کے سرداروں اور بہترین لوگوں کی تھی پروردگار اگر یہی چاہت تھی تو انہیں اور مجھے اس سے پہلے ہی مار ڈالتا۔ اللہ تعالیٰ بیوقوفوں کی بیوقوفی کے کام پر ہمیں نہ پکڑ۔ [7-الأعراف:155] ‏ یہ دعا مقبول ہوئی اور آپ کو معلوم کرایا گیا کہ یہ بھی دراصل بچھڑا پوجنے والوں میں سے تھے انہیں سزا مل گئی۔ پھر انہیں زندہ کر دیا اور ایک کے بعد ایک کر کے سب زندہ کئے گئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:173/1] ‏ ایک دوسرے کے زندہ ہونے کو ایک دوسرا دیکھتا رہا۔صفحہ نمبر277محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے پاس آئے اور انہیں بچھڑا پوجتے ہوئے دیکھا اور اپنے بھائی کو اور سامری کو تنبیہہ کی۔ بچھڑے کو جلا دیا اور اس کی راکھ دریا میں بہا دی اس کے بعد ان میں سے بہترین لوگوں کو چن کر اپنے ساتھ لیا جن کی تعداد ستر تھی اور کوہ طور پہ توبہ کرنے کے لیے چلے ان سے کہا کہ تم توبہ کرو ورنہ روزہ رکھو پاک صاف ہو جاؤ کپڑوں کو پاک کر لو جب بحکم الٰہی طور سینا پر پہنچے تو ان لوگوں نے کہا کہ اے اللہ کے پیغمبر اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ اپنا کلام ہمیں بھی سنائے جب موسیٰ علیہ السلام پہاڑ کے پاس پہنچے تو ایک بادل نے آ کر سارے پہاڑ کو ڈھک لیا اور آپ اسی کے اندر اندر اللہ تعالیٰ کے قریب ہو گئے جب کلام رب ذوالجلال شروع ہوا تب موسیٰ علیہ السلام کی پیشانی نور سے چمکنے لگی اس طرح کہ کوئی اس طرف نظر اٹھانے کی تاب نہیں رکھتا تھا۔ بادل کی اوٹ ہو گئی اور سب لوگ سجدے میں گر پڑے اور موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے آپ کے ساتھی بنی اسرائیل بھی اللہ تعالیٰ کا کلام سننے لگے کہ انہیں حکم احکام ہو رہے ہیں جب کلام الہ العالمین ختم ہوا بادل چھٹ گیا اور موسیٰ علیہ السلام ان کے پاس چلے آئے تو یہ لوگ کہنے لگے موسیٰ ہم تو ایمان نہ لائیں گے جب تک اپنے رب کو اپنے سامنے نہ دیکھ لیں۔ اس گستاخی پر ایک زلزلہ آیا اور سب کے سب ہلاک ہو گئے۔صفحہ نمبر278اب موسیٰ علیہ السلام نے خلوص دل کے ساتھ دعائیں شروع کیں اور کہنے لگے اس سے تو یہی اچھا تھا کہ ہم سب اس سے پہلے ہی ہلاک ہو جاتے۔ بیوقوفوں کے کاموں پر ہمیں ہلاک نہ کر یہ لوگ ان کے چیدہ اور پسندیدہ لوگ تھے جب میں تنہا بنی اسرائیل کے پاس جاؤں گا تو انہیں کیا جواب دوں گا کون میری بات اس کو سچا سمجھے گا اور پھر اس کے بعد کون مجھ پر ایمان لائے گا؟ اللہ ہماری توبہ ہے۔ تو قبول فرما۔ اور ہم پر فضل و کرم کر، موسیٰ علیہ السلام یونہی خشوع و خضوع سے دعا مانگتے رہے یہاں تک کہ پروردگار نے ان کی اس دعا کو قبول فرمایا اور ان مردوں کو زندہ کر دیا، اب سب نے ایک زبان ہو کر بنی اسرائیل کی طرف سے توبہ شروع کی ان سے فرمایا گیا کہ جب تک یہ اپنی جانوں کو ہلاک نہ کریں اور ایک دوسرے کو قتل نہ کریں میں ان کی توبہ قبول نہیں فرماؤں گا۔ سدی کبیر کہتے ہیں یہ واقعہ بنی اسرائیل کے آپس میں لڑانے کے بعد کا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ خطاب گو عام ہے لیکن حقیقت میں اس سے مراد وہی ستر شخص ہیں۔صفحہ نمبر279رازی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں ان ستر شخصوں کے بارے میں لکھا ہے کہ انہوں نے اپنے جینے کے بعد کہا کہ اے نبی اللہ علیہ السلام، اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں نبی بنا دے۔ آپ علیہ السلام نے دعا کی اور وہ قبول بھی ہوئی لیکن یہ قول غریب ہے موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں سوائے ہارون علیہ السلام کے اور اس کے بعد یوشع بن نون علیہ السلام کے کسی اور کی نبوت ثابت نہیں۔ اہل کتاب کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ان لوگوں نے اپنی دعا کے مطابق اللہ تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے اسی جگہ دیکھا یہ بھی غلط ہے اس لیے کہ خود موسیٰ علیہ السلام نے جب دیدار باری تعالیٰ کا سوال کیا تو انہیں منع کر دیا گیا پھر بھلا یہ ستر اشخاص دیدار باری تعالیٰ کی تاب کیسے لاتے؟ اس آیت کی تفسیر میں ایک دوسرا قول بھی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام توراۃ لے کر آئے جو احکام کا مجموعہ تھی اور ان سے کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اس پر عمل کرو اور مضبوطی کے ساتھ اس کے پابند ہو جاؤ تو وہ کہنے لگے کہ ہمیں کیا خبر اللہ تعالیٰ خود آ کر ظاہر ہو کر ہم سے کیوں نہیں کہتا؟ کیا وجہ ہے کہ وہ آپ سے باتیں کرے اور ہم سے نہ کرے؟ جب تک ہم اللہ کو خود نہ دیکھ لیں ہرگز ایمان نہ لائیں گے اس قول پر ان کے اوپر غضب الٰہی نازل ہوا اور ہلاک کر دئیے گئے پھر زندہ کئے گئے پھر موسیٰ علیہ السلام نے انہیں کہا کہ اب تو اس توراۃ کو تھام لو انہوں نے پھر انکار کیا اب کی مرتبہ فرشتے پہاڑ اٹھا کر لائے اور ان کے سروں کے اوپر معلق کر دیا کہ اگر نہ مانو گے تو یہ پہاڑ تم پر گرا دیا جائے گا اور تم سب پیس ڈالے جاؤ گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:88/2 ] ‏ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مرنے کے بعد یہ جی اٹھے اور پھر بھی مکلف رہے یعنی احکام الٰہی ان پر پھر بھی جاری رہے ماوردی نے کہا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی یہ زبردست نشانی دیکھ لی مرنے کے بعد زندہ ہوئے تو پھر تکلیف شرعی ان پر سے ہٹ گئی اس لیے کہ اب تو یہ مجبور تھے کہ سب کچھ مان لیں۔ خود ان پر یہ واردات پیش آئی اب تصدیق ایک بے اختیاری امر ہو گیا۔ دوسری جماعت کہتی ہے کہ نہیں بلکہ باوجود اس کے وہ احکام شرع کے مکلف رہے کیونکہ ہر عاقل مکلف ہے۔صفحہ نمبر280قرطبی کہتے ہیں ٹھیک قول یہی ہے یہ امور ان پر قدرتی طور سے آئے تھے جو انہیں پابندی شرع سے آزاد نہیں کر سکتے خود بنی اسرائیل نے بھی بڑے بڑے معجزات دیکھے خود ان کے ساتھ ایسے ایسے معاملات ہوئے جو بالکل نادر اور خلاف قیاس اور زبردست معجزات تھے باوجود اس کے وہ بھی مکلف رہے اسی طرح یہ بھی ٹھیک قول ہے اور واضح امر بھی یہی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر281

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 55 وَاِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰی لَنْ نُّؤْمِنَ لَکَ حَتّٰی نَرَی اللّٰہَ جَہْرَۃً اٰمَنَ یُؤْمِنُ کے بعد ”بِ“ کا صلہ ہو تو اس کے معنی ایمان لانے کے ہوتے ہیں ‘ جبکہ ”لِ“ کے صلہ کے ساتھ اس کے معنی صرف تصدیق کے ہوتے ہیں۔ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ ہم آپ کی بات کی تصدیق نہیں کریں گے جب تک ہم اپنی آنکھوں سے اللہ کو آپ سے کلام کرتے نہ دیکھ لیں۔ ہم کیسے یقین کرلیں کہ اللہ نے یہ کتاب آپ کو دی ہے ؟ آپ علیہ السلام تو ہمارے سامنے پتھر کی کچھ تختیاں لے کر آگئے ہیں جن پر کچھ لکھا ہوا ہے۔ ہمیں کیا پتا کہ یہ کس نے لکھا ہے ؟ دیکھئے ‘ ایک خواہش حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بھی تھی کہ رَبِّ اَرِنِیْ اَنْظُرْ اِلَیْکَ ط الاعراف : 143 ”اے میرے ربّ ! مجھے یارائے نظر دے کہ میں تجھ کو دیکھوں“۔ وہ کچھ اور شے تھی ‘ وہ ع ”تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ !“ کی کیفیت تھی ‘ لیکن یہ تخریبی ذہن کی سوچ ہے کہ ہم بھی چاہتے ہیں کہ اللہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور ہمیں معلوم ہو کہ واقعی اس نے آپ کو یہ کتاب دی ہے۔فَاَخَذَتْکُمُ الصّٰعِقَۃُ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ ”“۔تمہارے دیکھتے دیکھتے ایک بہت بڑی کڑک نے تمہیں آلیا اور تم سب کے سب مردہ ہوگئے۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

Then Sayyidna Musa (علیہ السلام) (Moses) brought the Torah from Mount Tur طور (Sinai) and presented it to the Israelites as the book of Allah, some of them were insolent enough to say that they could not believe it until and unless Allah Himself told them in so many words. With the permission of Allah, Sayyidna Musa (علیہ السلام) replied that even this condition would be fulfilled, if they went with him to Mount Tur طور . The Israelites chose seventy men for this purpose. Arriving there, they heard the words of Allah with their own ears. Now, in their perversity, they invented a new ruse. It was not enough, they said, to hear the speech, for they could not be sure whether it was Allah Himself who had spoken to them or someone else. But they promised that they would be finally convinced if they could see Allah with their own eyes. Since it is beyond the power of a living being to be able to see Allah in the physical world, they had to pay for their impertinence, and were killed by a thunderbolt -- the next verse reports their death.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.