The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-Baqarah • Ayah 47

Para 1 Surah 2 : 47
يَـٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتِىَ ٱلَّتِىٓ أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّى فَضَّلْتُكُمْ عَلَى ٱلْعَـٰلَمِينَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

يَـٰبَنِىٓ
إِسْرَٰٓءِيلَ
ٱذْكُرُوا۟
نِعْمَتِىَ
ٱلَّتِىٓ
أَنْعَمْتُ
عَلَيْكُمْ
وَأَنِّى
فَضَّلْتُكُمْ
عَلَى
ٱلْعَـٰلَمِينَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

Reminding the Children of Israel that They were preferred above the Other NationsAllah reminds the Children of Israel of the favors that He granted their fathers and grandfathers, how He showed preference to them by sending them Messengers from among them and revealing Books to them, more so than any of the other previous nations. Similarly, Allah said,وَلَقَدِ اخْتَرْنَـهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَـلَمِينَ(And We chose them (the Children of Israel) over the `Alamin, (nations) with knowledge.) (44:32) and,وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَـقَوْمِ اذْكُرُواْ نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَآءَ وَجَعَلَكُمْ مُّلُوكاً وَءَاتَـكُمْ مَّا لَمْ يُؤْتِ أَحَداً مِّن الْعَـلَمِينَ(And (remember) when Musa (Moses) said to his people: "O my people! Remember the favor of Allah to you: when He made Prophets among you, made you kings, honored you above the `Alamin (nations).") (5:20).Abu Ja`far Ar-Razi reported that Ar-Rabi` bin Anas said that Abu Al-`Aliyah said that Allah's statement,وَأَنِّى فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَـلَمِينَ(and that I preferred you over the `Alamin) means, "The kingship, Messengers and Books that were granted to them, instead of granting such to the other kingdoms that existed during their time, for every period there is a nation." It was also reported that Mujahid, Ar-Rabi` bin Anas, Qatadah and Isma`il bin Abi Khalid said similarly.The Ummah of Muhammad ﷺ is Better than the Children of IsraelThis is the only way the Ayah can be understood, because this Ummah is better than theirs, as Allah said;كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَوْ ءَامَنَ أَهْلُ الْكِتَـبِ لَكَانَ خَيْراً لَّهُمْ(You are the best of people ever raised up for mankind; you enjoin good and forbid evil, and you believe in Allah. And had the People of the Book (Jews and Christians) believed, it would have been better for them) (3:110).Also, the Musnad and Sunan Collections of Hadith recorded that Mu`awiyah bin Haydah Al-Qushayri said that the Messenger of Allah ﷺ said,«أَنْتُمْ تُوَفُّونَ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ خَيْرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى الله»(You (Muslims) are the seventieth nation, but you are the best and most honored of them according to Allah.)There are many Hadiths on this subject, and they will be mentioned when we discuss Allah's statement,كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ(You are the best of peoples ever raised up for mankind) (3:110).

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

بنی اسرائیل کے آباؤ اجداد پر اللہ تعالٰی کے انعامات ٭٭بنی اسرائیل کے آباؤ اجداد پر جو نعمت الٰہیہ انعام کی گئی تھی اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ ان میں سے رسول ہوئے ان پر کتابیں اتریں انہیں ان کے زمانہ کے دوسرے لوگوں پر مرتبہ دیا گیا جیسے فرمایا «وَلَــقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰي عِلْمٍ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ» [ 44۔ الدخان: 32 ] ‏ یعنی انہیں ان کے زمانے کے [ اور لوگوں پر ] ‏ ہم نے علم میں فضیلت دی۔ اور فرمایا «وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ يٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ اَنْبِيَاءَ وَجَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا ڰ وَّاٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ يُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ» [5-المائدة:20] ‏ یعنی موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اے میری قوم تم اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کرو جو تم پر انعام کی گئی ہے تم میں اس نے پیغمبر پیدا کئے تمہیں بادشاہ بنایا اور وہ دیا جو تمام زمانے کو نہیں دیا۔ تمام لوگوں پر فضیلت ملنے سے مراد ان کے زمانے کے تمام اور لوگ ہیں اس لیے کہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے یقیناً افضل ہے اس امت کی نسبت فرمایا گیا ہے «كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ» [ 3۔ آل عمران: 110 ] ‏ تم بہتر امت ہو جو لوگوں کے لیے بنائی گئی ہو تم بھلائیوں کا حکم کرنے والے اور برائیوں سے روکنے والے ہو اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو اگر اہل کتاب بھی ایمان لاتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا۔ مسانید اور سنن میں مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم سترویں امت ہو اور سب سے بہتر اور بزرگ ہو۔ [مسند احمد:447/4:حسن] ‏ اس قسم کی اور بہت سی احادیث کا ذکر ان شاءاللہ «كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ» [ 3۔ آل عمران: 110 ] ‏ کی تفسیر میں آئے گا اور کہا گیا ہے کہ تمام لوگوں پر خاص قسم کی فضیلت مراد ہے جس سے ہر قسم کی فضیلت لازم نہیں آتی، رازی نے یہی کہا ہے مگر یہ غور طلب بات ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی فضیلت اور تمام امتوں پر ہے اس لیے کہ انبیاء کرام انہی میں سے ہوتے چلے آئے ہیں لیکن اس میں بھی غورو خوض کی ضرورت ہے اس لیے کہ اس طرح کے اطلاق کے اجتماعی اعزاز کو اگلے لوگوں پر بھی ہوتا ہے۔ اور حقیقت میں اگلے انبیاء ان میں شمار نہ تھے جیسے ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام اور نبی کریم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جو ان سب کے بعد ہوئے لیکن تمام مخلوق سے افضل تھے اور جو تمام اولاد آدم علیہ السلام کے سردار ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، «صلوٰۃ اللہ وسلامہ علیہ» ۔صفحہ نمبر262

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے ‘ سورة البقرۃ کے پانچویں رکوع سے چودہویں رکوع تک ‘ بلکہ پندرہویں رکوع کی پہلی دو آیات بھی شامل کر لیجیے ‘ یہ دس رکوعوں سے دو آیات زائد ہیں کہ جن میں خطاب کل کا کل بنی اسرائیل سے ہے۔ البتہ ان میں سے پہلا رکوع دعوت پر مشتمل ہے ‘ جس میں انہیں نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے کی پرزور دعوت دی گئی ہے ‘ جبکہ بقیہ نو رکوع اس فرد قرارداد جرم پر مشتمل ہیں جو بنی اسرائیل پر عائد کی جا رہی ہے کہ ہم نے تمہارے ساتھ یہ احسان و اکرام کیا ‘ تم پر یہ فضل کیا ‘ تم پر یہ کرم کیا ‘ تمہیں یہ حیثیت دی ‘ تمہیں یہ مقام دیا اور تم نے اس اس طور سے اپنے اس مشن کی خلاف ورزی کی جو تمہارے سپرد کیا گیا تھا اور اپنے مقام و مرتبہ کو چھوڑ کر دنیا پرستی کی روش اختیار کی۔ ان نو رکوعوں میں بنی اسرائیل کی تاریخ کا تو ایک بہت بڑا حصہّ اس کے خدوخال features سمیت آگیا ہے ‘ لیکن اصل میں یہ امت مسلمہ کے لیے بھی ایک پیشگی تنبیہہ ہے کہ کوئی مسلمان امت جب بگڑتی ہے تو اس میں یہ اور یہ خرابیاں آجاتی ہیں۔ چناچہ اس بارے میں رسول اللہ ﷺ کی احادیث بھی موجود ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رض سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : لَیَاْتِیَنَّ عَلٰی اُمَّتِیْ مَا اَتٰی عَلٰی بَنِیْ اِسْرَاءِ یْلَ حَذْوَ النَّعْلَ بالنَّعْلِ 7”میری امت پر بھی وہ سب حالات وارد ہو کر رہیں گے جو بنی اسرائیل پر آئے تھے ‘ بالکل ایسے جیسے ایک جوتی دوسری جوتی سے مشابہ ہوتی ہے۔“ ایک دوسری حدیث میں جو حضرت ابوسعید خدری رض سے مروی ہے ‘ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل ہوا ہے : لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ قَبْلَکُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتّٰی لَوْ سَلَکُوْا جُحْرَ ضَبٍّ لَسَلَکْتُمُوْہُ قُلْنَا : یَارَسُوْلَ اللّٰہِ الْیَھُوْدَ وَالنَّصَارٰی ؟ قَالَ : فَمَنْ ؟ 8”تم لازماً اپنے سے پہلوں کے طور طریقوں کی پیروی کرو گے ‘ بالشت کے مقابلے میں بالشت اور ہاتھ کے مقابلے میں ہاتھ۔ یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے بل میں گھسے ہوں گے تو تم بھی گھس کر رہو گے“۔ ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! یہود و نصاریٰ کی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”تو اور کس کی ؟“ترمذی کی مذکورہ بالا حدیث میں تو یہاں تک الفاظ آتے ہیں کہ : حَتّٰی اِنْ کَانَ مِنْھُمْ مَّنْ اَتٰی اُمَّہٗ عَلَانِیَۃً لَکَانَ فِیْ اُمَّتِیْ مَنْ یَصْنَعُ ذٰلِکَ یعنی اگر ان میں کوئی بدبخت ایسا اٹھا ہوگا جس نے اپنی ماں سے علی الاعلان زنا کیا تھا تو تم میں سے بھی کوئی شقی ایسا ضرور اٹھے گا جو یہ حرکت کرے گا۔ اس اعتبار سے ان رکوعوں کو پڑھتے ہوئے یہ نہ سمجھئے کہ یہ محض اگلوں کی داستان ہے ‘ بلکہ : ؂ ّ َ ”خوشتر آں باشد کہ سر دلبراں گفتہ آید در حدیث دیگراں“کے مصداق یہ ہمارے لیے ایک آئینہ ہے اور ہمیں ہر مرحلے پر سوچنا ہوگا ‘ دروں بینی کرنی ہوگی کہ کہیں اسی گمراہی میں ہم بھی تو مبتلا نہیں ؟دوسرا اہم نکتہ پہلے سے ہی یہ سمجھ لیجیے کہ سورة البقرۃ کی آیات 47۔ 48 جن سے اس چھٹے رکوع کا آغاز ہو رہا ہے ‘ یہ دو آیتیں بعینہٖ پندرہویں رکوع کے آغاز میں پھر آئیں گی۔ ان میں سے پہلی آیت میں تو شوشے بھر کا فرق بھی نہیں ہے ‘ جبکہ دوسری آیت میں صرف الفاظ کی ترتیب بدلی ہے ‘ مضمون وہی ہے۔ یوں سمجھئے کہ یہ گویا دو بریکٹ ہیں اور نو 9 رکوعوں کے مضامین ان دو بریکٹوں کے درمیان ہیں۔ اور سورة البقرۃ کا پانچواں رکوع جو ان بریکٹوں سے باہر ہے ‘ اس کے مضامین بریکٹوں کے اندر کے سارے مضامین سے ضرب کھا رہے ہیں۔ یہ حساب کا بہت ہی عام فہم سا قاعدہ ہے کہ بریکٹ کے باہر لکھی ہوئی رقم ‘ جس کے بعد جمع یا تفریق وغیرہ کی کوئی علامت نہ ہو ‘ وہ بریکٹ کے اندر موجود تمام اقدار values کے ساتھ ضرب کھائے گی۔ تو گویا اس پورے معاملے میں ہر ہر قدم پر رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کی دعوت موجود ہے۔ یہ وضاحت اس لیے ضروری ہے کہ اس حصے میں بعض آیات ایسی آگئی ہیں جن سے کچھ لوگوں کو مغالطہ پیدا ہوا یا جن سے کچھ لوگوں نے جان بوجھ کر فتنہ پیدا کیا کہ نجات اخروی کے لیے محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان ضروری نہیں ہے۔ اس فتنے نے ایک بار اکبر کے زمانے میں ”دینِ الٰہی“ کی شکل میں جنم لیا تھا کہ آخرت میں نجات کے لیے صرف خدا کو مان لینا ‘ آخرت کو مان لینا اور نیک اعمال کرنا کافی ہے ‘ کسی رسول پر ایمان لانا ضروری نہیں ہے۔ یہ فتنہ صوفیاء میں بھی بہت بڑے پیمانے پر پھیلا اور ”مسجد مندر ہکڑو نور“ کے فلسفے کی تشہیر کی گئی۔ یعنی مسجد میں اور مندر میں ایک ہی نور ہے ‘ سب مذاہب اصل میں ایک ہی ہیں ‘ سارا فرق شریعتوں کا اور عبادات کی ظاہری شکل کا ہے۔ اور وہ رسولوں سے متعلق ہے۔ چناچہ رسولوں کو بیچ میں سے نکال دیجیے تو یہ ”دینِ الٰہی“ اللہ کا دین رہ جائے گا۔ یہ ایک بہت بڑا فتنہ تھا جو ہندوستان میں اس وقت اٹھا جب سیاسی اعتبار سے مسلمانوں کا اقتدار چوٹی climax پر تھا۔ یہ فتنہ جس مسلمان حکمران کا اٹھایا ہوا تھا وہ ”اکبر اعظم“ اور ”مغل اعظم“ کہلاتا تھا۔ اس کے پیش کردہ ”دین“ کا فلسفہ یہ تھا کہ دین محمدی ﷺ کا دور ختم ہوگیا نعوذ باللہ ‘ وہ ایک ہزار سال کے لیے تھا ‘ اب دوسرا ہزار سال الف ثانی ہے اور اس کے لیے نیا دین ہے۔ اسے ”دین اکبری“ بھی کہا گیا اور ”دینِ الٰہی“ بھی۔ سورة البقرۃ کے اس حصے میں ایک آیت آئے گی جس سے کچھ لوگوں نے اس ”دینِ الٰہی“ کے لیے استدلال کیا تھا۔ہندوستان میں بیسویں صدی میں یہ فتنہ پھر اٹھا جب گاندھی جی نے ”متحدہ وطنی قومیت“ کا نظریہ پیش کیا۔ اس موقع پر مسلمانوں میں سے ایک بہت بڑا نابغہ genius انسان ابوالکلام آزاد بھی اس فتنے کا شکارہو گیا۔ گاندھی جی اپنی پراتھنا میں کچھ قرآن کی تلاوت بھی کرواتے ‘ کچھ گیتا بھی پڑھواتے ‘ کچھ اپنشدوں سے ‘ کچھ بائبل سے اور کچھ گروگرنتھ سے بھی استفادہ کیا جاتا۔ متحدہ وطنی قومیت کا تصور یہ تھا کہ ایک وطن کے رہنے والے لوگ ایک قوم ہیں ‘ لہٰذا ان سب کو ایک ہونا چاہیے ‘ مذہب تو انفرادی معاملہ ہے ‘ کوئی مسجد میں چلا جائے ‘ کوئی مندر میں چلا جائے ‘ کوئی گُردوارے میں چلا جائے ‘ کوئی کلیسا ‘ سنیگاگ یا چرچ میں چلا جائے تو اس سے کیا فرق واقع ہوتا ہے ؟ اس طرح کے نظریات اور تصورات کا توڑ یہی ہے کہ یوں سمجھ لیجیے کہ پانچویں رکوع کی سات آیات بریکٹ کے باہر ہیں اور یہ بریکٹوں کے اندر کے مضمون سے مسلسل ضرب کھا رہی ہیں۔ چناچہ ان بریکٹوں کے درمیان جتنا بھی مضمون آ رہا ہے وہ ان کے تابع ہوگا۔ گویا جہاں تک محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کا معاملہ ہے وہ ہر مرحلے پر مقدر understood سمجھا جائے گا۔ اب ہم ان آیات کا مطالعہ شروع کرتے ہیں۔آیت 47 یٰبَنِیْٓ اِسْرَآءِ ‘ یْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ اس کی وضاحت گزشتہ رکوع میں ہوچکی ہے ‘ لیکن یہاں آگے جو الفاظ آ رہے ہیں بہت زوردار ہیں :وَاَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ “عربی نحو کا یہ قاعدہ ہے کہ کہیں ظرف کا تذکرہ ہوتا ہے یعنی جس میں کوئی شے ہے لیکن اس سے مراد مظروف ہوتا ہے یعنی ظرف کے اندر جو شے ہے۔ یہاں بھی ظرف کی جمع لائی گئی ہے لیکن اس سے مظروف کی جمع مراد ہے۔ ”تمام جہانوں پر فضیلت“ سے مراد ”جہان والوں پر فضیلت“ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے تمہیں تمام اقوام عالم پر فضیلت عطا کی۔ عالم انسانیت کے اندر جتنے بھی مختلف گروہ ‘ نسلیں اور طبقات ہیں ان میں فضیلت عطاکی۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

Verse 47 asks the Israelites to call to their minds the blessing of Allah, so that the recognition of the benefits they have received may induce them to be thankful to Allah and thus to obey Him. The verse is addressed to the Jews contemporaneous with the Holy Prophet ﷺ while the blessing had been received by their forefathers. The point is that when a man receives a special favour, his children and grand children too usually partake of the benefits flowing from it; in this sense, the Jews who are being addressed may be said to have received the blessing themselves.As for Allah giving preference to the Israelites "over the worlds", the phrase means that they were given preference only in certain matters, or only over a large part of men - for example, over the contemporaries of the earlier Israelites.The day referred to in verse 48 is the Day of Judgment. As for no one being able to suffice another on that day, the phrase should be understood in the sense of one man paying the dues on behalf of another man. Let us, for example, suppose that a man is found wanting in the performance of obligatory acts of worship like Salah نماز and Sawm صوم (fasting), and another man should suggest that his own prayers and fasts may be transferred to the account of the former in order to make up the deficiency. Such a transaction shall not be possible on that day. Ransom, of course, means the money paid for securing the release of a criminal - this too shall be out of the question. As for intercession (shafa-` ah شفاعہ) not being accepted, the phrase does not totally deny the possibility of intercession on the Day of Judgment; it only means that if a man does not have 'Iman ایمان (faith), no intercession in his favour shall be accepted. For the Holy Qur'an makes it clear in certain other verses that Allah will allow intercession to be made on behalf of some people (53:26, 34:23, 2:55 etc.), and will disallow it in the case of those who do not possess 'Iman ایمان (21:28, 20:109). Since there would be no intercession on behalf of the latter, the question of its being accepted does not simply arise. 'Receiving support', in usual terms, means getting oneself released from a difficult situation with the help of a strong and powerful friend or patron. In short, none of the ways of receiving help possible in this world will be effective in the other world unless one possesses 'Iman ایمان .A doctrinal pointOn the basis of verse 48, the Mu'tazilah and some other groups of a more recent origin have denied the possibility of all intercession in favour of Muslims. But, as we have shown above, the negation of intercession applies only to disbelievers and infidels. (Bayan al-Qur an)

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.