Surah Al-Baqarah • Ayah 37
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Adam repents and supplicates to AllahIt was reported that the above Ayah is explained by Allah's statement, قَالاَ رَبَّنَا ظَلَمْنَآ أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَـسِرِينَ (They said: "Our Lord! We have wronged ourselves. If You forgive us not, and bestow not upon us Your mercy, we shall certainly be of the losers.") (7:23) as Mujahid, Sa`id bin Jubayr, Abu Al-`Aliyah, Ar-Rabi` bin Anas, Al-Hasan, Qatadah, Muhammad bin Ka`b Al-Qurazi, Khaلlid bin Ma`dan, `Ata' Al-Khurasani and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam have stated. As-Suddi said that Ibn `Abbas commented on, فَتَلَقَّى ءَادَمُ مِن رَّبِّهِ كَلِمَاتٍ(Then Adam received from his Lord Words) "Adam said, `O Lord! Did You not created me with Your Own Hands' He said, `Yes.' He said, `And blow life into me' He said, `Yes.' He said, `And when I sneezed, You said, `May Allah grant you His mercy.' Does not Your mercy precede Your anger' He was told, `Yes.' Adam said, `And You destined me to commit this evil act' He was told, `Yes.' He said, `If I repent, will You send me back to Paradise' Allah said, `Yes."' Similar is reported from Al-`Awfi, Sa`id bin Jubayr, Sa`id bin Ma`bad, and Ibn `Abbas. Al-Hakim recorded this Hadith in his Mustadrak from Ibn Jubayr, who narrated it from Ibn `Abbas. Al-Hakim said, "Its chain is Sahih and they (Al-Bukhari and Muslim) did not record it." Allah's statement, إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ(Verily, He is the One Who forgives (accepts repentance), the Most Merciful) (2:37) means that Allah forgives whoever regrets his error and returns to Him in repentance. This meaning is similar to Allah's statements, أَلَمْ يَعْلَمُواْ أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ(Know they not that Allah accepts repentance from His servants) (9:104), وَمَن يَعْمَلْ سُوءاً أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ(And whoever does evil or wrongs himself) (4:110) and وَمَن تَابَ وَعَمِلَ صَـلِحاً(And whosoever repents and does righteous good deeds) (25:71). The Ayat mentioned above, testify to the fact that Allah forgives the sins of whoever repents, demonstrating His kindness and mercy towards His creation and servants. There is no deity worthy of worship except Allah, the Most Forgiving, the Most Merciful.
اللہ تعالٰی کے عطا کردہ معافی نامہ کا متن ٭٭جو کلمات آدم علیہ السلام نے سیکھے تھے ان کا بیان خود قرآن میں موجود ہے۔ آیت «قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» [7-الأعراف:23] یعنی ان دونوں نے کہا اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اگر تو ہمیں نہ بخشے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو یقیناً ہم نقصان والے ہو جائیں گے۔ اکثر بزرگوں کا یہی قول ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:543/1] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے احکام حج سیکھنا بھی مروی ہے۔ عبید بن عمیر کہتے ہیں وہ کلمات یہ تھے کہ انہوں نے کہا الٰہی جو خطا میں نے کی کیا اسے میرے پیدا کرنے سے پہلے میری تقدیر میں لکھ دیا گیا تھا؟ یا میں نے خود اس کی ایجاد کی؟ جواب ملا کہ ایجاد نہیں بلکہ پہلے ہی لکھ دیا گیا اسے سن کر آپ علیہ السلام نے کہا پھر اے اللہ مجھے بخشش اور معافی مل جائے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ آدم علیہ السلام نے کہا الٰہی کیا تو نے مجھے اپنے ہاتھ سے پیدا نہیں کیا؟ اور مجھ میں اپنی روح نہیں پھونکی؟ میرے چھینکنے پر «یرحمک اللہ» نہیں کہا؟ کیا تیری رحمت غضب پر سبقت نہیں کر گئی؟ کیا میری پیدائش سے پہلے یہ خطا میری تقدیر میں نہیں لکھی تھی؟ جواب ملا کہ ہاں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:543/1] یہ سب میں نے کیا ہے تو کہا پھر یا اللہ میری توبہ قبول کر کے مجھے پھر جنت مل سکتی ہے یا نہیں؟ جواب ملا کہ ہاں۔ یہ کلمات یعنی چند باتیں تھیں جو آپ علیہ السلام نے اللہ سے سیکھ لیں۔صفحہ نمبر240ابن ابی حاتم ایک ایک مرفوع روایت میں ہے کہ آدم علیہ السلام نے کہا الٰہی اگر میں توبہ کروں اور رجوع کروں تو کیا جنت میں پھر بھی جا سکتا ہوں؟ جواب ملا کہ ہاں۔ اللہ سے کلمات کی تلقین حاصل کرنے کے یہی معنی ہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:410:منقطع و ضعیف] لیکن یہ حدیث غریب ہونے کے علاوہ منقطع بھی ہے۔ بعض بزرگوں سے مروی ہے کہ کلمات کی تفسیر ربنا ظلمنا اور ان سب باتوں پر مشتمل ہے مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ وہ کلمات یہ ہیں دعا «اللھم لا الہ الا انت سبحانک وبحمدک رب انی ظلمت نفسی فاغفرلی انک خیر الغافرین اللھم لا الہ الا انت سبحانک وبحمدک رب انی ظلمت نفسی فارحمنی انک خیرالراحمین اللھم لا الہ الا انت سبحانک وبحمدک رب انی ظلمت نفسی فتب علی انک انت التواب الرحیم» قرآن کریم میں اور جگہ ہے کیا لوگ نہیں جانتے کہا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے؟ اور جگہ ہے جو شخص کوئی برا کام کر گزرے یا اپنی جان پر ظلم کر بیٹھے پھر توبہ استغفار کرے تو وہ دیکھ لے گا کہ اللہ اس کی توبہ قبول کر لے گا اور اسے اپنے رحم و کرم میں لے لے گا۔ [4-النساء:110] اور جگہ ہے آیت «وَمَنْ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ يَتُوْبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا» [ 25۔ الفرقان: 71 ] ان سب آیتوں میں ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے، اسی طرح یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ وہ اللہ توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول کرنے والا اور بہت بڑے رحم و کرم والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس عام لطف و کرم، اس کے اس فضل و رحم کو دیکھو کہ وہ اپنے گنہگار بندوں کو بھی اپنے در سے محروم نہیں کرتا۔ سچ ہے اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، نہ اس سے زیادہ کوئی مہر و کرم والا نہ اس سے زیادہ کوئی خطا بخشنے والا اور رحم و بخشش عطا فرمانے والا۔صفحہ نمبر241
آیت 37 فَتَلَقّٰی اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْہِ ط اس کی وضاحت سورة الاعراف میں ہے۔ جب حضرت آدم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا حکم عتاب آمیز سنا اور جنت سے باہر آگئے تو سخت پشیمانی اور ندامت پیدا ہوئی کہ یہ میں نے کیا کیا ‘ مجھ سے کیسی خطا سرزد ہوگئی کہ میں نے اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کر ڈالی۔ لیکن ان کے پاس توبہ و استغفار کے لیے الفاظ نہیں تھے۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ کن الفاظ میں اللہ تعالیٰ سے معافی چاہیں۔ اللہ کی رحمت یہ ہوئی کہ اس نے الفاظ انہیں خود تلقین فرما دیے۔ یہ اللہ کی شان رحیمی ہے۔ توبہ کی اصل حقیقت انسان کے اندر گناہ پر ندامت کا پیدا ہوجانا ہے۔ اقبال نے عنفوان شباب میں جو اشعار کہے تھے ان میں سے ایک شعر کو سن کر اس وقت کے اساتذہ بھی پھڑک اٹھے تھے موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لیے قطرے جو تھے میرے عرق انفعال کے یعنی شرمندگی کے باعث میری پیشانی پر پسینے کے جو قطرے نمودار ہوگئے میرے پروردگار کو وہ اتنے عزیز ہوئے کہ اس نے انہیں موتیوں کی طرح چن لیا۔ حضرات آدم و حوا علیہ السلام کو جب اپنی غلطی پر ندامت ہوئی تو وہ گریہ وزاری میں مشغول ہوگئے۔ اس حالت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے انہیں چند کلمات القا فرمائے جن سے ان کی توبہ قبول ہوئی۔ وہ کلمات سورة الاعراف میں بیان ہوئے ہیں : رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَاسکتۃ وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ”اے ہمارے ربّ ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے ‘ اور اگر تو نے ہمیں بخش نہ دیا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم ضرور خسارہ پانے والوں میں ہوجائیں گے۔“ تباہ و برباد ہوجائیں گے۔اس مقام پر شیطنت اور آدمیت کا فوری تقابل موجود ہے۔ غلطی ابلیس سے بھی ہوئی ‘ اللہ کے حکم سے سرتابی ہوئی ‘ لیکن اسے اس پر ندامت نہیں ہوئی بلکہ وہ تکبر کی بنا پر مزید اکڑ گیا کہ ”اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ“ اور سرکشی کا راستہ اختیار کیا۔ دوسری طرف غلطی آدم سے بھی ہوئی ‘ نافرمانی ہوئی ‘ لیکن وہ اس پر پشیمان ہوئے اور توبہ کی۔ وہ طرزعمل شیطنت ہے اور یہ آدمیت ہے۔ ورنہ کوئی انسان گناہ سے اور معصیت سے مبراّ نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث ہے : کُلُّ بَنِیْ آدَمَ خَطَّاءٌ وَخَیْرُ الْخَطَّاءِیْنَ التَّوَّابُوْنَ 5”آدم علیہ السلام کی تمام اولاد خطاکار ہے ‘ اور ان خطاکاروں میں بہتر وہ ہیں جو توبہ کرلیں۔“حضرت آدم علیہ السلام سے غلطی ہوئی۔ انہیں اس پر ندامت ہوئی ‘ انہوں نے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔اِنَّہٗ ھُوَ التَّوَّاب الرَّحِیْمُ توبہ کا لفظ دونوں طرف سے آتا ہے۔ بندہ بھی توّاب ہے۔ ازروئے الفاظ قرآنی : اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَھِّرِیْنَ البقرۃ جبکہ توّاب اللہ تعالیٰ بھی ہے۔ اس کی اصل حقیقت سمجھ لیجیے۔ بندے نے خطا کی اور اللہ سے دور ہوگیا تو اللہ نے اپنی رحمت کی نگاہ اس سے پھیرلی۔ بندے نے توبہ کی تو اللہ پھر اپنی رحمت کے ساتھ اس کی طرف متوجہّ ہوگیا۔ توبہ کے معنی ہیں پلٹنا۔ بندہ معصیت سے توبہ کر کے اپنی اصلاح کی طرف ‘ بندگی کی طرف ‘ اطاعت کی طرف پلٹ آیا ‘ اور اللہ نے جو اپنی نظر رحمت بندے سے پھیرلی تھی ‘ پھر اپنی شان غفاری اور رحیمی کے ساتھ بندے کی طرف توجہ فرمالی۔ اس کے لیے حدیث میں الفاظ آتے ہیں :۔۔ وَاِنْ تَقَرَّبَ اِلَیَّ بِشِبْرٍ تَقَرَّبْتُ اِلَیْہِ ذِرَاعًا وَاِنْ تَقَرَّبَ اِلَیَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ اِلَیْہِ بَاعًا ‘ وَاِنْ اَتَانِیْ یَمْشِیْ اَتَیْتُہٗ ھَرْوَلَۃً 6”۔۔ اور اگر وہ میرا بندہ بالشت بھر میری طرف آتا ہے تو میں ہاتھ بھر اس کی طرف آتا ہوں ‘ اور اگر وہ ہاتھ بھر میری طرف آتا ہے تو میں دو ہاتھ اس کی طرف آتا ہوں ‘ اور اگر وہ چل کر میری طرف آتا ہے تو میں دوڑ کر اس کی طرف آتا ہوں۔“ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں راہ دکھلائیں کسے راہ رَوِ منزل ہی نہیں !وہ تو توّاب ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ ”تَابَ“ بندے کے لیے آئے گا تو ”اِلٰی“ کے صلہ کے ساتھ آئے گا۔ جیسے اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْکَ اور جب اللہ کے لیے آئے گا تو ’ عَلٰی“ کے صلہ کے ساتھ ”تَابَ عَلٰی“ آئے گا ‘ جیسے آیت زیر مطالعہ میں آیا : فَتَابَ عَلَیْہِ ۔ اللہ کی شان بہت بلند ہے۔ انسان توبہ کرتا ہے تو اس کی طرف توبہ کرتا ہے ‘ جبکہ اللہ کی شان یہ ہے کہ وہ بندے پر توبہ کرتا ہے۔
A question arises here as to how Satan got into Paradise for seducing Adam and Hawwa (علیہما السلام) when he had already been expelled from there for refusing to prostrate himself. There are many possible ways in which he can have played his trick. Possibly he never met them, but planted the suggestion in their minds from afar - a thing which Satan can always do, and of which we have a specimen in the work of the hypnotists. It is equally possible that Satan, being one of the jinns whom Allah has given certain unusual powers denied to man, assumed the shape of a snake or of something else, and thus succeeded in entering Paradise. Perhaps it was because of this disguise that Adam (علیہ السلام) did not remember Allah's warning that Satan was his enemy. According to the Holy Qur'an, Satan assured them on oath that he was one of their well-wishers (7:21). It apparently suggests that he did actually meet them, and speak to them face o face.The Holy Qur'an says that Satan فَأَخْرَجَهُمَا :"brought them out" of the state in which they had been living. In actual fact, they were 'brought out' under a divine command, but since Satan served as a means and as an intermediary, the action has been attributed to him.1717. The words of the Holy Qur'an do not in the least imply that Satan had any power whatsoever to act on his own. So, any Manichean dualism is totally out of the question.In commanding Adam and Hawwa (علیہما السلام) to go down fromParadise, Allah also said, بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ: 'Some of you (shall be the) enemies of some.' If Satan had not been turned out of the skies till then, he is included in this address, the implication being that the enmity between Satan on the one hand, and Adam and Hawwa' and their progeny on the other, would continue on the earth too. But if Satan, as some scholars maintain, had already been expelled, then the addressees are Adam and Hawwa' (علیہما السلام) and their progeny; the implication would now be that Adam and Hawwa (علیہما السلام) ' would have to undergo a double punishment, firstly that of being banished from Paradise, secondly that of seeing enmity arise among their children which must make life unpleasant for parents. (Baran al-Qur'an)They were also told that the earth would be a temporary dwelling-place for them, and that they would have to leave it too, which also meant that they would not find real peace of mind there.
Adam is the first human and first prophet according to Islamic theology. The Quran (2:30-39; 7:11-25) records: the angels' objection to his creation ('Will You place therein one who causes corruption?'), Allah teaching Adam the names of all things (a demonstration of human capacity for knowledge), the command to prostrate before Adam (which Iblis refused), placement in Paradise, and the descent to Earth after eating from the forbidden tree. Adam's repentance (7:23) — 'Our Lord, we have wronged ourselves' — is the first recorded du'a and model of seeking forgiveness.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.