The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-Baqarah • Ayah 259

Para 3 Surah 2 : 259
أَوْ كَٱلَّذِى مَرَّ عَلَىٰ قَرْيَةٍ وَهِىَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّىٰ يُحْىِۦ هَـٰذِهِ ٱللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا ۖ فَأَمَاتَهُ ٱللَّهُ مِا۟ئَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُۥ ۖ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ ۖ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ ۖ قَالَ بَل لَّبِثْتَ مِا۟ئَةَ عَامٍ فَٱنظُرْ إِلَىٰ طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ ۖ وَٱنظُرْ إِلَىٰ حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ ءَايَةً لِّلنَّاسِ ۖ وَٱنظُرْ إِلَى ٱلْعِظَامِ كَيْفَ نُنشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًا ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُۥ قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

أَوْ
كَٱلَّذِى
مَرَّ
عَلَىٰ
قَرْيَةٍ
وَهِىَ
خَاوِيَةٌ
عَلَىٰ
عُرُوشِهَا
قَالَ
أَنَّىٰ
يُحْىِۦ
هَـٰذِهِ
ٱللَّهُ
بَعْدَ
مَوْتِهَا
ۖ
فَأَمَاتَهُ
ٱللَّهُ
مِا۟ئَةَ
عَامٍ
ثُمَّ
بَعَثَهُۥ
ۖ
قَالَ
كَمْ
لَبِثْتَ
ۖ
قَالَ
لَبِثْتُ
يَوْمًا
أَوْ
بَعْضَ
يَوْمٍ
ۖ
قَالَ
بَل
لَّبِثْتَ
مِا۟ئَةَ
عَامٍ
فَٱنظُرْ
إِلَىٰ
طَعَامِكَ
وَشَرَابِكَ
لَمْ
يَتَسَنَّهْ
ۖ
وَٱنظُرْ
إِلَىٰ
حِمَارِكَ
وَلِنَجْعَلَكَ
ءَايَةً
لِّلنَّاسِ
ۖ
وَٱنظُرْ
إِلَى
ٱلْعِظَامِ
كَيْفَ
نُنشِزُهَا
ثُمَّ
نَكْسُوهَا
لَحْمًا
ۚ
فَلَمَّا
تَبَيَّنَ
لَهُۥ
قَالَ
أَعْلَمُ
أَنَّ
ٱللَّهَ
عَلَىٰ
كُلِّ
شَىْءٍ
قَدِيرٌ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Story of `UzayrAllah's statement,أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِى حَآجَّ إِبْرَهِيمَ فِى رِبِّهِ(Have you not looked at him who disputed with Ibrahim about his Lord) means, "Have you seen anyone like the person who disputed with Ibrahim about his Lord" Then, Allah connected the Ayah,أَوْ كَالَّذِى مَرَّ عَلَى قَرْيَةٍ وَهِىَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا(Or like the one who passed by a town in ruin up to its roofs) to the Ayah above by using `or'.Ibn Abi Hatim recorded that `Ali bin Abi Talib said that the Ayah 2:259 meant `Uzayr. Ibn Jarir also reported it, and this explanation was also reported by Ibn Jarir and Ibn Abi Hatim from Ibn `Abbas, Al-Hasan, Qatadah, As-Suddi and Sulayman bin Buraydah.Mujahid bin Jabr said that the Ayah refers to a man from the Children of Israel, and the village was Jerusalem, after Nebuchadnezzar destroyed it and killed its people.وَهِىَ خَاوِيَةٌ(in ruin) means, it became empty of people. Allah's statement,عَلَى عُرُوشِهَا(up to its roofs) indicates that the roofs and walls (of the village) fell to the ground. `Uzayr stood contemplating about what had happened to that city, after a great civilization used to inhabit it. He said,أَنَّى يُحْىِ هَـذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا(Oh! How will Allah ever bring it to life after its death) because of the utter destruction he saw and the implausibility of its returning to what it used to be. Allah said,فَأَمَاتَهُ اللَّهُ مِاْئَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ(So Allah caused him to die for a hundred years, then raised him up (again).)The city was rebuilt seventy years after the man (`Uzayr) died, and its inhabitants increased and the Children of Israel moved back to it. When Allah resurrected `Uzayr after he died, the first organ that He resurrected were his eyes, so that he could witness what Allah does with him, how He brings life back to his body. When his resurrection was complete, Allah said to him, meaning through the angel,كَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ("How long did you remain (dead)" He (the man) said: "(Perhaps) I remained (dead) a day or part of a day.")The scholars said that since the man died in the early part of the day and Allah resurrected him in the latter part of the day, when he saw that the sun was still apparent, he thought that it was the sun of that very day. He said,أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ قَالَ بَل لَّبِثْتَ مِاْئَةَ عَامٍ فَانظُرْ إِلَى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ("Or part of a day. " He said: "Nay, you have remained (dead) for a hundred years, look at your food and your drink, they show no change.")He had grapes, figs and juice, and he found them as he left them; neither did the juice spoil nor the figs become bitter nor the grapes rot.وَانظُرْ إِلَى حِمَارِكَ(And look at your donkey!), "How Allah brings it back to life while you are watching."وَلِنَجْعَلَكَ ءَايَةً لِلنَّاسِ(And thus We have made of you a sign for the people) that Resurrection occurs.وَانظُرْ إِلَى العِظَامِ كَيْفَ نُنشِزُهَا(Look at the bones, how We Nunshizuha) meaning, collect them and put them back together. In his Mustadrak, Al-Hakim, recorded that Kharijah bin Zayd bin Thabit said that his father said that the Messenger of Allah ﷺ read this Ayah,كَيْفَ نُنشِزُهَا(how We Nunshizuha.) Al-Hakim said; "Its chain is Sahih and they (Al-Bukhari and Muslim) did not record it." The Ayah was also read,(نُنْشِرُهَا)"Nunshiruha" meaning, bring them back to life, as Mujahid stated.ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًا(And clothe them with flesh. )As-Suddi said, " `Uzayr observed the bones of his donkey, which were scattered all around him to his right and left, and Allah sent a wind that collected the bones from all over the area. Allah then brought every bone to its place, until they formed a full donkey made of fleshless bones. Allah then covered these bones with flesh, nerves, veins and skin. Allah sent an angel who blew life in the donkeys' nostrils, and the donkey started to bray by Allah's leave." All this occurred while `Uzayr was watching, and this is when he proclaimed,قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ(He said, "I know (now) that Allah is able to do all things,") meaning, "I know that, and I did witness it with my own eyes. Therefore, I am the most knowledgeable in this matter among the people of my time."

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

سو سال بعد ٭٭اوپر جو واقعہ ابراہیم علیہ السلام کے مباحثہ کا گزرا، اس پر اس کا عطف ہے، یہ گزرنے والے یا تو عزیز علیہ السلام تھے، [تفسیر ابن ابی حاتم:1009/3] ‏ جیسا کہ مشہور ہے یا ارمیا بن خلقیا تھے اور یہ نام حضرت خضر علیہ السلام کا ہے، یا خرقیل بن بوار تھے، یا بنی اسرائیل میں کا ایک شخص تھا، یہ بستی بیت المقدس تھی اور یہی قول مشہور ہے، بخت نصر نے جب اسے اجاڑا یہاں کے باشندوں کو تہ تیغ کیا، مکانات گرا دئیے اور اس آباد بستی کو بالکل ویران کر دیا، اس کے بعد یہ بزرگ یہاں سے گزرے، انہوں نے دیکھا کہ ساری بستی تہ و بالا ہو گئی ہے، نہ مکان ہے نہ مکین، تو وہاں ٹھہر کر سوچنے لگے کہ بھلا ایسا بڑا پررونق شہر جو اس طرح اُجڑا ہے یہ پھر کیسے آباد ہو گا؟ اللہ تعالیٰ نے خود ان پر موت نازل فرمائی، تو اسی حالت میں رہے اور وہاں ستر سال کے بعد بیت المقدس پھر آباد ہو گیا، بھاگے ہوئے بنی اسرائیل بھی پھر آ پہنچے اور شہر کھچا کھچ بھر گیا، وہی اگلی سی رونق اور چہل پہل ہو گئی، اب سو سال کامل کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ کیا اور سب سے پہلے روح آنکھوں میں آئی تاکہ اپنا جی اُٹھنا خود دیکھ سکیں، جب سارے بدن میں روح پھونک دی گئی تو اللہ تعالیٰ نے فرشتے کے ذریعے پچھوایا کہ کتنی مدت تک تم مردہ رہے؟ جس کے جواب میں کہا کہ ابھی تک ایک دن بھی پورا نہ ہواصفحہ نمبر913وجہ یہ ہوئی کہ صبح کے وقت ان کی روح نکلی تھی اور سو سال کے بعد جب جئے ہیں تو شام کا وقت تھا، خیال کیا کہ یہ وہی دن ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم ایک سو سال کامل تک مردہ رہے، اب ہماری قدرت دیکھو کہ تمہارا توشہ بھتا جو تمہارے ساتھ تھا، باوجود سو سال گزر جانے کے بھی ویسا ہی ہے، نہ سڑا نہ خراب ہوا ہے۔ یہ توشہ انگور اور انجیر اور عصیر تھا نہ تو یہ شیرہ بگڑا تھا نہ انجیر کھٹے ہوئے تھے نہ انگور خراب ہوئے تھے بلکہ ٹھیک اپنی اصلی حالت پر تھے، اب فرمایا یہ تیرا گدھا جس کی بوسیدہ ہڈیاں تیرے سامنے پڑی ہیں، انہیں دیکھ تیرے دیکھتے ہوئے ہم اسے زندہ کرتے ہیں، ہم خود تیری ذات کو لوگوں کیلئے دلیل بنانے والے ہیں کہ انہیں قیامت کے دن اپنے دوبارہ جی اٹھنے پر یقین کامل ہو جائے، چنانچہ ان کے دیکھتے ہوئے ہڈیاں اٹھیں اور ایک ایک کے ساتھ جڑیں،صفحہ نمبر914مستدرک حاکم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت «نُنْشِرُھَا» زے کے ساتھ ہے، [مستدرک حاکم:234/2:ضعیف] ‏اور «نُنۡشِرہَا» رے کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے یعنی زندہ کریں گے، مجاہد رحمہ اللہ کی قرأت یہی ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:476/5] ‏ سدی رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں یہ ہڈیاں ان کے دائیں بائیں پھیل پڑی تھیں اور بوسیدہ ہونے کی وجہ سے ان کی سفیدی چمک رہی تھی، ہوا سے یہ سب یکجاں ہو گئیں، پھر ایک ایک ہڈی اپنی اپنی جگہ جڑ گئی اور ہڈیوں کا پورا ڈھانچہ قائم ہو گیا جس پر گوشت مطلق نہ تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اسے گوشت، رگیں، پٹھے، اور کھال پہنا دی، پھر فرشتے کو بھیجا جس نے اس کے نتھنے میں پھونک ماری، بس اللہ کے حکم سے اسی وقت زندہ ہو گیا اور آواز نکالنے لگا، ان تمام باتوں کو دیکھ کر عزیز علیہ السلام دیکھتے رہے اور قدرت کی یہ ساری کاریگری ان کی آنکھوں کے سامنے ہی ہوئی، جب یہ سب کچھ دیکھ چکے تو کہنے لگے اس بات کا علم تو مجھے تھا ہی کہ اللہ ہرچیز پر قادر ہے لیکن اب میں نے اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ لیا، تو میں اپنے زمانے کے تمام لوگوں سے زیادہ علم و یقین والا ہوں، بعض لوگوں نے اعلم کو اعلم بھی پڑھا ہے، یعنی اللہ مقتدر نے فرمایا کہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ کو ہرچیز پر قدرت ہے۔صفحہ نمبر915

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 259 اَوْ کَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰی قَرْیَۃٍ وَّہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوْشِہَا ج تفاسیر میں اگرچہ اس واقعے کی مختلف تعبیرات ملتی ہیں ‘ لیکن یہ دراصل حضرت عزیر علیہ السلام کا واقعہ ہے جن کا گزر یروشلم شہر پر ہوا تھا جو تباہ و برباد ہوچکا تھا۔ بابل عراق کے بادشاہ بخت نصر Nebuchadnezzar نے 586 ق م میں فلسطین پر حملہ کیا تھا اور یروشلم کو تاخت و تاراج کردیا تھا۔ اس وقت بھی عراق اور اسرائیل کی آپس میں بدترین دشمنی ہے۔ یہ دشمنی درحقیقت ڈھائی ہزار سال پرانی ہے۔ بخت نصر کے حملے کے وقت یروشلم بارہ لاکھ کی آبادی کا شہر تھا۔ بخت نصر نے چھ لاکھ نفوس کو قتل کردیا اور باقی چھ لاکھ کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکتا ہوا قیدی بنا کرلے گیا۔ یہ لوگ ڈیڑھ سو برس تک اسیری captivity میں رہے ہیں اور یروشلم اجڑا رہا ہے۔ وہاں کوئی متنفسّ زندہ نہیں بچا تھا۔ بخت نصر نے یروشلم کو اس طرح تباہ و برباد کیا تھا کہ کوئی دو اینٹیں سلامت نہیں چھوڑیں۔ اس نے ہیکل سلیمانی کو بھی مکمل طور پر شہید کردیا تھا۔ یہودیوں کے مطابق ہیکل کے ایک تہہ خانے میں تابوت سکینہ بھی تھا اور وہاں ان کے ربائی بھی موجود تھے۔ ہیکل مسمار ہونے پر وہیں ان کی موت واقع ہوئی اور تابوت سکینہ بھی وہیں دفن ہوگیا۔ تو جس زمانے میں یہ بستی اجڑی ہوئی تھی ‘ حضرت عزیر علیہ السلام کا ادھر سے گزر ہوا۔ انہوں نے دیکھا کہ وہاں کوئی متنفسّ زندہ نہیں اور کوئی عمارت سلامت نہیں۔ قَالَ اَنّٰی یُحْیٖ ہٰذِہِ اللّٰہُ بَعْدَ مَوْتِہَاج ان کا یہ سوال اظہار حیرت کی نوعیت کا تھا کہ اس طرح اجڑی ہوئی بستی میں دوبارہ کیسے احیا ہوسکتا ہے ؟ دوبارہ کیسے اس میں لوگ آکر آباد ہوسکتے ہیں ؟ اتنی بڑی تباہی و بربادی کہ کوئی متنفس باقی نہیں ‘ کوئی دو اینٹیں سلامت نہیں !فَاَمَاتَہُ اللّٰہُ ماءَۃَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَہٗ ط قَالَ کَمْ لَبِثْتَ ط قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ ط۔ ان کو ایسا محسوس ہوا جیسے تھوڑی دیر کے لیے سویا تھا ‘ شاید ایک دن یا دن کا کچھ حصہ میں یہاں رہا ہوں۔قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ ماءَۃَ عَامٍ اللہ تعالیٰ نے فرمایا بلکہ تم پورے سو سال اس حال میں رہے ہو فَانْظُرْ اِلٰی طَعَامِکَ وَشَرَابِکَ لَمْ یَتَسَنَّہْ ج۔ ان میں سے کوئی شے گلی سڑی نہیں ‘ ان کے اندر کوئی خرابی پیدا نہیں ہوئی۔وَانْظُرْ اِلٰی حِمَارِکَ حضرت عزیر علیہ السلام کی سواری کا گدھا اس عرصے میں بالکل ختم ہوچکا تھا ‘ اس کی بوسیدہ ہڈیاں ہی باقی رہ گئی تھیں ‘ گوشت گل سڑ چکا تھا۔ وَلِنَجْعَلَکَ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ یعنی اے عزیر علیہ السلام ! ہم نے تو خود تمہیں لوگوں کے لیے ایک نشانی بنانا ہے ‘ اس لیے ہم تمہیں اپنی یہ نشانی دکھا رہے ہیں تاکہ تمہیں دوبارہ اٹھائے جانے پر یقین کامل حاصل ہو۔وَانْظُرْ اِلَی الْعِظَامِ کَیْفَ نُنْشِزُہَا ثُمَّ نَکْسُوْہَا لَحْمًا ط چنانچہ حضرت عزیر علیہ السلام کے دیکھتے ہی دیکھتے ان کے گدھے کی ہڈیاں جمع ہو کر اس کا ڈھانچہ کھڑا ہوگیا اور پھر اس پر گوشت بھی چڑھ گیا۔فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗ لا حضرت عزیر علیہ السلام نے بچشم سر ایک مردہ جسم کے زندہ ہونے کا مشاہدہ کرلیا۔قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ انہیں یقین ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ اس اجڑی ہوئی بستی کو بھی دوبارہ آباد کرسکتا ہے ‘ اس کی آبادی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔حضرت عزیر علیہ السلام کو بنی اسرائیل کی نشاۃأثانیہ Renaissance کے نقیب کی حیثیت حاصل ہے۔ بابل کی اسارت کے دوران یہود اخلاقی زوال کا شکار تھے۔ جب حضرت عزیر علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے متذکرہ بالا مشاہدات کرا دیے تو آپ علیہ السلام نے وہاں جا کر یہود کو دین کی تعلیم دی اور ان کے اندر روح دین کو بیدار کیا۔ اس کے بعد ایران کے بادشاہ کیخورس Cyrus نے جب بابل عراق پر حملہ کیا تو یہودیوں کو اسارت captivity سے نجات دی اور انہیں دوبارہ فلسطین میں جا کر آباد ہونے کی اجازت دے دی۔ اس طرح یروشلم کی تعمیر نو ہوئی اور یہ بستی 136 سال بعد دوبارہ آباد ہوئی۔ پھر یہودیوں نے وہاں ہیکل سلیمانی دوبارہ تعمیر کیا جس کو وہ معبد ثانی Second Templeکہتے ہیں۔ پھر یہ ہیکل 70 عیسوی میں رومن جنرل ٹائٹس کے ہاتھوں تباہ ہوگیا اور اب تک دوبارہ تعمیر نہیں ہوسکا۔ دو ہزار برس ہونے کو آئے ہیں کہ ان کا کعبہ زمین بوس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر کے یہودیوں کے دلوں میں آگ سی لگی ہوئی ہے اور وہ مسجد اقصیٰ کو مسمار کر کے وہاں ہیکل سلیمانی معبد ثالث تعمیر کرنے کے لیے بےتاب ہیں۔ اس کے نقشے بھی تیار ہوچکے ہیں۔ بس کسی دن کوئی ایک دھماکہ ہوگا اور خبر آجائے گی کہ کسی جنونی fanatic نے وہاں جا کر بم رکھ دیا تھا ‘ جس کے نتیجے میں مسجد اقصیٰ شہید ہوگئی ہے۔ آپ کے علم میں ہوگا کہ ایک جنونی یہودی ڈاکٹر نے مسجد الخلیل میں 70 مسلمانوں کو شہید کر کے خود بھی خود کشی کرلی تھی۔ اسی طرح کوئی جنونی یہودی مسجد اقصیٰ میں بم نصب کر کے اس کو گرا دے گا اور پھر یہودی کہیں گے کہ جب مسجد مسمار ہو ہی گئی ہے تو اب ہمیں یہاں ہیکل تعمیر کرنے دیں۔ جیسے ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد ہندوؤں کا موقف تھا کہ جب مسجد گر ہی گئی ہے تو اب یہاں پر ہمیں رام مندر بنانے دو ! بہرحال یہ حضرت عزیر علیہ السلام کا واقعہ تھا۔ اب اسی طرح کا ایک معاملہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مشاہدہ ہے۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

The verse refers to Namrud نمرود ، the emperor of Babylon, who denied the very existence of God and had a debate with Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) on this issue. Allah has given him political power over a large territory. He should have been grateful to his Lord. But, on the contrary, his political power inflated him with pride and arrogance; he started denying the very existence of Him. It is in this context that the Holy Qur'an says: 'the one who argued with Ibrahim about his Lord, because Allah had given him kingship."In the course of argument, he asked Ibrahim (علیہ السلام) about the basic attributes of God. He replied, "My Lord is the One who gives life and brings death." The foolish king did not understand the real nature of 'giving life' and 'bringing death.' Therefore, he argued that he, too, can kill anyone through his order and bring thereby death to him and can also let off a person sentenced to death and give thereby life to him. Obviously, his argument was totally absurd, because 'giving life' means to give life to something lifeless56.56. And 'bringing death' means power which may remove the life from every living creature without a necessary intervention of an apparent cause.When Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) felt that his addressee is unable to understand the real nature of 'giving life' and 'bringing death,' he switched over to another argument and said, "Allah brings the sun out from the East, now, you bring it out from the West." Here the king was baffled and could not answer the Abrahimic argument. But even after the truth became clear to him, he did not accept the guidance. Hence the Qur'anic statement: "And Allah does not put the unjust people on the right path."Injunctions and related considerations1. It is evident from the words used in the verse that if an infidel is given political power or a high worldly status, there is no harm (for a Muslim) in referring to him as a holder of that position (Qurtubi).2. The verse also affirms the permissibility of having debate with such an infidel in order to manifest the difference between right and wrong.3. Some people doubt the validity of the last argument of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) ، because Namrud نمرود could have refuted it by a counter demand from Ibrahim (علیہ السلام) and could have said, "If there is a God, let Him bring the sun out from the West."But it is obvious that he could not come out with this counter-demand. The reason is that as soon as he heard the argument, he came to the conclusion that (he himself or anybody else cannot bring out the sun from the East or the West and) it is surely a divine function which proves the existence of God. And once it is proved that it is God who brings the sun out from the East, it necessarily follows from it that He has the power to bring it out from the West also. The king also came to the conclusion that Ibrahim (علیہ السلام) ، ac is the messenger of Allah, and if the prayed Allah to bring out the sun from the. West, Allah will do it, in which case such a miraculous event may bring a revolution against him and he may be deprived of his kingdom. Therefore, he did not make such a demand and having no other answer, was baffled with the argument. (Bayin al-Qur'an)

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.