Surah Al-Baqarah • Ayah 237
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The Wife gets half of Her Mahr if She is divorced before the Marriage is consummatedThis honorable Ayah is not a continuation of the Mut`ah (gift) that was mentioned in the previous Ayah (i.e., divorce before the marriage is consummated). This Ayah (2:237) requires the husband to relinquish half of the appointed Mahr if he divorces his wife before the marriage is consummated. If it was discussing any other type of gift, then it would have been mentioned that way, especially when this Ayah follows the previous Ayah related to this subject. Allah knows best. Giving away half of the bridal-money in this case is the agreed practice according to the scholars. So, the husband pays half of the appointed Mahr if he divorces his wife before consummating the marriage. Allah then said: إَّلا أَن يَعْفُونَ(unless they (the women) agree to remit it,) meaning, the wife forfeits the dowry and relieves the husband from further financial responsibility. As-Suddi said that Abu Salih mentioned that Ibn `Abbas commented on Allah's statement: إَّلا أَن يَعْفُونَ(unless they (the women) agree to remit it,) "Unless the wife forfeits her right."Furthermore, Imam Abu Muhammad bin Abu Hatim said that it was reported that Shurayh, Sa`id bin Musayyib, `Ikrimah, Mujahid, Ash-Sha`bi, Al-Hasan, Nafi`, Qatadah, Jabir bin Zayd, `Ata' Al-Khurasani, Ad-Dahhak, Az-Zuhri, Muqatil bin Hayyan, Ibn Sirin, Ar-Rabi` bin Anas and As-Suddi said similarly. Allah then said: أَوْ يَعْفُوَاْ الَّذِى بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ(...or he (the husband), in whose hands is the marriage tie, agrees to remit it.) Ibn Abu Hatim reported that `Amr bin Shu`ayb said that his grandfather narrated that the Prophet said: «وَلِيُّ عُقْدَةِ النِّكَاحِ الزَّوْج»(The husband is he who has the marriage tie.) Ibn Marduwyah also reported this Hadith, and it is the view chosen by Ibn Jarir. The Hadith states that the husband is the person who really holds the marriage tie in his hand, as it is up to him to go on with the marriage or end it. On the other hand, the Wali of the wife is not allowed to give away any of her rightful dues without her permission, especially the dowry. Allah then stated: وَأَن تَعْفُواْ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى(And to remit it is nearer to At-Taqwa (piety, righteousness).) Ibn Jarir said, "Some scholars said that this statement is directed at both men and women." Ibn `Abbas said: وَأَن تَعْفُواْ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى(And to remit it is nearer to At-Taqwa (piety, righteousness).) indicates that the one who forgives, is nearer to At-Taqwa (piety)." A similar statement was made by Ash-Sha`bi and several other scholars. Mujahid, An-Nakha`i, Ad-Dahhak, Muqatil bin Hayyan, Ar-Rabi` bin Anas and Thawri stated that `liberality' mentioned in the Ayah refers to the woman giving away her half Mahr, or the man giving away the full Mahr. This is why Allah said here: وَلاَ تَنسَوُاْ الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ(And do not forget liberality between yourselves.) meaning, kindness (or generosity), as Sa`id has stated. Allah said: إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ(Truly, Allah is All-Seer of what you do.) meaning, none of your affairs ever escapes His perfect Watch, and He will reward each according to his deeds. حَـفِظُواْ عَلَى الصَّلَوَتِ والصَّلَوةِ الْوُسْطَى وَقُومُواْ لِلَّهِ قَـنِتِينَ
مزید وضاحت ٭٭اس آیت میں صاف دلالت ہے اس امر پر کہ پہلی آیت میں جن عورتوں کیلئے متعہ مقرر کیا گیا تھا وہ صرف وہی عورتیں ہیں جن کا ذِکر اس آیت میں تھا کیونکہ اس آیت میں یہ بیان ہوا ہے کہ دخول سے پہلے جبکہ طلاق دے دی گئی ہو اور مہر مقرر ہو چکا ہو تو آدھا مہر دینا پڑے گا۔ اگر یہاں بھی اس کے سوا کوئی اور متعہ واجب ہوتا تو وہ ضرور ذِکر کیا جاتا کیونکہ دونوں آیتوں کی دونوں صورتوں میں ایک کے بعد ایک بیان ہو رہی ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ»، اس صورت میں جو یہاں بیان ہو رہی ہے آدھے مہر پر علماء کا اجماع ہے، لیکن تین کے نزدیک پورا مہر اس وقت واجب ہو جاتا ہے جبکہ خلوت ہو گئی یعنی میاں بیوی تنہائی کی حالت میں کسی مکان میں جمع ہو گئے، گو ہمبستری نہ ہوئی ہو۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی پہلا قول یہی ہے اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کا فیصلہ بھی یہی ہے، لیکن امام شافعی کی روایت سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اس صورت میں بھی صرف نصف مہر مقررہ ہی دینا پڑے گا، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں بھی یہی کہتا ہوں اور ظاہر الفاظ کتاب اللہ کے بھی یہی کہتے ہیں۔ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کے ایک راوی لیث بن ابی سلیم اگرچہ سند پکڑے جانے کے قابل نہیں لیکن ابن ابی طلحہ رحمہ اللہ سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ روایت مروی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہما کا فرمان یہی ہے، پھر فرماتا ہے کہ اگر عورتیں خود ایسی حالت میں اپنا آدھا مہر بھی خاوند کو معاف کر دیں تو یہ اور بات ہے اس صورت میں خاوند کو سب معاف ہو جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ثیبہ عورت اگر اپنا حق چھوڑ دے تو اسے اختیار ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:839/2] بہت سے مفسرین تابعین کا یہی قول ہے، محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد عورتوں کا معاف کرنا نہیں بلکہ مردوں کا معاف کرنا ہے۔ یعنی مرد اپنا آدھا حصہ چھوڑ دے اور پورا مہر دیدے لیکن یہ قول شاذ ہے کوئی اور اس قول کا قائل نہیں۔صفحہ نمبر846پھر فرماتا ہے کہ وہ معاف کر دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ ایک حدیث میں ہے اس سے مراد خاوند ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8358] سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے سوال ہوا کہ اس سے مراد کیا عورت کے اولیاء ہیں؟ فرمایا نہیں بلکہ اس سے مراد خاوند ہے۔ اور بھی بہت سے مفسرین سے یہی مروی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا جدید قول بھی یہی ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ وغیرہ کا بھی یہی مذہب ہے، اس لیے کہ حقیقتاً نکاح کو باقی رکھنا توڑ دینا وغیرہ یہ سب خاوند کے ہی اختیار میں ہے اور جس طرح ولی کو اس کی طرف سے جس کا ولی ہے، اس کے مال کا دے دینا جائز نہیں اسی طرح اس کے مہر کے معاف کر دینے کا بھی اختیار نہیں۔ دوسرا قول اس بارے میں یہ ہے کہ اس سے مراد عورت کے باپ بھائی اور وہ لوگ ہیں جن کی اجازت بغیر عورت نکاح نہیں کر سکتی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، علقمہ، حسن، عطاء، طاؤس، زہری، ربیعہ، زید بن اسلم، ابراہیم نخعی، عکرمہ، محمد بن سیرین رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے کہ ان دونوں بزرگوں کا بھی ایک قول یہی ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ کا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا قول قدیم بھی یہی ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ ولی نے ہی اس حق کا حقدار اسے کیا تھا تو اس میں تصرف کرنے کا بھی اسے اختیار ہے، گو اور مال میں ہیر پھیر کرنے کا اختیار نہ ہو، عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے معاف کر دینے کی رخصت عورت کو دی اور اگر وہ بخیلی اور تنگ دِلی کرے تو اس کا ولی بھی معاف کر سکتا ہے۔ گو وہ عورت سمجھدار ہو، شریح رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں لیکن جب شعبی رحمہ اللہ نے انکار کیا تو آپ نے اس سے رجوع کر لیا اور فرمانے لگے کہ اس سے مراد خاوند ہی ہے بلکہ وہ اس بات پر مباہلہ کو تیار رہتے تھے۔صفحہ نمبر847پھر فرماتا ہے کہ «وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ» [ البقرة: 241 ] تمہارا معاف کرنا ہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے، اس سے مراد مرد عورتیں دونوں ہی ہیں یعنی دونوں میں سے اچھا وہی ہے جو اپنا حق چھوڑ دے، یعنی عورت یا تو اپنا آدھا حصہ بھی اپنے خاوند کو معاف کر دے یا خاوند ہی اسے بجائے آدھے کے پورا مہر دیدے۔ آپس کی فضیلت یعنی احسان کو نہ بھولو، اسے بے کار نہ چھوڑو بلکہ اسے کام میں لاؤ۔ ابن مردویہ کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں پر ایک کاٹ کھانے والا زمانہ آئے گا، مومن بھی اپنے ہاتھوں کی چیز کو دانتوں سے پکڑ لے گا اور فضیلت و بزرگی کو بھول جائے گا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے اپنے آپس کے فضل کو نہ بھولو، برے ہیں وہ لوگ جو ایک مسلمان کی بے کسی اور تنگ دستی کے وقت اس سے سستے داموں اس کی چیز خریدتے ہیں۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بیع سے منع فرما دیا ہے۔ اگر تیرے پاس بھلائی ہو تو اپنے بھائی کو بھی وہ بھلائی پہنچا اس کی ہلاکت میں حصہ نہ لے۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، نہ اسے رنج و غم پہنچے نہ اسے بھلائیوں سے محروم رکھے، [سنن ابوداود:3382، قال الشيخ الألباني:ضعیف] حضرت عون بن عبداللہ حدیثیں بیان کرتے جاتے روتے جاتے یہاں تک کہ آنسو داڑھی سے ٹپکتے رہتے اور فرماتے میں مالداروں کی صحبت میں بیٹھا اور دیکھا کہ ہر وقت دِل ملول رہتا ہے کیونکہ جدھر نظر اٹھتی ہر ایک کو اپنے سے اچھے کپڑوں میں اچھی خوشبوؤں میں اور اچھی سواریوں میں دیکھتا، ہاں مسکینوں کی محفل میں میں نے بڑی راحت پائی، رب العالم یہی فرماتا ہے ایک دوسرے کی فضیلت فراموش نہ کرو، کسی کے پاس جب بھی کوئی سائل آئے اور اس کے پاس کچھ نہ ہو تو وہ اس کیلئے دُعائے خیر ہی کر دے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے خبردار ہے، اس پر تمہارے کام اور تمہارا حال بالکل روشن ہے اور عنقریب وہ ہر ایک عامل کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔صفحہ نمبر848
آیت 237 وَاِنْ طَلَّقْتُمُوْہُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْہُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَہُنَّ فَرِیْضَۃً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اس صورت میں مقرر شدہ مہر کا آدھا تو تمہیں دینا ہی دینا ہے۔اِلَّآ اَنْ یَّعْفُوْنَ یعنی کوئی عورت خود کہے کہ مجھے آدھا بھی نہیں چاہیے یا کوئی کہے کہ مجھے چوتھائی دے دیجیے۔اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّکَاحِ ط۔ اور یہ گرہ مرد کے ہاتھ میں ہے ‘ وہ اسے کھول سکتا ہے۔ عورت از خود طلاق دے نہیں سکتی۔ لہٰذا مردوں کے لیے ترغیب ہے کہ وہ اس معاملے میں فراخ دلی سے کام لیں۔وَاَنْ تَعْفُوْآ اَقْرَبُ للتَّقْوٰی ط وَلاَ تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ ط اس کا ترجمہ یوں بھی کیا گیا ہے : اور تمہارے درمیان ایک کو دوسرے پر جو فضیلت ہے اس کو مت بھولو۔ یعنی اللہ نے جو فضیلت تم مردوں کو عورتوں پر دی ہے اس کو مت بھولو۔ چناچہ تمہارا طرز عمل بھی ایسا ہونا چاہیے کہ تم اپنے بڑے ہونے کے حساب سے ان کے ساتھ نرمی کرو اور ان کو زیادہ دو۔ تم نے ان کا جتنا بھی مہر مقرر کیا تھا وہ نصف کے بجائے پورا دے دو اور انہیں معروف طریقے سے عزت و تکریم کے ساتھ رخصت کرو۔
In the second situation, when the woman's dower has been fixed before marriage and divorce occurs before actual consummation, the injunction says that the man shall be obligated to pay half of the dower already fixed. However, should the woman forgive, or should the man pay the whole, this will be a matter of free choice, as is evident from the verse:إِلَّا أَن يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِUnless they (the women) forgive, or forgives the one in whose hand lies the marriage tie. (2:237)The use of the word ya` fu يَعْفُوَ ('forgives' ) to cover even the payment of full dower, perhaps, reflects the customary Arab practice of the payment of dower amount simultaneously with the marriage. If so, the husband has become, in the event of a pre-consummation divorce, deserving of taking half of the dower back. Now, if he yields voluntarily and does not take his half back, this too, would virtually be an act of forgiving. And the act of forgiving has been declared more merit-worthy, and closer to Tagwa (the sense of being responsible to Allah, commonly rendered as piety or fear or righteousness in absence of an exact equivalent); because this forgiveness symbolically indicates that the severance of the bond of marriage was also done with magnanimity and good grace, which is the objective of the Shari'ah and certainly, deserving of great merit -- the forgiveness could come from the woman, or from the man, it does not matter.Explaining the words of the verse الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ whose hands lies the marriage tie), the Holy Prophet ﷺ has himself said: ولی عُقْدَةُ النِّكَاحِ , that is, 'the husband is the guardian (wali) of the bond of marriage.' This hadith appears in Darqutni as narrated by ` Amr ibn Shu'ayb from his father on the authority of his grandfather, and also from Sayyidna ` Aii ؓ and Sayyidna ibn ` Abbas ؓ (Qurtubi).This also proves that the authority to continue or terminate the bond of marriage rests with the husband. It is he who can pronounce talaq (divorce). The woman cannot divorce her husband.
The Quran (4:4) mandates that men give women a marriage gift (mahr/sadaq) that belongs entirely to the wife: 'And give the women [upon marriage] their [bridal] gifts graciously.' Unlike dowry (paid by bride's family), mahr was paid TO the woman BY the groom, becoming her sole property. This was revolutionary in 7th-century Arabia where women were property themselves. The Quran (4:19-21) further prohibited men from taking back mahr upon divorce without the woman's consent, establishing women's economic rights in marriage contracts 1,400 years before Western marriage property law.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.