The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-Baqarah • Ayah 108

Para 1 Surah 2 : 108
أَمْ تُرِيدُونَ أَن تَسْـَٔلُوا۟ رَسُولَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوسَىٰ مِن قَبْلُ ۗ وَمَن يَتَبَدَّلِ ٱلْكُفْرَ بِٱلْإِيمَـٰنِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

أَمْ
تُرِيدُونَ
أَن
تَسْـَٔلُوا۟
رَسُولَكُمْ
كَمَا
سُئِلَ
مُوسَىٰ
مِن
قَبْلُ
ۗ
وَمَن
يَتَبَدَّلِ
ٱلْكُفْرَ
بِٱلْإِيمَـٰنِ
فَقَدْ
ضَلَّ
سَوَآءَ
ٱلسَّبِيلِ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Prohibition of Unnecessary QuestionsIn this Ayah, Allah forbade the believers from asking the Prophet numerous questions about matters that did not occur yet. Similarly, Allah said,يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ لاَ تَسْأَلُواْ عَنْ أَشْيَآءَ إِن تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ وَإِن تَسْأَلُواْ عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ الْقُرْءَانُ تُبْدَ لَكُمْ(O you who believe! Ask not about things which, if made plain to you, may cause you trouble. But if you ask about them while the Qur'an is being revealed, they will be made plain to you) (5:101).This Ayah means, "If you ask about a matter after it is revealed, it shall be duly explained to you. Therefore, do not ask about matters that have not occurred yet, for they might become prohibited, due to your questions." This is why the Sahih narrated,«إِنَّ أَعْظَمَ الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ لَمْ يُحَرَّمْ، فَحُرِّمَ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِه»(The greatest criminal among the Muslims is the one who asks if a thing is prohibited, which is not prohibited, and it becomes prohibited because of his asking about it.)This is why when the Messenger of Allah ﷺ was asked about a husband who finds another man with his wife; if he exposes the adultery, he will be exposing a major incident; if he is quiet about it, he will be quiet about a major matter. The Messenger of Allah ﷺ did not like such questions. Later on, Allah revealed the ruling of Mula`anah Refer to Nur 24:6-9 in the Qur'an. The Two Sahihs recorded that Al-Mughirah bin Shu`bah said that the Messenger of Allah ﷺ "Forbade saying, `It was said' and `He said,' and wasting money and asking many questions." Muslim recorded that the Prophet said,«ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلى أَنْبِيَائِهِمْ، فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَإِنْ نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوه»(Leave me as I leave you; those before you were only destroyed because of their excessive questioning and disputing with their Prophets. Therefore, when I command you with a matter, adhere to it as much as you can, and when I forbid from something, avoid it.)The Prophet only said this after he told the Companions that Allah has ordered them to perform Hajj. A man asked, "Every year, O Messenger of Allah ﷺ" The Prophet did not answer him, but he repeated his question three times. Then the Prophet said,«لَا، وَلَوْ قُلْتُ: نَعَمْ، لَوَجَبَتْ وَلَوْ وَجَبَتْ لَمَا اسْتَطَعْتُم»(No. Had I said yes, it would have been ordained, and you would not have been able to implement it.)This is why Anas bin Malik said, "We were forbidden from asking the Messenger of Allah ﷺ about things. So we were delighted when a bedouin man would come and ask him while we listened."Muhammad bin Ishaq said that Muhammad bin Abi Muhammad told him that `Ikrimah or Sa`id said that Ibn `Abbas said that Rafi` bin Huraymilah or Wahb bin Zayd said, "O Muhammad! Bring us a Book sent down from heaven and which we could read, and make some rivers flow for us, then we will follow you and believe in you." Allah sent down the answer to this challenge,أَمْ تُرِيدُونَ أَن تَسْـَلُواْ رَسُولَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوسَى مِن قَبْلُ وَمَن يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالإِيمَـنِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِيلِ(Or do you want to ask your Messenger (Muhammad ) as Musa was asked before (i.e. show us openly our Lord) And he who changes faith for disbelief, verily, he has gone astray from the right way).Allah criticized those who ask the Messenger of Allah ﷺ about a certain matter just for the purpose of being difficult, just as the Children of Israel asked Musa out of stubbornness, rejection and rebellion. Allah said,وَمَن يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالإِيمَـنِ(And he who changes faith for disbelief) meaning, whoever prefers disbelief to faith,فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِيلِ(verily, he has gone astray from the right way) meaning, he has strayed from the straight path, to the path of ignorance and misguidance. This is the case of those who deviated from accepting the Prophets and obeying them and those who kept asking their Prophets unnecessary questions in defiance and disbelief, just as Allah said,أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُواْ نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّواْ قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ - جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ(Have you not seen those who have changed the blessings of Allah into disbelief (by denying Prophet Muhammad ﷺ and his Message of Islam), and caused their people to dwell in the house of destruction Hell, in which they will burn and what an evil place to settle in!) (14:28-29).Abu Al-`Aliyah commented, "They exchanged comfort for hardship."

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

کثرت سوال حجت بازی کے مترادف ہے! ٭٭اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو روکتے ہوئے فرماتا ہے کہ کسی واقعہ کے ہونے سے پہلے میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فضول سوال نہ کیا کو۔ یہ کثرت سوال کی عادت بہت بری ہے جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت «يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــــَٔـلُوْا عَنْ اَشْيَاءَ» [ 5۔ المائدہ: 101 ] ‏ ایمان والو ان چیزوں کا سوال نہ کیا کرو جو اگر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں برا لگے گا اور اگر تم قرآن کے نازل ہونے کے زمانہ میں ایسے سوالوں کا سلسلہ جاری رکھو گے تو یہ باتیں ظاہر کر دی جائیں گی۔ کسی بات کے واقع ہونے سے پہلے اس کی نسبت سوال کرنے میں خوف یہ ہے کہ کہیں اس سوال کی وجہ سے وہ حرام نہ ہو جائیں صحیح حدیث میں ہے کہ مسلمانوں میں سے بڑا مجرم وہ ہے جو اس چیز کے بارے میں سوال کرے جو حرام نہ تھی پھر اس کے سوال سے حرام ہو گئی۔ [صحیح بخاری:7289] ‏ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا۔ کہ ”ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ غیر مرد کو پائے تو کیا کرے؟ اگر لوگوں کو خبر کرے تو یہ بھی بڑی بے شرمی کی بات ہے اور اگر چپ ہو جائے تو بڑی بے غیرتی کی بات ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سوال بہت برا معلوم ہوا آخر اسی شخص کو ایسا واقعہ پیش آیا اور لعان کا حکم نازل ہوا۔ [صحیح بخاری:5259] ‏صفحہ نمبر443صحیحین کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فضول بکواس، مال کو ضائع کرنے اور زیادہ پوچھ گچھ سے منع فرمایا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:2408] ‏ صحیح مسلم میں ہے میں جب تک کچھ نہ کہوں، تم بھی نہ پوچھو تم سے پہلے لوگوں کو اسی بدخصلت نے ہلاک کر دیا کہ وہ بکثرت سوال کرتے تھے اور اپنے نبیوں کے سامنے اختلاف کرتے تھے۔ جب میں تمہیں کوئی حکم دوں تو اپنی طاقت کے مطابق بجا لاؤ اور اگر منع کروں تو رک جایا کرو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا تھا جب لوگوں کو خبر دی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تم پر حج فرض کیا ہے تو کسی نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اس نے پھر پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہ دیا اس نے تیسری دفعہ پھر یہی سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر سال نہیں لیکن اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال فرض ہو جاتا اور پھر تم کبھی بھی اس حکم کو بجا نہ لا سکتے۔ [صحیح مسلم:1337] ‏ پھر آپ نے مندرجہ بالا فرمان ارشاد فرمایا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب ہمیں آپ سے سوال کرنے سے روک دیا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہیں ہیبت کھاتے تھے چاہتے تھے کہ کوئی بادیہ نشین ناواقف شخص آ جائے وہ پوچھے تو ہم بھی سن لیں۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں کوئی سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کرنا چاہتا تھا تو سال سال بھر گزر جاتا تھا کہ مارے ہیبت کے پوچھنے کی جرات نہیں ہوتی تھی ہم تو خواہش رکھتے تھے کہ کوئی اعرابی آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کر بیٹھے پھر ہم بھی سن لیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر کوئی جماعت نہیں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف بارہ ہی مسئلے پوچھے جو سب سوال مع جواب کے قرآن پاک میں مذکورہ ہیں جیسے شراب وغیرہ کا سوال حرمت والے مہینوں کی بابت کا سوال، یتیموں کی بابت کا سوال وغیرہ وغیرہ۔ یہاں پر «ام» یا تو «بل» کے معنی میں ہے یا اپنے اصلی معنی میں ہے یعنی سوال کے بارے میں جو یہاں پر انکاری ہے یہ حکم مومن کافر سب کو ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سب کی طرف تھی قرآن میں اور جگہ ہے آیت «يَسْأَلُكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَن تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتَابًا مِّنَ السَّمَاءِ فَقَدْ سَأَلُوا مُوسَىٰ أَكْبَرَ مِن ذَٰلِكَ فَقَالُوا أَرِنَا اللَّـهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ» [ 4۔ النسآء: 153 ] ‏ اہل کتاب تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ان پر کوئی آسمانی کتاب اتارے انہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے اس سے بھی بڑا سوال کیا تھا کہ اللہ کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں جس ظلم کی وجہ سے انہیں ایک تند و تیز آواز سے ہلاک کر دیا گیا۔ رافع بن حرملہ اور وہب بن زید نے کہا تھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی آسمانی کتاب ہم پر نازل کیجئے جسے ہم پڑھیں اور ہمارے شہروں میں دریا جاری کر دیں تو ہم آپ کو مان لیں اس پر یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:490/2] ‏صفحہ نمبر444ابو العالیہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاش کہ ہمارے گناہوں کا کفارہ بھی اسی طرح ہو جاتا جس طرح بنی اسرائیل کے گناہوں کا کفارہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنتے ہی تین دفعہ جناب باری تعالیٰ میں عرض کی کہ ”نہیں اللہ نہیں“ ہم یہ نہیں چاہتے پھر فرمایا سنو بنو اسرائیل میں سے جہاں کوئی گناہ کرتا اس کے دروازے پر قدرتاً لکھا ہوا پایا جاتا اور ساتھ ہی اس کا کفارہ بھی لکھا ہوا ہوتا تھا اب یا تو دنیا کی رسوائی کو منظور کر کے کفارہ ادا کر دے اور اپنے پوشیدہ گناہوں کو ظاہر کرے یا کفارہ نہ دے اور آخرت کی رسوائی منظور کرے لیکن تم سے اللہ تعالیٰ نے فرما دیا آیت «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» [ 4۔ النسآء: 110 ] ‏ یعنی جس سے کوئی برا کام ہو جائے یا وہ اپنی جان پر ظلم کر بیٹھے پھر استغفار کرے تو وہ اللہ کو بہت بڑا بخشش اور مہربانی کرنے والا پائے گا۔ اسی طرح ایک نماز دوسری نماز تک گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہے پھر جمعہ دوسرے جمعہ تک کفارہ ہو جاتا ہے۔ [صحیح مسلم:233] ‏ سنو جو شخص برائی کا ارادہ کرے لیکن برائی نہ کرے تو برائی لکھی نہیں جاتی اور اگر کر گزرے تو ایک ہی برائی لکھی جاتی ہے اور اگر بھلائی کا ارادہ کرے پھر گو نہ کرے لیکن بھلائی لکھ لی جاتی ہے اور اگر کر بھی لے تو دس بھلائیاں لکھی جاتی ہیں اب بتاؤ تم اچھے رہے یا بنی اسرائیل؟ تم بنی اسرائیل سے بہت ہی اچھے ہو ہاں باوجود اتنے کرم اور رحم کے پھر بھی کوئی ہلاک ہو تو سمجھو کہ یہ خود ہلاک ہونے والا ہی تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:1786:مرسل و ضعیف] ‏صفحہ نمبر445قریشیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اگر صفا پہاڑ سونے کا ہو جائے تو ہم ایمان لاتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا لیکن پھر مائدہ [ آسمانی دستر خوان ] ‏ مانگنے والوں کا جو انجام ہوا وہی تمہارا بھی ہو گا اس پر وہ انکاری ہو گئے اور اپنے سوال کو چھوڑ دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:1783:مرسل و ضعیف] ‏ مراد یہ ہے کہ تکبر عناد سرکشی کے ساتھ نبیوں سے سوال کرنا نہایت مذموم حرکت ہے جو کفر کو ایمان کے بدلے مول لے اور آسانی کو سختی سے بدلے وہ سیدھی راہ سے ہٹ کر جہالت و ضلالت میں گھر جاتا ہے اسی طرح غیر ضروری سوال کرنے والا بھی جیسے اور جگہ ہے آیت «اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ» [ 14-إبراهيم: 28، 29 ] ‏ کیا تو انہیں نہیں دیکھتا جو اللہ کی نعمت کو کفر سے بدلتے ہیں اور اپنی قوم کو ہلاکت میں ڈالتے ہیں وہ جہنم میں داخل ہوں گے اور وہ بڑی بری قرار گاہ ہے۔صفحہ نمبر446

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 108 اَمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَسْءَلُوْا رَسُوْلَکُمْ کَمَا سُءِلَ مُوْسٰی مِنْ قَبْلُ ط مثلاً ان سے کہا گیا کہ ہم آپ کی بات نہیں مانیں گے جب تک کہ اللہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لیں۔ اسی طرح کے اور بہت سے مطالبے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کیے جاتے تھے۔ یہاں مسلمانوں کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ اس روش سے باز رہو ‘ ایسی بات تمہارے اندر پیدا نہیں ہونی چاہیے۔ وَمَنْ یَّتَبَدَّلِ الْکُفْرَ بالْاِِیْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآء السَّبِیْلِ ظاہر ہے کہ جو منافقین اہل ایمان کی صفوں میں شامل تھے وہی ایسی حرکتیں کر رہے ہوں گے۔ اس لیے فرمایا کہ جو کوئی ایمان کو ہاتھ سے دے کر کفر کو اختیار کرلے گا وہ تو راہ راست سے بھٹک گیا۔ منافق کا معاملہ دو طرفہ ہوتا ہے ‘ چناچہ قرآن حکیم میں منافقین کے لیے مُذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِکَ کے الفاظ آئے ہیں۔ اب اس کا بھی امکان ہوتا ہے کہ وہ کفر کی طرف یکسو ہوجائے اور اس کا بھی امکان ہوتا ہے کہ بالآخر ایمان کی طرف یکسو ہوجائے۔ جو شخص ایمان اور کفر کے درمیان معلقّ ہے اس کے لیے یہ دونوں امکانات ہیں۔ جو کفر کی طرف جا کر مستقل طور پر ادھر راغب ہوگیا یہاں اس کا ذکر ہے۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

Hostility to the Holy Prophet ﷺ had become so habitual to the Jews that they were always making insolent demands. Once they asked him to bring before them whole of the Qur'an all at once just as the Torah had been revealed.In reprimanding them for making such improper demands on the prophets of their time, the verse reminds them how their forefathers too had done the same - for example, they had asked Sayyidna Musa (Moses علیہ السلام) to help them to see Allah openly with their physical eyes. In such cases, the intention of the Jews had never been to seek guidance or to satisfy their doubts or to strengthen their faith, but only to cast aspersions on a prophet, or to question the wisdom of Allah. The verse indicts this behavior as Kufr (infidelity). Such demands are improper, because there is a raison d'etre for everything Allah does, but divine wisdom alone knows what that is, and the creature has no right to determine the precise mode of his Creator's acts -- he should not even ask the why and wherefore of a divine action, but accept it and submit himself to the Divine Will.If one takes this verse as having been addressed to the Muslims, it would mean that they are being warned against making improper demands on the Holy Prophet ﷺ .

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.