Surah Al-Kahf • Ayah 92
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
His Journey to the Land of Ya'juj and Ma'juj, and building the BarrierAllah says of Dhul-Qarnayn:ثُمَّ أَتْبَعَ سَبَباً (Then he followed (another) way) meaning, he traveled from the east of the earth until he reached a place between the two mountains which were next to one another with a valley in between, from which Ya'juj and Ma'juj (God and Magog) will emerge into the land of the Turks and spread mischief there, destroying crops and people. Ya'juj and Ma'juj are among the progeny of Adam, peace be upon him, as was recorded in the Two Sahihs;«إِنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ: يَا آدَمُ فَيَقُولُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ فَيَقُولُ: ابْعَثْ بَعْثَ النَّارِ، فَيَقُولُ: وَمَا بَعْثُ النَّارِ؟ فَيَقُولُ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعُمِائَةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ إِلَى النَّارِ وَوَاحِدٌ إِلَى الْجَنَّةِ، فَحِينَئِذٍ يَشِيبُ الصَّغِيرُ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا. فَقَالَ: إِنَّ فِيكُمْ أُمَّتيْنِ مَا كَانَتَا فِي شَيْءٍ إِلَّا كَثَّرَتَاهُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوج»"Allah said: "O Adam." Adam said, "Here I am at Your service." Allah said, "Send forth the group of Hellfire." Adam said, "What is the group of Hellfire" Allah said: "Out of every thousand, nine hundred and ninety-nine will go to Hell and one will go to Paradise." At that time young men will turn grey and every pregnant female will drop her load. Among you are two nations who never come to anything but they overwhelm it with their huge numbers. (They are) Ya'juj and Ma'juj."وَجَدَ مِن دُونِهِمَا قَوْماً لاَّ يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ قَوْلاً(he found before them a people who scarcely understood a word. ) he could not understand their speech, because they were so isolated from other people.قَالُواْ يذَا الْقَرْنَيْنِ إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مُفْسِدُونَ فِى الاٌّرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجاً(They said: "O Dhul-Qarnayn! Verily, Ya'juj and Ma'juj are doing great mischief in the land. Shall we then pay you a tribute") Ibn Jurayj reported from `Ata' from Ibn `Abbas that this meant a great reward, i.e., they wanted to collect money among themselves to give to him so that he would create a barrier between them and Ya'juj and Ma'juj. Dhul-Qarnayn said with kindness, righteousness and good intentions,مَا مَكَّنِّى فِيهِ رَبِّى خَيْرٌ(That in which my Lord had established me is better (than your tribute).) meaning, the power and authority that Allah has given me is better for me than what you have collected. This is like when Sulayman (Solomon), peace be upon him, said:أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ فَمَآ ءَاتَـنِى اللَّهُ خَيْرٌ مِّمَّآ ءَاتَـكُمْ(Will you help me in wealth What Allah has given me is better than that which He has given you!) 27:36 Similarly, Dhul-Qarnayn said: `What I have is better than what you want to give me, but help me with strength,' i.e., with your labor and construction equipment,أَجْعَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ رَدْمًاءَاتُونِى زُبَرَ الْحَدِيدِ(I will erect between you and them a barrier. Give me Zubar of iron,) Zubar is the plural of Zubrah, which means pieces or chunks of something. This was the view of Ibn `Abbas, Mujahid and Qatadah. These pieces were like bricks or blocks, and it was said that each block weighed one Damascene Qintar or more.حَتَّى إِذَا سَاوَى بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ(then, when he had filled up the gap between the two mountain-cliffs,) means, he put the blocks on top of one another, starting at the bottom, until he reached the tops of the mountains, filling the width and height of the gap. The scholars differed about the precise width and height.قَالَ انفُخُواْ(he said: "Blow;") means, he lit a fire until the whole thing was burning hot.قَالَ آتُونِى أُفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْراً(he said: "Bring me Qitran to pour over them.") Ibn `Abbas, Mujahid, `Ikrimah, Ad-Dahhak, Qatadah and As-Suddi said it was copper. Some of them added that it was molten. This is similar to the Ayah:وَأَسَلْنَا لَهُ عَيْنَ الْقِطْرِ(And We caused a fount of Qitran to flow for him) 34:12. So it resembled a striped cloak. Then Allah said:
یاجوج ماجوج ٭٭اپنے شرقی سفر کو ختم کر کے پھر ذوالقرنین وہیں مشرق کی طرف ایک راہ چلے۔ دیکھا کہ دو پہاڑ ہیں جو ملے ہوئے ہیں لیکن ان کے درمیان ایک گھاٹی ہے، جہاں سے یاجوج ماجوج نکل کر ترکوں پر تباہی ڈالا کرتے ہیں، انہیں قتل کرتے ہیں، کھیت باغات تباہ کرتے ہیں، بال بچوں کو بھی ہلاک کرتے ہیں اور سخت فساد برپا کرتے رہتے ہیں۔ یاجوج ماجوج بھی انسان ہیں جیسے کہ بخاری و مسلم کی حدیث سے ثابت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، اللہ عزوجل آدم علیہ السلام سے فرمائے گا کہ اے آدم! آپ لبیک وسعدیک کے ساتھ جواب دیں گے، حکم ہو گا آگ کا حصہ الگ کر، پوچھیں گے کتنا حصہ؟ حکم ہو گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے دوزخ میں اور ایک جنت میں۔ یہی وہ وقت ہو گا کہ بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور ہر حاملہ کا حمل گر جائے گا۔ پھر حضور علیہ السلام نے فرمایا تم میں دو امتیں ہیں کہ وہ جن میں ہوں انہیں کثرت کو پہنچا دیتی ہیں یعنی یاجوج ماجوج۔ [صحیح بخاری:6530] صفحہ نمبر4986امام نووی رحمہ اللہ نے شرح صحیح مسلم میں ایک عجیب بات لکھی ہے وہ لکھتے ہیں کہ آدم علیہ السلام کے خاص پانی کے چند قطرے جو مٹی میں گرے تھے، انہی سے یاجوج ماجوج پیدا کئے گئے ہیں۔ گویا وہ حواء اور آدم علیہ السلام کی نسل سے نہیں بلکہ صرف نسل آدم علیہ السلام سے ہیں۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہ قول بالکل ہی غریب ہے نہ اس پر عقلی دلیل ہے نہ نقلی اور ایسی باتیں جو اہل کتاب سے پہنچتی ہیں، وہ ماننے کے قابل نہیں ہوتیں۔ بلکہ ان کے ہاں کے ایسے قصے ملاوٹی اور بناوٹی ہوتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مسند احمد میں حدیث ہے کہ نوح علیہ السلام کے تین لڑکے تھے سام، حام اور یافث۔ سام کی نسل سے کل عرب ہیں اور حام کی نسل سے کل حبشی ہیں اور یافث کی نسل سے کل ترک ہیں۔ بعض علماء کا قول ہے کہ یاجوج ماجوج ترکوں کے اس جد اعلیٰ یافث کی ہی اولاد ہیں، انہیں ترک اس لیے کہا گیا ہے کہ انہیں بوجہ ان کے فساد اور شرارت کے انسانوں کی دیگر آبادی کے پس پشت پہاڑوں کی آڑ میں چھوڑ دیا گیا تھا۔صفحہ نمبر4987امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ذوالقرنین کے سفر کے متعلق اور اس دیوار کے بنانے کے متعلق اور یاجوج ماجوج کے جسموں، ان کی شکلوں اور ان کے کانوں وغیرہ کے متعلق وہب بن منبہ سے ایک بہت لمبا چوڑا واقعہ اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے جو علاوہ عجیب و غریب ہونے کے صحت سے دور ہے۔ ابن ابی حاتم میں بھی ایسے بہت سے واقعات درج ہیں لیکن سب غریب اور غیر صحیح ہیں۔ ان پہاڑوں کے درے میں ذوالقرنین نے انسانوں کی ایک آبادی پائی جو بوجہ دنیا کے دیگر لوگوں سے دوری کے اور ان کی اپنی مخصوص زبان کے اوروں کی بات بھی تقریبا نہیں سمجھ سکتے تھے۔ ان لوگوں نے ذوالقرنین کی قوت وطاقت، عقل و ہنر کو دیکھ کر درخواست کی کہ اگر آپ رضا مند ہوں تو ہم آپ کے لیے بہت سا مال جمع کر دیں اور آپ ان پہاڑوں کے درمیان کی گھاٹی کو کسی مضبوط دیوار سے بند کر دیں تاکہ ہم ان فسادیوں کی روزمرہ کی ان تکالیف سے بچ جائیں۔ اس کے جواب میں ذوالقرنین نے فرمایا، مجھے تمہارے مال کی ضرورت نہیں اللہ کا دیا سب کچھ میرے پاس موجود ہے اور وہ تمہارے مال سے بہت بہتر ہے۔ یہی جواب سلیمان علیہ السلام کی طرف سے ملکہ سبا کے قاصدوں کو دیا گیا تھا «أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ فَمَا آتَانِيَ اللَّـهُ خَيْرٌ مِّمَّا آتَاكُم بَلْ أَنتُم بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ» [ 27-النمل: 36 ] ۔ ذوالقرنین نے اپنے اس جواب کے بعد فرمایا کہ ہاں تم اپنی قوت وطاقت اور کام کاج سے میرا ساتھ دو تو میں تم میں اور ان میں ایک مضبوط دیوار کھڑی کر دیتا ہوں۔ زبر جمع ہے زبرۃ کی۔ ذوالقرنین فرماتے ہیں کہ لوہے کے ٹکڑے اینٹوں کی طرح کے میرے پاس لاؤ۔ جب یہ ٹکڑے جمع ہو گئے تو آپ نے دیوار بنانی شروع کرا دی اور وہ لمبائی چوڑائی میں اتنی ہو گئی کہ تمام جگہ گھر گئی اور پہاڑ کی چوٹی کے برابر پہنچ گئی۔ اس کے طول و عرض اور موٹائی کی ناپ میں بہت سے مختلف اقوال ہیں۔صفحہ نمبر4988جب یہ دیوار بالکل بن گئی تو حکم دیا کہ اب اس کے چاروں طرف آگ بھڑکاؤ۔ جب وہ لوہے کی دیوار بالکل انگارے جیسی سرخ ہو گئی تو حکم دیا کہ اب پگھلا ہوا تانبا لاؤ اور ہر طرف سے اس کے اوپر بہا دو چنانچہ یہ بھی کیا گیا۔ پس ٹھنڈی ہو کر یہ دیوار بہت ہی مضبوط اور پختہ ہو گئی اور دیکھنے میں ایسی معلوم ہونے لگی جیسے کوئی دھاری دار چادر ہو۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میں نے وہ دیوار دیکھی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیسی ہے؟ اس نے کہا دھاری دار چادر جیسی، جس میں سرخ و سیاہ دھاریاں ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:23340:مرسل] لیکن یہ روایت مرسل ہے۔ خلیفہ واثق نے اپنے زمانے میں اپنے امیروں کو ایک وافر لشکر اور بہت سا سامان دے کر روانہ کیا تھا کہ وہ اس دیوار کی خبر لائیں۔ یہ لشکر دو سال سے زیادہ سفر میں رہا اور ملک در ملک پھرتا ہوا آخر اس دیوار تک پہنچا، دیکھا کہ لوہے اور تانبے کی دیوار ہے۔ اس میں ایک بہت بڑا نہایت پختہ عظیم الشان دروازہ بھی اسی کا ہے جس پر منوں کے وزنی قفل لگے ہوئے ہیں اور جو مال مسالہ دیوار کا بچا ہوا ہے، وہ وہیں پر ایک برج میں رکھا ہوا ہے جہاں پہرہ چوکی مقرر ہے۔ دیوار بے حد بلند ہے کتنی ہی کوشش کی جائے لیکن اس پر چڑھنا ناممکن ہے۔ اس سے ملا ہوا پہاڑیوں کا سلسلہ دونوں طرف برابر چلا گیا ہے اور بھی بہت سے عجائب وغرائب امور دیکھے جو انہوں نے واپس آ کر خلیفہ کی خدمت میں عرض کئے۔صفحہ نمبر4989
آیت 91 كَذٰلِكَ پھر یہاں بھی ویسا ہی معاملہ ہوا جیسا کہ پہلی مہم کے سلسلے میں ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مکمل فتح عطا فرمائی اور علاقے میں آباد قبائل کے معاملات میں نرمی یا سختی کرنے کا پورا اختیار دیا۔ یہاں بھی ذوالقرنین نے ظالم اور شریر لوگوں کے ساتھ سختی جبکہ نیک اور شریف لوگوں کے ساتھ نرمی کا رویہ اختیار کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ وَقَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَيْهِ خُبْرًاجو کچھ ذوالقرنین کے پاس تھا اور جن حالات سے اس کو سابقہ پیش آیا ہم اس سے پوری طرح باخبر تھے۔
CommentaryThe Holy Qur'an does describe this state of the people Dhul-Qarnain found living towards the East meaning thereby that they were not accustomed to the use of ways and means like houses, tents and dresses to seek protection against the Sun. But, it does not mention anything about their faith and deeds, nor does it say what Dhul-Qarnain did to them.However, it is obvious that these people too were infidels and Dhul-Qarnain handled them the way he had handled the people he had found in the West as mentioned earlier. But, describing it again at this place was not considered necessary since finding it out is also possible on the analogy of the previous event. (As in al-Bahr al-Muhit from Ibn Atiyyah)
The Quran (18:83-98) describes a righteous ruler named Dhul-Qarnayn ('the one with two horns') who traveled to the place where the sun sets and rose, established justice, and built a great wall of iron and copper against Yajuj and Majuj (Gog and Magog). Classical and modern scholars have proposed various identifications: Alexander the Great (356–323 BCE), Cyrus the Great (600–530 BCE), or an ancient Yemeni king. The Quran emphasizes his justice and humility before Allah as the basis of his power.
Surah Al-Kahf (18:83-98) describes Dhul-Qarnayn (The Two-Horned One) — a powerful, righteous ruler given authority by Allah who traveled to the western end of the earth, then the eastern end, then to a land between two mountains. In the latter place, the people (Yajuj and Majuj / Gog and Magog) were causing great corruption. Dhul-Qarnayn built an iron and copper barrier to contain them. He refused payment, saying: 'What my Lord has established for me is better.' Scholars have proposed he may be Cyrus the Great, Alexander, or a pre-Islamic Arabian king.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.