Surah Al-Kahf • Ayah 7
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Do not feel sorry because the Idolators do not believe Allah consoles His Messenger for his sorrowفَلاَ تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَتٍ(So destroy not yourself in sorrow for them.) 35:8وَلاَ تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ(And grieve not over them.) 16:127لَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ أَلاَّ يَكُونُواْ مُؤْمِنِينَ(It may be that you are going to kill yourself with grief, that they do not become believers.) 26:3 meaning, maybe you will destroy yourself with your grief over them. Allah says:فَلَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَى ءَاثَـرِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُواْ بِهَـذَا الْحَدِيثِ(Perhaps, you would kill yourself in grief, over their footsteps, because they believe not in this narration.) meaning the Qur'an.أَسَفاً(in grief) Allah is saying, `do not destroy yourself with regret.' Qatadah said: "killing yourself with anger and grief over them." Mujahid said: "with anxiety." These are synonymous, so the meaning is: `Do not feel sorry for them, just convey the Message of Allah to them. Whoever goes the right way, then he goes the right way only for the benefit of himself. And whoever goes astray, then he strays at his own loss, so do not destroy yourself in sorrow for them.'This World is the Place of Trial Then Allah tells us that He has made this world a temporary abode, adorned with transient beauty, andHe made it a place of trial, not a place of settlement. So He saysإِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الاٌّرْضِ زِينَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُم أَحْسَنُ عَمَلاً(Verily, we have made that which is on earth an adornment for it, in order that We may test which of them are best in deeds.) Abu Maslamah narrated from Abu Nadrah from Abu Sa`id that the Messenger of Allah ﷺ said:«إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ، وَإِنَّ اللهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا فَنَاظِرٌ مَاذَا تَعْمَلُونَ، فَاتَّقُوا الدُّنْيَا، وَاتَّقُوا النِّسَاءَ، فَإِنَّ أَوَّلَ فِتْنَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ فِي النِّسَاء»(This world is sweet and green, and Allah makes you generations succeeding one another, so He is watching what you will do. Beware of (the beguilements of) this world and beware of women, for the first affliction that Children of Israel suffered from was that of women.) Then Allah tells us that this world will pass away and come to an end, as He says:وَإِنَّا لَجَاعِلُونَ مَا عَلَيْهَا صَعِيداً جُرُزاً(And verily, We shall make all that is on it bare, dry soil.) means, `after having adorned it, We will destroy it and make everything on it bare and dry, with no vegetation or any other benefit.' Al-`Awfi reported from Ibn `Abbas that this means everything on it would be wiped out and destroyed. Mujahid said: "a dry and barren plain." Qatadah said, "A plain on which there are no trees or vegetation."
مشرکین کی گمراہی پر افسوس نہ کرو ٭٭مشرکین جو آپ سے دور بھاگتے تھے، ایمان نہ لاتے تھے، اس پر جو رنج و افسوس آپ کو ہوتا تھا، اس پر اللہ تعالیٰ آپ کی تسلی کر رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے کہ «فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ» [ 35-فاطر: 8 ] ان پر اتنا رنج نہ کرو، اور جگہ ہے «وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ» [ 16-النحل: 127 ] ان پر اتنے غمگین نہ ہو، اور جگہ ہے «لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ» [ 26-الشعراء: 3 ] ان کے ایمان نہ لانے سے اپنے آپ کو ہلاک نہ کر۔ یہاں بھی یہی فرمایا ہے کہ یہ اس قرآن پر ایمان نہ لائیں تو تو اپنی جان کو روگ نہ لگا لے، اس قدر غم و غصہ، رنج و افسوس نہ کر، نہ گھبرا نہ دل تنگ کر اپنا کام کئے جا۔ تبلیغ میں کوتاہی نہ کر۔ راہ یافتہ اپنا بھلا کریں گے۔ گمراہ اپنا برا کریں گے۔ ہر ایک کا عمل اس کے ساتھ ہے۔ پھر فرماتا ہے دنیا فانی ہے، اس کی زینت زوال والی ہے، آخرت باقی ہے، اس کی نعمت دوامی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دنیا میٹھی اور سبز رنگ ہے، اللہ تعالیٰ اس میں تمہیں خلیفہ بنا کر دیکھنا چاہتا ہے کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو؟ پس دنیا سے اور عورتوں سے بچو، بنو اسرائیل میں سب سے پہلا فتنہ عورتوں کا ہی تھا۔ [صحیح مسلم:2742] یہ دنیا ختم ہونے والی اور خراب ہونے والی ہے، اجڑنے والی اور غارت ہونے والی ہے، زمین ہموار صاف رہ جائے گی جس پر کسی قسم کی روئیدگی بھی نہ ہو گی۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَسُوقُ الْمَاءَ إِلَى الْأَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا تَأْكُلُ مِنْهُ أَنْعَامُهُمْ وَأَنفُسُهُمْ أَفَلَا يُبْصِرُونَ» [ 32-السجدة: 27 ] کیا لوگ دیکھتے نہیں کہ ہم غیر آباد بنجر زمین کی طرف پانی کو لے چلتے ہیں اور اس میں سے کھیتی پیدا کرتے ہیں جسے وہ خود کھاتے ہیں اور ان کے چوپائے بھی۔ کیا پھر بھی ان کی آنکھیں نہیں کھلتیں۔ زمین اور زمین پر جو ہیں سب فنا ہونے والے اور اپنے مالک حقیقی کے سامنے پیش ہونے والے ہیں۔ پس تو کچھ بھی ان سے سنے، انہیں کیسے ہی حال میں دیکھے، مطلق افسوس اور رنج نہ کر۔صفحہ نمبر4844
آیت 7 اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَي الْاَرْضِ زِيْنَةً لَّهَایہاں یہ نکتہ ذہن نشین کرلیجئے کہ لفظ ”زینت“ اور دنیوی آرائش و زیبائش کا موضوع اس سورت کے مضامین کا عمود ہے۔ یعنی دنیا کی رونق چمک دمک اور زیب وزینت میں انسان اس قدر کھو جاتا ہے کہ آخرت کا اسے بالکل خیال ہی نہیں رہتا۔ دنیا کی یہ رنگینیاں امریکہ اور یورپ میں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ انہیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے اور انسان اس سب کچھ سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم امریکی اور یورپی اقوام کی علمی ترقی سے متاثر اور ان کے مادی اسباب و وسائل سے مرعوب ہیں۔ اپنی اسی مرعوبیت کے باعث ہم ان کی لادینی تہذیب و ثقافت کے بھی دلدادہ ہیں اور ان کے طرز معاشرت کو اپنانے کے بھی درپے ہیں۔لِنَبْلُوَهُمْ اَيُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًادُنیا کے یہ ظاہری ٹھاٹھ باٹھ دراصل انسان کی آزمائش کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ ایک طرف دنیا کی یہ سب دلچسپیاں اور رنگینیاں ہیں اور دوسری طرف اللہ اور اس کے احکام ہیں۔ انسان کے سامنے یہ دونوں راستے کھلے چھوڑ کر دراصل یہ دیکھنا مقصود ہے کہ وہ ان میں سے کس کا انتخاب کرتا ہے۔ دنیا کی رنگینیوں میں کھوجاتا ہے یا اپنے خالق ومالک کو پہچانتے ہوئے اس کے احکام کی تعمیل کو اپنی زندگی کا اصل مقصود سمجھتا ہے۔ اس سلسلے میں کسی شاعر کا یہ شعر اگرچہ شان باری تعالیٰ کے لائق تو نہیں مگر اس مضمون کی وضاحت کے لیے بہت خوب ہے : رُخِ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیں اِدھر آتا ہے دیکھیں یا ادھر پروانہ جاتا ہے !اب جس پروانے انسان کو اس شمع کی ظاہری روشنی اور چمک اپنی طرف کھینچ لے گئی تو وہ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِیْنًا النساء کے مصداق تباہ و برباد ہوگیا اور جو اس کی ظاہری اور وقتی چکا چوند کو نظر انداز کر کے حسن ازلی اور اللہ کے جلال و کمال کی طرف متوجہ ہوگیا وہ حقیقی کامیابی اور دائمی نعمتوں کا مستحق ٹھہرا۔
It was said in verse 7: إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَّهَا (Surely, We have made what is on earth an adornment for it) with reference to all living forms, vegetation, mountains, minerals and everything else present on the earth. They are its embellishment. That there are snakes, scorpions, beasts and many harmful and fatal things may lead someone to doubt as to how can they be called 'an adornment for it.' This doubt is unfounded because everything in this world considered harmful, fatal or plain bad may be so in a restricted sense but, in terms of the totality of creation, nothing is bad. Everything, no matter how bad, has been invested with many benefits by Allah Ta’ ala on other counts. The medical use of poisonous and fatal life forms in the interest of human beings is an example. Therefore, things that are considered even bad are not that bad in terms of the function of this entire universe.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.