Surah Al-Kahf • Ayah 110
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Muhammad ﷺ is a Human Being and a Messenger, and the God is OneAllah says to His Messenger Muhammad ,قُلْ(Say) to these idolators who reject your message to them,إِنَّمَآ أَنَاْ بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ(`I am only a man like you.) Whoever claims that I am lying, let him bring something like this that I have brought. For I did not know the Unseen, the matters of the past which you asked me about and I told you about, the story of the people of the Cave and of Dhul-Qarnayn, stories which are true -- I did not know any of this except for what Allah made known to me. And I tell you,إِنَّمَآ إِلَـهُكُمُ(that your God), Who calls you to worship Him,إِلَـهٌ وَحِدٌ(is One God), with no partner or associate.'فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَآءَ رَبِّهِ(So whoever hopes for the meeting with his Lord,) i.e., hopes for a good reward and recompense,فَلْيَعْمَلْ عَمَلاً صَـلِحاً(let him work righteousness) meaning, in accordance with the prescribed laws of Allah,وَلاَ يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدَا(and associate none as a partner in the worship of his Lord.) This is what is meant by seeking the pleasure of Allah alone with no associate or partner. These are the two basic features of acceptable deeds: their intent is for the sake of Allah alone, and are done in accordance with the way of the Messenger of Allah ﷺ. Imam Ahmad recorded that Mahmud bin Labid said that the Messenger of Allah ﷺ said:«إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافَ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الْأَصْغَر»(What I fear the most for you is the small Shirk.) "They said: What is the small Shirk, O Messenger of Allah" He said,«الرِّيَاءُ، يَقُولُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا جَزَىَ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ: اذْهَبُوا إِلَى الَّذِينَ كُنْتُمْ تُرَاءُونَ فِي الدُّنْيَا، فَانْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ عِنْدَهُمْ جَزَاءً؟»(Showing off (Ar-Riya'). Allah will say on the Day of Resurrection, when the people are rewarded or punished for their deeds, "Go to the one for whom you were showing off in the world and see if you will find any reward with him.") Imam Ahmad recorded that Abu Sa`id bin Abi Fadalah Al-Ansari, who was one of the Companions, said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say,«إِذَا جَمَعَ اللهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ نَادَى مُنَادٍ: مَنْ كَانَ أَشْرَكَ فِي عَمَلٍ عَمِلَهُ للهِ أَحَدًا فَلْيَطْلُبْ ثَوَابَهُ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللهِ،فَإِنَّ اللهَ أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْك»(Allah will gather the first and the last on the Day of Resurrection, the Day concerning which there is no doubt. A voice will call out, "Whoever used to associate anyone with Allah in the deeds which he did, let him seek his reward from someone other than Allah, for Allah is the least in need of any partner or associate.) It was also recorded by At-Tirmidhi and Ibn Majah. This is the end of the Tafsir of Surat Al-Kahf. Praise be to Allah, the Lord of all that exists.
سید البشر صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ یہ سب سے آخری آیت ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری۔ حکم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے فرمائیں کہ میں تم جیسا ہی ایک انسان ہوں، تم بھی انسان ہو، اگر مجھے جھوٹا جانتے ہو تو لاؤ اس قرآن جیسا ایک قرآن تم بھی بنا کر پیش کر دو۔ دیکھو میں کوئی غیب داں تو نہیں، تم نے مجھ سے ذوالقرنین کا واقعہ دریافت کیا، اصحاب کہف کا قصہ پوچھا تو میں نے ان کے صحیح واقعات تمہارے سامنے بیان کر دئیے جو نفس الامر کے مطابق ہیں۔ اگر میرے پاس اللہ کی وحی نہ آتی تو میں ان گزشتہ واقعات کو جس طرح وہ ہوئے ہیں، تمہارے سامنے کس طرح بیان کر سکتا؟ سنو تمام تر وحی کا خلاصہ یہ ہے کہ تم موحد بن جاؤ۔ شرک کو چھوڑ دو۔ میری دعوت یہی ہے جو بھی تم میں سے اللہ سے مل کر اجر و ثواب لینا چاہتا ہو، اسے شریعت کے مطابق عمل کرنے چاہئیں اور شرک سے بالکل بچنا چاہیئے۔ ان دونوں ارکان کے بغیر کوئی عمل اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں، خلوص ہو اور مطابقت سنت ہو۔ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا کہ بہت سے نیک کاموں میں باوجود مرضی الٰہی کی تلاش کے میرا ارادہ یہ بھی ہوتا ہے کہ لوگ میری نیکی دیکھیں تو میرے لیے کیا حکم ہے، آپ خاموش رہے اور یہ آیت اتری، یہ حدیث مرسل ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23427:مرسل] سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے سوال کیا کہ ایک شخص نماز، روزہ، صدقہ، خیرات، حج زکوٰۃ کرتا ہے، اللہ کی رضا مندی بھی ڈھونڈتا ہے اور لوگوں میں نیک نامی اور بڑائی بھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کی کل عبادت اکارت ہے، اللہ تعالیٰ شرک سے بیزار ہے، جو اس کی عبادت میں اور نیت بھی کرے تو اللہ تعالیٰ فرما دیتا ہے کہ یہ سب اسی دوسرے کو دے دو مجھے اس کی کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:40/16:ضعیف] صفحہ نمبر5013حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس باری باری آتے، رات گزارتے، کبھی آپ کو کوئی کام ہوتا تو فرما دیتے۔ ایسے لوگ بہت زیادہ تھے۔ ایک شب ہم آپس میں کچھ باتیں کر رہے تھے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا یہ کیا کھسر پھسر کر رہے ہو؟ ہم نے جواب دیا، یا رسول اللہ ہماری توبہ ہے ہم مسیح دجال کا ذکر کر رہے تھے اور دل ہمارے خوفزدہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم [سنن ابن ماجہ:4204،قال الشيخ الألباني:ضعیف] نے فرمایا، میں تمہیں اس سے بھی زیادہ دہشت ناک بات بتاؤں؟ وہ پوشیدہ شرک ہے کہ انسان دوسرے انسان کو دکھانے کے لیے نماز پڑھے۔صفحہ نمبر5014مسند احمد میں ہے، ابن غنم کہتے ہیں، میں اور ابودرداء جابیہ کی مسجد میں گئے، وہاں ہمیں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ملے، بائیں ہاتھ سے تو انہوں نے میرا داہنا ہاتھ تھام لیا اور اپنے داہنے ہاتھ سے ابودرداء رضی اللہ عنہ کا بایاں ہاتھ تھام لیا اور اسی طرح ہم تینوں وہاں سے باتیں کرتے ہوئے نکلے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے، دیکھو اگر تم دونوں یا تم میں سے جو بھی زندہ رہا تو ممکن ہے اس وقت کو بھی وہ دیکھ لے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے قرآن سیکھا ہوا بھلا آدمی حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھنے والا اور ہر حکم کو مناسب جگہ رکھنے والا آئے اور اس کی قدرو منزلت لوگوں میں ایسی ہو جیسی مردہ گدھے کی سر کی۔ ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہما اور سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہما آ گئے اور بیٹھتے ہی شداد رضی اللہ عنہا نے فرمایا، لوگو مجھے تو تم پر سب سے زیادہ اس کا ڈر ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے یعنی پوشیدہ خواہش اور شرک کا۔ اس پر عبادہ رضی اللہ عنہما اور ابودرداء رضی اللہ عنہما نے فرمایا، اللہ معاف فرمائے، ہم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اس بات سے شیطان مایوس ہو گیا ہے کہ اس جزیرہ عرب میں اس کی عبادت کی جائے۔ ہاں پوشیدہ شہوات تو یہی خواہش کی چیزیں عورتیں وغیرہ ہیں لیکن یہ شرک ہماری سمجھ میں تو نہیں آیا جس سے آپ ہمیں ڈرا رہے ہیں۔صفحہ نمبر5015حضرت شداد رضی اللہ عنہما فرمانے لگے، اچھا بتاؤ تو ایک آدمی دوسروں کے دکھانے کے لیے نماز، روزہ، صدقہ، خیرات کرتا ہے۔ اس کا حکم تمہارے نزدیک کیا ہے؟ کیا اس نے شرک کیا؟ سب نے جواب دیا، بیشک ایسا شخص مشرک ہے۔ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا، میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص دکھاوے کے لیے نماز پڑھے وہ مشرک ہے، جو دنیا کو دکھانے کے لیے روزے رکھے وہ مشرک ہے، جو لوگوں میں اپنی سخاوت جتانے کے لیے صدقہ خیرات کرے وہ بھی مشرک ہے۔ اس پر عوف بن مالک رضی اللہ عنہما نے کہا، کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ ایسے اعمال میں جو اللہ کے لیے ہو، اللہ اسے قبول فرمالے اور جو دوسرے کے لیے ہو، اسے رد کر دے؟ شداد رضی اللہ عنہما نے جواب دیا، یہ ہرگز نہیں ہونے کا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جناب باری عزوجل کا ارشاد ہے کہ میں سب سے بہتر حصے والا ہوں، جو بھی میرے ساتھ کسی عمل میں دوسرے کو شریک کرے، میں اپنا حصہ بھی اسی دوسرے کے سپرد کر دیتا ہوں۔ اور نہایت بےپرواہی سے جز کل سب کو چھوڑ دیتا ہوں۔ [مسند احمد:125/4:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ شداد بن اوس رضی اللہ عنہما ایک دن رونے لگے، ہم نے پوچھا، آپ کیسے رو رہے ہیں؟ فرمانے لگے ایک حدیث یاد آ گئی اور اس نے رلا دیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ ڈر شرک اور پوشیدہ شہوت کا ہے۔ میں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ کی امت آپ کے بعد شرک کرے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہاں سنو وہ سورج چاند، پتھر، بت کو نہ پوجے گی بلکہ اپنے اعمال میں ریا کاری کرے گی۔ پوشیدہ شہوت یہ ہے کہ صبح روزے سے ہے اور کوئی خواہش سامنے آئی، روزہ چھوڑ دیا [مسند احمد:124/4:ضعیف] ۔صفحہ نمبر5016رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے میں تمام شریکوں سے بہتر ہوں۔ میرے ساتھ جو بھی کسی کو شریک کرے، میں اپنا حصہ بھی اسی کو دے دیتا ہوں۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:2764،صحیح] اور روایت میں ہے کہ جو شخص کسی عمل میں میرے ساتھ دوسرے کو ملا لے، میں اس سے بری ہوں اور اس کا وہ پورا عمل اس غیر کے لیے ہی ہے۔ [مسند احمد:301/2:صحیح] ایک اور حدیث میں ہے، مجھے تمہاری نسبت سب سے زیادہ ڈر چھوٹے شرک کا ہے، لوگوں نے پوچھا، وہ چھوٹا شرک کیا ہے؟ فرمایا ریاکاری۔ قیامت کے دن ریاکاروں کو جواب ملے گا کہ جاؤ جن کے لیے عمل کئے تھے، انہی کے پاس جزا مانگو۔ دیکھو پاتے بھی ہو؟ [مسند احمد:428/5:صحیح] صفحہ نمبر5017ابوسعید بن ابو فضالہ انصاری صحابی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرماتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ جب اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو جمع کرے گا، جس دن کے آنے میں کوئی شک شبہ نہیں، اس دن ایک پکارنے والا پکارے گا کہ جس نے اپنے جس عمل میں اللہ کے ساتھ دوسرے کو ملایا ہو، اسے چاہیئے کہ اپنے اس عمل کا بدلہ اس دوسرے سے مانگ لے کیونکہ اللہ تعالیٰ ساجھے سے بہت ہی بے نیاز ہے۔ [مسند احمد:466/3:حسن] سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، ریاکار کو عذاب بھی سب کو دکھا کر ہو گا اور نیک اعمال لوگوں کو سنانے والے کو عذاب بھی سب کو سنا کر ہو گا [ مسند احمد 45/5:صحیح لغیرہ] ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما سے بھی یہ روایت مروی ہے۔ [مسند احمد:40/3:صحیح] سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، اپنے نیک اعمال اچھالنے والے کو اللہ تعالیٰ ضرور رسوا کرے گا، اس کے اخلاق بگڑ جائیں گے اور وہ لوگوں کی نگاہوں میں حقیر و ذلیل ہو گا۔ یہ بیان فرما کر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما رونے لگے۔ [مسند احمد:162/2:صحیح] انس رضی اللہ عنہما راوی ہیں کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، قیامت کے دن انسان کے نیک اعمال کے مہر شدہ صحیفے اللہ کے سامنے پیش ہوں گے۔ جناب باری عزوجل فرمائے گا، اسے پھینک دو، اسے قبول کرو، اسے قبول کرو، اسے پھینک دو۔ اس وقت فرشتے عرض کریں گے کہ اے اللہ تبارک وتعالیٰ جہاں تک ہمارا علم ہے ہم تو اس شخص کے اعمال نیک ہی جانتے ہیں، جواب ملے گا کہ جن کو میں پھینکوا رہا ہوں یہ وہ اعمال ہیں جن میں صرف میری ہی رضا مندی مطلوب نہ تھی بلکہ ان میں ریاکاری تھی۔ آج میں تو صرف ان اعمال کو قبول کروں گا جو صرف میرے لیے ہی کئے گئے ہوں۔ [الدر المنثور للسیوطی:460/4:ضعیف] صفحہ نمبر5018ارشاد ہے کہ جو دکھاوے سناوے کے لیے کھڑا ہوا ہو، وہ جب تک نہ بیٹھے اللہ کے غصے اور غضب میں ہی رہتا ہے۔ [مجمع الزوائد:223/10:ضعیف] ابو یعلیٰ کی حدیث میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، جو شخص لوگوں کے دیکھتے ہوئے تو ٹھہر ٹھہر کر اچھی کر کے نماز پڑھے اور تنہائی میں بری طرح جلدی جلدی بے دلی سے ادا کرے، اس نے اپنے پروردگار عزوجل کی توہین کی۔ [مسند ابویعلیٰ:5117:ضعیف] پہلے بیان ہو چکا ہے کہ اس آیت کو امیر معاویہ رضی اللہ عنہما قرآن کی آخری آیت بتاتے ہیں۔ [ضعیف] لیکن یہ قول اشکال سے خالی نہیں کیونکہ سورۃ الکہف پوری کی پوری مکے شریف میں نازل ہوئی ہے اور ظاہر ہے کہ اس کے بعد مدینے میں برابر دس سال تک قرآن کریم اترتا رہا تو بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ ہو کہ یہ آیت آخری ہے یعنی کسی دوسری آیت سے منسوخ نہیں ہوئی۔ اس میں جو حکم ہے وہ آخر تک بدلا نہیں گیا۔ اس کے بعد کوئی ایسی آیت نہیں اتری جو اس میں تبدیلی وتغیر کرے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ایک بہت ہی غریب حدیث حافظ ابوبکر بزار رحمہ اللہ اپنی کتاب میں لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص آیت «فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا» [ الکھف: 110 ] ، کو رات کے وقت پڑھے گا، اللہ تعالیٰ اسے اتنا بڑا نور عطا فرمائے گا جو عدن سے مکے شریف تک پہنچے۔ [مستدرک حاکم371/2:ضعیف] صفحہ نمبر5019
فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاۗءَ رَبِّهٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖٓ اَحَدًایعنی عبادت خالص اللہ کی ہو۔ یہ توحید عملی ہے۔ اس بارے میں سورة بنی اسرائیل آیت 23 میں یوں فرمایا گیا ہے : وَقَضٰی رَبُّکَ اَلاَّ تَعْبُدُوْٓا الآَّ اِیَّاہُ ”اور فیصلہ کردیا ہے آپ کے رب نے کہ تم لوگ نہیں عبادت کرو گے کسی کی سوائے اس کے“۔ سورة الکہف کی اس آخری آیت اور سورة بنی اسرائیل کی آخری آیت کا بھی آپس میں معنوی ربط وتعلق ہے۔ موازنہ کے لیے سورة بنی اسرائیل کی آیت ملاحظہ کیجیے : وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْْمُلْکِ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْہُ تَکْبِیْرًا ”اور کہہ دیجیے کہ کل حمد اور کل شکر اللہ کے لیے ہے جس نے نہیں بنائی کوئی اولاد اور نہیں ہے اس کا کوئی شریک بادشاہی میں اور نہ ہی اس کا کوئی دوست ہے کمزوری کی وجہ سے اور اس کی تکبیر کرو جیسے کہ تکبیر کرنے کا حق ہے“۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا بلند مقام اور اس کی شان بیان کر کے شرک کی نفی کی گئی ہے۔ در اصل اللہ کے ساتھ شرک کی دو صورتیں ہیں۔ یا تو اللہ کو مرتبہ الوہیت سے نیچے اتار کر مخلوقات کے ساتھ کھڑا کردیا جاتا ہے یا پھر مخلوقات کی صف میں سے کسی کو اٹھا کر اللہ کے برابر بٹھا دیا جاتا ہے۔ چناچہ سورة بنی اسرائیل کی آخری آیت میں اللہ کی کبریائی کا اعلان کرنے کا حکم دے کر شرک کی پہلی صورت کا ابطال کیا گیا ہے جبکہ سورة الکہف کی آخری آیت میں شرک کی دوسری صورت یعنی مخلوقات میں سے کسی کو اللہ کے برابر کرنے کی نفی کی گئی ہے۔ دیکھا جائے تو اللہ کی مخلوق میں سے اس کے شریک بنانے کی روایت ہر زمانے میں رہی ہے۔ عیسائیوں نے حضرت مسیح کو خدا کا درجہ دے دیا اور اہل عرب نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دے دیا۔ ہمارے ہاں بھی بعض لوگوں نے حضور کو نعوذ باللہ خدا بنا دیا : وہی جو مستوئ عرش تھا خدا ہو کر اُتر پڑا وہ مدینے میں مصطفیٰ ہو کر !اور کسی نے حضرت علی کو خدا کی ذات سے ملا دیا :ہر چند علی کی ذات نہیں ہے خدا کی ذات لیکن نہیں ہے ذات خدا سے جدا علی اور مرزا غالب تو اس سلسلے میں یہاں تک کہہ گئے :غالب ندیم دوست سے آتی ہے بوئے دوست مشغولِ حق ہوں بندگی بو تراب میں یعنی جب میں ابو تراب حضرت علی کی بندگی کرتا ہوں تو درحقیقت اللہ ہی کی بندگی کر رہا ہوتا ہوں۔ اسی طرح آغا خانیوں کے ہاں حضرت علی کو ”دشم اوتار“ قرار دیا گیا۔ ہندوؤں کے ہاں نو 9 اوتار تسلیم کیے جاتے تھے ‘ انہوں نے حضرت علی کو ”دسواں اوتار“ مان لیا۔ اعاذنا اللّٰہ من ذٰلک ! !بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایاکم بالآیات والذِّکر الحکیم
CommentaryThe cause of the revelation of the last verse of Surah al-Kahf: وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا (and must not associate anyone in the worship of his Lord - 110), as mentioned in Hadith reports, shows that shirk at this place means hidden shirk, that is, hypocrisy (رِیَاء : riy' ).One such narration from Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas ؓ has been reported by Imam Hakim in al-Mustadrak as being sound on the criterion set forth by the two authorities, al-Bukhari and Muslim. According to the narration, one of the Muslims used to carry out Jihad in the way of Allah. Side by side, he wished that his soldiering and bravery in the cause be recognized and appreciated by the people. This verse was revealed about him (which tells us that one gets no thawab (reward) by having such an intention in Jihad).In Kitabul-Ikhlas, Ibn Abi Hatim and Ibn Abi al-Dunya have reported from Tawus that a Sahabi stated before the Holy Prophet ﷺ : 'There are occasions when I am ready to worship, or to do some righteous deed, my aim thereby is nothing but the pleasure of Allah. But, along with it, I do have the wish that people would see me doing it.' Hearing this, he observed silence until the cited verse was revealed.And in Abu Nu'aym and in the history of Ibn ` Asakir, it appears on the authority of Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ that whenever the Sahabi, Sayyidna Jundub ibn Zuhayr ؓ prayed, fasted or gave in charity and then saw people admiring him for doing those deeds, he felt pleased about it and would then increase the frequency of those deeds. There-upon, this verse was revealed.The gist of narrations given above is that the shirk prohibited in this verse is the hidden shirk of showing off (riya' ). And that a deed may though be for Allah alone but, along with it, should it become associated with some selfish motive of name, fame and recognition, then, this too will be a kind of hidden shirk, something that makes one's deed go waste, even harmful.However, there are some other Sahih Ahadith which apparently seem to indicate otherwise. For example, Tirmidhi reports from Sayyidna Abu Hurairah ؓ that he submitted before the Holy Prophet ﷺ : 'There are times when I am on my prayer mat inside my house (making Salah) and, all of a sudden, there comes someone. I like it that he saw me in that state. (Would that be riya'?) ' The Holy Prophet ﷺ said, '0 Abu Hurairah, may Allah have mercy on you. Then you get two rewards, one for the deed you were already doing in secret, and the other for what you did openly after the coming of that person. (This is no riya' ).'And according to a narration of Sayyidna Abu Dharr al-Ghifari appearing in the Sahih of Muslim, the Holy Prophet ﷺ was asked, 'What do you say about a person who does some good deed, then hears people praising it?' The Holy Prophet ﷺ said, تِلکَ عَاجِلُ بُشرَی المُؤمِنِ : "This is instant good news for the believer." (that his deed was accepted with Allah and He had his servants praise it).The apparent difference in these two kinds of narrations has been resolved and brought in agreement in Tafsir Mazhari. It says that the first kind of narrations about the cause of the revelation of the verse apply to a particular situation. This is when one associates his intention to please people or to earn a good name for himself along with the intention of seeking the pleasure of Allah through his deed to the extent that he further increases the frequency of that deed on being praised by people for it. This is, no doubt, hypocrisy (riya' ) and hidden shirk.And the latter narrations, those from Tirmidhi and Muslim, concern another situation. This is when one has acted for the pleasure of Allah alone without any inclination of receiving publicity or praise for it and then Allah Ta’ ala, in His grace, gives him fame by making people praise him. If so, it has nothing to do with riya' (showing off). In fact, this is spontaneous good news for the believer (that his deed has found acceptance with Allah).Riya' and its Evil Consequences: Stern Warnings of HadithSayyidna Mahmud ibn Labid ؓ reports that the Holy Prophet ﷺ said, 'What I fear most about you is minor shirk.' The Sahabah ؓ asked: Ya Rasulallah, what is minor shirk?' He said, 'Riya" (to do something only to show people). (Reported by Ahmad in his Musnad)After having reported this Hadith in Shu` ab-al-'Iman, Al-Baihaqi has also reported the remarks: 'On the day of Qiyamah, when Allah Ta’ ala will reward His servants for their deeds, He will ask the practitioners of riya' to go for their rewards to those they wanted to impress with their deeds and find out whether or not they have any for them.'Sayyidna Abu Hurairah ؓ reports that the Holy Prophet ﷺ said, "Allah Ta` ala says 'I am free and above from associating with those associated with Me. Whoever does a good deed and then associates in it someone else with Me, then, I leave the entire deed for the one associated.' And, according to another narration, 'I withdraw from that deed making it exclusive for the person associated with me.' (Narrated by Muslim)And Sayyidna ` Abdullah ibn ` Umar ؓ reports that he heard the Holy Prophet ﷺ saying, 'Whoever does a good deed to earn a fair name among people, then, Allah Ta’ ala too deals with him in a manner that he is disgraced before them.' (Narrated by Ahmad in Shu` ab-al-'Imn - from Tafsir Mazhari)It appears in Tafsir al-Qurtubi that Sayyidna Hasan al-Basri (رح) was asked about ikhlas (unalloyed sincerity) and riya' (showing off). He said: Ikhlas requires that your good deeds remaining hidden should be what you like and the bad deeds remaining hidden should be what you do not like. After that, if Allah Ta’ ala discloses your deeds before the people, you should say, 'Ya Allah, all this is Your grace and favour, not the outcome of my deed and effort.'And Tirmidhi reports from Sayyidna Abu Bakr ؓ that the Holy Prophet ﷺ once mentioned shirk by saying: ھُوَ فِیکُم اَخفٰی مِن دبِیبِ النَّمل (It is right there in you more stealthily than the soundless movement of an ant). Then, he added, 'I tell you something which, if you do, you will remain safe against all sorts of shirk, major or minor (riya' ). Make this prayer (dua three times every day:اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوذُبِکِ اَن اُشرِکَ بِکَ وَ اَنَا اَعلَمُ وَاَستغفِرُکَ لِمَا لَا اَعلَمُ0' Allah, I seek refuge with You lest I associate a partner with You while I know and I seek forgiveness from You for what I do not know.Some Merits and Properties of Surah al-KahfSayyidna Abu a1-Darda' ؓ reports that the Holy Prophet ﷺ said, "Whoever remembers to recite the first ten verses of Surah al-Kahf will remain safe against the fitnah (upheaval, trial) caused by Dajjal (anti-Christ). (Reported by Muslim, Ahmad, Abu Dawud and al-Nasa'i)And Imam Ahmad, Muslim and al-Nasa'i have reported within this narration from Sayyidna Abu al-Darda' words to the effect that 'whoever remembers to recite the last ten verses of Surah al-Kahf will remain safe against the fitnah of Dajjal.'And according to a narration of Sayyidna Anas ؓ ، the Holy Prophet ﷺ said, "Whoever recites the initial and the concluding verses of Surah al-Kahf will have light for him, from his feet up to his head. And whoever recites this Surah in full will have light for him, from the ground up to the sky." (Reported by Ibn al-Sunni, and Ahmad in his Musnad)And as narrated by Sayyidna Abu Said ؓ ، the Holy Prophet ﷺ said, "Whoever recites Surah al-Kahf in full on the day of Jumu'ah will have light for him until the next Jumu'ah. (Reported and declared as Sahih by al-Hakim and al-Baihaqi in al-Da` awat - from Mazhari)To Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas ؓ someone said, 'I resolve in my heart to wake up in the later part of night and make Salah but sleep overtakes me.' Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas ؓ said to him, 'recite the last verses of Surah al-Kahf - from: قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا (109) to the end of the Surah (110) - before you sleep. Then, the time you intend to wake up will be the time when Allah Ta’ a1a will wake you up.' (Reported by ath-Tha` alibi)And according to the Musnad of al-Darimi, Zirr ibn Hubaish told ` Abdah, 'Anyone who sleeps after having recited these last verses will wake up at the time he or she intends to.' And ` Abdah says, 'we have tried this repeatedly. It happens just like that.'An important word of adviceIbn al-` Arabi quotes his Shaikh, Turtushi: 'Let not the hours of your dear life pass away confronting contemporaries and socializing with friends. Watch out! Allah Ta’ ala has concluded His statement on the following verse:فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًاSo the one who hopes to meet his Lord must do righteous deedand must not associate anyone in the worship of his Lord - 110 (Al-Qurtubi)AlhamdulillahThe Commentary onSurah al-KahfEnd here.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.