Surah Al-Kahf • Ayah 106
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The Greatest Losers in respect of (Their) DeedsAl-Bukhari recorded from `Amr that Mus`ab who said: "I asked my father -- meaning Sa`d bin Abi Waqqas -- about Allah's saying,قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُم بِالاٌّخْسَرِينَ أَعْمَـلاً(Say: "Shall We tell you the greatest losers in respect of (their) deeds") `Are they the Haruriyyah' He said, `No, they are the Jews and Christians. As for the Jews, they disbelieved in Muhammad ﷺ, and as for the Christians, they disbelieved in Paradise and said that there is no food or drink there, and the Haruriyyah are those who break Allah's covenant after ratifying it.' Sa`d used to call them Al-Fasiqin (the corrupt). `Ali bin Abi Talib, Ad-Dahhak and others said: "They are the Haruriyyah," so this means, that according to `Ali, may Allah be pleased with him, this Ayah includes the Haruriyyah just as it includes the Jews, the Christians and others. This does not mean that the Ayah was revealed concerning any of these groups in particular; it is more general than that, because the Ayah was revealed in Makkah, before the Qur'an addressed the Jews and Christians, and before the Khawarij existed at all. So the Ayah is general and refers to everyone who worships Allah in a way that is not acceptable, thinking that he is right in doing that and that his deeds will be accepted, but he is mistaken and his deeds will be rejected, as Allah says:وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ خَـشِعَةٌ - عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ - تَصْلَى نَاراً حَامِيَةً(Some faces, that Day will be humiliated. Laboring, weary. They will enter in the hot blazing Fire.) 88:2-4وَقَدِمْنَآ إِلَى مَا عَمِلُواْ مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَآءً مَّنثُوراً(And We shall turn to whatever deeds they did, and We shall make such deeds as scattered floating particles of dust.) 25:23وَالَّذِينَ كَفَرُواْ أَعْمَـلُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَآءً حَتَّى إِذَا جَآءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئاً(As for those who disbelieved, their deeds are like a mirage in a desert. The thirsty one thinks it to be water, until he comes up to it, he finds it to be nothing) 24:39 And in this Ayah Allah says:قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُم(Say: "Shall We tell you...") meaning, `Shall We inform you;'بِالاٌّخْسَرِينَ أَعْمَـلاً(the greatest losers in respect of (their) deeds) Then Allah explains who they are, and says:الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا(Those whose efforts have been wasted in this life) meaning, they did deeds that do not count, deeds that are not in accordance with the prescribed way that is acceptable to Allah.وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا(while they thought that they were acquiring good by their deeds.) means, they thought that there was some basis for their deeds and that they were accepted and loved.أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ كَفَرُواْ بِـَايَـتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ(They are those who deny the Ayat of their Lord and the meeting with Him.) they denied the signs of Allah in this world, the proofs that He has established of His Oneness and of the truth of His Messengers, and they denied the Hereafter.فَلاَ نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ وَزْناً(and on the Day of Resurrection, We shall assign no weight for them.) means, `We will not make their Balance heavy because it is empty of any goodness.' Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said:«إِنَّهُ لَيَأْتِي الرَّجُلُ الْعَظِيمُ السَّمِينُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَزِنُ عِنْدَ اللهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ وَقَالَ: اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ:فَلاَ نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ وَزْناً(A huge fat man will come forward on the Day of Resurrection and he will weigh no more than the wing of a gnat to Allah. Recite, if you wish:) (and on the Day of Resurrection, We shall assign no weight for them) It was also recorded by Muslim.ذَلِكَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُواْ(That shall be their recompense, Hell; because they disbelieved) means, `We will punish them with that because of their disbelief and because they took the signs and Messengers of Allah ﷺ as a joke, mocking them and disbelieving them in the worst way.'
عبادت واطاعت کا طریقہ ٭٭سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما سے ان کے صاحبزادے مصعب رحمہ اللہ نے سوال کیا کہ کیا اس آیت سے مراد خارجی ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں بلکہ مراد اس سے یہود و نصاری ہیں۔ یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا اور نصرانیوں نے جنت کو سچا نہ جانا اور کہا کہ وہاں کھانا پینا کچھ نہیں۔ خارجیوں نے اللہ کے وعدے کو اس کی مضبوطی کے بعد توڑ دیا۔ پس سعد رضی اللہ عنہما خارجیوں کو فاسق کہتے تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں، اس سے مراد خارجی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جیسے یہ آیت یہود ونصاری وغیرہ کفار کو شامل ہے، اسی طرح خارجیوں کا حکم بھی اس میں ہے کیونکہ آیت عام ہے۔ جو بھی اللہ کی عبادت و اطاعت اس طریقے سے بجا لائے جو طریقہ اللہ کو پسند نہیں تو گو وہ اپنے اعمال سے خوش ہو اور سمجھ رہا ہو کہ میں نے آخرت کا توشہ بہت کچھ جمع کر لیا ہے، میرے نیک اعمال اللہ کے پسندیدہ ہیں اور مجھے ان پر اجرو ثواب ضرور ملے گا لیکن اس کا یہ گمان غلط ہے۔ اس کے اعمال مقبول نہیں بلکہ مردود ہیں اور وہ غلط گمان شخص ہے۔ آیت مکی ہے اور ظاہر ہے کہ مکے میں یہود ونصاری مخاطب نہ تھے۔ اور خارجیوں کا تو اس وقت تک وجود بھی نہ تھا۔ پس ان بزرگوں کا یہی مطلب ہے کہ آیت کے عام الفاظ ان سب کو اور ان جیسے اور سب کو شامل ہیں۔صفحہ نمبر5004جیسے سورۃ الغاشیہ میں ہے کہ «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةً» [ 88-الغاشیہ: 2-4 ] قیامت کے دن بہت سے چہرے ذلیل وخوار ہوں گے جو دنیا میں بہت محنت کرنے والے بلکہ اعمال سے تھکے ہوئے تھے اور سخت تکلیفیں اٹھائے ہوتے تھے، آج وہ باوجود ریاضت وعبادت کے جہنم واصل ہوں گے اور بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دیے جائیں گے۔ اور آیت میں ہے «وَقَدِمْنَآ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَـعَلْنٰهُ هَبَاءً مَّنْثُوْرًا» [ 25- الفرقان: 23 ] ان کے تمام کئے کرائے اعمال کو ہم نے آگے بڑھ کر ردی اور بے کار کر دیا۔ اور آیت میں ہے «وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَاءً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئًا» [ 24-النور: 39 ] ، کافروں کے اعمال کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی پیاسا ریت کے تودے کو پانی کا دریا سمجھ رہا ہو لیکن جب پاس آتا ہے تو ایک بوند بھی پانی کی نہیں پاتا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے طور پر عبادت ریاضت تو کرتے رہے اور دل میں بھی سمجھتے رہے کہ ہم بہت کچھ نیکیاں کر رہے ہیں اور وہ مقبول اور اللہ کی پسندیدہ ہیں لیکن چونکہ وہ اللہ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق نہ تھیں، نبیوں کے فرمان کے مطابق نہ تھیں، اس لیے بجائے مقبول ہونے کے مردود ہو گئیں اور بجائے محبوب ہونے کے مغضوب ہو گئے۔ اس لیے کہ وہ اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے رہے۔ اللہ کی وحدانیت اور اس کے رسول کی رسالت کے تمام تر ثبوت ان کے سامنے تھے لیکن انہوں نے آنکھیں بند کر لیں اور مانے ہی نہیں۔ ان کا نیکی کا پلڑا بالکل خالی رہے گا۔ بخاری شریف کی حدیث میں ہے قیامت کے دن ایک موٹا تازہ بڑا بھاری آدمی آئے گا لیکن اللہ کے نزدیک اس کا وزن ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہو گا۔ پھر آپ نے فرمایا اگر تم چاہو اس آیت کی تلاوت کر لو «فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًا» [ 18- الكهف: 105 ] ۔ [صحیح بخاری:4729] صفحہ نمبر5005ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے، بہت زیادہ کھانے پینے والے موٹے تازے انسان کو قیامت کے دن اللہ کے سامنے لایا جائے گا لیکن اس کا وزن اناج کے ایک دانے کے برابر بھی نہ ہو گا۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23399] بزار میں ہے ایک قریشی کافر اپنے حلے میں اتراتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرا تو آپ نے بریدہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا یہ ان میں سے ہے جن کا کوئی وزن قیامت کے دن اللہ کے پاس نہ ہو گا۔ [مسند بزار،2956:ضعیف] مرفوع حدیث کی طرح کعب کا قول بھی مروی ہے۔ یہ بدلہ ہے ان کے کفر کا، اللہ کی آیتوں اور اس کے رسولوں کو ہنسی مذاق میں اڑانے کا۔ اور ان کے نہ ماننے بلکہ انہیں جھٹلانے کا۔صفحہ نمبر5006
آیت 106 ذٰلِكَ جَزَاۗؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوْا وَاتَّخَذُوْٓا اٰيٰتِيْ وَرُسُلِيْ هُزُوًااللہ کی آیات اور رسولوں کے فرمودات کے مطابق تو اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے اور دنیوی زندگی کی کچھ اہمیت نہیں مگر ان طالبان دنیا نے سمجھ رکھا تھا کہ اصل کامیابی اسی دنیوی زندگی کی ہی کامیابی ہے۔ چناچہ اسی کامیابی کے حصول کے لیے انہوں نے محنت اور کوشش کی اور اسی زندگی کو سنوارنے کے لیے وہ خود کو ہلکان کرتے رہے۔ آخرت کو لائق اعتناء سمجھا اور نہ ہی اس کے لیے انہوں نے کوئی سنجیدہ تگ ودو کی۔ آخرت کا خیال کبھی آیا بھی تو یہ سوچ کر خود کو تسلی دے لی کہ ہم نے فلاں فلاں بھلائی کے کام بھی تو کیے ہیں اور پھر ہم حضور کے امتی بھی تو ہیں۔ آپ ہماری شفاعت فرمائیں گے اور ہم کامیاب و کامران ہو کر جنت میں پہنچ جائیں گے۔ یہ عقیدہ یہودیوں کے عقیدے سے ملتا جلتا ہے۔ وہ بھی دعویٰ کرتے تھے کہ ہم اللہ کے بیٹوں کی مانند ہیں اس کے لاڈلے اور چہیتے ہیں۔ ان آیات کے حوالے سے ایک اہم نکتہ یہ بھی توجہ طلب ہے کہ یہاں کفار سے مراد اصطلاحی کفار نہیں بلکہ ایسے لوگ ہیں جو قانونی طور پر تو مسلمان ہی ہیں مگر اللہ اور اس کے رسول کے احکام کو پس پشت ڈال کر سر تا پا دنیا کے طالب بنے بیٹھے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مذکورہ مفہوم میں جو شخص بھی آخرت کے مقابلے میں دنیا کا طالب ہے وہی ان آیات کا مصداق ہے بظاہر چاہے وہ مسلمان ہو مسلمانوں کا لیڈر ہو مذہبی پیشوا ہو یا کوئی بہت بڑا عالم ہو۔ اسی مضمون کو کسی بزرگ نے ”جو دم غافل سو دم کافر“ کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ چناچہ آخرت کی نجات کے سلسلے میں یہ بات طے کرنا انتہائی ضروری ہے کہ بنیادی طور پر انسان طالب دنیا ہے یا طالب آخرت !آخری رکوع کی ان آیات کا سورت کی ابتدائی آیات کے ساتھ ایک خاص تعلق ہے اور دجالی فتنے سے حفاظت کے لیے ان کی خصوصی اہمیت ہے۔ چناچہ حدیث میں ان کو فتنہ دجال سے حفاظت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ ابتدائی دس آیات اور ان آخری آیات کو حفظ کرلیا جائے اور کثرت سے ان کی تلاوت کی جائے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ توفیق دے تو جمعہ کے روز پوری سورة الکہف کی تلاوت کو بھی معمول بنایا جائے۔
The last sentence in the same verse (105): فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا (and We shall not assign to them any weight) means that their deeds may appear to be great outwardly, but when placed on the balance of reckoning, they will carry no weight. The reason is that these deeds will be of no use and will not carry any weight because of kufr (disbelief) and shirk (ascribing of partners to Allah).According to a Hadith of Sayyidna Abu Hurairah ؓ appearing in the Sahih of al-Bukhari and Muslim, the Holy Prophet ﷺ said: On the day of Qiyamah, there will come a tall and heavy man who, in the sight of Allah, will not be worth the weight of a mosquito.' Then he said: 'If you wish to verify it, recite this verse of the Qur'an: فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا (and We shall not assign to them any weight).'Sayyidna Abu Said al-Khudri says: ' (on the day of Qiyamah) deeds as big as the mountains of Tihamah will be brought in. But, they will carry no weight on the balance of justice.' (Qurtubi)
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.