The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-Isra • Ayah 77

Para 15 Surah 17 : 77
سُنَّةَ مَن قَدْ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِن رُّسُلِنَا ۖ وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيلًا

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

سُنَّةَ
مَن
قَدْ
أَرْسَلْنَا
قَبْلَكَ
مِن
رُّسُلِنَا
ۖ
وَلَا
تَجِدُ
لِسُنَّتِنَا
تَحْوِيلًا

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Reason why these Ayat were revealedThis was revealed concerning the disbelievers among the Quraysh, when they wanted to expel the Messenger of Allah ﷺ from among themselves. So Allah issued a warning to them in this Ayah, telling them that if they expelled him, they would not stay in Makkah for very long after that. And this is what happened after he migrated from them when their persecution became so intense. Only a year and a half after that, Allah brought him and them together on the battlefield of Badr, without any pre-arranged appointment, and He caused him to prevail over them and defeat them, so he killed their leaders and took their families as captives. Hence Allah said:سُنَّةَ مَن قَدْ أَرْسَلْنَا(A Sunnah with which We sent) meaning this is what We usually do to those who reject Our Messengers and persecute them by driving the Messenger out from among themselves - the punishment comes to them. If it were not for the fact that the Prophet was the Messenger of Mercy, vengeance would have come upon them such as had never been seen before in this world. So Allah says:وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ(And Allah would not punish them while you are among them.) 8:33أَقِمِ الصَّلَوةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْءَانَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْءَانَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

وطنی عصبیت اور یہودی ٭٭کہتے ہیں کہ یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ آپ کو ملک شام چلا جانا چاہیئے وہی نبیوں کا وطن ہے اس شہر مدینہ کو چھوڑ دینا چاہیئے اس پر یہ آیت اتری۔ لیکن یہ قول ضعیف ہے اس لیے کہ یہ آیت مکی ہے اور مدینے میں آپ کی رہائش اس کے بعد ہوئی ہے۔ کہتے ہیں کہ تبوک کے بارے میں یہ آیت اتری ہے، یہودیوں کے کہنے سے کہ شام جو نبیوں کی اور محشر کی زمین ہے آپ کو وہیں رہنا چاہیئے، اگر آپ سچے پیغمبر ہیں تو وہاں چلے جائیں، آپ نے انہیں ایک حد تک سچا سمجھا۔ غزوہ تبوک سے آپ کی نیت یہی تھی لیکن تبوک پہنچتے ہی سورۃ بنی اسرائیل کی آیتیں اتریں، اس کے بعد کہ سورت ختم کر دی گئی تھی آیت «وَإِن كَادُوا لَيَسْتَفِزُّونَكَ مِنَ الْأَرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا ۖ وَإِذًا لَّا يَلْبَثُونَ خِلَافَكَ إِلَّا قَلِيلًا * سُنَّةَ مَن قَدْ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِن رُّسُلِنَا ۖ وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيلًا» [17-الإسراء:77] ‏ تک اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو مدینے کی واپسی کا حکم دیا اور فرمایا وہیں آپ کی موت و زیست اور وہیں سے دوبارہ اٹھ کر کھڑا ہونا ہے۔ [الدر المنشور للسیوطی:353/4] ‏صفحہ نمبر4755لیکن اس کی سند بھی غور طلب ہے اور صاف ظاہر ہے کہ یہ واقعہ بھی ٹھیک نہیں، تبوک کا غزوہ یہود کے کہنے سے نہ تھا بلکہ اللہ کا فرمان موجود ہے آیت «ا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قَاتِلُوا الَّذِينَ يَلُونَكُم مِّنَ الْكُفَّارِ» ‏ [9-التوبة:123] ‏ ” جو کفار تمہارے اردگرد ہیں ان سے جہاد کرو۔ “ اور آیت میں ہے کہ «قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّىٰ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ» [9-التوبة:29] ‏ ” جو اللہ پر اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتے اللہ رسول کے حرام کردہ کو حرام نہیں سمجھتے اور حق کو قبول نہیں کرتے ایسے اہل کتاب سے اللہ کی راہ میں جہاد کرو یہاں تک کہ وہ ذلت کے ساتھ جزیہ دینا منظور کر لیں۔ “ اور اس غزوے کی وجہ یہ تھی کہ آپ کے جو اصحاب جنگ موتہ میں شہید کر دئے گئے تھے ان کا بدلہ لیا جائے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اور اگر مندرجہ بالا واقعہ صحیح ہو جائے تو اسی پر وہ حدیث محمول کی جائے گی، جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «أنزل القرآن في ثلاثة أمكنة: مكة، والمدينة، والشام» ‏ مکہ، مدینہ اور شام میں قرآن نازل ہوا ہے۔ ولید تو اس کی شرح میں لکھتے ہیں کہ شام سے مراد بیت المقدس ہے۔ [طبرانی کبیر:7718:ضعیف] ‏ لیکن شام سے مراد تبوک کیوں نہ لیا جائے جو بالکل صاف اور بہت درست ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔صفحہ نمبر4756ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد کافروں کا وہ ارادہ ہے جو انہوں نے مکے سے جلا وطن کرنے کے بارے میں کیا تھا چنانچہ یہی ہوا بھی کہ جب انہوں نے آپ کو نکالا۔ پھر یہ بھی وہاں زیادہ مدت نہ گزار سکے، اللہ تعالیٰ نے فوراً ہی آپ کو غالب کیا۔ ڈیڑھ سال ہی گزرا تھا کہ بدر کی لڑائی بغیر کسی تیاری اور اطلاع کے اچانک ہو گئی اور وہیں کافروں کا اور کفر کا دھڑ ٹوٹ گیا، ان کے شریف و رئیس تہ تیغ ہوئے، ان کی شان و شوکت خاک میں مل گئی، ان کے سردار قید میں آ گئے۔ پس فرمایا کہ یہی عادت پہلے سے جاری ہے۔ سابقہ رسولوں کے ساتھ بھی یہی ہوا کہ کفار نے جب انہیں تنگ کیا اور دیس سے نکال دیا پھر وہ بچ نہ سکے، عذاب اللہ نے انہیں غارت اور بے نشان کردیا۔ ہاں چونکہ ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم رسول رحمت تھے، اس لیے کوئی آسمانی عام عذاب ان کافروں پر نہ آیا۔ جیسے فرمان ہے آیت «‏وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ ۚ وَمَا كَانَ اللَّـهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ» ‏ [8-الأنفال:33 ] ‏ ” یعنی تیری موجودگی میں اللہ انہیں عذاب نہ کرے گا۔ “صفحہ نمبر4757

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 77 سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَایعنی آپ سے پہلے جتنے بھی رسول آئے ان کے بارے میں ہمارا قاعدہ اور قانون یہی رہا ہے کہ رسول کی ہجرت کے بعد متعلقہ قوم پر سے اللہ کی امان اٹھا لی جاتی ہے اور اس کے بعد وہ قوم بہت جلد عذاب کی گرفت میں آجاتی ہے۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

The last verse (77): سُنَّةَ مَن قَدْ أَرْ‌سَلْنَا (Such has been Our way with the messengers We sent ...) tells us that, according to the customary way and law of Allah Ta` ala, when a people expel their prophet from his home-land, or compel him to leave by scaring and harassing, then, those people too are not left to continue living there. They are visited by the punishment of Allah Ta’ ala.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.