The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-Isra • Ayah 59

Para 15 Surah 17 : 59
وَمَا مَنَعَنَآ أَن نُّرْسِلَ بِٱلْـَٔايَـٰتِ إِلَّآ أَن كَذَّبَ بِهَا ٱلْأَوَّلُونَ ۚ وَءَاتَيْنَا ثَمُودَ ٱلنَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا۟ بِهَا ۚ وَمَا نُرْسِلُ بِٱلْـَٔايَـٰتِ إِلَّا تَخْوِيفًا

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

وَمَا
مَنَعَنَآ
أَن
نُّرْسِلَ
بِٱلْـَٔايَـٰتِ
إِلَّآ
أَن
كَذَّبَ
بِهَا
ٱلْأَوَّلُونَ
ۚ
وَءَاتَيْنَا
ثَمُودَ
ٱلنَّاقَةَ
مُبْصِرَةً
فَظَلَمُوا۟
بِهَا
ۚ
وَمَا
نُرْسِلُ
بِٱلْـَٔايَـٰتِ
إِلَّا
تَخْوِيفًا

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Reason why Allah did not send Signs or MiraclesSa`id bin Jubayr said, "The idolators said: `O Muhammad, you claim that before you there were Prophets, among whom was one to whom the wind was subjugated, and another who could bring the dead back to life. If you want us to believe in you, ask your Lord to turn As-Safa' into gold for us.' Allah conveyed to him by inspiration (Wahy): `I have heard what they have said. If you wish, I will do what they say, but if they do not believe after that, the punishment will come down upon them, because after the sign has been sent, there is no room for speculation. Or if you wish, I will be patient with your people and give them more time.' He said:«يَارَبِّ اسْتَأْنِ بِهِم»(O Lord, give them more time.)" This was also narrated by Qatadah, Ibn Jurayj and others. Imam Ahmad recorded that Ibn `Abbas said, "The people of Makkah asked the Prophet to turn As-Safa' into gold for them, and to remove the mountains (from around Makkah) so that they could cultivate the land. It was said to him (by Allah): `If you wish, I will be patient and give them more time, or if you wish, I will do what they are asking, but if they then disbelieve, they will be destroyed as the nations before them were destroyed.' He said,«لَا، بَلِ اسْتَأْنِ بِهِم»(No, be patient and give them more time.) Then Allah revealed:وَمَا مَنَعَنَآ أَن نُّرْسِلَ بِالاٌّيَـتِ إِلاَّ أَن كَذَّبَ بِهَا الاٌّوَّلُونَ(And nothing stops Us from sending the Ayat but that the people of old denied them. ) An-Nasa'i also reported this from the Hadith of Jarir. Imam Ahmad recorded that Ibn `Abbas said: The Quraysh said to the Prophet , "Ask your Lord to turn As-Safa' into gold and we will believe in you." He said,«وَتَفْعَلُونَ؟»(Will you really do that) They said, "Yes." So he asked his Lord, and Jibril came to him and said: "Your Lord conveys His Salam to you and says, `If you wish, I will turn As-Safa' into gold for them, then whoever of them disbelieves after that, will be punished with a torment the like of which has never be seen in creation; or if you wish, I will open the gates of repentance and mercy for them."' He said,«بَلْ بَابُ التَّوْبَةِ وَالرَّحْمَة»(Rather the gates of repentance and mercy.)وَمَا نُرْسِلُ بِالاٌّيَـتِ إِلاَّ تَخْوِيفًا(And We sent not the signs except to make them afraid (of destruction).) Qatadah said, "Allah makes people afraid with whatever signs He wills, so that they may learn a lesson and remember and return to Him. We were told that Al-Kufah was shaken at the time of Ibn Mas`ud, who said: `O people, your Lord is rebuking you, so pay heed!"' Similarly, it was reported that Al-Madinah was struck by several earthquakes at the time of `Umar bin Al-Khattab. `Umar said: "You have changed, by Allah, and if such a quake were to strike again, I will subject you to such and such." The Prophet said, in a Hadith whose authenticity is agreed upon:«إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ وَإِنَّهُمَا لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُخَوِّفُ بِهِمَا عِبَادَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ وَدُعَائِهِ وَاسْتِغْفَارِهِ ثُمَّ قَالَ: يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللهِ مَا أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنَ اللهِ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا»(The sun and the moon are two of the signs of Allah, and they are not eclipsed for the death or life of anyone. Allah uses them to make His servants afraid, so if you see them, hasten to remember Him, call on Him and seek His forgiveness.) Then he said: (O Ummah of Muhammad ﷺ, by Allah, no one has a greater sense of jealousy than Allah if He sees His servant, or female servant, committing Zina (illegal sexual intercourse). O Ummah of Muhammad ﷺ, if you knew what I know, you would laugh little and weep much.)

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

عجیب و غریب مانگ ٭٭ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کافروں نے آپ سے کہا کہ آپ کے پہلے کے انبیاء میں سے بعض کے تابع ہوا تھی، بعض مردوں کو زندہ کر دیا کرتے تھے، وغیرہ۔ اب اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم بھی آپ پر ایمان لائیں تو آپ اس صفا پہاڑ کو سونے کا کر دیئجے، ہم آپ کی سچائی کے قائل ہو جائیں گے۔ آپ پر وحی آئی کہ اگر آپ کی بھی یہی خواہش ہو تو میں اس پہاڑ کو ابھی سونے کا بنا دیتا ہوں۔ لیکن یہ خیال رہے کہ اگر پھر بھی یہ ایمان نہ لائے تو اب انہیں مہلت نہ ملے گی، فی الفور عذاب آجائے گا اور تباہ کر دئے جائیں گے۔ اور اگر آپ کو انہیں تاخیر دینے اور سوچنے کا موقع دینا منظور ہے تو میں ایسا کروں۔ آپ نے فرمایا اے اللہ میں انہیں باقی رکھنے میں ہی خوش ہوں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22400:مرسل] ‏ مسند میں اتنا اور بھی ہے کہ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ باقی کی اور پہاڑیاں یہاں سے کھسک جائیں تاکہ ہم یہاں کھیتی باڑی کر سکیں۔ الخ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [مسند احمد:258/1:صحیح] ‏صفحہ نمبر4729اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی، جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا آپ کا پروردگار آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اگر آپ چاہیں تو صبح کو ہی یہ پہاڑ سونے کا ہو جائے لیکن اگر پھر بھی ان میں سے کوئی ایمان نہ لایا تو اسے وہ سزا ہو گی جو اس سے پہلے کسی کو نہ ہوئی ہو اور اگر آپ کا ارادہ ہو تو میں ان پر توبہ اور رحمت کے دروازے کھلے چھوڑوں۔ آپ نے دوسری شق اختیار کی۔ [مسند احمد:242/1:صحیح] ‏ مسند ابو یعلیٰ میں ہے کہ آیت «وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ» ‏ [26-الشعراء:214] ‏ جب اتری تو تعمیل ارشاد کے لیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جبل ابی قبیس پر چڑھ گئے اور فرمانے لگے اے بنی عبد مناف میں تمہیں ڈرانے والا ہوں۔ قریش یہ آواز سنتے ہی جمع ہو گئے پھر کہنے لگے سنئے آپ نبوت کے مدعی ہیں۔ سلیمان نبی علیہ السلام کے تابع ہوا تھی، موسیٰ نبی علیہ السلام کے تابع دریا ہو گیا تھا، عیسیٰ نبی علیہ السلام مردوں کو زندہ کر دیا کرتے تھے۔ تو بھی نبی ہے اللہ سے کہہ کہ یہ پہاڑ یہاں سے ہٹوا کر زمین قابل زراعت بنا دے تاکہ ہم کھیتی باڑی کریں۔ یہ نہیں تو ہمارے مردوں کی زندگی کی دعا اللہ سے کر کہ ہم اور وہ مل کر بیٹھیں اور ان سے باتیں کریں۔ یہ بھی نہیں تو اس پہاڑ کو سونے کا بنوا دے کہ ہم جاڑے اور گرمیوں کے سفر سے نجات پائیں، اسی وقت آپ پر وحی اترنی شروع ہو گئی، اس کے خاتمے پر آپ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم نے جو کچھ مجھ سے طلب کیا تھا مجھے اس کے ہو جانے میں اور اس بات میں کہ دروازہ رحمت میں چلے جاؤ، اختیار دیا گیا کہ ایمان اسلام کے بعد تم رحمت الٰہی سمیٹ لو یا تم یہ نشانات دیکھ لو لیکن پھر نہ مانو تو گمراہ ہو جاؤ اور رحمت کے دروازے تم پر بند ہو جائیں تو میں تو ڈر گیا اور میں نے در رحمت کا کھلا ہونا ہی پسند کیا۔ صفحہ نمبر4730 کیونکہ دوسری صورت میں تمہارے ایمان نہ لانے پر تم پر وہ عذاب اترتے جو تم سے پہلے کسی پر نہ اترے ہوں اس پر یہ آیتیں اتریں۔ اور آیت «وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْأَرْضُ أَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَىٰ» ‏ [13-الرعد:31] ‏ الخ، نازل ہوئی۔ [مسند ابو یعلی:679:ضعیف] ‏ یعنی آیتوں کے بھیجنے اور منہ مانگے معجزوں کے دکھانے سے ہم عاجز تو نہیں بلکہ یہ ہم پر بہت آسان ہے، جو تیری قوم چاہتی ہے، ہم انہیں دکھا دیتے لیکن اس صورت میں ان کے نہ ماننے پر پھر ہمارے عذاب نہ رکتے۔ اگلوں کو دیکھ لو کہ اسی میں برباد ہوئے۔ چنانچہ سورۃ المائدہ میں ہے کہ «قَالَ اللَّـهُ إِنِّي مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ ۖ فَمَن يَكْفُرْ بَعْدُ مِنكُمْ فَإِنِّي أُعَذِّبُهُ عَذَابًا لَّا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِّنَ الْعَالَمِينَ» ‏ [5-المائدة:115] ‏ میں تم پر دستر خوان اتار رہا ہوں لیکن اس کے بعد جو کفر کرے گا اسے ایسی سزا دی جائے گی جو اس سے پہلے کسی کو نہ ہوئی ہو۔ ثمودیوں کو دیکھو کہ انہوں نے ایک خاص پتھر میں سے اونٹنی کا نکلنا طلب کیا۔ صالح علیہ السلام کی دعا پر وہ نکلی لیکن وہ نہ مانے «‏فَعَقَرُوهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ۖ ذَٰلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ» [11-هود:65] ‏ بلکہ اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں، رسول کو جھٹلاتے رہے، جس پر انہیں تین دن کی مہلت ملی اور آخر غارت کر دئے گئے۔ ان کی یہ اونٹنی بھی اللہ کی وحدانیت کی ایک نشانی تھی اور اس کے رسول کی صداقت کی علامت تھی۔ لیکن ان لوگوں نے پھر بھی کفر کیا، اس کا پانی بند کیا بالاخر اسے قتل کر دیا، جس کی پاداش میں اول سے لے کر آخر تک سب مار ڈالے گئے اور اللہ غالب کی پکڑ میں آ گئے، آیتیں صرف دھمکانے کے لیے ہوتی ہیں کہ وہ عبرت و نصیحت حاصل کر لیں۔صفحہ نمبر4731مروی ہے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے زمانے میں کوفے میں زلزلہ آیا تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم اس کی جانب جھکو، تمہیں فوراً اس کی طرف متوجہ ہو جانا چاہیئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مدینہ شریف میں کئی بار جھٹکے محسوس ہوئے تو آپ نے فرمایا واللہ تم نے ضرور کوئی نئی بات کی ہے، دیکھو اگر اب ایسا ہوا تو میں تمہیں سخت سزائیں کروں گا۔ متفق علیہ حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورج چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان میں کسی انسان کی موت و حیات سے گرہن نہیں لگتا بلکہ اللہ تعالیٰ ان سے اپنے بندوں کو خوفزدہ کر دیتا ہے، جب تم یہ دیکھو تو ذکر اللہ، دعا اور استغفار کی طرف جھک پڑو۔ اے امت محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) واللہ اللہ سے زیادہ غیرت والا کوئی نہیں کہ اس کے لونڈی غلام زناکاری کریں۔ اے امت محمد (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) واللہ جو میں جانتا ہوں، اگر تم جانتے تو بہت کم ہنستے بہت زیادہ روتے۔ [صحیح بخاری:1044] ‏صفحہ نمبر4732

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 59 وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بالْاٰيٰتِ اِلَّآ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ اللہ تعالیٰ نے حسی معجزات دکھانے صرف اس لیے بند کردیے ہیں کہ سابقہ قوموں کے لوگ ایسے معجزات کو دیکھ کر بھی کفر پر ڈٹے رہے اور ایمان نہ لائے۔ یہ وہی مضمون ہے جو سورة الانعام اور اس کے بعد نازل ہونے والی مکی سورتوں میں تسلسل سے دہرایا جا رہا ہے۔وَاٰتَيْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا قوم ثمود کو ان کے مطالبے پر اونٹنی کا بصیرت افروز معجزہ دکھایا گیا مگر انہوں نے اس واضح معجزے کو دیکھ لینے کے بعد بھی حضرت صالح پر ایمان لانے کے بجائے اس اونٹنی ہی کو مار ڈالا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ کو مٹی سے زندہ پرندے بنانے اور ”قُمْ بِاِذْنِ اللّٰہِ“ کہہ کر مردوں کو زندہ کرنے تک کے معجزات دیے گئے ‘ مگر کیا انہیں دیکھ کر وہ لوگ ایمان لے آئے ؟وَمَا نُرْسِلُ بالْاٰيٰتِ اِلَّا تَخْوِيْفًانشانیاں یا معجزے بھیجنے کا مقصد تو لوگوں کو خبردار کرنا ہوتا ہے سو یہ مقصد قرآن کی آیات بخوبی پورا کر رہی ہیں۔ اس کے بعد اب اور کون سی نشانیوں کی ضرورت باقی ہے ؟ اگلی آیت میں یہی بات تین مثالوں سے مزید واضح کی گئی ہے کہ یہ لوگ کس طرح قرآن کی آیات کے ساتھ بحث برائے بحث اور انکار کا رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور یہ کہ اللہ نے حسی معجزات دکھانا کیوں بند کردیے ہیں۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

CommentaryThe word 'al-wasilah' in: يَبْتَغُونَ إِلَىٰ رَ‌بِّهِمُ الْوَسِيلَةَ (seek the means of close ness to their Lord - 57) conveys the sense of that which is used as a means of reaching someone. As for reaching Allah, the wasilah or means is to always keep the pleasure of Allah in sight when learning or doing anything while adhering to the injunctions of the Shari` ah strictly. Thus, the sense of the sentence is that all of them are seeking the closeness of Allah Ta’ ala through their righteous deeds.About the sentence which follows immediately after: يَرْ‌جُونَ رَ‌حْمَتَهُ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُ (hope for His Mercy and fear His punishment - 57), Sahl ibn ` Abdullah said: Hope and Fear, that is, hoping for mercy from Allah as well as fearing Him are two different states one is in. When they stay at par, one keeps on course, correct and stable. And if any one of the two overcomes the other, one finds the equilibrium of his spiritual state subjected to disorder to the measure of that imbalance. (Qurtubi)

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.