Surah Al-Isra • Ayah 13
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Every Person will have the Book of his Deeds with HimAfter mentioning time, and the deeds of the son of Adam that take place therein, Allah says:وَكُلَّ إِنْسَـنٍ أَلْزَمْنَـهُ طَـئِرَهُ فِى عُنُقِهِ(And We have fastened every man's Ta'irah (deeds) to his neck,) The word Ta'irah (lit. something that flies) refers to man's deeds which fly from him, as Ibn `Abbas, Mujahid and others said. It includes both good deeds and bad deeds, he will be forced to acknowledge them and will be rewarded or punished accordingly.فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْراً يَرَهُ - وَمَن يَعْـمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرّاً يَرَهُ (So whosoever does good equal to the weight of a speck of dust shall see it. And whosoever does evil equal to the weight of a speck of dust shall see it.) (99:7-8). Allah says:إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ - مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلاَّ لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ ((Remember) that the two receivers (recording angels) receive (each human being), one sitting on the right and one on the left (to note his or her actions). Not a word does he (or she) utter but there is a watcher by him ready (to record it).) (50:17-18)وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَـفِظِينَ - كِرَاماً كَـتِبِينَ - يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ (But verily, over you (are appointed angels in charge of mankind) to watch you, Kiraman (Honorable) Katibin - writing down (your deeds), they know all that you do.) (82:10-12)إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ(You are only being requited for what you used to do.) 52:16مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ(whosoever works evil, will have the recompense thereof.) 4:123 The meaning is that the deeds of the sons of Adam are preserved, whether they are great or small, and they are recorded night and day, morning and evening.وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ كِتَابًا يَلْقَـهُ مَنْشُوراً(and on the Day of Resurrection, We shall bring out for him a Book which he will find wide open.) meaning, `We will collect all of his deeds for him in a Book which will be given to him on the Day of Resurrection, either in his right hand, if he is one of the blessed, or in his left hand if he is one of the wretched.'مَنْشُوراً(wide open) means, it will be open for him and others to read all of his deeds, from the beginning of his life until the end.يُنَبَّأُ الإِنسَـنُ يَوْمَئِذِ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ - بَلِ الإِنسَـنُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ - وَلَوْ أَلْقَى مَعَاذِيرَهُ (On that Day man will be informed of what (deeds) he sent forward, and what (deeds) he left behind. Nay! Man will be a witness against himself, though he may put forth his excuses.) (75:13-15) Allah says:اقْرَأْ كَتَـبَكَ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا ((It will be said to him): "Read your Book. You yourself are sufficient as a reckoner against you this Day.") meaning, you have not been treated unjustly and nothing has been recorded against you except what you have done, because you remember everything that you have done, and no one will forget anything that he did. Everyone will be able to read his Book, whether he is literate or illiterate.أَلْزَمْنَـهُ طَـئِرَهُ فِى عُنُقِهِ(And We have fastened every man's Ta'irah (deeds) to his neck,) The neck is mentioned because it is a part of the body that has no counterpart, and when one is restrained by it, he has no escape. Ma`mar narrated from Qatadah, "His deeds,وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ(and on the Day of Resurrection, We shall bring out for him) We shall bring forth those deeds."كِتَابًا يَلْقَـهُ مَنْشُوراً(a Book which he will find wide open.) Ma`mar said: Al-Hasan recited,عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ(one sitting on the right and one on the left. ) 50:17 And he said; "O son of Adam, your Book has been opened for you, and two noble angels have been entrusted to accompany you, one on your right and one on your left. The one who is on your right records your good deeds, and the one who is on your left records your bad deeds. `So do whatever you want, a lot or a little, until you die, then I will fold up your Book and tie it to your neck with you in your grave. Then when you come out on the Day of Resurrection, you will find the Book wide open, so read your Book.' By Allah, the One Who makes you accountable for your own deeds is being perfectly just." These are some of the best words Al-Hasan ever spoke, may Allah have mercy on him.
انسان کے اعمال ٭٭اوپر کی آیتوں میں زمانے کا ذکر کیا جس میں انسان کے اعمال ہوتے ہیں اب یہاں فرمایا ہے کہ اس کا جو عمل ہوتا ہے بھلا ہو یا برا وہ اس پر چپک جاتا ہے بدلہ ملے گا۔ نیکی کا نیک۔ بدی کا بد۔ خواہ وہ کتنی ہی کم مقدار میں کیوں نہ ہو؟ جیسے فرمان ہے «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ» [99-الزلزلة:7-8] ” ذرہ برابر کی خیر اور اتنی ہی شر ہر شخص قیامت کے دن دیکھ لے گا۔ “ اور جیسے فرمان ہے «إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ» [50-ق:17-18] ” دائیں اور بائیں جانب وہ بیٹھے ہوئے ہیں جو بات منہ سے نکلے وہ اسی وقت لکھ لیتے ہیں۔ “ اور جگہ ہے آیت «وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ * كِرَامًا كَاتِبِينَ * يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ * إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ * وَإِنَّ الْفُجَّارَ لَفِي جَحِيمٍ» [82-الإنفطار:10] ” تم پر نگہبان ہیں جو بزرگ ہیں اور لکھنے والے ہیں۔ تمہارے ہر ہر فعل سے باخبر ہیں۔ “ اور آیت میں ہے «إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [52-الطور:16] ” تمہیں صرف تمہارے کئے ہوئے اعمال کا بدلہ ملے گا۔ “ اور جگہ ہے «مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ» [4-النساء:123] ” ہر برائی کرنے والے کو سزا دی جائے گی۔ “ مقصود یہ کہ ابن آدم کے چھوٹے بڑے ظاہر و باطن نیک و بد اعمال صبح شام دن رات برابر لکھے جا رہے ہیں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں البتہ ہر انسان کی شامت عمل اس کی گردن میں ہے۔ ابن لہیعہ فرماتے ہیں یہاں تک کہ شگون لینا بھی۔ [مسند احمد:360/3،قال الشيخ الألباني:صحیح] لیکن اس حدیث کی یہ تفسیر غریب ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔صفحہ نمبر4642اس کے اعمال کے مجموعے کی کتاب قیامت کے دن یا تو اس کے دائیں ہاتھ میں دی جائے گی یا بائیں میں۔ نیکوں کے دائیں ہاتھ میں اور بروں کے بائیں ہاتھ میں کھلی ہوئی ہو گی کہ وہ بھی پڑھ لے اور دوسرے بھی دیکھ لیں اس کی تمام عمر کے کل عمل اس میں لکھے ہوئے ہوں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت «يُنَبَّأُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ بَلِ الْإِنسَانُ عَلَىٰ نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ وَلَوْ أَلْقَىٰ مَعَاذِيرَهُ» [75-القيامة:13-15] ” اس دن انسان اپنے تمام اگلے پچھلے اعمال سے خبردار کر دیا جائے گا انسان تو اپنے معاملے میں خود ہی حجت ہے گو اپنی بےگناہی کے کتنے ہی بہانے پیش کر دے۔ “ اس وقت اس سے فرمایا جائے گا کہ تو خوب جانتا ہے کہ تجھ پر ظلم نہ کیا جائے گا۔ اس میں وہی لکھا گیا ہے جو تو نے کیا ہے اس وقت چونکہ بھولی بسری چیزیں بھی یاد آ جائیں گی۔ اس لیے درحقیقت کوئی عذر پیش کرنے کی گنجائش نہ رہے گی۔ پھر سامنے کتاب ہے جو پڑھ رہا ہے خواہ وہ دنیا میں ان پڑھ ہی تھا لیکن آج ہر شخص اسے پڑھ لے گا۔ گردن کا ذکر خاص طریقے پر اس لیے کیا کہ وہ ایک مخصوص حصہ ہے اس میں جو چیز لٹکا دی گئی ہو چپک گئی ضروری ہو گئی شاعروں نے بھی اس خیال کو ظاہر کیا ہے۔صفحہ نمبر4643 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے بیماری کا متعدی ہونا کوئی چیز نہیں، فال کوئی چیز نہیں، ہر انسان کا عمل اس کے گلے کا ہار ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22131] اور روایت میں ہے کہ ہر انسان کا شگون اس کے گلے کا ہار ہے۔ [مسند احمد:343/3:ضعیف] آپ کا فرمان ہے کہ ہر دن کے عمل پر مہر لگ جاتی ہے جب مومن بیمار پڑتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں اے اللہ تو نے فلاں کو تو روک لیا ہے اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرماتا ہے اس کے جو عمل تھے وہ برابر لکھتے جاؤ یہاں تک کہ میں اسے تندرست کر دوں یا فوت کر دوں۔ [مسند احمد:146/4:صحیح] قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس آیت میں «طَائِرَهُ» سے مراد عمل ہیں۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اے ابن آدم تیرے دائیں بائیں فرشتے بیٹھے ہیں صحیفے کھلے رکھے ہیں داہنی جانب والا نیکیاں اور بائیں طرف والا بدیاں لکھ رہا ہے اب تجھے اختیار ہے نیکی کر یا بدی کر کم کر یا زیادہ تیری موت پر یہ دفتر لپیٹ دئے جائیں گے اور تیری قبر میں تیری گردن میں لٹکا دیئے جائیں گے قیامت کے دن کھلے ہوئے تیرے سامنے پیش کر دئے جائیں گے اور تجھ سے کہا جائے گا لے اپنا نامہ اعمال خود پڑھ لے اور تو ہی حساب اور انصاف کر لے۔ اللہ کی قسم وہ بڑا ہی عادل ہے جو تیرا معاملہ تیرے ہی سپرد کر رہا ہے۔صفحہ نمبر4644
آیت 13 وَكُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰۗىِٕرَهٗ فِيْ عُنُقِهٖ ”طاءِر“ کا لفظ عربی میں عام طور پر شگون نحوست اور بد قسمتی کے لیے بولا جاتا ہے لیکن یہاں پر خوش بختی اور بد بختی دونوں ہی مراد ہیں۔ یعنی کسی انسان کا جو بھی مقسوم و مقدور ہے زندگی میں اچھا برا جو کچھ بھی اسے ملنا ہے جیسے بھی اچھے برے حالات اسے پیش آنے ہیں اس سب کچھ کے بارے میں اس کا جو کھاتہ ”اُمّ الکتاب“ میں موجود ہے اس کا حاصل اس کی گردن میں چپکا دیا گیا ہے۔ گردن میں چپکانے کے الفاظ کا استعمال محاورۃً بھی ہوسکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی کچھ مادی حقیقت بھی ہو۔ یعنی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی گردن میں کسی gland کی صورت میں واقعی کوئی مائیکرو کمپیوٹر نصب کر رکھا ہو۔ واللہ اعلم !وَنُخْرِجُ لَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ كِتٰبًا يَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًاان الفاظ سے تو ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ انسانی جسم کے اندر ہی کوئی ایسا سسٹم لگا دیا گیا ہے جس میں اس کے تمام اعمال و افعال ریکارڈ ہو رہے ہیں اور قیامت کے دن ایک chip کی شکل میں اسے اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اس chip کے اندر اس کی زندگی کی ساری فلم موجود ہوگی ایک ایک حرکت جو اس نے کی ہوگی ایک ایک لفظ جو اس نے منہ سے نکالا ہوگا ایک ایک خیال جو اس کے ذہن میں پیدا ہوا ہوگا ایک ایک نیت جو اس کے دل میں پروان چڑھی ہوگی سب ڈیٹا پوری تفصیل کے ساتھ اس میں محفوظ ہوگا۔ روز قیامت اس chip کو کھول کر کھلی کتاب کی طرح اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا اور کہا جائے گا :
The sense of the book of deeds tied to the neckIt means that one's book of deed stays with the doer no matter where or in whatever condition one is. What he or she does continues to get recorded there. When death comes, the 'book' is closed and set aside safely. After that, when comes the Last Day, the Day of Judgment, this book of deeds will be placed in everyone's hand in order that he would himself read it and also decide himself whether he is deserving of reward or deserving of punishment. It has been reported from Qatadah (رح) that it will be a day when even an illiterate person will be able to read his book of deeds. On this occasion, al-lsbahani has reported on the authority of Sayyidna Abu Umamah ؓ that the Holy Prophet ﷺ said: On the day of Qiyamah, when the book of deeds belonging to people will be given in their hand, someone will notice that some of his good deeds were not recorded there. He will tell his Lord about the particular deeds missing from there. His Lord will tell him that He had erased those deeds for he used to speak ill of people on their backs. (Mazhari)
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.