Surah Al-Isra • Ayah 11
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Man's Haste and Prayers against HimselfAllah tells us about man's haste and how he sometimes prays against himself or his children or his wealth, praying for something bad to happen for them, or for them to die or be destroyed, invoking curses, etc. If Allah were to answer his prayer, he would be destroyed because of it, as Allah says:وَلَوْ يُعَجِّلُ اللَّهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ(And were Allah to hasten for mankind the evil...) 10:11 This is how it was interpreted by Ibn `Abbas, Mujahid and Qatadah. We have already discussed the Hadith:«لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، وَلَا عَلَى أَمْوَالِكُمْ أَنْ تُوَافِقُوا مِنَ اللهِ سَاعَةَ إِجَابَةٍ يَسْتَجِيبُ فِيهَا»(Do not pray against yourselves or your wealth, for that might coincide with a time when Allah answers prayers.) What makes the son of Adam do that is his anxiety and haste. Allah says:وَكَانَ الإِنْسَـنُ عَجُولاً(And man is ever hasty.) Salman Al-Farisi and Ibn `Abbas mentioned the story of Adam, when he wanted to get up before his soul reached his feet. When his soul was breathed into him, it entered his body from his head downwards. When it reached his brain he sneezed, and said, "Al-Hamdu Lillah" (praise be to Allah), and Allah said, "May your Lord have mercy on you, O Adam." When it reached his eyes, he opened them, and when it reached his body and limbs he started to stare at them in wonder. He wanted to get up before it reached his feet, but he could not. He said, "O Lord, make it happen before night comes."
بددعا اور انسان ٭٭یعنی انسان کبھی کبھی دلگیر اور ناامید ہو کر اپنی سخت غلطی سے خود اپنے لیے برائی کی دعا مانگنے لگتا ہے۔ کبھی اپنے مال و اولاد کے لیے بد دعا کرنے لگتا ہے کبھی موت کی، کبھی ہلاکت کی، کبھی بربادی اور لعنت کی۔ «وَلَوْ يُعَجِّلُ اللَّـهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُم بِالْخَيْرِ لَقُضِيَ إِلَيْهِمْ أَجَلُهُمْ» [10-يونس:11] لیکن اس کا اللہ اس پر خود اس سے بھی زیادہ مہربان ہے ادھر وہ دعا کرے ادھر وہ قبول فرما لے تو ابھی ہلاک ہو جائے۔ حدیث میں بھی ہے کہ «لا تَدْعُوا على أنْفُسِكُمْ، ولا على أمْوَالِكُمْ، تُوافِقُوا مِنَ اللَّهِ ساعَةً إجابة فَيَسْجِيبُ فيها» اپنی جان و مال کے لیے بد دعا نہ کرو ایسا نہ ہو کہ کسی قبولیت کی ساعت میں کوئی ایسا بد کلمہ زبان سے نکل جائے۔ [صحیح مسلم:3009] اس کی وجہ صرف انسان کی اضطرابی حالت اور اس کی جلد بازی ہے۔ یہ ہے ہی جلد باز۔ سیدنا سلمان فارسی اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم نے اس موقعہ پر آدم علیہ السلام کا واقعہ ذکر کیا ہے کہ ابھی پیروں تلے روح نہیں پہنچی تھی کہ آپ نے کھڑے ہونے کا ارادہ کیا روح سر کی طرف سے آرہی تھی ناک تک پہنچی تو چھینک آئی آپ نے کہا «الحمدللہ» ۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا «يَرْحَمُكَ اللَّهُ يَا آدَمُ» اے آدم تجھ پر تیرا رب رحم کرے۔ جب آنکھوں تک پہنچی تو آنکھیں کھول کر دیکھنے لگے۔ جب اور نیچے کے اعضاء میں پہنچی تو خوشی سے اپنے آپ کو دیکھنے لگے۔ ابھی پیروں تک نہیں پہنچی تو چلنے کا ارادہ کیا لیکن نہ چل سکے تو دعا کرنے لگے کہ اے اللہ رات سے پہلے روح آجائے۔صفحہ نمبر4639
آیت 11 وَيَدْعُ الْاِنْسَان بالشَّرِّ دُعَاۗءَهٗ بالْخَيْرِ یعنی انسان اللہ سے دعا کر رہا ہوتا ہے کہ اے اللہ ! میرے لیے یوں کر دے یوں کر دے۔ حالانکہ اسے کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ جو کچھ وہ اپنے لیے مانگ رہا ہے وہ اس کے لیے مفید ہے یا مضر۔ اس طرح انسان اپنے لیے اکثر وہ کچھ مانگ لیتا ہے جو اس کے لیے الٹا نقصان دہ ہوتا ہے۔ سورة البقرۃ میں فرمایا گیا ہے : عَسٰٓى اَنْ تَكْرَھُوْا شَـيْـــًٔـا وَّھُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تُحِبُّوْا شَـيْـــــًٔـا وَّھُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ”ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو اور ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے شر ہو اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے“۔ چناچہ بہتر لائحہ عمل یہ ہے کہ اللہ پر توکل کرتے ہوئے انسان اپنے معاملات اس کے حوالے کر دے کہ اے اللہ ! میرے معاملات تیرے سپرد ہیں کیونکہ میرے نفع و نقصان کو تو مجھ سے بہتر جانتا ہے : سپردم بتو مایۂ خویش را تو دانی حساب کم و بیش را !دعائے استخارہ میں بھی ہمیں تفویض امر کا یہی انداز سکھایا گیا ہے :اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ وَاَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ وَاَسْءَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ ‘ فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ 1”اے اللہ ! میں تیرے علم کی بدولت تجھ سے خیر چاہتا ہوں اور تیری قدرت کی برکت سے طاقت مانگتا ہوں اور تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے فضل عظیم کا ‘ بیشک تو ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے اور میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں تو سب کچھ جانتا ہے اور میں کچھ بھی نہیں جانتا اور تو ہر قسم کے غیب کو جاننے والا ہے۔“بہرحال انسان کا عمومی رویہ یہی ہوتا ہے کہ وہ اللہ پر توکل کرنے کے بجائے اپنی عقل اور سوچ پر انحصار کرتا ہے اور اس طرح اپنے لیے خیر کی جگہ شر کی دعائیں کرتا رہتا ہے۔وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًااپنی اس جلد بازی اور کوتاہ نظری کی وجہ سے وہ شر کو خیر اور خیر کو شر سمجھ بیٹھتا ہے۔
Perhaps, it is based on this congruity that it was said in verse 11 that man would, on occasions, pray for something in a haste, something that spells out destruction for him. If Allah Ta` ala were to answer such a prayer, he would be ruined. But, Allah Ta’ ala does not answer such prayers instantly until man himself comes to realize that his prayer was made in error and that it was fatal for him. Then, in the last sentence of this very verse, a natural weakness of man has been mentioned in the form of a standing rule - that man is, by nature, haste-prone. He keeps his sight trained on passing profit and loss and falls short on foresight and hindsight. He loves to go for the immediate gain and comfort, even if it happens to be only a little. He would not bat an eye to prefer it to the greater and more lasting gain and comfort. In short, this verse points out to a natural weakness of human beings in general.And some authorities in Tafsir have taken this verse to be related to a particular event. The event they refer to concerns Nadr ibn Harith who had made a prayer in the heat of his hostility to Islam saying:اللھُمَّ اِن کَانَ ھٰذَا ھوُالحَقَّ مِن عندِکَ فَاَمطِر عَلَینَا حِجارَۃً مَّنَ السَّمَآِء اَوأتنا بِعَذَاب اَلِیمO Allah, if this [ Islam ] is the truth from You, then, rain down on us rocks from the skies or send upon us some other painful punishment.In that case, 'al-insan' of the text would be referring to those mentioned above, or those like them.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.