Surah Yusuf • Ayah 97
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Yahudha brings Yusuf's Shirt and Good NewsIbn `Abbas and Ad-Dahhak said; الْبَشِيرُ(good news) means information. Mujahid and As-Suddi said that the bearer of good news was Yahudha, son of Ya`qub. As-Suddi added, "He brought it (Yusuf's shirt) because it was he who brought Yusuf's shirt stained with the false blood. So he liked to erase that error with this good act, by bringing Yusuf's shirt and placing it on his father's face. His father's sight was restored to him." Ya`qub said to his children, أَلَمْ أَقُلْ لَّكُمْ إِنِّى أَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ(Did I not say to you, `I know from Allah that which you know not'), that I know that Allah will return Yusuf to me and that, إِنِّى لأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ لَوْلاَ أَن تُفَنِّدُونِ(I do indeed feel the smell of Yusuf, if only you think me not senile.) Yusuf's Brothers feel Sorry and RegretfulThis is when Yusuf's brothers said to their father, with humble- ness, قَالُواْ يأَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَآ إِنَّا كُنَّا خَـطِئِينَ - قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّى إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ("O our father! Ask forgiveness (from Allah) for our sins, indeed we have been sinners." He said: "I will ask my Lord for forgiveness for you, verily, He! Only He is the Oft-Forgiving, the Most Merciful.") and He forgives those who repent to Him. `Abdullah bin Mas`ud, Ibrahim At-Taymi, `Amr bin Qays, Ibn Jurayj and several others said that Prophet Ya`qub delayed fulfilling their request until the latter part of the night.
بابکہتے ہیں کہ پیراہن یوسف علیہ السلام یعقوب علیہ السلام کے بڑے صاحبزادے یہودا لائے تھے۔ اس لیے کہ انہوں نے ہی پہلے جھوٹ موٹ وہ کرتا پیش کیا تھا۔ جسے خون آلود کر کے لائے تھے اور باپ کو یہ سمجھایا تھا کہ یوسف علیہ السلام کا خون ہے، اب بدلے کے لیے یہ کرتہ بھی یہی لائے کہ برائی کے بدلے بھلائی ہو جائے بری خبر کے بدلے خوشخبری ہو جائے۔ آتے ہی باپ کے منہ پر ڈالا۔ اسی وقت یعقوب علیہ السلام کی آنکھیں کھل گئیں اور بچوں سے کہنے لگے دیکھو میں تو ہمیشہ تم سے کہا کرتا تھا کہ اللہ کی بعض وہ باتیں میں جانتا ہوں جن سے تم محض بے خبر ہو۔ میں تم سے کہا کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے یوسف علیہ السلام کو ضرور مجھ سے ملائے گا، ابھی تھوڑے دنوں کا ذکر ہے کہ میں نے تم سے کہا تھا کہ مجھے آج میرے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے۔صفحہ نمبر4076باپ جواب میں فرماتے ہیں کہ مجھے اس سے انکار نہیں اور مجھے اپنے رب سے یہ بھی امید ہے کہ وہ تمہاری خطائیں معاف فرما دے گا اس لیے کہ وہ بخششوں اور مہربانیوں والا ہے توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرما لیا کرتا ہے میں صبح سحری کے وقت تمہارے لیے استغفار کروں گا۔ ابن جریر میں ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ مسجد میں آتے تو سنتے کہ کوئی کہہ رہا ہے کہ اللہ تو نے پکارا، میں نے مان لیا تو نے حکم دیا میں بجا لایا، یہ سحر کا وقت ہے، پس تو مجھے بخش دے، آپ نے کان لگا کر غور کیا تو معلوم ہوا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر سے یہ آواز آ رہی ہے۔ آپ نے ان سے پوچھا انہوں نے کہا یہی وہ وقت ہے جس کے لیے یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے کہا تھا کہ میں تمہارے لیے تھوڑی دیر بعد استغفار کروں گا۔ حدیث میں ہے کہ یہ رات جمعہ کی رات تھی۔ ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مراد اس سے یہ ہے کہ جب جمعہ کی رات آ جائے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:1981:ضعیف] لیکن یہ حدیث غریب ہے۔ بلکہ اس کے مرفوع ہونے میں بھی کلام ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔صفحہ نمبر4077
آیت 96 فَلَمَّآ اَنْ جَاۗءَ الْبَشِيْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰي وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِيْرًایوسف کی قمیص چہرے پر ڈالتے ہی حضرت یعقوب کی بصارت لوٹ آئی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حضرت یعقوب کے سامنے زندگی کا سب سے اندوہناک غم بھی حضرت یوسف کے کرتے ہی کی صورت میں سامنے آیا تھا جب برادران یوسف نے اس پر خون لگا کر ان کے سامنے پیش کردیا تھا کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا اور اب زندگی کی سب سے بڑی خوشی بھی یوسف کے کرتے ہی کی صورت میں نمودار ہوگئی۔
Now, when the truth of the matter became clear, the brothers of Yusuf asked for the forgiveness of their father in a spiritually endearing style by saying: قَالُوا يَا أَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ : 'Our father, pray to Allah to forgive us our sins. Surely, we have been wrong - 97.' Thus, it is obvious that a person who prays to Allah Ta` ala for the forgiveness of their sins would do that himself too.
Ya'qub wept so much for Yusuf that he lost his sight. He maintained, against the mockery of those around him, that he smelled Yusuf alive. When Yusuf's shirt was brought from Egypt, Ya'qub placed it over his face and his sight was instantly restored. The Quran (12:93-97) documents this miracle of healing through faith and the shirt of the prophet. The whole family then moved to Egypt, fulfilling the dream of the stars bowing.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.