Surah Yusuf • Ayah 4
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Yusuf's DreamAllah says, `Mention to your people, O Muhammad, among the stories that you narrate to them, the story of Yusuf.' Prophet Yusuf (Joseph) mentioned his dream to his father, Prophet Ya`qub (Jacob), son of Prophet Ishaq (Isaac), son of Prophet Ibrahim (Abraham), peace be upon them all. `Abdullah bin `Abbas stated that the dreams of Prophets are revelations from Allah. Scholars of Tafsir explained that in Yusuf's dream the eleven stars represent his brothers, who were eleven, and the sun and the moon represent his father and mother. This explanation was collected from Ibn `Abbas, Ad-Dahhak, Qatadah, Sufyan Ath-Thawri and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam. Yusuf's vision became a reality forty years later, or as some say, eighty years, when Yusuf raised his parents to the throne while his brothers were before him, وَخَرُّواْ لَهُ سُجَّدَا وَقَالَ يأَبَتِ هَـذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَـى مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّى حَقًّا(and they fell down before him prostrate. And he said: "O my father! This is the interpretation of my dream aforetime! My Lord has made it come true!")
بہترین قصہ یوسف علیہ السلام ٭٭حضرت یوسف علیہ السلام کے والد یعقوب بن اسحٰق بن ابراہیم علیہ ہم السلام ہیں۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ“ کریم بن کریم بن کریم بن کریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ [صحیح بخاری:3390] نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سوال ہوا کہ سب لوگوں میں زیادہ بزرگ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے دل میں اللہ کا ڈر سب سے زیادہ ہو۔ انہوں نے کہا ہمارا مقصود ایسا عام جواب نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر سب لوگوں میں زیادہ بزرگ یوسف علیہ السلام ہیں جو خود نبی تھے، جن کے والد نبی تھے جن کے دادا نبی تھے، جن کے پردادا نبی اور خلیل تھے۔ انہوں نے کہا ہم یہ بھی نہیں پوچھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کیا تم عرب کے قبیلوں کی نسبت یہ سوال کرتے ہو؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو جاہلیت کے زمانے میں جو ممتاز اور شریف تھے۔ وہ اسلام لانے کے بعد بھی ویسے ہی شریف ہیں، جب کہ انہوں نے دینی سمجھ حاصل کر لی ہو [صحیح بخاری:3374] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں نبیوں کے خواب اللہ کی وحی ہوتے ہیں۔ مفسرین نے کہا ہے کہ یہاں گیارہ ستاروں سے مراد یوسف علیہ السلام کے گیارہ بھائی ہیں اور سورج چاند سے مراد آپ کے والد اور والدہ ہیں۔ اس خواب کی تعبیر خواب دیکھنے کے چالیس سال بعد ظاہر ہوئی۔ بعض کہتے ہیں اسی برس کے بعد ظاہر ہوئی۔صفحہ نمبر3952آیت میں ہے «وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا وَقَالَ يَا أَبَتِ هَـٰذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا» [ 12-یوسف: 100 ] جب کہ آپ نے اپنے ماں باپ کو تخت شاہی پر بٹھایا۔ اور گیارہ بھائی آپ کے سامنے سجدے میں گر پڑے۔ اس وقت آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے مہربان باپ یہ دیکھئیے آج اللہ تعالیٰ نے میرے خواب کو سچا کر دکھایا۔ ایک روایت میں ہے کہ بستانہ نامی یہودیوں کا ایک زبردست عالم تھا۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان گیارہ ستاروں کے نام دریافت کئے۔ آپ خاموش رہے۔ جبرائیل علیہ السلام نے آسمان سے نازل ہو کر آپ کو نام بتائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوایا اور فرمایا اگر میں تجھے ان کے نام بتا دوں تو تو مسلمان ہو جائے گا اس نے اقرار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سن ان کے نام یہ ہیں۔ جریان، طارق۔ ذیال، ذوالکتفین۔ قابل۔ وثاب۔ عمودان۔ فلیق۔ مصبح۔ فروح۔ فرغ۔ یہودی نے کہا ہاں ہاں اللہ کی قسم ان ستاروں کے یہی نام ہیں [ مسند بزار،2220:ضعیف جدا ] یہ روایت دلائل بیہقی میں اور ابو یعلیٰ بزار اور ابن ابی حاتم میں بھی ہے۔ ابو یعلیٰ میں یہ بھی ہے کہ یوسف علیہ السلام نے جب یہ خواب اپنے والد صاحب سے بیان کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا”یہ سچا خواب ہے یہ پورا ہو کر رہے گا۔“ آپ فرماتے ہیں سورج سے مراد باپ ہیں اور چاند سے مراد ماں ہیں۔ لیکن اس روایت کی سند میں حکم بن ظہیر فزاری منفرد ہیں جنہیں بعض اماموں نے ضعیف کہا ہے اور اکثر نے انہیں متروک کر رکھا ہے یہی حسن یوسف کی روایت کے راوی ہیں۔ انہیں چاروں ہی ضعیف کہتے ہیں۔صفحہ نمبر3953
آیت 4 اِذْ قَالَ يُوْسُفُ لِاَبِيْهِ حضرت یعقوب کی بڑی بیوی سے آپ کے دس بیٹے تھے اور وہ سب کے سب اس وقت تک جوانی کی عمر کو پہنچ چکے تھے ‘ جبکہ آپ کے دو بیٹے یوسف اور بن یا مین آپ کی چھوٹی بیوی سے تھے۔ ان میں حضرت یوسف بڑے تھے مگر ابھی یہ دونوں ہی کم سن تھے۔
Moving on the verse 4, the text takes up the story of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) which opens with the following words: إِذْ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِي سَاجِدِينَ (It happened) [ when Yusuf said to his father, 'My father, I have seen eleven stars and the Sun and the Moon; I have seen them all prostrating to me.]This was the dream seen by Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) interpreting which Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas ؓ said: ` The eleven stars meant the eleven brothers of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) and the Sun and the Moon meant his father and mother.'According to al-Qurtubi, though the mother of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) had passed away from this mortal world before this event, but in her place, his father was wedded to her sister. A maternal aunt already has love and concern for her sister's children as their natural mother would normally have. Now when she, after the death of her sister, comes to be the wife of the father, she would customarily be referred to as the mother.
Young Yusuf told his father Ya'qub (Jacob) of a dream where eleven stars, the sun, and the moon prostrated to him. Ya'qub immediately recognized this as a divine sign and advised his son to keep it secret from his brothers, who might plot against him out of jealousy. This opening of Surah Yusuf establishes the prophetic gift of interpretation of visions — later fulfilled when Yusuf's brothers, parents, and relatives indeed bowed before him in Egypt decades later.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.