Surah Yusuf • Ayah 16
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Yusuf's Brothers try to deceive Their FatherAllah narrates to us the deceit that Yusuf's brothers resorted to, after they threw him to the bottom of the well. They went back to their father, during the darkness of the night, crying and showing sorrow and grief for losing Yusuf. They started giving excuses to their father for what happened to Yusuf, falsely claiming that, إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ(We went racing with one another), or had a shooting competition, وَتَرَكْنَا يُوسُفَ عِندَ مَتَـعِنَا(and left Yusuf by our belongings), guarding our clothes and luggage, فَأَكَلَهُ الذِّئْبُ(and a wolf devoured him), which is exactly what their father told them he feared for Yusuf and warned against. They said next, وَمَآ أَنتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صَـدِقِينَ(but you will never believe us even when we speak the truth.) They tried to lessen the impact of the grave news they were delivering. They said, `We know that you will not believe this news, even if you consider us truthful. So what about when you suspect that we are not truthful, especially since you feared that the wolf might devour Yusuf and that is what happened' Therefore, they said, `You have reason not to believe us because of the strange coincidence and the amazing occurrence that happened to us. ' وَجَآءُوا عَلَى قَمِيصِهِ بِدَمٍ كَذِبٍ(And they brought his shirt stained with false blood.) on it, to help prove plot that they all agreed on. They slaughtered a sheep, according to Mujahid, As-Suddi and several other scholars, and stained Yusuf's shirt with its blood. They claimed that this was the shirt Yusuf was wearing when the wolf devoured him, being stained with his blood. But, they forgot to tear the shirt, and this is why Allah's Prophet Ya`qub did not believe them. Rather, he told them what he felt about what they said to him, thus refusing their false claim, بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ(Nay, but your ownselves have made up a tale. So (for me) patience is most fitting.) Ya`qub said, `I will firmly observe patience for this plot on which you agreed, until Allah relieves the distress with His aid and compassion, وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ(And it is Allah (alone) Whose help can be sought against that which you describe.), against the lies and unbelievable incident that you said had occurred.'
بھائیوں کی واپسی اور معذرت ٭٭چپ چاپ ننھے بھیا پر، اللہ کے معصوم نبی پر، باپ کی آنکھ کے تارے پر ظلم وستم کے کے پہاڑ توڑ کر رات ہوئے باپ کے پاس سرخ رو ہونے اور اپنی ہمدردی ظاہر کرنے کے لیے غمزدہ ہو کر روتے ہوئے پہنچے اور اپنے ملال کا یوسف علیہ السلام کے نہ ہونے کا سبب یہ بیان کیا کہ ہم نے تیر اندازی اور ڈور شروع کی۔ چھوٹے بھائی کو اسباب کے پاس چھوڑا۔ اتفاق کی بات ہے اسی وقت بھیڑیا آ گیا اور بھائی کا لقمہ بنا لیا۔ چیڑ پھاڑ کر کھا گیا۔ پھر باپ کو اپنی بات صحیح طور پر جچانے اور ٹھیک باور کرانے کے لیے پانی سے پہلے بند باندھتے ہیں کہ ہم اگر آپ کے نزدیک سچے ہی ہوتے تب بھی یہ واقعہ ایسا ہے کہ آپ ہمیں سچا ماننے میں تامل کرتے۔ پھر جب کہ پہلے ہی سے آپ نے اپنا ایک کھٹکا ظاہر کیا ہو اور خلاف ظاہر واقع میں ہی اتفاقاً ایسا ہی ہو بھی جائے تو ظاہر ہے کہ آپ اس وقت تو وہ ہمیں سچا مان ہی نہیں سکتے۔ ہیں تو ہم سچے ہی لیکن آپ بھی ہم پر اعتبار نہ کرنے میں ایک حد تک حق بجانب ہیں۔ کیونکہ یہ واقعہ ہی ایسا انوکھا ہے ہم خود حیران ہیں کہ ہو کیا گیا یہ تو تھا زبانی کھیل ایک کام بھی اسی کے ساتھ کر لائے تھے یعنی بکری کے ایک بچے کو ذبح کر کے اس کے خون سے یوسف کا پیراہن داغدار کر دیا کہ بطور شہادت کے ابا کے سامنے پیش کریں گے کہ دیکھو یہ ہیں یوسف بھائی کے خون کے دھبے ان کے کرتے پر۔صفحہ نمبر3967لیکن اللہ کی شان چور کے پاؤں کہاں؟ سب کچھ تو کیا لیکن کرتا پھاڑنا بھول گئے۔ اس کے لیے باپ پر سب مکر کھل گیا۔ لیکن اللہ کے نبی علیہ السلام نے ضبط کیا اور صاف لفظوں میں گو نہ کہا تاہم بیٹوں کو بھی پتہ چل گیا کہ ابا جی کو ہماری بات جچی نہیں فرمایا کہ تمہارے دل نے یہ تو ایک بات بنادی ہے۔ خیر میں تو تمہاری اس مذبوحی حرکت پر صبر ہی کروں گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے رحم و کرم سے اس دکھ کو ٹال دے۔ تم جو ایک جھوٹی بات مجھ سے بیان کر رہے ہو اور ایک محال چیز پر مجھے یقین دلا رہے ہو اور اس پر میں اللہ سے مدد طلب کرتا ہوں اور اس کی مدد شامل حال رہے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہو جائے گا۔ سیدنا ابن عباس کا قول ہے کہ کرتا دیکھ کر آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ تعجب ہے بھیڑیا یوسف علیہ السلام کو کھا گیا اس کا پیراہن خون آلود ہو گیا مگر کہیں سے ذرا بھی نہ پھٹا۔ خیر میں صبر کروں گا۔ جس میں کوئی شکایت نہ ہو نہ کوئی گھبراہٹ ہو۔ کہتے ہیں کہ تین چیزوں کا نام صبر ہے اپنی مصیبت کا کسی سے ذکر نہ کرنا۔ اپنے دل کا دکھڑا کسی کے سامنے نہ رونا اور ساتھ ہی اپنے نفس کا پاک نہ سمجھا۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اس موقعہ پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس واقعہ کی پوری حدیث کو بیان کیا ہے جس میں آپ پر تہمت لگائے جانے کا ذکر ہے۔ اس میں آپ نے فرمایا ہے واللہ میری اور تمہاری مثال یوسف علیہ السلام کے باپ کی سی ہے کہ انہوں نے فرمایا تھا اب صبر ہی بہتر ہے اور تمہاری ان باتوں پر اللہ ہی سے مدد چاہی گئی ہے۔ [صحیح بخاری:2661] صفحہ نمبر3968
آیت 15 فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَاَجْمَعُوْٓا اَنْ يَّجْعَلُوْهُ فِيْ غَيٰبَتِ الْجُبِّ یہاں پر اَجْمَعُوْٓا کے بعد عَلٰی کا صلہ محذوف ہے یعنی اس منصوبے پر وہ سب کے سب جمع ہوگئے انہوں نے اس رائے پر اتفاق کرلیا۔وَاَوْحَيْنَآ اِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ ھٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ یہ بات الہام کی صورت میں حضرت یوسف کے دل میں ڈالی گئی ہوگی کیونکہ ابھی آپ کی عمر نبوت کی تو نہیں تھی کہ باقاعدہ وحی ہوتی۔ بہر حال آپ پر یہ الہام کیا گیا کہ ایک دن تم اپنے ان بھائیوں کو یہ بات اس وقت جتلاؤ گے جب انہیں اس کا خیال بھی نہیں ہوگا۔ اس چھوٹے سے فقرے میں جو بلاغت ہے اس کا جواب نہیں۔ چند الفاظ کے اندر حضرت یوسف کی تسلی کے لیے گویا پوری داستان بیان کردی گئی ہے کہ تمہاری جان کو خطرہ نہیں ہے تم نہ صرف اس مشکل صورت حال سے نکلنے میں کامیاب ہوجاؤ گے بلکہ ایک دن ایسا بھی آئے گا جب تم اس قابل ہو گے کہ اپنے ان بھائیوں کو ان کا یہ سلوک جتلا سکو۔
As in verse 16: وَجَاءُوا أَبَاهُمْ عِشَاءً يَبْكُونَ They came weeping to their father at nightfall. Hearing the sound of their crying, Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) came out and asked: what has happened? Was the flock of your goats attacked by someone? And where is Yusuf?
The brothers of Yusuf, jealous of their father's preference for him, plotted to kill him or cast him away. They took him into the desert, threw him into a well, and returned with his shirt stained with false blood, claiming a wolf had devoured him. A passing caravan found Yusuf and sold him as a slave in Egypt. The Quran (12:8-20) portrays this betrayal as the beginning of a divine plan that would ultimately exalt Yusuf and unite the family on higher terms.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.