Surah Yusuf • Ayah 11
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Yusuf's Brothers ask for Their Father's Permission to take Yusuf with ThemWhen Yusuf's brothers agreed to take him and throw him down the well, taking the advice of their elder brother Rubil, they went to their father Ya`qub, peace be upon him. They said to him, "Why is it that you, لاَ تَأْمَنَّا عَلَى يُوسُفَ وَإِنَّا لَهُ لَنَـصِحُونَ(do not trust us with Yusuf though we are indeed his well-wishers)." They started executing their plan by this introductory statement, even though they really intended its opposite, out of envy towards Yusuf for being loved by his father. They said, أَرْسِلْهُ مَعَنَا"(Send him with us) tomorrow so that we all enjoy ourselves and play." Qatadah, Ad-Dahhak and As-Suddi said similarly. Yusuf's brothers said next, وَإِنَّا لَهُ لَحَـفِظُونَ(and verily, we will take care of him.), we will protect him and ensure his safety for you.
بڑے بھائی کی رائے پر اتفاق ٭٭بڑے بھائی روبیل کے سمجھانے پر سب بھائیوں نے اس رائے پر اتفاق کر لیا کہ یوسف کو لے جائیں اور کسی غیر آباد کنویں میں ڈال آئیں۔ یہ طے کرنے کے بعد باپ کو دھوکہ دینے اور بھائی کو پھسلا کر لے جانے اور اس پر آفت ڈھانے کے لیے سب مل کر باپ کے پاس آئے۔ باوجودیکہ تھے یہ بد اندیش بد خواہ برا چاہنے والے لیکن باپ کو اپنی باتوں میں پھنسانے کے لیے اور اپنی گہری سازش میں انہیں الجھانے کے لیے پہلے ہی جال بچھاتے ہیں کہ ابا جی آخر کیا بات ہے جو آپ ہمیں یوسف کے بارے میں امین نہیں جانتے؟ ہم تو اس کے بھائی ہیں اس کی خیر خواہیاں ہم سے زیادہ کون کر سکتا ہے۔؟ «يَرْتَعْ وَيَلْعَبْ» کی دوسری قرآت «ترتع و نلعب» بھی ہے۔ باپ سے کہتے ہیں کہ بھائی یوسف کو کل ہمارے ساتھ سیر کے لیے بھیجئے۔ ان کا جی خوش ہو گا، دو گھڑی کھیل کود لیں گے، ہنس بول لیں گے، آزادی سے چل پھر لیں گے۔ آپ بے فکر رہیے ہم سب اس کی پوری حفاظت کریں گے۔ ہر وقت دیکھ بھال رکھیں گے۔ آپ ہم پر اعتماد کیجئے ہم اس کے نگہبان ہیں۔صفحہ نمبر3961
آیت 10 قَالَ قَاۗىِٕلٌ مِّنْهُمْ لَا تَـقْتُلُوْا يُوْسُفَ یہ شریف النفس انسان ان کے سب سے بڑے بھائی تھے جنہوں نے یہ مشورہ دیا۔ ان کا نام یہودا تھا اور انہی کے نام پر لفظ ”یہودی“ بنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ تو اس سے پیچھا چھڑانے کا ہے لہٰذا ضروری نہیں کہ قتل جیسا گناہ کر کے ہی یہ مقصد حاصل کیا جائے اس کے لیے کوئی دوسرا طریقہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے۔وَاَلْقُوْهُ فِيْ غَيٰبَتِ الْجُبِّ يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّـيَّارَةِ پرانے زمانے کے کنویں کی ایک خاص قسم کو باؤلی کہا جاتا تھا اس کا منہ کھلا ہوتا تھا لیکن گہرائی میں یہ تدریجاً تنگ ہوتا جاتا تھا۔ پانی کی سطح کے قریب اس کی دیوار میں طاقچے سے بنائے جاتے تھے۔ اس طرح کی باؤلیاں پرانے زمانے میں قافلوں کے راستوں پر بنائی جاتی تھیں۔ چناچہ اس مشورے پر عمل کی صورت میں قوی امکان تھا کہ کسی قافلے کا ادھر سے گزر ہوگا اور قافلے والے یوسف کو باؤلی سے نکال کر اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ بڑے بھائی کے اس مشورے کا مقصد بظاہر یہ تھا کہ اس طرح کم از کم یوسف کی جان بچ جائے گی اور ہم بھی اس کے خون سے ہاتھ رنگنے کے جرم کے مرتکب نہیں ہوں گے۔ اِنْ کُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ جب نو بھائی اس بات پر پوری طرح تلُ گئے کہ یوسف سے بہرحال چھٹکارا حاصل کرنا ہے تو دسواں بھائی ان کو اس حرکت سے بالکل منع تو نہیں کرسکا لیکن اس نے کوشش کی کہ کم از کم وہ لوگ یوسف کو قتل کرنے سے باز رہیں۔
Appearing in the fifth (111) and sixth (112) verse is the request of these brothers before their father in which they wondered why he would not trust them with Yusuf, although they wished him fully well. So, they pleaded, he should send him along with them to enjoy himself freely by eating and drinking and playing with them and that they all shall be there to take care of him.The tone of the very request made by the brothers of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) indicates that they had already made such a request earlier too which was not accepted by their father. Therefore, in the present request, they seem to have tried to assure their father with added effort and insistence.
The brothers of Yusuf, jealous of their father's preference for him, plotted to kill him or cast him away. They took him into the desert, threw him into a well, and returned with his shirt stained with false blood, claiming a wolf had devoured him. A passing caravan found Yusuf and sold him as a slave in Egypt. The Quran (12:8-20) portrays this betrayal as the beginning of a divine plan that would ultimately exalt Yusuf and unite the family on higher terms.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.