Surah Yusuf • Ayah 105
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
People neglect to ponder the Signs before ThemAllah states that most people do not think about His signs and proofs of His Oneness that He created in the heavens and earth. Allah created brilliant stars and rotating heavenly objects and planets, all made subservient. There are many plots of fertile land next to each other on earth, and gardens, solid mountains, lively oceans, with their waves smashing against each other, and spacious deserts. There are many live creatures and others that have died; and animals, plants and fruits that are similar in shape, but different in taste, scent, color and attributes. All praise is due to Allah the One and Only, Who created all types of creations, Who Alone will remain and last forever. It is He Who is unique in His Names and Attributes. Allah said next,وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلاَّ وَهُمْ مُّشْرِكُونَ(And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him.) Ibn `Abbas commented, "They have a part of faith, for when they are asked, `Who created the heavens Who created the earth Who created the mountains' They say, `Allah did.' Yet, they associate others with Him in worship." Similar is said by Mujahid, `Ata, `Ikrimah, Ash-Sha`bi, Qatadah, Ad-Dahhak and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam. In the Sahih, it is recorded that during the Hajj season, the idolators used to say in their Talbiyah: "Here we rush to Your service. You have no partners with You, except a partner with You whom You own but he owns not!" Allah said in another Ayah,إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ(Verily, joining others in worship with Allah is a great Zulm (wrong) indeed.) 31:13 This indeed is the greatest type of Shirk, associating others with Allah in worship. It is recorded in the Two Sahihs that `Abdullah bin Mas`ud said, "I said, `O Allah's Messenger! What is the greatest sin' He said,«أَنْ تَجْعَلَ للهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَك»(That you call a rival to Allah while He alone created you.)" Al-Hasan Al-Basri commented on Allah's statement,وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلاَّ وَهُمْ مُّشْرِكُونَ(And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him.) "This is the hypocrite; if he performs good deeds, he does so to show off with the people, and he is an idolator while doing this." Al-Hasan was referring to Allah's statement,إِنَّ الْمُنَـفِقِينَ يُخَـدِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُواْ إِلَى الصَّلَوةِ قَامُواْ كُسَالَى يُرَآءُونَ النَّاسَ وَلاَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلاَّ قَلِيلاً(Verily, the hypocrites seek to deceive Allah, but it is He Who deceives them. And when they stand up for As-Salah, they stand with laziness and to be seen of men, and they do not remember Allah but little.) 4:142 There is another type of hidden Shirk that most people are unaware of. Hammad bin Salamah narrated that `Asim bin Abi An-Najud said that `Urwah said, "Hudhayfah visited an ill man and saw a rope tied around his arm, so he ripped it off while reciting,وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلاَّ وَهُمْ مُّشْرِكُونَ(And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him.) In a Hadith, from Ibn `Umar collected by At-Tirmidhi who said it was Hasan, the Prophet said,«مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللهِ فَقَدْ أَشْرَك»(He who swears by other than Allah, commits Shirk.) Imam Ahmad, Abu Dawud and other scholars of Hadith narrated that `Abdullah bin Mas`ud said that the Messenger of Allah ﷺ said,«إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْك»(Verily, Ar-Ruqa, At-Tama'im and At-Tiwalah are all acts of Shirk.) In another narration collected by Ahmad and Abu Dawud, the Prophet said,«الطِّيَرَةُ شِرْكٌ وَمَا مِنَّا إِلَّا، وَلَكِنَّ اللهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّل»(Verily, At-Tiyarah omen is Shirk; everyone might feel a glimpse of it, but Allah dissipates it with Tawakkul.)" Allah said next,أَفَأَمِنُواْ أَن تَأْتِيَهُمْ غَاشِيَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللَّهِ(Do they then feel secure from the coming against them of the covering veil of the torment of Allah) Allah asks, `Do these idolators who associate others with Allah in the worship, feel secure from the coming of an encompassing torment from where they perceive not' Allah said in other `Ayat,أَفَأَمِنَ الَّذِينَ مَكَرُواْ السَّيِّئَاتِ أَن يَخْسِفَ اللَّهُ بِهِمُ الاٌّرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لاَ يَشْعُرُونَ - أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِى تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُم بِمُعْجِزِينَ - أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَى تَخَوُّفٍ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَؤُوفٌ رَّحِيمٌ(Do then those who devise evil plots feel secure that Allah will not sink them into the earth, or that the torment will not seize them from directions they perceive not Or that He may catch them in the midst of their going to and from, so that there be no escape for them (from Allah's punishment) Or that He may catch them with gradual wasting (of their wealth and health) Truly, Your Lord is indeed full of kindness, Most Merciful.) 16:45-47 and,أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَـتاً وَهُمْ نَآئِمُونَ - أَوَ أَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَن يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَأَفَأَمِنُواْ مَكْرَ اللَّهِ فَلاَ يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الْخَـسِرُونَ(Did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment by night while they were asleep Or, did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment in the forenoon while they were playing Did they then feel secure against the plan of Allah None feels secure from the plan of Allah except the people who are the losers.) 7:97-99)
باببیان ہو رہا ہے قدرت کی بہت سی نشانیاں، وحدانیت کی بہت سے گواہیاں، دن رات ان کے سامنے ہیں، پھر بھی اکثر لوگ نہایت بے پرواہی اور سبک سری سے ان میں کبھی غور وفکر نہیں کرتے۔ کیا یہ اتنا وسیع آسمان، کیا یہ اس قدر پھیلی ہوئی، زمین، کیا یہ روشن ستارے یہ گردش والا سورج، چاند، یہ درخت اور یہ پہاڑ، یہ کھیتیاں اور سبزیاں، یہ تلاطم برپا کرنے والے سمندر، یہ بزور چلنے والی ہوائیں، یہ مختلف قسم کے رنگا رنگ میوے، یہ الگ الگ غلے اور قدرت کی بےشمار نشانیاں ایک عقلمند کو اس قدر بھی کام نہیں آ سکتیں؟ کہ وہ ان سے اپنے اللہ کی جو احد ہے، صمد ہے، فرد ہے، واحد ہے، لا شریک ہے، قادر و قیوم ہے، باقی اور کافی ہے اس ذات کو پہچان لیں اور اس کے ناموں اور صفتوں کے قائل ہو جائیں؟ بلکہ ان میں سے اکثریت کی ذہنیت تو یہاں تک بگڑ چکی ہے کہ اللہ پر ایمان ہے پھر شرک سے دست برداری نہیں۔ آسمان و زمین پہاڑ اور درخت کا انسان اور دن کا خالق اللہ مانتے ہیں۔ لیکن پھر بھی اس کے سوا دوسروں کو اس کے ساتھ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ یہ مشرکین حج کو آتے ہیں، احرام باندھ کر لبیک پکارتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تیرا کوئی شریک ہیں، جو بھی شریک ہیں، ان کا خود کا مالک بھی تو ہے اور ان کی ملکیت کا مالک بھی تو ہی ہے۔صفحہ نمبر4096صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب وہ اتنا کہتے ہیں کہ ہم حاضر ہیں الٰہی تیرا کوئی شریک نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے بس بس، یعنی اب آگے کچھ نہ کہو۔ [صحیح مسلم:1185] «إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ» [ 31-لقمان: 13 ] فی الواقع شرک ظلم عظیم ہے کہ اللہ کے ساتھ دوسرے کی بھی عبادت۔ بخاری و مسلم میں ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ سب سے بڑا گناہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ تیرا اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے۔ [صحیح بخاری:4477] اسی طرح اسی آیت کے تحت میں منافقین بھی داخل ہیں۔ ان کے عمل اخلاص والے نہیں ہوتے بلکہ وہ ریا کار ہوتے ہیں اور ریا کاری بھی شرک ہے۔ قرآن کا فرمان ہے «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّـهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّـهَ إِلَّا قَلِيلًا» [ 4-النساء: 142 ] ، منافق اللہ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں حالانکہ اللہ کی طرف سے خود دھوکے میں ہیں۔ یہ نماز کو بڑے ہی سست ہو کر کھڑے ہوتے ہیں، صرف لوگوں کو دکھانا مقصود ہوتا ہے ذکر اللہ تو برائے نام ہوتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ بعض شرک بہت ہلکے اور پوشیدہ ہوتے ہیں خود کرنے والے کو بھی پتہ نہیں چلتا۔ چنانچہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ایک بیمار کے پاس گئے، اس کے بازو پر ایک دھاگا بندھا ہوا دیکھ کر آپ نے اسے توڑ دیا اور یہی آیت پڑھی کہ ایماندار ہوتے ہوئے بھی مشرک بنتے ہو؟ حدیث شریف میں ہے اللہ کے سوا دوسرے کے نام کی جس نے قسم کھائی وہ مشرک ہو گیا۔ ملاحظہ ہو ترمذی شریف۔ [سنن ترمذي:1535، قال الشيخ الألباني:صحیح] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جھاڑ پھونک ڈورے دھاگے اور جھوٹے تعویذ شرک ہیں۔ [سنن ابن ماجه:3530، قال الشيخ الألباني:صحیح] صفحہ نمبر4097سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کی بیوی صاحبہ فرماتی ہیں کہ عبداللہ کی عادت تھی، جب کبھی باہر سے آتے زور سے کھنکھارتے، تھوکتے کہ گھر والے سمجھ جائیں اور آپ انہیں کسی ایسی حالت میں نہ دیکھ پائیں کہ برا لگے۔ ایک دن اسی طرح آپ آئے اس وقت میرے پاس ایک بڑھیا تھی جو بوجہ بیماری کے مجھ پر دم جھاڑ کرنے کو آئی تھی میں نے آپ کی کھنکھار کی آواز سنتے ہی اسے چارپائی تلے چھپا دیا آپ رضی اللہ عنہما آئے میرے پاس میری چارپائی پر بیٹھ گئے اور میرے گلے میں دھاگا دیکھ کر پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ میں نے کہا اس میں دم کرا کے میں نے باندھ لیا ہے . آپ رضی اللہ عنہما نے اسے پکڑ کر توڑ دیا اور فرمایا عبداللہ کا گھر شرک سے بے نیاز ہے۔ خود میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جھاڑ پھونک تعویذات اور ڈورے دھاگے شرک ہیں۔ میں نے کہا یہ آپ رضی اللہ عنہما کیسے فرماتے ہیں میری آنکھ دکھ رہی تھی، میں فلاں یہودی کے پاس جایا کرتی تھی، وہ دم جھاڑا کر دیتا تھا تو سکون ہو جاتا تھا، آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا تیری آنکھ میں شیطان چوکا مارا کرتا تھا اور اس کی پھونک سے وہ رک جاتا تھا تجھے یہ کافی تھا کہ تو کہتی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا ہے [مسند احمد:310/4:حسن بالشواھد] «أَذْهِبْ الْبَأْس رَبّ النَّاس اِشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاء إِلَّا شِفَاؤُك شِفَاء لَا يُغَادِر سَقَمًا» مسند احمد کی اور حدیث میں عیسیٰ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے: عبداللہ بن حکیم بیمار پڑے۔ ہم ان کی عیادت کے لیے گئے، ان سے کہا گیا کہ آپ کوئی ڈورا دھاگا لٹکا لیں تو اچھا ہو آپ نے فرمایا میں ڈورا دھاگا لٹکاؤں؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے جو شخص جو چیز لٹکائے وہ اسی کے حوالہ کر دیا جاتا ہے۔ [سنن ترمذي:2072، قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند میں ہے: جو شخص کوئی ڈورا دھاگا لٹکائے اس نے شرک کیا۔ ایک روایت میں ہے جو شخص ایسی کوئی چیز لٹکائے، اللہ اس کا کام پورا نہ کرے اور جو شخص اسے لٹکائے اللہ اسے لٹکا ہوا ہی رکھے . [مسند احمد:154/4:حسن بالشواھد] ایک حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں تمام شریکوں سے زیادہ بے نیاز اور بےپرواہ ہوں جو شخص اپنے کسی کام میں میرا کوئی شریک ٹھہرائے میں اسے اور اس کے شریک کو چھوڑ دیتا ہوں۔ [صحیح مسلم:2985] صفحہ نمبر4098مسند میں ہے: قیامت کے دن جب کہ اول آخر سب جمع ہوں گے، اللہ کی طرف سے ایک منادی ندا کرے گا کہ جس نے اپنے عمل میں شرک کیا ہے، وہ اس کا ثواب اپنے شریک سے طلب کر لے، اللہ تعالیٰ تمام شرکاء سے بڑھ کر شرک سے بے نیاز ہے۔ [مسند احمد:466/3:حسن بالشواھد] مسند میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: مجھے تم پر سب سے زیادہ ڈر چھوٹے شرک کا ہے، لوگوں نے پوچھا وہ کیا ہے؟ فرمایا ریا کاری، قیامت کے دن لوگوں کو جزائے اعمال دی جائے گی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے ریا کارو تم جاؤ اور جن کے دکھانے سنانے کے لیے تم نے عمل کئے تھے، اُنہیں سے اپنا اجر طلب کرو اور دیکھو کہ وہ دیتے ہیں یا نہیں؟ [مسند احمد:428/5:حسن بالشواھد] مسند میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جو شخص کوئی بدشگونی لے کر اپنے کام سے لوٹ جائے وہ مشرک ہو گیا۔ صحابہ علیہ السلام نے دریافت کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم پھر اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہنا: «اللَّهُمَّ لَا خَيْر إِلَّا خَيْرك وَلَا طَيْر إِلَّا طَيْرك وَلَا إِلَه غَيْرك» اے اللہ سب بھلائیاں سب نیک شگون تیرے ہی ہاتھ میں ہیں، تیرے سوا کوئی بھلائیوں اور نیک شگونیوں والا نہیں۔ [مسند احمد:220/2:حسن بالشواھد] مسند احمد میں ہے کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا کہ: لوگو شرک سے بچو وہ تو چیونٹی کی چال سے زیادہ پوشیدہ چیز ہے، اس پر سیدنا عبداللہ بن حزن اور قیس بن مضارب رضی اللہ عنہما کھڑے ہو گئے اور کہا یا تو آپ رضی اللہ عنہ اس کی دلیل پیش کیجئے یا ہم جائیں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے آپ کی شکایت کریں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا لو دلیل لو۔ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ سنایا اور فرمایا: لوگو! شرک سے بچو وہ تو چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے پس کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ پھر اس سے بچاؤ کیسے ہو سکتا ہے؟ فرمایا یہ دعا پڑھا کرو «اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذ بِك مِنْ أَنْ نُشْرِك بِك شَيْئًا نَعْلَمهُ وَنَسْتَغْفِرك لِمَا لَا نَعْلَمهُ» [مسند احمد:403/4:حسن لغیرہ] ایک اور روایت [ مسند ابو یعلیٰ ] میں ہے کہ یہ سوال کرنے والے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ نے پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ شرک تو یہی ہے کہ اللہ کے ساتھ دوسرے کو پکارا جائے۔ اس حدیث میں دعا کے الفاظ یہ ہیں: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك أَنْ أُشْرِك بِك وَأَنَا أَعْلَم وَأَسْتَغْفِرك مِمَّا لَا أَعْلَم» [مسند ابویعلیٰ:60، ضعیف] ابوداؤد وغیرہ میں ہے کہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیے جسے میں صبح شام اور سوتے وقت پڑھا کروں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دعا پڑھ «اللَّهُمَّ فَاطِر السَّمَوَات وَالْأَرْض عَالِم الْغَيْب وَالشَّهَادَة رَبّ كُلّ شَيْء وَمَلِيكه أَشْهَد أَنْ لَا إِلَه إِلَّا أَنْتَ أَعُوذ بِك مِنْ شَرّ نَفْسِي وَمِنْ شَرّ الشَّيْطَان وَشِرْكه» [مسند احمد:9/1:صحیح] ایک روایت میں ہے کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھنی سکھائی اس کے آخر میں یہ الفاظ بھی ہیں: «وَأَنْ أَقْتَرِف عَلَى نَفْسِي سُوءًا أَوْ أَجُرّهُ إِلَى مُسْلِم» [مسند احمد:14/1:حسن بالشواھد] صفحہ نمبر4099فرمان ہے کہ کیا ان مشرکوں کو اس بات کا خوف نہیں ہے کہ اگر اللہ کو منظور ہو تو چاروں طرف سے عذاب الٰہی انہیں اس طرح آ گھیرے کہ انہیں پتہ بھی نہ چلے۔ جیسے ارشاد ہے: «أَفَأَمِنَ الَّذِينَ مَكَرُواْ السَّيِّئَاتِ أَن يَخْسِفَ اللَّهُ بِهِمُ الاٌّرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لاَ يَشْعُرُونَ ـ أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِى تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُم بِمُعْجِزِينَ ـ أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَى تَخَوُّفٍ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَؤُوفٌ رَّحِيمٌ» [ 16- النحل: 45 - 47 ] مکاریاں اور برائیاں کرنے والے کیا اس بات سے نڈر ہو گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں دھنسا دے یا ایسی جگہ سے عذاب لا دے کہ انہیں شعور بھی نہ ہو یا انہیں لیٹتے بیٹھتے ہی پکڑ لے یا ہوشیار کر کے تھام لے۔ اللہ کسی بات میں عاجز نہیں، یہ تو صرف اس کی رحمت و رافت ہے کہ گناہ کریں اور پھلیں پھولیں۔ فرمان اللہ ہے: «أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَـتاً وَهُمْ نَآئِمُونَ ـ أَوَ أَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَن يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ ـ أَفَأَمِنُواْ مَكْرَ اللَّهِ فَلاَ يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الْخَـسِرُونَ» [ 7-الأعراف: 97 - 99 ] بستیوں کے گنہگار اس بات سے بے خطر ہو گئے ہیں کہ ان کے پاس راتوں کو ان کے سوتے ہوئے ہی عذاب آ جائیں یا دن دھاڑے بلکہ ہنستے کھیلتے ہوئے عذاب آ دھمکیں اللہ کے مکر سے بے خوف نہ ہونا چاہیئے ایسے لوگ سخت نقصان اٹھاتے ہیں۔صفحہ نمبر4100
آیت 105 وَكَاَيِّنْ مِّنْ اٰيَةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ يَمُرُّوْنَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ یہ لوگ زمین و آسمان کی وسعتوں میں اللہ تعالیٰ کی بیشمار نشانیوں کو بار بار دیکھتے ہیں مگر کبھی ان پر غور کرکے سبق حاصل نہیں کرتے۔
Then, in verse 105, the attitude of the disbelievers is portrayed by saying:وَكَأَيِّن مِّنْ آيَةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَHow many a sign there is in the heavens and the Earth which they pass by and they are heedless to it.The sense is that these people are not of the kind who would simply not listen to a well-wisher out of their obstinacy. They are worse. They would not even learn from the very open signs of the perfect power of Allah Ta` ala visible to them all the time, yet keep passing by them with-out paying any attention and without wondering whose signs they were. These signs of Divine wisdom and power are widely spread out and many in number. Out of these are many signs which remind people of punishments which descended upon past peoples, and they themselves see their overturned habitations, but they would still refuse to learn their lesson.This was a description of people who simply did not believe in the existence of Allah Ta` ala, the great Creator, and in His wisdom and power. Mentioned next are those who do believe in Allah as the Creator,
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.