Surah An-Nas • Ayah 3
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Which was revealed in Makkahبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِIn the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.These are three attributes from the attributes of the Lord, the Mighty and Majestic. They are lordship, sovereignty and divinity. Thus, He is the Lord of everything, the King of everything and the God of everything. All things are created by Him, owned by Him, and subservient to Him. Therefore, He commands whoever is seeking protection to seek refuge with the One Who has these attributes from the evil of the whisperer who withdraws. This (the whisperer) is the devil that is assigned to man. For verily, there is not any of the Children of Adam except that he has a companion that beautifies wicked deeds for him. This devil will go to any lengths to confuse and confound him. The only person who is safe is He Whom Allah protects.It is confirmed in the Sahih that he (the Prophet ) said,«مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا قَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ»(There is not a single one of you except that his companion (a devil) has been assigned to him.) They (the Companions) said, "What about you, O Messenger of Allah" He replied,«نَعَمْ، إِلَّا أَنَّ اللهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ، فَلَا يَأْمُرُنِي إِلَّا بِخَيْرٍ»(Yes. However, Allah has helped me against him and he has accepted Islam. Thus, he only commands me to do good.) It is also confirmed in the Two Sahihs from Anas, who reported the story of Safiyyah when she came to visit the Prophet while he was performing I`tikaf, that he went out with her during the night to walk her back to her house. So, two men from the Ansar met him (on the way). When they saw the Prophet , they began walking swiftly. So, the Messenger of Allah ﷺ said,«عَلَى رِسْلِكُمَا، إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيَ»(Slow down! This is Safiyyah bint Huyay!) They said, "Glory be to Allah, O Messenger of Allah!" He said,«إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنِ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّم، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا، أَوْ قَالَ: شَرًّا»(Verily, Shaytan runs in the Son of Adam like the running of the blood. And verily, I feared that he might cast something into your hearts -- or he said -- evil.) Sa`id bin Jubayr reported that Ibn `Abbas said concerning Allah's statement,الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ(The whisperer (Al-Waswas) who withdraws.) "The devil who is squatting (perched) upon the heart of the Son of Adam. So when he becomes absentminded and heedless he whispers. Then, when he remembers Allah he withdraws." Mujahid and Qatadah also said this.Al-Mu`tamir bin Sulayman reported that his father said, "It has been mentioned to me that Shaytan is Al-Waswas. He blows into the heart of the Son of Adam when he is sad and when he is happy. But when he (man) remembers Allah, Shaytan withdraws." Al-`Awfi reported from Ibn `Abbas;الْوَسْوَاسِ(The whisperer.) "He is Shaytan. He whispers and then when he is obeyed, he withdraws." As for Allah's saying;الَّذِى يُوَسْوِسُ فِى صُدُورِ النَّاسِ(Who whispers in the breasts of An-Nas.) Is this specific for the Children of Adam as is apparent, or is it general, including both mankind and JinnsThere are two views concerning this. This is because they (the Jinns) are also included in the usage of the word An-Nas (the people) in most cases.Ibn Jarir said, "The phrase Rijalun min Al-Jinn (Men from the Jinns) has been used in reference to them, so it is not strange for the word An-Nas to be applied to them also." Then Allah says,مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ(Of Jinn and An-Nas.) Is this explanatory of Allah's statement,الَّذِى يُوَسْوِسُ فِى صُدُورِ النَّاسِ(Who whispers in the breasts of An-Nas.) Then, Allah explains this by saying,مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ(Of Jinn and An-Nas.) This is supportive of the second view. It has also been said that Allah's saying,مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ(Of Jinn and An-Nas) is an explanation of who is it that whispers into the breasts of mankind from the devils of mankind and Jinns. This is similar to Allah's saying,وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نِبِىٍّ عَدُوّاً شَيَـطِينَ الإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِى بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوراًo(And so We have appointed for every Prophet enemies -- Shayatin among mankind and Jinn, inspiring one another with adorned speech as a delusion.) (6:112) Imam Ahmad recorded that Ibn `Abbas said, "A man came to the Prophet and said, `O Messenger of Allah! Sometimes I say things to myself that I would rather fall from the sky than say (aloud openly). ' The Prophet said,«اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرٌ الْحَمْدُ للهِ الَّذِي رَدَّ كَيْدَهُ إِلَى الْوَسْوَسَةِ»(Allah is Most Great! Allah is Most Great! All praise is due to Allah Who sent his (Shaytan's) plot back as only a whisper.)" Abu Dawud and An-Nasa'i also recorded this Hadith.
خالق، پرورش کنندہ، مالک، حکمران، معبود حقیقی اور پناہ دہندہ ٭٭اس میں اللہ تعالیٰ عزوجل کی تین صفتیں بیان ہوئی ہیں، پالنے اور پرورش کرنے کی، مالک اور شہنشاہ ہونے کی، معبود اور لائق عبادت ہونے کی تمام چیزیں اسی کی پیدا کی ہوئی ہیں اسی کی ملکیت میں ہیں اور اسی کی غلامی میں مشغول ہیں، پس وہ حکم دیتا ہے کہ ان پاک اور برتر صفات والے اللہ کی پناہ میں آ جائے جو بھی پناہ اور بچاؤ کا طالب ہو، شیطان جو انسان پر مقرر ہے اس کے وسوسوں سے وہی بچانے والا ہے، شیطان ہر انسان کے ساتھ ہے۔ برائیوں اور بدکاریوں کو خوب زینت دار کر کے لوگوں کے سامنے وہ پیش کرتا رہتا ہے اور بہکانے میں راہ راست سے ہٹانے میں کوئی کمی نہیں کرتا۔ اس کے شر سے وہی محفوظ رہ سکتا ہے جسے اللہ بچا لے۔ صحیح حدیث میں ہے تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک شیطان ہے لوگوں نے کہا کیا آپ کے ساتھ بھی آپ نے فرمایا: ”ہاں! لیکن اللہ تعالیٰ نے اس پر میری مدد فرمائی ہے پس میں سلامت رہتا ہوں وہ مجھے صرف نیکی اور اچھائی کی بات ہی کہتا ہے“ ۔ [صحیح مسلم:2814] 10934بخاری و مسلم کی اور حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی زبانی ایک واقعہ منقول ہے جس میں بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں تھے تو ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس رات کے وقت آئیں جب واپس جانے لگیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پہنچانے کے لیے ساتھ چلے راستے میں دو انصاری صحابی مل گئے جو آپ کو بیوی صاحبہ کے ساتھ دیکھ کر جلدی چل دیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دے کر ٹھہرایا اور فرمایا: ”سنو! میرے ساتھ میری بیوی صفیہ بنت حی ہیں“، انہوں نے کہا سبحان اللہ یا رسول اللہ! اس فرمان کی ضرورت ہی کیا تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے خون کے جاری ہونے کی جگہ شیطان گھومتا پھرتا رہتا ہے، مجھے خیال ہوا کہ کہیں تمہارے دلوں میں وہ کوئی بدگمانی نہ ڈال دے“ [صحیح بخاری:2035] حافظ ابو یعلیٰ موصلی رحمہ اللہ نے ایک حدیث وارد کی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ شیطان اپنا ہاتھ انسان کے دل پر رکھے ہوئے ہے اگر یہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تب اس کا ہاتھ ہٹ جاتا ہے اور اگر یہ ذکر اللہ بھول جاتا ہے تو وہ اس کے دل پر پورا قبضہ کر لیتا ہے، یہی «وَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ» ہے۔ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:1367] ، یہ حدیث غریب ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گدھے پر سوار ہو کر کہیں جا رہے تھے ایک صحابی آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے گدھے نے ٹھوکر کھائی تو ان کے منہ سے نکلا شیطان برباد ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوں نہ کہو اس سے شیطان پھول کر بڑا ہو جاتا ہے، [مسند احمد:71/5:صحیح] اور کہتا ہے کہ میں نے اپنی قوت سے گرا دیا اور جب تم «بسم الله» کہو تو وہ گھٹ جاتا ہے یہاں تک مکھی کہ برابر ہو جاتا ہے“، اس سے ثابت ہوا کہ ذکر اللہ سے شیطان پست اور مغلوب ہو جاتا ہے اور اس کے چھوڑ دینے سے وہ بڑا ہو جاتا ہے اور غالب آ جاتا ہے۔10935مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جب تم میں سے کوئی مسجد میں ہوتا ہے اس کے پاس شیطان آتا ہے اور اسے تھپکتا اور بہلاتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے جانور کو بہلاتا ہو پھر اگر وہ خاموش رہا تو وہ ناک میں نکیل یا منہ میں لگام چڑھا دیتا ہے“ ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان فرما کر فرمایا: تم خود اسے دیکھتے ہو نکیل والا تو وہ ہے جو ایک طرف جھکا کھڑا ہو اور اللہ کا ذکر نہ کرتا ہو [مسند احمد:330/2:اسنادہ قوی] اور لگام والا وہ ہے جو منہ کھولے ہوئے ہو اور اللہ کا ذکر نہ کرتا ہو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: شیطان ابن آدم کے دل پر چٹکی مارے ہوئے ہے جہاں یہ بھولا اور غفلت کی کہ اس نے وسوسے ڈالنے شروع کئے اور جہاں اس نے ذکر اللہ کیا اور یہ پیچھے ہٹا۔ سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھ سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ شیطان راحت و رنج کے وقت انسان کے دل میں سوراخ کرنا چاہتا ہے یعنی اسے بہکانا چاہتا ہے اگر یہ اللہ کا ذکر کرے تو یہ بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ شیطان برائی سکھاتا ہے جہاں انسان نے اس کی مان لی پھر ہٹ جاتا ہے۔ پھر فرمایا: جو وسوسے ڈالتا ہے لوگوں کے سینے میں، لفظ «ناس» جو انسان کے معنی میں ہے اس کا اطلاق جنوں پر بھی بطور غلبہ کے آ جاتا ہے۔ قرآن میں اور جگہ ہے «بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ» [72-الجن:6] کہا گیا ہے تو جنات کو لفظ «ناس» میں داخل کر لینے میں کوئی قباحت نہیں، غرض یہ ہے کہ شیطان جنات کے اور انسان کے سینے میں وسوسے ڈالتا رہتا ہے۔10936اس کے بعد کے جملے میں «مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ» کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جن کے سینوں میں شیطان وسوسے ڈالتا ہے وہ جن بھی ہیں اور انسان بھی اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ وسواس ڈالنے والا خواہ کوئی جن ہو خواہ کوئی انسان۔ جیسے اور جگہ ہے «وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ» [6-الأنعام:112] یعنی ”اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن انسانی اور جناتی شیطان بنائے ہیں ایک دوسرے کے کان میں دھوکے کی باتیں بنا سنوار کر ڈالتے رہتے ہیں“۔10937مسند احمد میں ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں آیا اور بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ”نماز پڑھی؟“ میں نے کہا نہیں، فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ اور دو رکعت ادا کر لو“، میں اٹھا اور دو رکعت پڑھ کر بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ”اے ابوذر! اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو انسان شیطانوں اور جن شیطانوں سے“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا انسانی شیطان بھی ہوتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، [سنن نسائی:5509،قال الشيخ الألباني:ضعيف الإسناد] میں نے کہا: یا رسول اللہ! نماز کیسی چیز ہے، آپ نے ارشاد فرمایا: ”بہترین چیز ہے، جو چاہے کم کرے جو چاہے اس عمل کو زیادہ کرے“، میں نے پوچھا: روزہ؟ فرمایا: ”کافی ہونے والا فرض ہے اور اللہ کے پاس اجر و ثواب لا انتہا ہے“، میں نے پھر پوچھا: صدقہ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت ہی بڑھا چڑھا کر کئی گنا کر کے بدلہ دیا جائے گا“، میں نے پھر عرض کی: یا رسول اللہ! کون سا صدقہ افضل ہے؟ فرمایا: ”باوجود مال کی کمی کے صدقہ کرنا یا چپکے سے چھپا کر کسی مسکین فقیر کے ساتھ سلوک کرنا“، میں نے سوال کیا: یا رسول اللہ! سب سے پہلے نبی کون تھے؟ آپ نے فرمایا: ”آدم علیہ السلام“، میں نے پوچھا کیا وہ نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں وہ نبی تھے اور وہ بھی وہ جن سے اللہ تعالیٰ نے بات چیت کی“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! رسول کتنے ہوئے؟ فرمایا: ”تین سو کچھ اوپر دس بہت بڑی جماعت“ اور کبھی فرمایا: ”تین سو پندرہ“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا ان سب سے بڑی عظمت والی آیت کون سی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آیت الکرسی «اللَّـهُ لَا إِلَـهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ» [2-البقرة:255] [مسند احمد:178/5:ضعیف] یہ حدیث نسائی میں بھی ہے اور ابوحاتم بن حبان کی صحیح ابن حبان میں تو دوسری سند سے دوسرے الفاظ کے ساتھ یہ حدیث بہت بڑی ہے۔ «فَاللهُ اَعْلَمُ» 10938مسند احمد کی ایک اور حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے دل میں تو ایسے ایسے خیالات آتے ہیں کہ ان کا زبان سے نکالنا مجھ پر آسمان سے گر پڑنے سے بھی زیادہ برا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللهُ اكبر اللهُ اكبر» اللہ ہی کے لیے حمد و ثناء ہے جس نے شیطان کے مکر و فریب کو وسوسے میں ہی لوٹا دیا“، یہ حدیث ابوداؤد اور نسائی میں بھی ہے ۔ [سنن ابوداود:5112،قال الشيخ الألباني:صحيح] «الْحَمْدُ لِلَّه» اللہ تعالیٰ کے احسان سے یہ تفسیر ختم ہوئی۔ «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» 10939اللہ کے فضل و کرم سے تیسویں پارے کی تفسیر بھی ختم ہوئی اور تفسیر ابن کثیر کا ترجمہ تفسیر محمدی بالکل کامل ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے پاک کلام کی صحیح سمجھ دے اور اس پر عمل نصیب فرمائے اور پھر قبول کرے۔ «آمین» «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ . وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ . وَرَضِيَ اللَّهُ عَنِ الصَّحَابَةِ أَجْمَعِينَ» 10940
آیت 3{ اِلٰـہِ النَّاسِ۔ } ”تمام انسانوں کے معبود کی۔“ انسانوں کا رب اور بادشاہ ہونے کے علاوہ وہ ان کا معبود بھی ہے ‘ چناچہ وہ ان پر کامل اقتدار اور اختیار رکھتا ہے اور ان کی حفاظت پر پوری طرح قادر ہے۔
Verses [ 114:2 3] مَلِكِ النَّاسِ إِلَـٰهِ النَّاسِ (the King of mankind, the God of mankind.) The reason for adding these two attributes is that the word rabb, attributed to a particular thing, could refer to someone other than Allah also, as for instance rabb-ud-dar [ land-lord ] or رَبُّ المال rabb-ul-mal [ owner of wealth ]. But not every master or owner is a king. That is why the attributive name malik [ King ] has been added to indicate that He is not only the 'Lord of mankind' but also the 'King of mankind'. Furthermore, not every king is worthy of worship. Thus the third attributive name ilah [ God ] has been added to nas [ people ]. The Divine wisdom in combining all three Divine attributes is that each attribute motivates protection. Every master has servants and takes care of them. Likewise, every king has subjects and looks after them. That the worshipped God protects His worshipper is even more obvious. Only Allah, and no other being, is characterized by these three attributes simultaneously. Therefore, seeking Allah's protection by invoking these attributes is the greatest protection, and the invocation is readily acceptable.Since the first sentence contains the word nas (people), the second and the third verses should apparently refer to them with the pronouns by saying, مَلِکِھِم malikihim [ their king ] rather than repeating the word nas (people). However, this is an occasion of supplication and praise, and as such repetition needs to be employed by deliberate design to add force and clarity to the sublime emotion by creating natural rhyme, rhythm and melodic sequence. Some scholars have explained the repetition of the word 'nas' differently. They say that the word nas occurs five times in this Surah. In its first occurrence, it refers to the children. The word rabb that refers to nurturer-ship of Allah is a hint to this, because children need nurturing the most. Its second occurrence refers to youth, and the hint in the context is the word malik which refers to kingship of Allah. It bears political connotation and is appropriate to the youth. Its third occurrence refers to old age. Old people cut themselves off from the world and look up to Allah alone as the real support of life, and render Him alone true and unconditional obedience and to make Him alone the real object of his love and adoration. The context for this is ilah [ God ] which points to the Divine worship. Its fourth occurrence refers to the righteous servants of Allah. The contextual hint for this is the word waswasah [ evil whisperings ] because the devil is the enemy of the righteous servants of Allah. His work is to cast evil prompting into the hearts of such people. Its fifth occurrence refers to mischief-makers because protection is sought from their mischief.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.