The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-Fil • Ayah 5

Para 30 Surah 105 : 5
فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُولٍۭ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

فَجَعَلَهُمْ
كَعَصْفٍ
مَّأْكُولٍۭ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

Which was revealed in Makkahبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.هَمَّازٍ مَّشَّآءِ بِنَمِيمٍ (Hammaz, going about with slander) (68:11) Ibn `Abbas said, "Humazah Lumazah means one who reviles and disgraces (others)." Mujahid said, "Al-Humazah is with the hand and the eye, and Al-Lumazah is with the tongue." Then Allah says,الَّذِى جَمَعَ مَالاً وَعَدَّدَهُ (Who has gathered wealth and counted it.) meaning, he gathers it piling some of it on top of the rest and he counts it up. This is similar to Allah's saying,وَجَمَعَ فَأَوْعَى (And collect (wealth) and hide it.) (70:18) This was said by As-Suddi and Ibn Jarir. Muhammad bin Ka`b said concerning Allah's statement,جَمَعَ مَالاً وَعَدَّدَهُ(gathered wealth and counted it.) "His wealth occupies his time in the day, going from this to that. Then when the night comes he sleeps like a rotting corpse." Then Allah says,يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ (He thinks that his wealth will make him last forever!) meaning, he thinks that gathering wealth will make him last forever in this abode (the worldly life).كَلاَّ(But no!) meaning, the matter is not as he claims, nor as he reckons. Then Allah says,لَيُنبَذَنَّ فِى الْحُطَمَةِ(Verily, he will be thrown into Al-Hutamah.) meaning, the person who gathered wealth and counted it, will be thrown into Al-Hutamah, which is one of the descriptive names of the Hellfire. This is because it crushes whoever is in it. Thus, Allah says,وَمَآ أَدْرَاكَ مَا الْحُطَمَةُ - نَارُ اللَّهِ الْمُوقَدَةُ - الَّتِى تَطَّلِعُ عَلَى الاٌّفْئِدَةِ (And what will make you know what Al-Hutamah is The fire of Allah, Al-Muqadah, which leaps up over the hearts.) Thabit Al-Bunani said, "It will burn them all the way to their hearts while they are still alive." Then he said, "Indeed the torment will reach them." Then he cried. Muhammad bin Ka`b said, "It (the Fire) will devour every part of his body until it reaches his heart and comes to the level of his throat, then it will return to his body."Concerning Allah's statement,إِنَّهَا عَلَيْهِم مُّؤْصَدَةٌ (Verily, it shall Mu'sadah upon them.) meaning, covering, just as was mentioned in the Tafsir of Surat Al-Balad (see 90:20). Then Allah says,فِى عَمَدٍ مُّمَدَّدَةِ (In pillars stretched forth. ) "Atiyah Al-`Awfi said, "Pillars of Iron." As-Suddi said, "Made of fire." Al-`Awfi reported from Ibn `Abbas, "He will make them enter pillars stretched forth, meaning there will be columns over them, and they will have chains on their necks, and the gates (of Hell) will be shut upon them." This is the end of the Tafsir of Surat Al-Humazah, and all praise and thanks are due to Allah.

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

ابرہہ اور اس کا حشر ٭٭اللہ رب العزت نے قریش پر جو اپنی خاص نعمت انعام فرمائی تھی اس کا ذکر کر رہا ہے کہ جس لشکر نے ہاتھیوں کو ساتھ لے کر کعبے کو ڈھانے کے لیے چڑھائی کی تھی اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے کہ وہ کعبے کے وجود کو مٹائیں ان کا نام و نشان مٹا دیا۔ ان کی تمام فریب کاریاں ان کی تمام قوتیں سلب کر لیں انہیں برباد و غارت کر دیا۔ یہ لوگ مذہباً نصرانی تھے لیکن دین مسیح کو مسخ کر دیا تھا قریباً بت پرست ہو گئے تھے انہیں اس طرح نامراد کرنا یہ گویا پیش خیمہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا اور اطلاع تھی آپ کی آمد آمد کی نبی علیہ السلام اسی سال تولد ہوئے تھے۔ اکثر تاریخ داں حضرات کا یہی قول ہے تو گویا رب العالمین فرما رہا ہے کہ اے قریشیو! حبشہ کے اس لشکر پر تمہیں فتح تمہاری بھلائی کی وجہ سے نہیں دی گئی تھی بلکہ اس میں ہمارے گھر کا بچاؤ تھا جسے ہم شرف بزرگی عظمت و عزت میں اپنے آخر الزمان پیغمبر محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے بڑھانے والے تھے۔10854غرض اصحاب فیل کا مختصر واقعہ تو یہ ہے جو بیان ہوا اور مطول واقعہ اصحاب الاخدود کے بیان میں گزر چکا ہے کہ قبیلہ حمیر کا آخری بادشاہ ذونواس جو مشرک تھا جس نے اپنے زمانے کے مسلمانوں کو کھائیوں میں قتل کیا تھا جو سچے نصرانی تھے اور تعداد میں تقریباً بیس ہزار تھے، سارے کے سارے شہید کر دئیے گئے تھے صرف دوس ذوثعلبان ایک بچا جو ملک شام جا پہنچا اور قیصر روم سے فریاد رسی چاہی۔ یہ بادشاہ نصرانی مذہب پر تھا اس نے حبشہ کے بادشاہ شاہ نجاشی کو لکھا کہ اس کے ساتھ اپنی پوری فوج کر دو اس لیے کہ یہاں سے دشمن کا ملک قریب تھا۔ اس بادشاہ نے ارباط اور ابویکسوم ابرہہ بن صباح کو امیر لشکر بنا کر بہت بڑا لشکر دے کر دونوں کو اس کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا یہ لشکر یمن پہنچا اور یمن کو اور یمنیوں کو تاخت و تاراج کر دیا۔ ذونواس بھاگ کھڑا ہوا اور دریا میں ڈوب کر مر گیا اور ان لوگوں کی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا اور سارے یمن پر شاہ حبشہ کا قبضہ ہو گیا اور یہ دونوں سردار یہاں رہنے سہنے لگے لیکن کچھ تھوڑی مدت کے بعد ان میں ناچاقی ہو گئی آخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ دونوں نے آمنے سامنے صفیں باندھ لیں اور لڑنے کے لیے نکل آئے۔ عام حملہ ہو اس سے بیشتر ان دونوں سرداروں نے آپس میں کہا کہ فوجوں کو لڑانے اور لوگوں کو قتل کرانے کی کیا ضرورت، آؤ ہم تم دونوں میدان میں نکلیں اور ایک دوسرے سے لڑ کر فیصلہ کر لیں جو زندہ بچ جائے ملک و فوج اس کی۔ چنانچہ یہ بات طے ہو گئی اور دونوں میدان میں نکل آئے ارباط نے ابرہہ پر حملہ کیا اور تلوار کے ایک ہی وار سے چہرہ خونا خون کر دیا ناک ہونٹ اور منہ کٹ گیا، ابرہہ کے غلام عتودہ نے اس موقعہ پر ارباط پر ایک بےپناہ حملہ کیا اور اسے قتل کر دیا ابرہہ زخمی ہو کر میدان سے زندہ واپس گیا، علاج معالجہ سے زخم اچھے ہو گئے اور یمن کا یہ مستقل بادشاہ بن بیٹھا۔ نجاشی شاہ حبشہ کو جب یہ واقعہ معلوم ہوا تو وہ سخت غصہ ہوا اور ایک خط ابرہہ کو لکھا اسے بڑی لعنت ملامت کی اور کہا کہ قسم اللہ کی میں تیرے شہروں کو پامال کر دوں گا۔ اور تیری چوٹی کاٹ لاؤں گا، ابرہہ نے اس کا جواب نہایت عاجزی سے لکھا اور قاصد کو بہت سارے ہدئیے دئیے اور ایک تھیلی میں یمن کی مٹی بھر دی اور اپنی پیشانی کے بال کاٹ کر اس میں رکھ دئیے۔ اور اپنے خط میں اپنے قصوروں کی معافی طلب کی اور لکھا کہ یہ یمن کی مٹی حاضر ہے اور چوٹی کے بال بھی، آپ اپنی قسم پوری کیجئے اور ناراضی معاف فرمائیے اس سے شاہ حبشہ خوش ہو گیا اور یہاں کی سرداری اسی کے نام کر دی، اب ابرہہ نے نجاشی کو لکھا کہ میں یہاں یمن میں آپ کے لیے ایک ایسا گرجا تعمیر کر رہا ہوں کہ اب تک دنیا میں ایسا نہ بنا ہو اور پھر اس نے گرجا گھر کا بنانا شروع کیا۔10855بڑے اہتمام اور کروفر سے بہت اونچا بہت مضبوط بےحد خوبصورت اور منقش و مزین گرجا بنایا۔ اس قدر بلند تھا کہ چوٹی تک نظر ڈالنے والے کی ٹوپی گر پڑتی تھی اسی لیے عرب اسے «قلیس» کہتے یعنی ٹوپی پھینک دینے والا۔ اب ابرہہ اشرم کو یہ سوجھی کہ لوگ بجائے کعبۃ اللہ کے حج کے اس کا حج کریں، اپنی ساری مملکت میں اس کی منادی کرا دی، عدنانیہ اور قحطانیہ عرب کو یہ بہت برا لگا، ادھر سے قریش بھی بھڑک اٹھے، تھوڑے دن میں کوئی شخص رات کے وقت اس کے اندر گھس گیا اور وہاں پاخانہ کر کے چلا آیا چوکیداروں نے جب یہ دیکھا تو بادشاہ کو خبر پہنچائی اور کہا کہ یہ کام قریشیوں کا ہے چونکہ آپ نے ان کا کعبہ روک دیا ہے۔ لہٰذا انہوں نے جوش اور غضب میں آ کر یہ حرکت کی ہے ابرہہ نے اسی وقت قسم کھا لی کہ میں مکہ پہنچوں گا اور بیت اللہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا۔ اور ایک روایت میں یوں بھی ہے کہ چند ملے جلے نوجوان قریشیوں نے اس گرجا میں آ ۤگ لگا دی تھی اور اس وقت ہوا بھی بہت تیز تھی سارا گرجا جل گیا اور منہ کے بل زمین پر گر گیا اس پر ابرہہ نے بہت بڑا لشکر ساتھ لے کر مکہ پر چڑھائی کی تاکہ کوئی روک نہ سکے اور اپنے ساتھ ایک بڑا اونچا اور موٹا ہاتھی لیا جسے محمود کہا جاتا تھا۔ اس جیسا ہاتھی اور کوئی نہ تھا شاہ حبشہ نے یہ ہاتھی اس کے پاس اسی غرض سے بھیجا تھا آٹھ یا بارہ ہاتھی اور بھی ساتھ تھے یہ کعبے کے ڈھانے کی نیت سے چلا یہ سوچ کر کہ کعبہ کی دیواروں میں مضبوط زنجیریں ڈال دوں گا اور ہاتھیوں کی گردنوں میں ان زنجیروں کو باندھ دوں گا ہاتھی ایک ہی جھٹکے میں چاروں دیواریں بیت اللہ کی جڑ سے گرا دیں گے۔ جب اہل عرب کو یہ خبریں معلوم ہوئیں تو ان پر بڑا بھاری اثر ہوا انہوں نے مصمم ارادہ کر لیا کہ خواہ کچھ بھی ہو ہم ضرور اس سے مقابلہ کریں گے اور اسے اس کی اس بدکرداری سے روکیں گے ایک یمنی شریف سردار جو وہاں کے بادشاہوں کی اولاد میں سے تھا جسے ”ذونفر“ کہا جاتا تھا یہ کھڑا ہو گیا اپنی قوم کو اور کل آس پاس کے عرب کو جمع کیا اور اس بدنیت بادشاہ سے مقابلہ کیا لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا عربوں کو شکست ہوئی اور ذونفر اس خبیث کے ہاتھ میں قید ہو گیا اس نے اسے بھی ساتھ لیا اور مکہ شریف کی طرف بڑھا۔10856خثم قبیلے کی زمین پر جب یہ پہنچا تو یہاں نفیل بن حبیب خثعمی نے اپنے لشکروں سے اس کا مقابلہ کیا لیکن ابرہہ نے انہیں بھی مغلوب کر لیا اور نفیل بھی قید ہو گیا پہلے تو اس ظالم نے اسے قتل کرنا چاہا لیکن پھر قتل نہ کیا اور قید کر کے ساتھ لے لیا تاکہ راستہ بنائے۔ جب طائف کے قریب پہنچا تو قبیلہ ثقیف نے اس سے صلح کر لی کہ ایسا نہ ہو ان کے بت خانوں کو جس میں لات نامی بت تھا یہ توڑ دے اس نے بھی ان کی بڑی آؤ بھگت کی انہوں نے ابورغال کو اس کے ساتھ کر دیا کہ یہ تمہیں وہاں کا راستہ بتائے گا۔ ابرہہ جب مکے کے بالکل قریب مغمس کے پہنچا تو اس نے یہاں پڑاؤ کیا اس کے لشکر نے آس پاس مکہ والوں کے جو جانور اونٹ وغیرہ چر چگ رہے تھے سب کو اپنے قبضہ میں کیا ان جانوروں میں دو سو اونٹ تو صرف عبدالمطلب کے تھے اسود بن مقصود جو اس کے لشکر کے ہراول کا سردار تھا اس نے ابرہہ کے حکم سے ان جانوروں کو لوٹا تھا، جس پر عرب شاعروں نے اس کی ہجو میں اشعار تصنیف کئے ہوئے ہیں جو سیرۃ ابن اسحاق میں موجود ہیں۔ اب ابرہہ نے اپنا قاصد حناطہٰ حمیری مکہ والوں کے پاس بھیجا کہ مکہ کے سب سے بڑے سردار کو میرے پاس لاؤ اور یہ بھی اعلان کر دو کہ میں مکہ والوں سے لڑنے نہیں آیا میرا ارادہ صرف بیت اللہ کو گرانے کا ہے ہاں اگر مکہ والے اس کے بچانے کے درپے ہوئے تو لامحالہ مجھے ان سے لڑائی کرنی پڑے گی، حناطہٰ جب مکہ میں آیا اور لوگوں سے ملا جلا تو معلوم ہوا کہ یہاں کا بڑا سردار عبدالمطلب بن ہاشم ہے، یہ عبدالمطلب سے ملا اور شاہی پیغام پہنچایا۔ جس کے جواب میں عبدالمطلب نے کہا: واللہ! نہ ہمارا ارادہ اس سے لڑنے کا ہے نہ ہم میں اتنی طاقت ہے یہ اللہ کا حرمت والا گھر ہے اس کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کی زندہ یادگار ہے اللہ اگر چاہے گا تو اپنے گھر کی آپ حفاظت کرے گا، ورنہ ہم میں تو ہمت و قوت نہیں۔10857حناطہٰ نے کہا: اچھا تو آپ میرے ساتھ بادشاہ کے پاس چلے چلئیے عبدالمطلب ساتھ ہو لئے، بادشاہ نے جب انہیں دیکھا تو ہیبت میں آ گیا عبدالمطلب گورے چٹے سڈول اور مضبوط قوی والے حسین و جمیل انسان تھے، دیکھتے ہی ابرہہ تخت سے نیچے اتر آیا اور فرش پر عبدالمطلب کے ساتھ بیٹھ گیا اور اپنے ترجمان سے کہا کہ ان سے پوچھ کہ کیا چاہتا ہے؟ عبدالمطلب نے کہا میرے دو سو اونٹ جو بادشاہ نے لے لیے ہیں انہیں واپس کر دیا جائے بادشاہ نے کہا ان سے کہہ دے کہ پہلی نظر میں تیرا رعب مجھ پر پڑا تھا اور میرے دل میں تیری وقعت بیٹھ گئی تھی لیکن پہلے ہی کلام میں تو نے سب کچھ کھو دی، اپنے دو سو اونٹ کی تو تجھے فکر ہے اور اپنے اور اپنی قوم کے دین کی تجھے فکر نہیں میں تو تم لوگوں کا عبادت خانہ توڑنے اور اسے خاک میں ملانے کے لیے آیا ہوں۔ عبدالمطلب نے جواب دیا کہ سن بادشاہ اونٹ تو میرے ہیں اس لیے انہیں بچانے کی کوشش میں میں ہوں اور خانہ کعبہ اللہ کا ہے وہ خود اسے بچا لے گا اس پر یہ سرکش کہنے لگا کہ اللہ بھی آج اسے میرے ہاتھ سے نہیں بچا سکتا، عبدالمطلب نے کہا: بہتر ہے وہ جانے اور تو جان۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37989] ‏ یہ بھی مروی ہے کہ اہل مکہ نے تمام حجاز کا تہائی مال ابرہہ کو دینا چاہا کہ وہ اپنے اس بد ارادہ سے باز آئے لیکن اس نے قبول نہ کیا خیر عبدالمطلب تو اپنے اونٹ لے کر چل دئیے اور آ کر قریش کو حکم دیا کہ مکہ بالکل خالی کر دو اور پہاڑوں میں چلے جاؤ، اب عبدالمطلب اپنے ساتھ قریش کے چیدہ چیدہ لوگوں کو لے کر بیت اللہ میں آیا اور بیت اللہ کے دروازہ کا کنڈا تھام کر رو رو کر اور گڑگڑا گڑگڑا کر دعائیں مانگنی شروع کیں کہ باری تعالیٰ ابرہہ اور اس کے خونخوار لشکر سے اپنے پاک اور ذی عزت گھر کو بچا لے۔ عبدالمطلب نے اس وقت یہ دعائیہ اشعار پڑھے۔ «لَاهُمَّ إِنَّ الْمَرْء يَمْ نَع رَحْلَهُ فَامْنَعْ رِحَالك» *** «لَا يَغْلِبَنَّ صَلِيبُهُمْ وَمِحَالُهُمْ أَبَدًا مِحَالَك» یعنی ہم بےفکر ہیں ہم جانتے ہیں کہ ہر گھر والا اپنے گھر کا بچاؤ آپ کرتا ہے۔ اے اللہ! تو بھی اپنے گھر کو اپنے دشمنوں سے بچا یہ تو ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ان کی صلیب اور ان کی ڈولیں تیری ڈولوں پر غالب آ جائیں۔10858اب عبدالمطلب نے بیت اللہ کے دروازے کا کنڈا ہاتھ سے چھوڑ دیا اور اپنے تمام ساتھیوں کو لے کر آس پاس کے پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھ گیا، یہ بھی مذکور ہے کہ جاتے ہوئے قربانی کے سو اونٹ بیت اللہ کے ارد گرد نشان لگا کر چھوڑ دئیے تھے اس نیت سے کہ اگر یہ بد دین آئے اور انہوں نے اللہ کے نام کی قربانی کے ان جانوروں کو چھیڑا تو عذاب الٰہی ان پر اترے گا، دوسری صبح ابرہہ کے لشکر میں مکہ جانے کی تیاریاں ہونے لگیں اپنا خاص ہاتھی جس کا نام محمود تھا اسے تیار کیا لشکر میں کمر بندی ہو چکی تھی اور مکہ شریف کی طرف منہ اٹھا کر چلنے کی تیاری کی اس وقت نفیل بن حبیب جو اس سے راستے میں لڑا تھا اور اب بطور قیدی کے اس کے ساتھ تھا وہ آگے بڑھا اور شاہی ہاتھی کا کان پکڑ لیا اور کہا محمود بیٹھ جا اور جہاں سے آیا ہے وہیں خیریت کے ساتھ چلا جا تو اللہ تعالیٰ کے محترم شہر میں ہے یہ کہہ کر کان چھوڑ دیا اور بھاگ کر قریب کی پہاڑی میں جا چھپا۔ محمود ہاتھی یہ سنتے ہی بیٹھ گیا، اب ہزار جتن فیل بان کر رہے ہیں لشکری بھی کوششیں کرتے کرتے تھک گئے لیکن ہاتھی اپنی جگہ سے ہلتا ہی نہیں، سر پر آنکس مار رہے ہیں ادھر ادھر سے بھالے اور برچھے مار رہے ہیں آنکھوں میں آنکس ڈال رہے ہیں غرض تمام جتن کر لیے لیکن ہاتھی جنبش بھی نہیں کرتا پھر بطور امتحان کے اس کا منہ یمن کی طرف کر کے چلانا چاہا تو جھٹ سے کھڑا ہو کر دوڑتا ہوا چل دیا شام کی طرف چلانا چاہا تو بھی پوری طاقت سے آگے بڑھ گیا، مشرق کی طرف لے جانا چاہا تو بھی بھاگا بھاگا گیا پھر مکہ شریف کی طرف منہ کر کے آگے بڑھانا چاہا وہیں بیٹھ گیا - انہوں نے پھر اسے مارنا شروع کیا دیکھا کہ ایک گھٹا ٹوپ پرندوں کا جھرمٹ بادل کی طرح سمندر کے کنارے کی طرف سے امڈا چلا آ رہا ہے ابھی پوری طرح دیکھ بھی نہیں پائے تھے کہ وہ جانور سر پر آ گئے چاروں طرف سے سارے لشکر کو گھیر لیا اور ان میں ہر ایک کی چونچ میں ایک مسور یا ماش کے دانے برابر کنکری تھی، اور دونوں پنجوں میں دو دو کنکریاں تھیں یہ ان پر پھینکنے لگے جس پر یہ کنکری آن پڑی وہ وہیں ہلاک ہو گیا۔ اب تو اس لشکر میں بھاگڑ پڑ گئی ہر ایک نفیل نفیل کرنے لگا کیونکہ اسے ان لوگوں نے اپنا راہبر اور راستے بتانے والا سمجھ رکھا تھا، نفیل تو ہاتھی کو کہہ کر پہاڑ پر چڑھ گیا اور دیگر اہل مکہ ان لوگوں کی یہ درگت اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے اور نفیل وہیں کھڑا یہ اشعار پڑھ رہا تھا۔ «این المفر والا لہ الطالب» *** «والاشرم المغلوب لیس الغالب» اب جائے پناہ کہاں ہے؟ جبکہ اللہ خود تاک میں لگ گیا ہے سنو اشرم بدبخت مغلوب ہو گیا اب یہ پنپنے کا نہیں۔10859اور بھی نفیل نے اس واقعہ کے متعلق بہت سے اشعار کہے ہیں جن میں اس واقعہ کو بیان کیا ہے اور کہا ہے کاش کہ تو اس وقت موجود ہوتا جبکہ ان ہاتھی والوں کی شامت آئی ہے اور وادی محصب میں ان پر عذاب کے سنگریزے برسے ہیں تو اس وقت تو اس اللہ کے لشکر یعنی پرندوں کو دیکھ کر قطعاً سجدے میں گر پڑتا ہم تو وہاں کھڑے حمد رب کی راگنیاں الاپ رہے تھے گو کلیجے ہمارے بھی اونچے ہو گئے تھے کہ کہیں کوئی کنکری ہمارا کام بھی تمام نہ کر دے نصرانی منہ موڑے بھاگ رہے تھے اور نفیل نفیل پکار رہے تھے۔ گویا کہ نفیل پر ان کے باپ دادوں کا کوئی قرض تھا۔ واقدی فرماتے ہیں یہ پرندے زرد رنگ کے تھے کبوتر سے کچھ چھوٹے تھے ان کے پاؤں سرخ تھے اور روایت میں ہے کہ جب محمود ہاتھی بیٹھ گیا اور پوری کوشش کے باوجود بھی نہ اٹھا تو انہوں نے دوسرے ہاتھی کو آگے کیا اس نے قدم بڑھایا ہی تھا کہ اس کی پیشانی پر کنکری پڑی اور بلبلا کر پیچھے ہٹا اور پھرا اور ہاتھی بھی بھاگ کھڑے ہوئے ادھر برابر کنکریاں آنے لگیں اکثر تو وہیں ڈھیر ہو گئے۔ اور بعض جو ادھر ادھر بھاگ نکلے گا ان میں سے کوئی جانبر نہ ہوا بھاگتے بھاگتے ان کے اعضاء کٹ کٹ کر گرتے جاتے تھے اور بالآخر جان سے جاتے تھے۔ ابرہہ بادشاہ بھی بھاگا لیکن ایک ایک عضو بدن جھڑنا شروع ہوا یہاں تک کہ خثعم کے شہروں میں سے صنعاء میں جب وہ پہنچا تو بالکل گوشت کا لوتھڑا بنا ہوا تھا وہیں بلک بلک کر دم توڑا اور کتے کی موت مرا، دل تک پھٹ گیا قریشیوں کو بڑا مال ہاتھ لگا۔ عبدالمطلب نے تو سونے سے ایک کنواں پر کر لیا تھا، زمین عرب میں آبلہ اور چیچک اسی سال پیدا ہوتے ہوئے دیکھے گئے اور اسی سال سپند اور حنظل وغیرہ کے کڑوے درخت بھی اسی سال زمین عرب میں دیکھے گئے ہیں پس اللہ تعالیٰ بزبان رسول معصوم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی یہ نعمت یاد دلاتا ہے اور گویا فرمایا جا رہا ہے کہ اگر تم میرے گھر کی اسی طرح عزت و حرمت کرتے رہتے اور میرے رسول کو مانتے تو میں بھی اسی طرح تمہاری حفاظت کرتا اور تمہیں دشمنوں سے نجات دیتا۔10860 «أَبَابِيلَ» جمع کا صیغہ ہے اس کا واحد لغت عرب میں پایا نہیں گیا، «سجیل» کے معنی ہیں بہت ہی سخت اور بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ دو فارسی لفظوں سے مرکب ہے یعنی «سنگ» اور «گل» سے یعنی مٹی اور پتھر۔ غرض «سِجِّيلٍ» وہ ہے جس میں پتھر معہ مٹی کے ہو۔ «عَصْفٍ» جمع ہے «عَصْفَةٌ» کی کھیتی کے ان پتوں کو کہتے ہیں جو پک نہ گئے ہوں۔ «أَبَابِيلَ» کے معنی ہیں گروہ گروہ جھنڈ بہت سارے پے در پے جمع شدہ ادھر ادھر سے آنے والے، بعض نحوی کہتے ہیں اس کا واحد «ابیل» ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ان پرندوں کی چونچ تھی پرندوں جیسی اور پنجے کتوں جیسے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سبز رنگ کے پرند تھے جو سمندر سے نکلے تھے ان کے سر درندوں جیسے تھے اور اقوال بھی ہیں یہ پرند باقاعدہ ان لشکریوں کے سروں پر، پر باندھ کر کھڑے ہو گئے اور پھر چیخنے لگے پھر پتھراؤ کیا، جس کے سر میں لگا اس کے نیچے سے نکل گیا اور دو ٹکڑے ہو کر زمین پر گرا جس کے جس عضو پر گرا وہ عضو ساقط ہو گیا ساتھ ہی تیز آندھی آئی جس سے اور آس پاس کے کنکر بھی ان کی آنکھوں میں گھس گئے اور سب تہہ و بالا ہو گئے۔ «عَصْفٍ» کہتے ہیں چارے کو اور کٹی کھیتی کو اور گیہوں کے درخت کے پتوں کو اور «مَّأْكُولٍ» سے مراد ٹکڑے ٹکڑے کیا ہوا ہے۔10861سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «عصف» کہتے ہیں بھوسی کو جو اناج کے دانوں کے اوپر ہوتی ہے۔ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد کھیتوں کے وہ پتے ہیں جنہیں جانور چر چکے ہوں مطلب یہ ہے کہ اللہ نے ان کو تہس نہس کر دیا اور عام خاص کو ہلاک کر دیا اس کی ساری تدبیریں الٹ ہو گئیں کوئی بھلائی انہیں نصیب نہ ہوئی ایسا بھی کوئی ان میں صحیح سالم نہ رہا جو کہ ان کی خبر پہنچائے، جو بھی بچا وہ زخمی ہو کر اور اس زخم سے پھر جاں بر نہ ہو سکا، خود بادشاہ بھی گو وہ ایک گوشت کے لوتھڑے کی طرح ہو گیا تھا جوں توں صنعاء میں پہنچا لیکن وہاں جاتے ہی اس کا کلیجہ پھٹ گیا اور واقعہ بیان کر ہی چکا تھا کہ مر گیا۔ اس کے بعد اس کا لڑکا یکسوم یمن کا بادشاہ بنا پھر اس کے دوسرے بھائی مسروق بن ابرہہ کو سلطنت ملی اب سیف بن ذی یذن حمیری کسریٰ کے دربار میں پہنچا اور اس سے مدد طلب کی تاکہ وہ اہل حبشہ سے لڑے اور یمن ان سے خالی کرا لے کسریٰ نے اس کے ساتھ ایک لشکر جرار کر دیا اس لشکر نے اہل حبشہ کو شکست دی اور ابرہہ کے خاندان سے سلطنت نکل گئی اور پھر قبیلہ حمیر یہاں کا بادشاہ بن گیا عربوں نے اس پر بڑی خوشی منائی اور چاروں طرف سے مبارکبادیاں وصول ہوئیں۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ابرہہ کے لشکر کے فیل بان اور چرکٹے کو میں نے مکہ شریف میں دیکھا دونوں اندھے ہو گئے تھے چل پھر نہیں سکتے تھے اور بھیک مانگا کرتے تھے۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اساف اور نائلہ بتوں کے پاس یہ بیٹھے رہتے تھے جہاں مشرکین اپنی قربانیاں کرتے تھے اور لوگوں سے بھیک مانگتے پھرتے تھے اس فیل بان کا نام انیسا تھا۔ بعض تاریخوں میں یہ بھی ہے کہ ابرہہ خود اس چڑھائی میں نہ تھا بلکہ اس نے اپنے لشکر کو بہ ماتختی شمس بن مقصود کے بھیجا تھا یہ لشکر بیس ہزار کا تھا اور یہ پرند ان کے اوپر رات کے وقت آئے تھے اور صبح تک ان سب کا ستیاناس ہو چکا تھا لیکن یہ روایت بہت غریب ہے اور صحیح بات یہ ہے کہ خود ابرہہ اشرم حبشی ہی اپنے ساتھ لشکر لے کر آیا تھا یہ ممکن ہے کہ اس کے ہراول کے دستہ پر یہ شخص سردار ہو، اس واقعہ کو بہت سے عرب شاعروں نے اپنے شعروں میں بھی بسط کے ساتھ بیان کیا ہے۔ سورۃ الفتح کی تفسیر میں ہم اس واقعہ کو مفصل بیان کر آئے ہیں جس میں ہے کہ جب حدیبیہ والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس ٹیلے پر چڑھے جہاں سے آپ قریشیوں پر جانے والے تھے تو آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی لوگوں نے اسے ڈانٹا ڈپٹا لیکن وہ نہ اٹھی لوگ کہنے لگے قصواء تھک گئی آپ نے فرمایا: ”نہ یہ تھکی نہ اس میں اڑنے کی عادت ہے اسے اس اللہ نے روک لیا ہے جس نے ہاتھیوں کو روک لیا تھا“، پھر فرمایا: ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مکے والے جن شرائط پر مجھ سے صلح چاہیں گے میں سب مان لوں گا بشرطیکہ اللہ کی حرمتوں کی ہتک اس میں نہ ہو“ پھر آپ نے اسے ڈانٹا تو وہ فوراً اٹھ کھڑی ہو گئی ۔ [صحیح بخاری:2781] ‏ یہ حدیث صحیح بخاری میں ہے۔10862اور ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ پر سے ہاتھیوں کو روک لیا اور اپنے نبی کو وہاں کا قبضہ دیا اور اپنے ایماندار بندوں کو، سنو آج اس کی حرمت ویسی ہی لوٹ کر آ گئی ہے جیسے کل تھی، خبردار ہر حاضر کو چاہیئے کہ غیر حاضر کو پہنچا دے ۔ [صحیح بخاری:112] ‏ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ الفیل کی تفسیر ختم ہوئی۔10863

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 5{ فَجَعَلَہُمْ کَعَصْفٍ مَّاْکُوْلٍ۔ } ”پھر اس نے کردیا ان کو کھائے ہوئے بھس کی طرح۔“ یعنی اس پورے لشکر کی حالت اس چارے یا ُ بھس کی طرح ہوگئی جسے جانوروں نے کھا کر چھوڑ دیا ہو۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

Verse [ 105:5] فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُولٍ (And thus He turned them into an eaten-up chaff.) The word ` asf means 'chaff, straw, husk or bran'. Usually the ` asf is scattered and when it is eaten or devoured by animals, it does not remain in the same state. This is what happened to Abrahah and his army.ConclusionThe miraculous event of the 'People of the Elephant' enhanced in the hearts of the entire Arabian society the love, respect and honor of the Quraish. When Arabia witnessed that Allah has, on their behalf, miraculously destroyed their enemy, they were convinced that the Quraish are men of God, and custodians of the Sacred House of Allah [ Qurtubi ]. That is why they were respected and protected wherever they went; although other caravans in Arabia had to fear attacks from highway robbers, the Quraish travelled untouched and enjoyed high social status. As a result, they could freely and safely carry out their commercial activities in the neighboring states, and enjoy economic prosperity. The Surah that follows refers to these journeys and invites the Quraish to be thankful to Allah and worship Him alone for providing them with all of their needs.Al-hamdulillahThe Commentary onSurah Al-FilEnds here

Seerat Event: Year of the Elephant — Abraha's Army Destroyed / 570 CE

In the year the Prophet was born (~570 CE), the Abyssinian governor Abraha marched on Makkah with an army of elephants to destroy the Kaaba. Allah sent flocks of birds (ababil) carrying stones of baked clay that destroyed the army. This event is commemorated in Surah Al-Fil.

📍 Location: Makkah outskirts, Arabian Peninsula
🏷️ Category: personal
📚 Source: Ar-Raheeq Al-Makhtum (The Sealed Nectar) Chapter: Pre-Islamic Arabia
Historical Context: Year of the Elephant — Abraha's Army Destroyed 570 CE

In approximately 570 CE (the year the Prophet Muhammad was born), Abraha al-Ashram, the Abyssinian viceroy of Yemen, marched on Makkah with a large army that included war elephants, intending to destroy the Kaaba. The Quran (Surah Al-Fil, 105) records that Allah sent flocks of birds (ababil) that pelted the army with stones of baked clay (sijjil), destroying them utterly. Ancient Arabian chronicles and Ethiopian records document this campaign. The Year of the Elephant (Am al-Fil) became a key dating marker in pre-Islamic Arabian chronology.

🏛️ Civilization: Aksumite (Abyssinian) Empire / Arabian Peninsula
📍 Region: Makkah, Arabian Peninsula
🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.