The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Yunus • Ayah 28

Para 11 Surah 10 : 28
وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ مَكَانَكُمْ أَنتُمْ وَشُرَكَآؤُكُمْ ۚ فَزَيَّلْنَا بَيْنَهُمْ ۖ وَقَالَ شُرَكَآؤُهُم مَّا كُنتُمْ إِيَّانَا تَعْبُدُونَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

وَيَوْمَ
نَحْشُرُهُمْ
جَمِيعًا
ثُمَّ
نَقُولُ
لِلَّذِينَ
أَشْرَكُوا۟
مَكَانَكُمْ
أَنتُمْ
وَشُرَكَآؤُكُمْ
ۚ
فَزَيَّلْنَا
بَيْنَهُمْ
ۖ
وَقَالَ
شُرَكَآؤُهُم
مَّا
كُنتُمْ
إِيَّانَا
تَعْبُدُونَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The gods of the Idolators will claim Innocence from them on the Day of ResurrectionAllah said: وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ(And the Day whereon We shall gather them) Allah will gather together all the creatures of earth, human and Jinn, righteous and rebellious. He said in another Ayah: وَحَشَرْنَـهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ أَحَداً(and We shall gather them all together so as to leave not one of them behind.)18:47 ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُواْ مَكَانَكُمْ أَنتُمْ وَشُرَكَآؤُكُمْ(then We shall say to those who did associate partners: "Stop at your place! You and your partners.") He then will command the idolators to stay where they are and not to move from their destined places so they would be separated from the place of the believers. Similarly, Allah said: وَامْتَازُواْ الْيَوْمَ أَيُّهَا الْمُجْرِمُونَ ((It will be said): "And O you the criminals! Get you apart this Day (from the believers).)(36:59) Allah also said: وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَتَفَرَّقُونَ (And on the Day when the Hour will be established - that Day shall (all men) be separated (the believers will be separated from the disbelievers). )30:14 In the same Surah, Ar-Rum, Allah said: يَوْمَئِذٍ يَصَّدَّعُونَ(On that Day men shall be divided.) 30:43 means, they shall be divided in two. This is what will take place when Allah Almighty will come for Final Judgement. The believers intercede to Allah so the Final Judgement may come and they get rid of that state. The Prophet said, «نَحْنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى كُومٍ فَوْقَ النَّاس»(On the Day of Resurrection, we will be in a visible place above the other people.) Allah tells us here what He is going to command the idolators and their idols to do on the Day of Resurrection مَكَانَكُمْ أَنتُمْ وَشُرَكَآؤُكُمْ فَزَيَّلْنَا بَيْنَهُمْ("Stop at your place! You and your partners." Then We shall separate them,) and that they would deny their worship and claim their innocence from them. Similarly, Allah said: ` كَلاَّ سَيَكْفُرُونَ بِعِبَـدَتِهِمْ(Nay, but they will deny their worship of them.)19:82, إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُواْ مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُواْ(When those who were followed declare themselves innocent of those who followed (them).)2:166, and; وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّهِ مَن لاَّ يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ وَهُمْ عَن دُعَآئِهِمْ غَـفِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُواْ لَهُمْ أَعْدَآءً(And who is more astray than one who calls on (invokes) besides Allah, such as will not answer him till the Day of Resurrection, and who are (even) unaware of their calls (invocations) to them And when mankind are gathered (on the Day of Resurrection), they (false deities) will become their enemies)46:5-6. This refers to the partners responding to those who worshipped them, Then Allah said: فَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ(So sufficient is Allah as a witness between us and you.) They say that we did not know or think that you were worshipping us. Allah is a Witness between us and you that we never called upon you to worship us. We never ordered you to worship us; neither did we accept your worship of us. Allah said: هُنَالِكَ تَبْلُواْ كُلُّ نَفْسٍ مَّآ أَسْلَفَتْ(There! Every person will know (exactly) what he had earned before) This will be the state of accounting on the Day of Resurrection. Every soul shall know all that it had sent forth, both good and evil. Similarly, Allah said: يَوْمَ تُبْلَى السَّرَآئِرُ (The Day when all the secrets will be examined.)86:9, يُنَبَّأُ الإِنسَـنُ يَوْمَئِذِ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ (On that Day man will be informed of what he sent forward (of deeds), and what he left behind.)75:13, and وَكُلَّ إِنْسَـنٍ أَلْزَمْنَـهُ طَـئِرَهُ فِى عُنُقِهِ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ كِتَابًا يَلْقَـهُ مَنْشُوراً - اقْرَأْ كَتَـبَكَ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا (. ..and on the Day of Resurrection, We shall bring out for him a book which he will find wide open. (It will be said to him): "Read your book. You yourself are sufficient as a reckoner against you this Day.") 17:13-14 Then Allah said, وَرُدُّواْ إِلَى اللَّهِ مَوْلَـهُمُ الْحَقِّ(and they will be brought back to Allah, their rightful Mawla.) All affairs and matters will be brought back to Allah, the Judge, the All-Just. He will judge everyone, and then admit the people of Paradise in Paradise and the people of Hell to Hell. وَضَلَّ عَنْهُم(and will vanish from them) meaning what the idolators worshipped, مَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ(what they invented) what they worshipped besides Allah that they invented.

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

میدان حشر میں سبھی موجود ہوں گے ٭٭ مومن، کافر، نیک، بد، جن انسان، سب میدان قیامت میں اللہ کے سامنے جمع ہونگے۔ «وَحَشَرْنَاهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ أَحَدًا» [18-الكهف:47] ‏ ” سب کا حشر ہو گا، ایک بھی باقی نہ رہے گا “۔ «وَامْتَازُوا الْيَوْمَ أَيُّهَا الْمُجْرِمُونَ» [36-یس:59] ‏ ” پھر مشرکوں اور ان کے شریکوں کو الگ کھڑا کر دیا جائے گا “۔ «وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَتَفَرَّقُونَ» [30-الروم:14] ‏ ” ان مجرموں کی جماعت مومنوں سے الگ ہو جائے گی، سب جدا جدا گروہ میں بٹ جائیں گے ایک سے ایک الگ ہو جائے گا “۔ اللہ تبارک و تعالیٰ خود فیصلوں کے لیے تشریف لائے گا۔ مومن سفارش کر کے اللہ کو لائیں گے کہ وہ فیصلے فرما دے ۔ [صحیح بخاری:7516] ‏ یہ امت ایک اونچے ٹیلے پر ہوگی ۔ [صحیح مسلم:191] ‏ «سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» ‏ [19-مریم:82] ‏ ” مشرکین کے شرکا اپنے عابدوں سے بیزاری ظاہر کریں گے “، اور آیت میں ہے کہ «إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا» [2-البقرہ:166] ‏ ” اس دن (‏کفر کے) پیشوا اپنے پیرووں سے بیزاری ظاہر کریں گے، اسی طرح خود مشرکین بھی ان سے انجان ہو جائیں گے۔ سب ایک دوسرے انجان بن جائیں گے “۔ «‏وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» [46-الأحقاف:5-6] ‏ ” اب بتلاؤ ان مشرکوں سے بھی زیادہ کوئی بہکا ہوا ہے کہ انہیں پکارتے رہے جو آج تک ان کی پکار سے بھی غافل رہے اور آج ان کے دشمن بن کر مقابلے پر آگئے۔ صاف کہا کہ تم نے ہماری عبادت نہیں کی۔ ہمیں کچھ خبر نہیں ہماری تمہاری عبادتوں سے بالکل غافل رہے۔ اسے اللہ خوب جانتا ہے، نہ ہم نے اپنی عبادت کو تم سے کہا تھا نہ ہم اس سے کبھی خوش رہے۔ تم اندھی، نہ سنتی، بے کار چیزوں کو پوجتے رہے جو خود ہی بے خبر تھے نہ وہ اس سے خوش نہ ان کا یہ حکم “۔صفحہ نمبر3684بلکہ تمہاری پوری حاجت مندی کے وقت تمہارے شرک کے منکر، تمہاری عبادتوں کے منکر بلکہ تمہارے دشمن تھے۔ اس حی و قیوم، سمیع و بصیر، قادر و مالک، وحدہ لاشریک کو تم نے چھوڑ دیا جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہ تھا۔ «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ فَمِنْهُم مَّنْ هَدَى اللَّـهُ وَمِنْهُم مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلَالَةُ» [16-النحل:36] ‏ ” جس نے رسول بھیج کر تمہیں توحید سکھائی اور سنائی تھی سب رسولوں کی زبانی کہلوایا تھا کہ میں ہی معبود ہوں میری ہی عبادت و اطاعت کرو۔ سوائے میرے کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ ہر قسم کے شرک سے بچو۔ کبھی کسی طرح بھی مشرک نہ بنو “۔ وہاں ہر شخص اپنے اعمال دیکھ لے گا۔ اپنی بھلائی برائی معلوم کرلے گا۔ نیک و بد سامنے آ جائے گا۔ اسرار بے نقاب ہوں گے، کھل پڑیں گے، اگلے پچھلے چھوٹے بڑے کام سامنے ہوں گے۔ نامہ اعمال کھلے ہوئے ہوں گے، ترازو چڑھی ہوئی ہوگی۔ آپ اپنا حساب کرلے گا۔ «تَبْلُوا» کی دوسری قرآت «تَتْلُوْا» بھی ہے۔ اپنے اپنے کرتوت کے پیچھے ہر شخص ہوگا۔ حدیث میں ہے ہر امت کو حکم ہو گا کہ اپنے اپنے معبودوں کے پیچھے چل کھڑی ہو جائے۔ سورج پرست سب سورج کے پیچھے ہوں گے، چاند پرست چاند کے پیچھے، بت پرست بتوں کے پیچھے ۔ [صحیح بخاری:7438] ‏ سارے کے سارے حق تعالیٰ مولائے برحق کی طرف لوٹائے جائیں گے تمام کاموں کے فیصلے اس کے ہاتھ ہوں گے۔ اپنے فضل سے نیکوں کو جنت میں اور اپنے عدل سے بدوں کو جہنم میں لے جائے گا۔ مشرکوں کی ساری افرا پردازیاں رکھی کی رکھی رہ جائیں گی، بھرم کھل جائیں گے، پردے اُٹھ جائیں گے۔صفحہ نمبر3685

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 28 وَیَوْمَ نَحْشُرُہُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا مَکَانَکُمْ اَنْتُمْ وَشُرَکَآؤُکُمْ یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ لات ‘ منات ‘ عزیٰ وغیرہ کی بات نہیں ہو رہی جن کے بارے میں کسی کو پتا نہیں کہ ان کی اصل کیا تھی ‘ بلکہ یہ اولیاء اللہ ‘ نیک اور برگزیدہ بندوں کی بات ہو رہی ہے جن کے ناموں پر مورتیاں اور بت بنا کر ان کی پوجا کی گئی ہوگی۔ جیسے قوم نوح علیہ السلام نے ودّ ‘ سواع اور یغوث وغیرہ اولیاء اللہ کی پوجا کے لیے ان کے بت بنا رکھے تھے اس بارے میں تفصیل سورة نوح میں آئے گی۔ ہمارے ہاں صرف یہ فرق ہے کہ بت نہیں بنائے جاتے ‘ قبریں پوجی جاتی ہیں۔ اس سلسلے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کے خطاب کی ایک جھلک ہم سورة المائدۃ کے آخری رکوع میں دیکھ آئے ہیں۔ اس لیے یہاں یہ خیال نہیں آنا چاہیے کہ ایسے بلند مرتبہ لوگوں کو اس طرح کا حکم کیونکر دیا جائے گا کہ ٹھہرے رہو اپنی جگہ پر تم بھی اور تمہارے شریک بھی ! بہر حال اللہ تعالیٰ کی شان بہت بلند ہے ‘ جبکہ ایک بندہ تو بندہ ہی ہے ‘ چاہے جتنی بھی ترقی کرلے : اَلرَّبُّ رَبٌّ وَاِنْ تَنَزَّلَ۔ وَالْعَبْدُ عَبْدٌ وَاِنْ تَرَقّٰی !فَزَیَّلْنَا بَیْنَہُمْ وَقَالَ شُرَکَآؤُہُمْ مَّا کُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ وہ نیک لوگ جنہیں اللہ کا شریک بنایا گیا وہ اس شرک سے بری ہیں ‘ کیونکہ انہوں نے تو اپنی زندگیاں اللہ کی اطاعت میں گزاری تھیں۔ جیسے البقرۃ : 134 میں بہت واضح انداز میں فرمایا گیا ہے : تِلْکَ اُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْج لَہَا مَا کَسَبَتْ وَلَکُمْ مَّا کَسَبْتُمْ ج ”وہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی ‘ ان کے لیے ہے جو انہوں نے کمایا اور تمہارے لیے ہے جو تم نے کمایا“۔ اگر کوئی شیخ عبدالقادر جیلانی کو پکارتا ہے یا کسی مزار پر جا کر مشرکانہ حرکتیں کرتا ہے تو اس کا وبال صاحب مزار پر قطعاً نہیں ہوگا۔ ان پر تو الٹا ظلم ہو رہا ہے کہ انہیں اللہ کے ساتھ شرک میں ملوث کیا جا رہا ہے۔ چناچہ اللہ کے وہ نیک بندے اللہ کے ہاں ان شرک کرنے والوں کے خلاف استغاثہ کریں گے ‘ کہ وہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر انہیں پکارتے تھے اور ان کے ناموں کی دہائیاں دیتے تھے۔ وہ ان شرک کرنے والوں سے کہیں گے :

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

In the two verses (27, 28) appearing next, there is a dialogue between the people of Jahannam and the idols or satans who had led them astray. The locale will be the plain of Resurrection. It was said: On that day, We shall gather everyone. Then, to the Mushriks We shall say that, ` you and your gods whom you had associated' with Us in Our divinity stay in your places where you are, so that you can find out the reality of your conviction.' After that, the connection between these people and their so-called gods as it existed in the mortal world will be disconnected. The result will be that their idols will speak up: ` you never worshipped us.' Making Allah their witness, they will say, ` as for us, we were certainly unaware of your worship' - because we have no senses, no movement and no intelligence to understand these matters.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.