Surah Yunus • Ayah 18
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
What do the Idolators believe about Their GodsAllah reproaches the idolators that worshipped others beside Allah, thinking that those gods would intercede for them before Allah. Allah states that these gods do not harm or benefit. They don't have any authority over anything, nor do they own anything. These gods can never do what the idolators had claimed about them. That is why Allah said: قُلْ أَتُنَبِّئُونَ اللَّهَ بِمَا لاَ يَعْلَمُ فِى السَّمَـوَتِ وَلاَ فِى الاٌّرْضِ(Say: `Do you inform Allah of that which He knows not in the heavens and on the earth') Ibn Jarir said: "This means, `Are you telling Allah about what may not happen in the heavens and earth' Allah then announced that His Glorious Self is far above their Shirk and Kufr by saying: سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ(Glorified and Exalted is He above all that which they associate as partners (with Him)!)Shirk is NewAllah then tells us that Shirk was new among mankind. It was not in existence in the beginning. He tells us that people were believers in one religion and that religion was Islam. Ibn `Abbas said: "There were ten centuries between Adam and Nuh. They were all on Islam. Then differences among people took place. They worshipped idols and rivals. So Allah sent extensive evidence and irrefutable proof with His Messengers." لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ وَيَحْيَى مَنْ حَىَّ عَن بَيِّنَةٍ(So that those who were to be destroyed (for rejecting the faith) might be destroyed after a clear evidence, and those who were to live might live after a clear evidence.)8:42 Allah's statement: وَلَوْلاَ كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ(And had not it been for a Word that went forth before from your Lord...) means that if Allah had not decreed He would not punish anyone until the evidence is established against them. And also that if He had not given creatures a respite until a defined term had passed, He would have judged among them in what they disputed. Then He would have caused the believers to be happy and delighted and the disbelievers to be miserable and wretched.
شرک کے آغاز کی روداد ٭٭مشرکوں کا خیال تھا کہ جن کو ہم پوجتے ہیں یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہوں گے اس غلط عقیدے کی قرآن کریم تردید فرماتا ہے کہ ” وہ کسی نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتے ان کی شفاعت تمہارے کچھ کام نہ آئے گی۔ تم تو اللہ کو بھی سکھانا چاہتے ہو گویا جو چیز زمین آسمان میں وہ نہیں جانتا تم اس کی خبر اسے دینا چاہتے ہو۔ یعنی یہ خیال غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک و کفر سے پاک ہے وہ برتر و بری ہے “۔ سنو پہلے سب کے سب لوگ اسلام پر تھے۔ آدم علیہ السلام سے لے کر نوح علیہ السلام تک دس صدیاں وہ سب لوگ مسلمان تھے۔ پھر اختلاف رونما ہوا اور لوگوں نے تیری میری پرستش شروع کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کے سلسلوں کو جاری کیا تاکہ «لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ وَيَحْيَىٰ مَنْ حَيَّ عَن بَيِّنَةٍ» [8-الأنفال:42] ” ثبوت و دلیل کے بعد جس کا جی چاہے زندہ رہے جس کا جی چاہے مر جائے “۔ چونکہ اللہ کی طرف سے فیصلے کا دن مقرر ہے۔ حجت تمام کرنے سے پہلے عذاب نہیں ہوتا اس لیے موت مؤخر ہے۔ ورنہ ابھی ہی حساب چکا دیا جاتا۔ مومن کامیاب رہتے اور کافر ناکام۔صفحہ نمبر3670
آیت 18 وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لاَ یَضُرُّہُمْ وَلاَ یَنْفَعُہُمْ وَیَقُوْلُوْنَ ہٰٓؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰہِ ط ”اور یہ لوگ پرستش کرتے ہیں اللہ کے سوا یسی چیزوں کی جو نہ انہیں کوئی نقصان پہنچا سکتی ہیں اور نہ نفع دے سکتی ہیں ‘ اور کہتے ہیں کہ یہ ہمارے سفارشی ہیں اللہ کے ہاں۔“اس سے مشرکین مکہ کا بنیادی عقیدہ ظاہر ہو رہا ہے۔ وہ لوگ مانتے تھے کہ اس کائنات کا خالق اور مالک اللہ ہے۔ وہ اپنے بتوں کو کائنات کا خالق ومالک نہیں بلکہ اللہ کے قرب کا وسیلہ سمجھتے تھے۔ ان کا ایمان تھا کہ جن ہستیوں کے نام پر یہ بت بنائے گئے ہیں وہ ہستیاں اللہ کے ہاں بہت مقرب اور محبوب ہونے کے باعث اس کے ہاں ہماری سفارش کریں گی۔قُلْ اَتُنَبِّءُوْنَ اللّٰہَ بِمَا لاَ یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَلاَ فِی الْاَرْضِ ط ”آپ ﷺ کہیے کہ کیا تم اللہ کو بتانا چاہتے ہو وہ شے جو وہ نہیں جانتا ‘ نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں ؟“کیا تم اللہ کو ایسی چیز کی خبر دینا چاہتے ہو جس کا اس کو خود پتا نہیں ؟ یہ وہی بات ہے جو آیۃ الکرسی کی تشریح کے ضمن میں بیان ہوچکی ہے کہ ایسی کسی شفاعت کا آخر جواز کیا ہوگا ؟ اللہ تو غائب اور حاضر سب کچھ جاننے والا ہے : یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْج وَلاَ یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ الاَّ بِمَاشَآءَ ج۔ تو پھر آخر کوئی سفارشی اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر کیا کہے گا ؟ کس بنیاد پر وہ کسی کی سفارش کرے گا ؟ کیا وہ یہ کہے گا کہ اے اللہ ! تو اس آدمی کو ٹھیک سے نہیں جانتا ‘ میں اسے بہت اچھی طرح جانتا ہوں ‘ یہ بہت اچھا اور نیک آدمی ہے ! تو کیا وہ اللہ کو وہ کچھ بتانا چاہے گا معاذ اللہ جس کو وہ خود نہیں جانتا ؟سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ”وہ بہت پاک اور بلند ہے ان چیزوں سے جن کو وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔“
The last verse (17) emphasizes the subject conclusively by warning that attributing any statement to Allah Ta` ala that was not His Word, or denying what actually was, were crimes deserving severe punishment.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.